پرائی جنگ کا فائدہ

2 comments
امریکہ نے طالبان کو دہشت گرد کہنے سے انکار کر دیا۔۔
ہائے کون نہ مر مٹے اس سادگی پر۔خیرمیں اس وقت طالبان کے حق میں یا اختلاف میں کچھ نہیں بولوں گا۔لیکن اپنے ملک کی "اسٹبلشمنٹ" سے پوچھنا چاہوں گا کہ اسی "آمریکہ" کے کہنے پر آپ نے طالبان کو تخلیق کیاپھر انہیں  مجاہدین سے دہشت گرد قرار دیا۔آپ سے امریکہ نے اپنی ہی جنگ آپ ہی کے ملک میں آپ ہی کے لوگوں کے ساتھ لڑی۔ان کے کہنے پر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کہتے رہے۔ملک میں NGO'sکے نام پر غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا قوتوں کو پاکستان کا safe way فراہم کیا گیا۔ادھر سے 4 عدد استعمال شدہ F-16کے بدلے مسجد پر چڑھ دوڑے۔اپنے ملک سے ہی ماں بہنوں اور بیٹوں کو ڈالرز کے بدلے فروخت کیا گیا۔مسلکی فرقے بازی کو ہوا دی گئی۔اپنی دھاک بٹھانے کے لیے 12 مئی جیسے حادثات کو پیدا کیا گیا۔ملک کے جنگی ہوائی اڈے کرائے پر دیے گئے۔اب تک پاکستان میں 367 ڈرون اٹیکس ہو چکے ہیں جس میں  کُل3359 مارے گئے ۔جس میں 45 القائدہ اور کم و بیش221  طالبان شامل تھے۔اس کے علاوہ جتنے بھی لوگ ڈرون اٹیکس مین مارے گئے وہ سب بے قصور سویلین افراد تھےجن کا دونوں طرف سے کوئی تعلق نہ تھا۔
اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ جس کے کہنے پر ہم War-ON-Terrorکے فرنٹ لائین اتحادی بنے انہون نے خود ہی صورت حال دیکھتے ہوئے root causeکو deny کر دیا.صرف 2009 میں ہی دہشت گردی کا شکار بننے والے پاکستانیوں کی تعداد 3021 ہے ۔اور اب تک ہم اس پرائی لڑائی میں جو جانی نقصان اُٹھا چکے ہیں وہ نیچے درج ہے۔

یاد رکیے کہ اس میں دہشت گردوں کے جانی نقصان کا اندازہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہے۔اب ایک معملولی صحب عقل و شعور کی سمجھ میں بھی  یہ بات آہی جاتی ہے کہ اس جنگ میں ہمارا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ جبکہ اسی دوران ہماری توجہ اصل ملکی مسائل سے ہٹ کر رہ گئی ہے۔ہمیں چاہیے تھا کہ ہم افغان وار کے بعد اپنی ملکی معشیت پر پھرپور توجہ دینے،بیرونی سرمایاکاری کو فروغ دیتے،ہمسایہ ممالک کے معدنی زخائر پر نگاہ رکھتے کیونکہ خام مال کے لیے چین کو پاکستان سے زیادہ اور کوئی موزوں ملک نہیں مل سکتا۔چین کے لیے پاکستان یورپ و عرب ریاستوں کے لیے سب سے آسان Gate wayہے ۔اگر اس دور میں ڈیم بنائے جاتے تو اس وقت ہمیں بجلی کی شارٹیج کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا۔مشرف کا شوق سپاہ گری اس قوم کو بہت مہنگا پڑا ہے،اس سے پہلے بھی کئی بار یہ محترم اپنی سپاہ گری کا جلوہ دکھا چکے ہیں۔مثام کے طور پر کارگل حملہ جس میں سویلین قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر فوج کشی کر دی گئی ،اس وقت پاکستان میں صورت حال کچھ یوں تھی کہ ملک معاشی طور پر تاریخ کے نہایت نازک دور سے گزر رہا تھا۔لیکن فوجی صاحب اپنا شوق پورا کر کے رہے جس کے باعث پاک فوج کو کارگل  کی چوٹی پر رسد کا سلسلہ روک دیا گیا۔بھارت نے فضائی بمباری کر کے سب مجاہدین کو شہید کر دیا۔آخر کار UNکو درمیان میں لانا پڑا اور پاک فوج کو وہاں سرنڈر کرنا پڑا اور پھر بھرتی فوج کی موجودگی میں وہاں سے شہداء کی لاشیں اُٹھائی گئیں جبکہ پس منظر میں بھارتی فوجی مسکرا رہے ہوتے ہیں یہ مسکراہٹ بالکل ویسی ہی مسکراہٹ ہے جو جنرل نیازی کی بیلٹ اُتارنے پر ڈھاکہ کے سٹیڈیم میں جنرل ٹکا خان کے چہرے پر تاریخ نے دیکھی تھی۔
آج مجھے رہ رہ کر قائد اعظم محمد علی جناح کا قول یاد آرہا ہے۔
“not to forget that the armed forces were the servants of the people and you do not make national policy; it is we, the civilians, who decide these issues and it is your duty to carry out these tasks with which you are entrusted.”

پاکستان کا ہر فرد خوب جانتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ و داخلہ پالیسی کون ترتیب دے رہا ہے،اور فلحال وزارت خارجہ و داخلہ کے فرائض کون ادا کر رہا ہے۔اور کون ریٹایرمنٹ کے بعد کسی دوسرے عرب  ملک میں امریکی فوج کی قائم کردہ فوجی تنصیبات میں پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری میں پیش پیش ہیں۔اس کے بعد بھی اگر ہم سیاسی پارٹیوں کو ملک کی تمام تر صورت حال کا ذمہ دار ٹھرائیں تو سلام ہے آپکی سادگی پر۔
تحریر
محمد انس اعوان
twitter:@AnasHizbi

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔