ایک عزیر دوست کے اصرار پہ تیراکی سیکھنے کے لیے وقت مختص کیا گیا، تیراکی کے بنیادی اصول اسی دوست نے سکھائے اور پھر انہی مخصوص حرکات کا استعمال شروع کیا گیا، یہاں سے ہمارے مشاہدے کا آغاز ہوا چاہتا ہے. پانی کے مزاج اور طبعیت سے نا واقفیت کی بنا شروع کے ہفتے میں صرف ہاتھ پاؤں چلانے سے اور جسم تھکانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا. پھر چند دنوں بعد کنارے پہ بیٹھ کر پانی کے جسم اور اس کی طبعیت پہ غور کیا کہ اسکا مزاج کیا ہے اور یہ کیسے کیسے اپنے جسم میں خلا کو پیدا اور پھر اُس کو پُر کرتا ہے. یہ کس طرح کی چوٹ پہ نرم اور کیسی ضرب پہ پلٹ کر وار کرتا ہے، یہ دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اپنے ہونے کا یقین اپنی ہیئت کے اعتبار سے پختہ کیا گیا. پھر اپنے ہاتھ پاؤں اور جسم کو پانی کے جسم سے مطابقت پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا گیا. تجربے نے بتایا کہ دوسرے ہی ہفتے ہاتھوں اور جسم نے پانی میں سے اپنے جسم کا خلا پیدا کرنے اور اور اس خلا کو مسلسل آگے بڑھاتے چلے جانے کی اہلیت حاصل کر لی ہے.
یہی سیکھنے کا عمل ہمارا ذہن زندگی میں مختلف مقامات پر مسلسل پہ شروع بھی کرتا رہتا ہے اور نتائج بھی اخذ کرتا رہتا ہے، یہی نتائج فیصلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں. دراصل یہ زیست کا بہتا دھارا بھی پانی کی طرح ہی ہوتا ہے جس کے اندر شروعات میں ہم صرف ہاتھ پاؤں چلا کر خود کو تھکا لیتے ہیں اور پھر تھک ہار کر ایک جانب بیٹھ جاتے ہیں. یہ ہمارا سیکھنے کا پہلا عمل ہوتا ہے جہاں ہم چیزوں کو اپنے انداز سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں. جب کوشش امید پہ پوری نہ اتر سکے تو نا امیدی ہمیں گھیر لیتی ہے. اکثر لوگ یہیں پہ ہار مان لیتے ہیں، جبکہ باقی کے لوگ اسی وقت دوسری کوشش کی جانب بڑھ جاتے ہیں. اور کچھ لوگ اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے سیکھنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں. دوسروں سے سیکھنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو مستقبل میں نئی جہت دریافت کرنے کی قابلیت سے محروم ہوتے ہیں. جبکہ نئی جہت دریافت کرنے والے بار بار زیست کے دھارے میں گرتے ہیں اور گہرائیوں کے شوق میں اپنی جانوں کو غذاب سے گزارتے ہیں، تبھی تو وہ ایک مدت کے بعد تہہ میں سے ایک پتھر کو تراش کر شاہکار تخلیق کر پاتے ہیں. انہی میں سے کچھ لوگ رستے میں ہی جان سے چلے جاتے ہیں مگر انکا شاہکار بعد میں آنے والوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور یوں وہ دریافت کردہ "جہت" جدت کے عمل سے گزرتی رہتی ہے.
البتہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ تو ہار ماننے والوں میں سے خود کو شمار کرتے ہیں اور نہ ہی خود کوئی شاہکار تراشنے کی ہمت رکھتے ہیں، ایسے لوگ ہلکے پانی میں تیراکی سیکھتے ہیں اور زندگی کے دھارے میں سینکڑوں ان گنت بے جان جسموں کی طرح تیرتے رہتے ہیں، جنہیں وقت کی موجیں جیسے چاہیں پٹختی اور گھسیٹتی رہتی ہیں. اور یہ لوگ اپنی مردہ ضمیری کے باعث حیران کن طور پہ اپنے زندہ رہنے پہ ہی خوش ہوتے ہیں. انکے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے یہ "لذت حیات" سے نا آشنا مردہ اجسام زمین کا بوجھ ہوتے ہیں جنکو وقت کی موجیں گم نام ساحلوں پہ عبرت کے لیے پھینک دیتی ہیں.
1 جنوری 2018
ملک انس اعوان
Ad
موضوعات
آمدو رفت
لذت حیات
0
comments
دین کی ضرورت
0
comments
تمام مشاہدات ایک طرف اگر ہم اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے اوپر نافذ (معاشی، معاشرتی، اخلاقی) فرائض کو سمجھنے کی کوشش کریں تو معلوم ہو گا کہ ہم سب سماجی طور پر اپنے اپنے دائرے میں ظالم ہیں. آپ یا ہم کوئی بھی اس ظلم سے مستثنٰی نہیں ہیں . دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے ظلم کا اندازہ اپنے سے بڑے ظالم کو دیکھ کر ہوتا ہے. ہسپتال میں اپنے والدین کے ساتھ آئے ہوئے نوجوانوں جن میں ہم بھی شامل ہیں کو دیکھتے ہیں اور جب انکے تاثرات دیکھتے ہیں تو روح تک لرز جاتی ہے کہ والد یا والدہ کی انتہائی نازک صورتحال بھی انکو موم نہیں کر پاتی ہے اور ان کے معاملات جوں کے توں چلتے رہتے ہیں. باپ جان کی بازی لڑ رہا ہوتا ہے اور پاس موجود بیٹا موبائل پہ اپنے شغل پورے کرنے میں مصروف ہوتا ہے. اس میں ٹیکنالوجی کا قصور کم اور ہمارا قصور زیادہ ہے(کیونکہ ہمارا تعلق بھی اسی نسل سے ہے) . ہم جس نسل سے تعلق رکھتے ہیں یہ سوچتی ہے اور مانتی ہے کہ ہم اس دنیا کے سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے، اپنی اپنی ذاتی حیثیت میں دنیا کے نامی گرامی افلاطون ہیں.بالفرض ہوں گے بھی.....!
ہم مانتے ہیں کہ ہماری معلومات، ہمارے رابطے ہمارے والدین سے زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ ہیں. ہم اپنے والدین کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے اپنے آئی فون وغیرہ پہ فیس بک کی تحریر اور میسج لکھ پاتے ہیں.
لیکن ایک لمحہ ٹھہریے ان اچھے کیمرے والے موبائل فون، خوبصورت تیز رفتار گاڑیوں سمیت ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے سوائے ایک چیز کے جسے ہم احساس کہتے ہیں. یہاں ہمارے جیسے اکثر نوجوان ٹیکنالوجی پہ تنقید کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ شاید ٹیکنالوجی کو چھوڑ دینے کا کہا جا رہا ہے.ٹیکنالوجی کے ہونے اور نہ ہونے سے تب تک فرق نہیں پڑنے والا جب تک ہم "احساس" بیدار نہیں کر لیتے ہیں.
یہاں سماجی احساس بیدار کرنے کے دو ہی منبع ہیں، ایک ہمارا سماج اور دوسرا مذہب. کیونکہ برصغیر میں معاشرے کو تشکیل دینے والی ایک ہی قوت ہے جو کہ مذہب ہے .خوشقسمتی دیکھیے کہ یہاں ملک پاکستان میں ہمیں اسلام جیسی نعمت دستیاب ہے جس میں بالمتفق(مسلم و غیر مسلم) ہمارے پاس ایک انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہوا اکمل، اکبر و اجمل نمونہ اسوۃ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں موجود ہے. قصہ مختصر اس معاشرے کی کم از کم بقا اور بنیادی انسانیت کی افزائش کے لئے بھی" مذہب" ضروری ہے. اور ترقی کے لیے "دین" ناگزیر ہے.
تحریر
ملک انس اعوان
ہوا کی بات
0
comments
بوقت سہ پہر موٹر سائیکل پہ ہیلمیٹ پہنے ہم اپنی عمر کی طرح شاہراہ زندگی پہ تیز رفتاری سے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے، ایسے میں ذہن کی گنجان آباد گلیوں میں بچپن کی یادیں کھلکھلانے لگیں اور ایک سوال جو میں اکثر ابا جان سے پوچھا کرتا تھا کہ "یہ ہوا کیا ہوتی ہے، اگر ہوتی ہے تو نظر کیوں نہیں آتی؟ "
تب میں کسی بھی جواب سے مطمئن نہ ہو پاتا تھا اور اکثر ہوا کو ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتا تھا. لیکن آج سفر کے دوران وہی ہوا ہمیں پیچھے کی جانب دھکیل رہی تھی، اس کا لمس ہمیں اپنی چمڑے کی جیکٹ سے ہوتا ہوا سینے پہ بھی محسوس ہو رہا تھا. ہمارے ساتھ ساتھ چند پرندے بھی اڑ رہے تھے، اور حیرت انگیز طور پر میں تخیلاتی آنکھوں سے ان کے پروں کے نیچے پھسلنے والی ہوا کو دیکھ سکتا تھا. ایک ایسے بے حد نفیس اور دبیز جسم کی صورت میں جو ساری دنیا پہ بچھا دیا گیا جسے ہم فضا کہتے ہیں.
ایسی ہی فضا ہمارے گرد بھی ہوتی ہے اور اس سے ملتی جلتی ایک اور فضا ہم سب کے درمیان میں بھی ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتی لیکن چمڑے کے اندر پڑے ہوئے دل پہ اثر انداز ضرور ہوتی ہے. اور اس فضا کے عناصر فی کس مختلف ہوتے ہیں، اگر ہمارے مابین "انا" نامی فضا ہو تو ہم ایک دوسرے سے فاصلے بنائے رکھتے ہیں، جو اس فضا میں جیتے ہیں وہ جھکنا اور غلطی تسلیم کرنا بھول جاتے ہیں. انا کا زہریلی ہوا انکی سانس میں رچ بس جاتی ہے اور وہ اس انا کی تسکین کے لیے مزید ایسی فضا اپنے گرد تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں. نتیجتاً بقا کی چاہ میں گُم ہو جاتے ہیں. انکا وجود راکھ میں تبدیل ہو کر لوگوں کی راہ کی خاک بن جاتا ہے. دوسری جانب کچھ لوگوں کو محبت کی فضا راس آتی ہے، خوشبوؤں سے معطر وزن میں ہلکی لطیف ہوا جس میں وجود آہستگی سے گھل کر سراپا تسلیم، عاجزی، اعتراف اور اطمینان کے رنگین دھوئیں میں تبدیل ہو جاتا ہے، اسے جیسی جگہ ملتی ہے وہ وہاں سما جاتا ہے، جیسا رنگ ملتا ہے ڈھل جاتا ہے، جیسی زمین ملتی ہے رُل جاتا ہے، غرض وہ اپنی خواہش سے دستبردار ہو کر کسی اور کی رضا میں راضی ہو جاتا ہے. ایسی فضا بنانے سے بنتی ہے اور تو اور بندگی کا مقصود بھی یہی فضا تو ہے....!
ملک انس اعوان