روشنی ابھرتی ہے

0 comments

روشنی ابھرتی ہے
روشنی لپکتی ہے
صبح کے ستاروں میں
علم و فکر کے دھاروں میں
روشنی مچلتی ہے
روشنی کا مسکن تو
روشنی ہی ہوتی ہے
روشنی کی راہوں میں
جو جسم و جاں جلاتے ہیں
دست و قلم چلاتے ہیں
اہل ہوس کے تیروں سے
جسم و بدن کے زخموں سے
روشنی ہی پاتے ہیں
کہ روشنی کی راہوں میں
روشنی ہی بکتی ہے
روشنی ہی ملتی ہے
روشنی ہی ڈھلتی ہے
آبلہ پا سے مسلسل
روشنی پگھلتی ہے
روشنی کی راہوں میں
روشنی ہی مرکز ہے
روشنی ہی محور ہے
روشنی ہی حاصل ہے
روشنی ہی مقدر ہے

ملک انس اعوان

(مصر کے اس بطل عظیم اور روشنی کے مسافر کے نام کہ جن کا دیا ہوا نظریہ اسلام عرب و عجم کے نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بن چکا ہے
امام حسن البناء شہید رح )

تمہیں حق ہے

0 comments

تمہیں حق ہے
کہ مجھکو خاک زاروں میں گھسیٹو تم
میری داڑھی کے ہر اک بال کو جڑ سے اکھیڑو تم
میرے بازو جسم کی قید سے آزاد کردو تم
تمہیں حق ہے
کہ میرے ناخن اکھیڑ ڈالو تم
جو چاہو کرو پابند کرو آہنی فصیلوں میں
کہ میری آہ کو بھی قید کرلو تم
تمہیں حق ہے
مجھے ذلت کے ٹکوں کے بدلے بیچ ڈالو تم
میرے بچے اٹھا کر قید خانے بھیج ڈالو تم
سارے ضبط کے امتحاں بھیج ڈالو تم
تمہیں حق ہے
کہ میں ہوں توحید کا فرزند
مجھے یقیں ہے کہ حق بیاں ہے میرا
سو زباں میری گدی سے کھینچ ڈالو تم
تمہیں حق ہے
کہ تم ہی ر یاست ہو
مجھے دہشت گرد کہہ کر مار ڈالو تم
کسی خاموش سی اک رات میں مجھے
انکاؤنٹر میں مار ڈالوں تم
تمہیں حق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ملک انس اعوان

یادداشتیں

0 comments

نانا جان بوجہ علالت بستر پہ لیٹے ہوئے تھے انکا دیہان بٹانے کے لیے ان کے پاؤں کی قریب بیٹھ گیا اور پوچھا کہ ناناجان آپ جماعت اسلامی سے کب متعارف ہوئے؟
ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے کہ آپ کے جب میں جوان ہوتا تھا تو آپ کے دادا ابو اور ان کے چند دوست جن کا مختلف چکوں سے تعلق تھا اکٹھے رہا کرتے تھے، آہستہ آہستہ میری انسے شناسائی بڑھی اور یہ شناسائی جلد ہی دوستی میں بدل گئی،  یوں چند جماعتیوں کے اندر ایک اور جماعتی کا اضافہ ہو گیا. وہ دن اور آج کا دن کہ برادری اور گاؤں مختلف ہونے کے باوجود یہ شناسائی دوستی اور پھر تیزی سے دوستی سے رشتہ داری میں بدل گئی.
میں سوچنے لگا کہ
یہاں قابل غور بات تحریک اسلامی کے کارکنان کی وہ متاثر کرنے کی صلاحیت ہے جو کہ سید ابوالاعلی مودودی رح کے بقول ایک ایک کارکن میں بدرجہ اتم مطلوب ہے. اور یہی خاصیت تحریک اسلامی کی اندرونی اور بیرونی طاقت اور تعداد کو جِلا بخشتی ہے.
16 /6/2016
چیمہ ہارٹ کمپلیکس گجرانوالہ

ظالم شیخ

0 comments

ہمیں حاصل سہولت ہو گئی ہے
اذیت اب طبیعت ہو گئی ہے
فقط ایسے ہی جھک جاتی جبیں ہے
ہمیں ایسی نصیحت ہو گئی ہے
درِ دربار پہ صوفی پڑے تھے کہہ رہے تھے
تمہارے شیخ کی ظالم شریعت ہو گئی ہے

ملک انس اعوان

تاثرات

0 comments

صوفی کے تکلم میں کوئی جان نہیں
یہ بھی حق ہے طریقت میں مسلمان نہیں
اس کا محور ہیں فقط مریدان  اہل مکتب
اس سے باہر اسے دکھتا  مسلمان نہیں
ہر شے کو بتاتا ہے  مروت یوں محبت
جیسے باطل سے بغاوت کوئی ایمان نہیں

ملک انس اعوان

یو ایم ٹی مسجد
22 رمضان 1437ہجری

پاس سے جاؤ مت

0 comments
نظر میں آؤ یا نظر میں آؤ مت
اگر آؤ تو پاس سے جاؤ مت
گردش ایام تھکا چکی ہے مجھے
اب کوئی مدعا مجھے سناؤ مت
مجھے مطلوب کوئی تکرار نہیں 
اب کوئی بات بڑھاؤ مت
خوب کہی اگر کہی ہے تو
مجھسے کوئی داد پاؤ مت
اب نہ جاویں گے سمیٹنے کاغذ
ائے ہوا انہیں اڑاؤ مت
تم سے جیتوں گا تو ہار جاؤں گا
سو یہ بہتر ہے مجھے مناؤ مت


 ملک انس اعوان


ہمارا طریق انقلاب

0 comments

ایک شہر میں عجیب و غریب بیماری کی وبا پھوٹ پڑی، لوگ سینکڑوں کی تعداد میں بیمار پڑنے لگے، ہسپتال مریضوں سے بھرنے لگے، دوائیوں کی قلت ہو گئی،  لوگوں کی خلوص نیت جوش میں آئی اور وہ ایک ایک فرد کی اصلاح اور بیماری کا علاج کرنے میں جٹ گئے، آہستہ آہستہ علاج کرنے والے بھی بیمار پڑنے لگے، کیونکہ اس بیماری کا اثر پورے ماحول پہ طاری ہو چکا تھا.
لیکن اسی دوران ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ الله کے بندو پہلے پتہ تو کرو کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے، پتہ چلا کہ امیر شہر کے گھر سے ترسیل ہونے والے پانی میں مسئلہ ہے کیونکہ اختیارات کا کنواں صرف امیر شہر کے گھر میں ہی موجود تھا.
یہ سن کر ڈرپوک لوگ پیچھے ہٹ گئے اور طرح طرح تاویلیں گھڑنے لگے حلانکہ وہ جانتے تھے کہ خرابی کہاں ہے.کیونکہ اجتماعیت میں ان افراد کی شناخت مٹنے کا خدشہ تھا اور وہ چاہتے تھے کہ اس مشکل کام کی بجائے آسان کام کیا جائے تاکہ بعد میں یاد رکھا جائے کہ  فلاں  آدمی نے اتنے مریضوں کی خدمت کی اور فلاں کے زیر اثر اتنے مریض علاج پا رہے ہیں.
مجھے مولانا مودودی رح  کا قول یاد آگیا 

" یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اتری ہے،
نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اتری ہے،
ہوا کے رخ پر اڑنے والے خس و خاشاک اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اتری ہے۔
یہ ان بہادر شیروں کے لیے اتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں۔
جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہوں۔
جو صبغتہ اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے محبوب رکھتے ہوں۔
اور اسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔"

ملک انس اعوان