برطانوی مسجد اور وکیل صاحب

0 comments
دن بھر کی طوفانی ہوا سمندر کنارے سستا رہی ہے ،نومبر کی آخری رات برلب آبنائے باسفورس ایک کثیر المنزلہ قہوہ خانے کی چوتھی منزل سے استنبول کا دلکش نظارہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی وکیل اور دو احباب کے ہمراہ ترک چائے کا دوسرا دور چل رہا ہے اور طویل گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ 
بات بڑھتے بڑھتے بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی مذہبی تقسیم تک جا پہنچی ، مہمان گرامی گویا ہوئے کہ آج سے کچھ سال پہلے برطانیہ کی ایک معروف مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے سیکنڑوں لوگ موجود تھے۔ 
انہی دنوں پاکستان میں اسی مکتبہ فکر کی ایک مسجد پہ بم دھماکے سے شہادتیں ہوئیں تھیں ۔ خطبہ جمعہ سے پہلے امام صاحب نے انتہائی جذباتی ہو کر کہا کہ انکو پتہ ہے کہ یہ دھماکے کس نے کروائے ہیں!!! اسکے بعد انہوں نے وہ وہ باتیں بیان کیں جو پاکستان ،امریکہ ،برطانیہ ،روس و اسرائیل کی خفیہ اداروں کے علم میں بھی نہ ہوں گی ۔اور الزام ایک اور مکتبہ فکر پہ دھر دیا۔ 
وکیل صاحب سے رہا نہیں گیا اور بھری مسجد میں کھڑے ہو کر امام مسجد سے بصد احترام درخواست کی کہ آپ موقع کی مناسبت کو سمجھیے ،حالات کو دیکھیے اور یہ دیکھیے کہ آپ ایسی باتیں کس جگہ اور کن حالات میں کر رہے ہیں,یہاں دیگر مکتبہ فکر کے افراد بھی موجود ہیں، اگر ہو سکے تو اپنی خدمات خفیہ اداروں کو پیش کریں تاکہ اس سے مستفید ہوا جا سکے۔
امام مسجد سیخ پا ہو گئے اور مسجد کمیٹی سے درخواست کی کہ انکو مسجد سے فوراً بے دخل کیا جائے ۔مسجد کمیٹی کے ممبران کبھی وکیل صاحب کی جانب دیکھتے اور کبھی امام صاحب کی جانب ۔ مسجد کمیٹی بے بس تھی کیونکہ وکیل صاحب انکے داماد تھے 🤣۔
بہرحال وکیل صاحب احتجاج ریکارڈ کروا کر باہر تشریف لے آئے ۔۔۔۔۔!
ہنسا جائے یا رویا جائے ۔۔۔۔ہم تو فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

کرونا ‏

0 comments
برادران ملت اسلامیہ !
بات کچھ اس طرح سے ہے کہ یہ جو ہم روز کرونا نامی عالمی وبا ٕکے حوالے سے سینکڑوں ہدایات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں ۔۔۔۔ خدارا دست بستہ درخواست ہے کہ اس سلسلے کو روکیے اور ان ہدایات کو دماغ کے نہاں خانوں میں جگہ دیجئے وگرنہ آپکو زمین کے اندر ایک نہ ایک دن تو جگہ ویسے بھی مل ہی جائے گی۔

اپنا ذاتی تجربہ بتاتا ہے کہ اس موذی کے ہاں دل ہارنے کے بعد ایسی ایسی ہیجان انگیز روحانی و جسمانی کیفیات کا نزول و ظہور ہوتا ہے کہ انسان اپنے ارد گرد کی ہر شے لا یعنی اور بے مقصد محسوس کرتا ہے ۔ کمرے کی چھت سے لٹکتے ہوئے پنکھے کے پروں کے بیچ سے فرشتوں کے اترنے کے مناظر واضح طور پہ نظر آتے ہیں اور یہی گمان گزرتا ہے کہ ابھی یہ ہمارے جسم سے ہمارا سافٹویئر ہٹانے والے ہیں۔ ان دل سوز کیفیات کا اثر دنوں تک رہتا ہے اور اللہ کی ایک ایک نعمت پوری شدت کے ساتھ یاد آتی ہے۔ اقامت دین کے لیے "رہ"جانے والی کوششیں بھی نیزوں کے مصداق جگر کو چیرتی محسوس ہوتی ہیں۔ اس دوران ایسی غنودگی طاری رہتی ہے کہ موسم سرما میں دھند کی مانند حد نگاہ صفر ہو جاتی ہے، اس دوران اگر نماز پڑھنے کی توفیق حاصل ہو تو ایک شاعر ساغر کا شعر اپنی پوری تشریح کے ساتھ وقوع پزیر ہوتا نظر آتا ہے وہ کیا کہتے ہیں کہ

 آﺅ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں​
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں​

اسکے علاوہ بھی ایسا بہت کچھ ہے جسے یہاں لکھا جا سکتا ہے مگر تھوڑے کو زیادہ جانیے۔
علاوہ ازیں یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اللہ کے فضل سے صحتیاب ہو رہا ہوں اور اب طاقت بحال کرنے واسطے تگ و دو میں مبتلا ہوں۔ یار زندہ صحبت باقی 😂 سماجی فاصلہ قائم رکھیں ۔ ماسک لگا کر رکھیں ۔جہاں تک ہو سکے محدود ہو رہیں۔طبعیت زرا سی بھی خراب ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور انکی ہدایات پر بلا چوں چراں عمل کریں وگرنہ آپکی چوں چاں مستقل طور پہ بند بھی ہو سکتی ہے۔اگر آپ کے چند جماعتی ڈاکٹر (انگریزی طبیب) دوست ہیں تو سمجھیں آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں ، سوائے عمر بن اظہر کے جو رپورٹ دیکھنے کے بعد بلا مروت ولحاظ اصل صورتحال بتا کر تراہ بھی نکال سکتے ہیں۔میں قلبی طور پہ ان تمام ڈاکٹر حضرات کا ممنون و مشکور ہوں جو اب تک مجھے برداشت کرتے آ رہے ہیں ۔اللہ انہیں جزائے خیر ،اور تمام بیماروں کو شفاء عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ اعلان ختم ہوا.

عاجز ناچیز خاکسار
محمد انس

کچھ ‏بھی ‏مستقل ‏نہیں ‏ہے

0 comments
آج ان گلیوں سے گزر ہوا جس کے چپے چپے سے میری سبز رنگ کی بی ایم ایکس سائیکل کی دیرینہ شناسائی تھی، بام و در ہلکے پھلکے تغیر کے ساتھ اپنی جگہ موجود  مگر گئے دنوں کے تعاقب میں نظر آئے ۔ اساتذہ کے گھروں کے باہر سے گزرتے ہوئے انکے مخصوص الفاظ و القابات بے اختیار زباں پہ جاری ہو گئے۔ ہاتھوں میں چھڑی کی جلن کے خیال نے جنم لیا اور ایک جھرجھری سی آئی ۔ سرکاری پارک کی جنگلے سے اکھڑی ہوئی بیرونی پست دیوار کی وہ اینٹیں جنہیں ہم آتے جاتے اپنے تئیں محض ثواب کی نیت سے ٹھوکریں لگایا کرتے تھے ،اب ایک بلند قامت دیوار کا روپ دھار چکی ہیں۔ گُلّو  آج بھی اپنی دکان میں بیٹھا بازوؤں پہ ٹھوڑی ٹکائے کسی خیال میں گم تھا۔ ناجانے کتنے ہی فوت شدگان کے چہرے پردہ ذہن پہ ابھر ابھر کر مٹتے چلے گئے۔ گلیاں انجان چہروں سے بھر چکی ہیں ، مگر کہیں اکا دکا کوئی شناسا چہرہ پل بھر کو نظر بھی آیا تو آنکھوں کی اجنبیت نے ہمارے دل کے  قدم روک لیے۔ یہ لمحہ بھر کی دل سوز  کیفیات  حقیقت کا ایک چھوٹا سا پہلو ہیں کہ یہاں کچھ بھی مستقل نہیں ہے ۔یہ سب کچھ جو نظر آ رہا ہے حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے ایک مہلت کے جو ہم میں سے بلکہ  ہم جیسے  چلتے پھرتے کھاتے پیتے کئی انسانوں کے پاس نہیں رہی ہے۔اور ہمارے پاس بھی رہنے والی نہیں ہے۔

انس