کتاب دل

0 comments

ہاں ایک دل کی کتاب بھی تو ہے... جس پر سے اب تک گرد جھاڑی نہیں گئی ، ورق کھولے نہیں گئے، کبھی پڑھا ہی نہیں گیا حلانکہ زندگی کے سب سے دلچسپ،  مکالمے، موازنے، مقابلے، مضامین، حکایتیں، احساسات سے بھرپور نثر پارے،  ضد کی آنچ پہ پکنے والے کڑوے کسیلے فیصلے،  سچے قصے،دھوپ اور چھاؤں کا غیر یقینی تسلسل، خوب سیرت لوگ،  اور سب سے بڑھ کر دھڑکنوں کے ترنم سے سرشار  لازوال شاعری سبھی کچھ تو اس کے اندر موجود ہے...  روز دن کے اختتام پر چند نئے ورق اس کے اس کے اختتام میں ٹھونس دیے جاتے ہیں.اس امید پر کہ ایک دن ان صفحات کو بھی کوئی اپنی انگلیوں کا لمس بخشے گا اور ایک ایک حرف اس طرح پڑھا جائے گا کہ پڑھنے کا حق ادا کر دیا جائے گا... کہتے ہیں کہ امید پہ دنیا قائم ہے اور.... اسی دنیا میں تب تک ہم بھی قائم ہیں...عمل کے حوصلے اور امید کے ساتھ....

ملک انس اعوان

قرض

0 comments

دوستی دشمنی تو سبھی رکھتے ہیں،ظاہر ہے اختلافات بھی ہوتے ہیں،  جھگڑے بھی ہوتے، پھر اکثر دوستیوں میں اس قدر جھگڑے ہوتے ہیں کہ یہ ایک "عادت" بن جاتی ہے  اور ہوتا یہ ہے کہ فریقین میں سے "احساس" جاتا رہتا ہے. جب احساس جاتا رہتا ہے تو رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں مگر  اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ دل مضبوط ہو جاتے ہیں. ادھر احساس کی گرفت کمزور ہوئی اُدھر رشتے بدل گئے،جب اتنا کچھ بدل گیا تو رفتہ رفتہ انسان کی عادات بھی بدل جاتی ہیں. ارے ہاں میں وقت کو تو بھول ہی گیا، وہ کون سا ہمیشہ ایک سا رہتا ہے،  چلتا رہتا ہے،  گزرتا رہتا ہے....
مگر وقت جیسا بھی ہو "احساس" کا وزن پھر بھی سب سے زیادہ ہے. وگرنہ احساس ہی نہ ہو تو پیچھے بچتا کیا ہے؟
رسمیں! ....  وہ تو پہلے بھی نبھائی جاتی رہی ہیں اور آگے بھی نبھائی جاتی رہیں گی...!
بالکل ایک قرض کی طرح..... آہستہ آہستہ مگر ایک مخصوص مدت تک اور اس کے بعد   ....ہر قسم کی اخلاقی پابندی سے.... .  دائمی آزادی... گویا قرض ادا کر دیا ہو !

ملک انس اعوان

ملاقات

0 comments

بلائے گئے ہو....... تو کیا آئے ہو
تم بھی اوروں کی طرح  آئے ہو
بیٹھ جاؤ میں خود کو بلاتا ہوں
تم بھی لوگوں کی طرح آئے ہو
تم پہ لازم تو نہیں غم کی خریداری بھی
تم بھی در پہ مرے تاجروں کی طرح آئے ہو

ملک انس اعوان

رہ سکتا ہوں

0 comments

کچھ الگ کچھ آسان بھی کہہ سکتا ہوں
بے خودی میں الہام بھی کہہ سکتا ہوں
یہ ضروری ہے کہ بس شاد ہی رہا جائے
بے حد خوشی میں پریشان بھی رہ سکتا ہوں
یہ خوشی ہے کہ غم نہیں ہے موجود
ا سی غم میں ہلکان بھی رہ سکتا ہوں
آمد یاراں سے ابھی مجھکو  مطلع رکھنا  
آدمی ہوں فقط امکان بھی رہ سکتا ہوں

ملک انس اعوان

بوٹ اور پالش

0 comments


ہم نے بچپن سے لے کر اب تک اپنی چھوٹی ٹی سی زندگی میں طرح طرح کے مختلف انداز کے حامل جوتے پہنے ہیں جن میں پشاوری چپل،  سینڈل، کھیڑی، چمڑے کے جوتے وغیرہ وغیرہ  مگر ان سب کے ساتھ جو جو حالات و واقعات پیش آئے آگر ان کو ہندسوں میں تبدیل کروں اور انکا موازنہ کروں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے زیادہ محفوظ، مضبوط اور پائیدار ہمیشہ کی طرح بوٹ ہی نکلتے ہیں.  اس کی خاص وجہ اس کی تیاری کا عمل ہے،  جب اس کو بنایا جاتا ہے تو اس کو سینے کے بعد تربیت کے سخت مراحل سے گزارا جاتا ہے  اس کے اندر ایک لکڑی کا خاکہ ڈال دیا جاتا ہے جو اس کو کاٹ دار،  رعب دار  شکل اورت اٹھان دیتا ہے  اس کے بعد ان کی سب سے بڑی خاصیت ان کا اوپر سے ڈھکا ہوا ہونا ہے،  اس طرح آپ کے پاؤں چاہے کیسے ہی بھدے اور بدصورت ہوں اس کے پہننے کے بعد چھپ جاتے ہیں اور دیکھنے والے کو بس اس کی اوپر والی  چمکدار کھال ہی نظر آتی ہے. اس طرح نیچے چاہے جو کچھ بھی ہو سامنے والے پر دھاک بیٹھ جاتی ہے. دوم اس کا نچلا حصہ انتہائی مضبوط مواد سے تیار کیا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کی نوکیلی چیز (تنقید) اس کے تلوے کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے موجود پاؤں تک نہ پہنچ سکے.اس کے چاروں جانب انتہائی نفاست سے سلائی کی جاتی ہے تاکہ یہ کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کی اہلیت کو قائم رکھ سکتا کے بعد بات کرتے ہیں پالش کی،  ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ پالش اگر کوئی اچھی اور معیاری ہے تو وہ صرف پاکستانی ہی ہے،  اس کے علاوہ بہترین چمک بھی صرف پاکستانی ہاتھوں سے ہی ممکن ہے. حلانکہ اگر آپ کسی موچی کے پاس بھی جائیں تو وہ بیس روپے (شہر) یا دس روپے (دیہات) کے لیے کم و بیش 10 منٹ ایک جوڑے پہ صرف کرتا ہے،  نچلے حصے سے لے کر اوپر والی تہہ تک ایک ایک چیز کو چمکا دیتا ہے.
پھر جب آپ اس پاکستانی پالش سے پالش شدہ جوتے پہن کر عوام الناس میں جاتے ہیں تو لوگوں کی نظر آپ پرسے پھسلتے ہوئے آپ کے جوتوں کی چمک تک جا پہنچتی ہے اور وہیں گم ہو جاتی ہے،  اس کے علاوہ ان کو اس کے اندر کچھ نظر نہیں آتا....!
لیکن بہر حال وہ بوٹ  جوتے کی ہی ایک قسم ہوتا ہے.
تحریر
ملک انس اعوان

آزاد نظم

0 comments

زندہ لوگوں کے مرثیے پڑھو
مردہ لوگوں کی قبر کو چاٹو
ہلا کہ رکھ دو شہر کے بام و در
کھڑکیاں آگ کی نذر کر دو
گلی میں چند جو نظر آئیں
سب  کلیاں مسل کر رکھ دو
اڑا دوں دھوپ کے سبھی جزیروں کو
توڑ دو سب آہنی فصیلوں کو
لگا دو آگ کے درشن سر بازار
جلا دو  عافیت کے  سب سبزہ زار
کیا یہ بھی کوئی طریقہ ہے؟
کیا یہ ضبط کی کوئی صورت ہے؟
درد پھیلانے سے گھٹ نہیں جاتا
سینہ رونے سے پھٹ نہیں جاتا
سوچ رکھتی ہے اثر دیر تک جاناں
انسان مرنے سے مر نہیں جاتا
سچ تو سچ ہے نہیں نہاں ہوگا
یہاں نہیں ہے تو کہاں ہوگا
تم سمجھو گےنہیں تو کون سمجھے گا
میرے ہمراز   میرے ہم زاد
تمہیں دشمنوں نے مار ڈالا تھا
تم  نے مجھکو بھی مار ڈالا  ہے!!!!

الحاد

0 comments
اک نئی فکر صورت الحاد بنی ہے
اک نئی بزم گوشہ ایجاد سجی ہے
اجزائے ترکیبی میں افرنگ کے رنگ ہیں 
جو حضرت انسان کے فرزند کے سنگ ہیں
اب ہم کو یہ سکھلائیں گے  تہزیب و تمدن 
اکیسویں صدی تلک جو ننگ رہے ہیں 


ملک انس اعوان



دسترس

0 comments

دیکھتا ہوں سب مگر کچھ بھی نظر آتا نہیں
ہوں میں سب کے سامنے پر سامنے آتا نہیں
جو ہے میری دسترس میں ہے مجھے معلوم پر
جو ہے میری دسترس  مجھسے کیا جاتا نہیں
کہنے کو تو کہہ رہا ہوں وہ بھی جو نہ کہہ سکا
  کہتے کہتے رہ گیا ہوں جو کہا جاتا نہیں
ہے یہ بزمِ آخری  کیونکر زہر  باقی رہے
زندگی کا اور  یہ ساغر پیا جاتا نہیں

ملک انس اعوان

فن گائیکی

0 comments
فن گائیکی چند مشروط ترین فنون میں سے ایک ہے . اس سے ہماری نام نہاد رغبت فقط تان سین کے مسلمان ہونے کی وجہ سے تھی. لیکن بعد میں پتا چلا کہ تان سین جب تک گائیکی کے سر ایجاد کرتے رہے تب تک وہ غیر مسلم رہے اور قریب المرگ مسلمان ہو گئے، گویا کہ  ان جدید معلومات کے بعد ہماری وہ رہی سہی رغبت بھی جاتی رہی. اول تو اس کے لیے جو سامان یااوزار مطلوب ہیں انکا ہمارے جیسے قدیم شرفاء کے گھر نظر آنا شجرہ نصب کو مشکوک بنا دینے کے مترادف ہے. جبکہ جدید شرفاء کے ہاں یہ پابندی فی زمانہ معدوم بلکے متروک ہوتی دکھائی دیتی ہے. جبکہ جو شرفاء ان دنوں خود کو جدید کہلوانا پسند کرتے ہیں وہ اصولاً شرفاء کی فہرست سے لا تعلقی کا اعلان کرتے  ہیں. یہ تو بات تھی ساز و سامان کی اب دوسری اہم چیز ہے اچھی آواز اور دم دار گلا، جن سے راقم الحروف اوائل سے ہی محروم رہے ہیں. آواز کے حوالے سے یہ نظریہ بھی قوی ہے کہ انسان کو ہر صورت  اپنی آواز شیریں اور کانوں میں رس گھولتی ہوئی محسوس ہوتی. جبکہ یہی آواز کسی سننے والے پہ کیا اثر کرتی ہے اس کا فیصلہ سامع ہی کر سکتا ہے .جہاں تک بات ہے دم دار گلے کی تو اگر وہ پیدائشی طور پر موجود ہے تو سبحان اللہ وگرنہ بصورت دیگر اس کے لیے نہار منہ عجیب و غریب آوازوں پر مشتمل صوتی ورزش جسے باعزت طور پر "ریاضت "  کہا جاتا ہے، کی جا سکتی  ہے. اس کے لیے آپ ایسے مددگار الفاظ جو جملوں کو ملانے کے لیے استعمال ہوتے ہوں مثلاً گا، کا، نے وغیرہ اور ہمارے ہاں اندرون پنجاب  بولے جانے والے نام مثلاً گاما، راما، پا وغیرہ کا کھلم کھلا اور آزادانہ استعمال کر سکتے ہیں. احباب کے تجربات بتاتے ہیں کہ اس فن میں عبور پانے کے لیے اہل علاقہ سے دشمنی مول لینی پڑتی ہے اس عجیب و غریب بات کا مطلب اخز کرنے کے لیے جب ہم نے تحقیق کا دائرہ وسیع کیا تو معمول ہوا کہ اگر آپ صبح سویرے نہار منع مرغے(مرغ سے انتہائی معذرت کے ساتھ) کی طرح انسانی آواز میں ہاہوکار مچائیں گے تو اوس پڑوس میں موجود عام انسان اس سے شدید متاثر ہوں گے اور جلد از جلد متعلقہ حکام کو اس سے آگاہ بھی کریں گے.اس کے بعد جو قانونی و مالی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں انسے ایک پنجاب کا عام باسی خوب واقف ہے. اگر آپ کا اسی علاقے میں سالہا سال رہنے کا ارادہ ہے تو میری بات مانیے اور یہ کام انہی کو کرنے دیجیے جو پہلے  سے اسے  کر کے عوام الناس کا قیامت سے پہلے ہی امتحان لے رہے ہیں.وگرنہ 
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی 
کے مصداق رہی سہی عوامی مقبولیت بھی جاتی رہے گی اور ممکنہ طور پر فن کی بھی مدلل قسم کی تذلیل واقع ہو سکتی ہے .
تحریر 
ملک انس اعوان



اختیار حیات

0 comments
فجر کے وقت اپنے ہاسٹل کے کمرے میں نیم دراز حالت میں لیٹے لیٹے اپنے بازو سر کے نیچے رکھ کر آنکھیں موند لیں،  خاموشی اور اکیلے پن نے گویا نیند کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی مگر آنکھ بند ہوتے ہی ماضی کے منظر آنکھوں کے سامنے برق رفتاری سے گزرنے لگے. کئی شناسا اور انجان چہرے،  رویے،  واقعات اور مقامات زہن کے چوبارے سے پھسل کر دل کی گلی میں گرنے لگے اور چشم زدن میں دل محلے کی رونق کو چار چاند لگ گئے، چہل پہل اور روشنی دکھائی دینے لگی. اسی گلی کے عین درمیان میں میں نے خود کو کھڑا پایا.  جس کو آنے جانے والوں کے کندھے آ آ کر لگ رہے ہیں اور میں ہر ضرب پر خود کو سنبھالنے اور قائم رہنے کی کوشش کر رہا ہوں.میں وہاں سے بچ نکلنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں مگر ہر بار میرے "اپنے "  میرا رستہ روک لیتے ہیں.
اسی دوران ساتھ والے کمرے میں موجود طالب علم کا الارم بج اٹھتا ہے اور میرے دل محلے کی ساری رونق غائب ہو جاتی ہے اور میں اپنے آپ کو واپس اپنے کمرے میں موجود پاتا ہوں ، مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا جسم سے روح کھینچ کر نکال لی گئی ہے.میرے سر کے نیچے رکھے ہوئے ہاتھ ہلنے سے قاصر محسوس ہوتے ہیں. آہستہ آہستہ مجھے زندگی کا احساس ہوتا ہے اٹھتا ہوں اور بیٹھ کر الله کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے زندگی اور موت کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے وگرنہ مجھے روز ناجانے کتنی بار زندگی کو جھیلنا پڑتا اور موت کا زائقہ چکھنا پڑتا.
تحریر
ملک انس اعوان

اب سکوں ہے

0 comments
اب سکوں ہے
یوں ہے
مشکلوں میں ہوں
مگر حقیقت ہے
خوش ہوں میں
نہیں امید میں
اب کسی کی
اپنے انداز میں
اختیار ہوں میں
ائے  ہم عصر
ہمسفر نہیں ہوں میں
مگر باوجود
خوش ہوں میں
جو تم نے دیکھا ہے
پرکھا ہے جسے
جسے سنا ہے
جس کے نشاں دیکھے ہیں
وہ تو در حقیقت
کہیں ہوا ہی نہیں
کہیں گیا ہی ہے
اس کا  رشتہ
کسی سے کبھی
بنا ہی نہیں
اک واقع جو ہوا
سب کو یاد
سب کو ہوا
مجھکو ہوا ہی نہیں
اور کچھ جو مسکراہٹ
تم نے سجی دیکھی ہے
اس کے پیچھے
اب تک...
کوئی ہنسا ہی نہیں
یعنی اب تک
اپنے حصے کا
کوئی شخص
جیا ہی نہیں
لیکن سن رہا ہوں میں
سب کچھ
جو کہا ہی نہیں
جو ہوا ہی نہیں
اب میرے فسانے میں
میرا کردار
یعنی بہت کم
  بالکل رہا ہی نہیں
مت اٹھائیے 
جا رہا ہوں
مان لیجئے
میں نے جیسے
کچھ کہا ہی نہیں
آپ نے جیسے
کچھ سنا ہی نہیں





ملک انس اعوان

کون دیکھے گا

0 comments

ادھر  دل گرفتہ کے ارادے کون دیکھے گا
ہمارے بعد یہ منظر نظارے کون دیکھے گا
اس امید پہ جاگا  ہوں کہ پھر سو سکوں نہ میں
ہمارے بعد صبح کے ستارے کون دیکھے گا
ہوا کے دوش پہ میں بادلوں سے بات کرتا ہوں
ہمارے بعد یادوں کے اشارے کون دیکھے گا
اک صحرا پہ رہا ہم کو ہی دریا کا گماں برسوں
ہمارے بعد دریا کے کنارے کون دیکھے گا

ملک انس اعوان

مجھے ہے حکم اذاں

0 comments
آدھی رات کا وقت ہے. راولپنڈی کے معروف ہسپتال کے احاطے میں جدید تراش خراش کا حامل ایک معقول آدمی قدرے پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا ہے. اور چاروں جانب کسی چیز کو تلاش کر رہا ہے . کچھ دیر بعد ہلکی ہلکی داڑھی والا ایک نوجوان ہسپتال سے بر آمد ہوتا ہے اور مرکزی دروازے کی جانب بڑھنے لگتا ہے ،  اتنے میں وہی آدمی ہاتھ کے اشارے سے اس نوجوان کو روکتا ہے اور کہتا ہے کہ
Excuse me!  Can you give me a favour?
نوجوان رکتا ہے اور اثبات میں سر ہلا دیتا ہے. وہ آدمی اپنی بات کو بڑھاتے ہوئے آنکھیں جھکا کر کہتا ہے کہ
I have just become father of newly born baby but....
گفتگو ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوتی ہے، آدمی ایک لمبی سانس بھرتا ہے اور مری ہوئی آواز میں کہتا ہے کہ
If you don't mind!
چل کر میرے بچے کے کان میں اذان دے دیجیے مجھے آزان نہیں آتی...........!
تحریر
ملک انس اعوان