سبقت

0 comments

یہ شاعری تو فقط الفاظ کی تُک بندی ہے
کہیں قافیہ و ردیف کی پا بندی ہے
میں جو کہتا ہوں کہہ نہیں پاتا
میں جو سنتا ہوں سہہ نہیں پاتا
دامن دل دلچسپیوں سے عاری ہے
پہلا دم پچھلے دم پہ بھاری ہے
خوف یہ ہے کہ کوئی  سن لے گا
گیت اپنے سے کوئی  گُن لے گا
شام ڈھلی تو شام کی چھاؤں
گھنے پیڑ تلے پھیلا کے پاؤں
موضوع  کوئی تلخ سا چن لے گا
کوئی مجھسے پہلے تارے گن لے گا

ملک انس اعوان

اللہ سے تعلق

0 comments
کبھی کبھی میں اپنی زات کو ہوا میں معلق پاتا ہوں اور کبھی کبھی اس چند ماہ کے بچے کی طرح جو اپنی ماں کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے کمزور اعضاء پر زور ڈال کر کھڑا ہو کر اپنی ماں کی جانب جانا چاہتا ہے.اور اسی دوران جب اسکی ماں اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھتی ہے تو اس کے ننھے منے ہاتھوں میں اپنی انگلی تھما دیتی ہے جسے وہ بچہ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے، اور ماں اور بچے کے درمیان فاصلہ کم ہوتا چلا جاتا ہے، لیکن دوسرے ہی لمحے کوئی غلطی سر زد ہونے کی صورت میں گر جاتا ہے. وہ پھر بھی اپنے ہاتھوں سے ماں کی انگلی تھامے رکھتا ہے اور دوسری کوشش میں جُٹ جاتا ہے اسی طرح دوسری، تیسری اور ایسی ہی لا تعداد کوششیں کرتا چلا جاتا ہے. ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ماں اس کو اٹھا کر اپنی آغوش میں لے لیتی ہے. یہ تو تھی ایک ماں اور ایک وہ رب بھی تو ہے جو اپنے بندے سے 70 ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے. تو پھر غلطی کیجیئے مگر اپنے ہاتھوں سے اللہ کی رسی کو مت جانے دیجیے لپک کر تھام لیجیے، وہاں تک جہاں تک دم  قائم ہے. اور ہر بار گناہ کے باعث گرنے کے بعد فلاح کی جانب پیش قدمی بڑھا دیجیے.واصف علی واصف ایک جگہ فرماتے ہیں کہ روشنی کی تلاش میں مارا جانے والا پروانہ اور روشنی کو پا کر مر جانے والا پروانہ دونوں کامیاب ہیں. کیونکہ انکا مقصد روشنی تھا.
کیونکہ اللہ سے تعلق کوئی Physical Structure  (مادی ہیت) نہیں رکھتا تو اس کی مادی ہیت دراصل عبادات اور اس سے کہیں  زیادہ بڑھ کر معاملات اور معاشرت میں پنہاں ہے.لیکن پھر اس کے بعد یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ رب جو اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ الفت رکھتا ہے اس کی مخلوق میں صرف آپ ہی نہیں بلکہ دوسرے تمام افراد بھی موجود ہیں جن پر آپکے اثرات واسطہ یا بلاواسطہ طور پر پڑتے ہیں. اب جس قدر محبت ہو گی اسی قدر اس کا حساب بھی لیا جائے گا،چناچہ رب العالمین نےاسی لیے حقوق العباد صرف اسی صورت میں معاف کیے ہیں جب تک کہ متعلقہ فرد بذات خود اس شخص کو معاف نہ کردے،. کیونکہ
میرے اللہ کو اس کی ساری مخلوق  محبوب ہے.
اور اس کی رحمت بھی لا محدود ہے.
اور وہ ہر جگہ موجود ہے.....
تحریر
انس اعوان