عالمی سطح پر عالمی طاقتوں نے اپنے مقاصد کو جن کو کوئی بھی کوئی بھی نام دے دیا جائے، گزشتہ کچھ عرصے میں دوسری ریاستوں کو اس طرح استعمال کیا کہ استعمال ہونے والی ریاستوں نے اسے اپنی بقا سمجھا ہے، اور اس so called بقا میں عزت و جان تک کو بے دریغ صَرف کیا ہے. آج تمام شراکت دار اپنے اپنے حصے کی کارکردگی اور نتائج کو سمیٹ رہے ہیں. یہاں بالکل غیر جانبدار ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس ہاہوکار کے درمیان اتنے بڑے ، منظم اور جدید فوجی structures اور Think tanks کی موجودگی کے باوجود چند non state actors (چاہے وہ کسی مخصوص وقت میں کسی سے بھی مدد وصول کرتے رہے ہوں) کے آگے بے بس اور مجبور نظر آ رہے ہیں. شاید قومی ترانے اور قومی اداروں کی ذہن سازی آپکو یہ تسلیم کرنے سے روکے مگر حقیقت یہی ہے کہ طاقت کے گزشتہ نظریات اس وقت مادی و مالی وسائل کی بھر پور مدد کے باوجود اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں تاحال ناکام رہے ہیں.
کیونکہ ہم بھی ایک قوم کا حصہ ہیں اس لیے ہم شاید یہ سوچتے ہیں کہ آج امریکہ کے مقابلے میں چین آ جائے گا، مگر کینوس کا یہ منظر بھول جاتے ہیں کہ وہی طاقت جو آج ہمارے لیے زیر بحث ہے چند غیر ریاستی قوتوں کے آگے بے بس ہے. ہم ابھی تک ایسی قوتوں کو عالمی طاقت کا stakeholder نہیں سمجھتے ہیں ،ان کو stakeholder نہ سمجھنے کا سب سے زیادہ نقصان شاید ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے. اس کے علاوہ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ طاقت کا یہ non state نظریہ اگر عالمی سطح پہ prevail کرتا ہے تودنیا کے نقشے پہ جدید منظر نامہ کیا بنتا ہے ؟...... یہ وہ نقطہ ہے جس پہ دنیا بھر کی ریاستیں وسائل صَرف کر رہی ہیں.
انس
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
عالمی طاقت اور ریاستیں
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments