ابھی کل ہی کی تو ہے بات
میں سر شام چپ سا ہو گیا تھا
سامنے پیڑ قطار اندر قطار
ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے
ایک دوجے پہ بوجھ ڈالے ہوئے
جیسے گزرتے وقت کے نوحے پڑھ رہے ہوں
سیاہی چھانے لگی تھی
افق پہ ڈوبتے سورج کی جاں
کہ جیسے نیزے کی نوک پہ آ ٹکی تھی
پنچھیوں کے شور سے دل ڈوب رہا تھا
عجب اک آزمائش تھی
سایہ دل میں دھوپ بھری تھی
خامشی تھی ساتھ میں تو بھی کھڑا تھا
اجنبیت لہجے میں کیوں آ جمی تھی
راستے تھے، مگر میرے نہیں تھے
ہمنشیں تھے، میرے نہیں تھے
سبھی کچھ داؤ پہ جو آ لگا تھا
اگر میں بولتا
بولتا بھی تو کیسے
میں تو جود سے لڑ کر گرا تھا
میں اپنے آپ سے تھک کر گرا تھا
ملک انس اعوان

