رمزی آبلہ

0 comments

 جس طرح پاکستان میں کچھ خواتین پورے خاندان کی نانیاں ہوتی ہیں ۔ ایسے ہی ہماری بھی ترکیہ میں ایک نانی ہیں انکا نام ہے رمزی آبلہ ۔ استنبول کے قریبی صوبے میں رہائش ہے ، بہترین سا دیہاتی انداز کا نظام ہے ، دودھ دہی سے لے کر سبزی تک ہر شئے گھر کی ہوتی ہے، پورا گاؤں انکو جانتا ہے اور انکی سفارش پہ آپ گاؤں میں کوئی بھی آسائش حاصل کر سکتے ہیں ۔ بلکہ وہ چھین کر بھی دلوا سکتی ہیں ۔

فصل تیار ہو تو یہاں فندک یعنی hazelnut کے باغات سے اول دودھیا قسم کے یہ خشک میوے ضرور ہمارے ہاں بھجواتی ہیں ۔ باتوں باتوں میں بیگم نے انہیں بتایا کہ ہمیں بھنڈی بہت پسند ہے تو نانی نے پیغام بھیجا کہ اگلےکچھ دنوں میں چکر لگاؤ ہماری بھنڈی بھی تیار ہے ۔
خیر ہمیں سسر مرحوم کے ساتھ کسی اور جگہ جانا تھا رستے میں ہم انکے ہاں ٹھہر گئے ۔ خیر بھوک زوروں پہ تھی ۔۔۔ رمزی آبلہ نے کھانا میز پہ رکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ بھنڈی کا شوربہ (عرف عام میں چوربہ )ہمارے سامنے ہے ۔
نزاکت لے کے آنکھوں میں وہ انکا دیکھنا توبہ
‏الہی ہم انہیں دیکھیں یا ان کا دیکھنا دیکھیں
چھوٹی چھوٹی بھنڈیاں اور وہ بھی ڈنڈیوں کے ساتھ (یہاں اچھی سمجھی جانے والی بھنڈی چھوٹی ہوتی ہیں اور ڈنڈی سمیت پکائی جاتی ہے )، اللہ کا نام لیا اور کھانا شروع کیا ، رمزی قبلہ کا خلوص شامل تھا کہ ذائقہ اچھا لگا ۔دیسی بھنڈی تو شاید اب ہمارے ہاکستان میں شاید خال خال ہی نظر آتی ہے ۔ البتہ بھنڈی کا وہ تصورجو ہمارے ذہن میں تھا ۔۔۔ نہیں رہا ۔۔۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہاں کونیا کے قریب بھنڈی کا چوربہ اچھی خاصی مشہور غذا ہے ۔ اللہ کی قدرت 🙂
دل کرتا ہے کہ کسی سندھی کے ہاتھ کی بنی ہوئی کرکری کراری بھنڈیاں انہیں کھلاؤں تو چس آ جائے 🙃

مجھے تو آپ سے کوئی گلہ نہیں !

0 comments
مگر ایک چاہنے والے سے مجھے آپ کے حوالے سے کچھ کہا ہے ۔ اس نے کہا کہ بحیثیت قوم اپنے نقصان کو معمول مت بنائیں ۔ آفات و حادثات میں کتنی ہی جانیں محض ایک گنتی کی سی صورت میں ہماری آنکھوں سے گزر جاتی ہیں ،آنکھوں میں زرا سی نمی نہیں آ پاتی ، دل ہے کہ تنگ نہیں ہوتا ۔ کون کس کو بس سے اتار کر مار رہا ، لیکن محض عصبیت کی بنیاد پہ ظلم پہ آواز بلند نہیں ہوتی۔ ہر سال سیلاب قدرتی آفات میں کتنا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے مگر سب ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ اور پھر اگلے سال مزید بڑے نقصان کا انتظار کیا جاتا ہے ۔
اس طرح ہم ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے ہوئے در اصل اپنی وقعت کھو رہے ہیں ، ہمارا جان مال بھی اپنی وقعت کھو رہا ہے ۔ ان ہاتھوں کو بھی سلام جو ہر مشکل میں قوم کو آگے بڑھ کر مدد کرتے ہیں ۔ مگر یہ حل نہیں ہے ۔ آپ کا میرا ہم سب کا اس قوم و ملت کا درد محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ بعض نقصانات کا مداوا مادی امداد و بیرونی بھیک سےممکن ہے ۔
مجھے اس ترک طالب علم کی بات نہیں بھولتی جو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران کوڑا زمین پہ نہیں پھینکتا تھا ۔ جب پوچھا تو اس کے کہا میں “وطن خائن “ نہیں ہوں ۔ میں اپنے ملک میں گند پھیلا کر خیانت نہیں کرتا تو جس ملک میں رہ رہا ہوں اس سے خیانت کیسے کروں ۔
قوم پرست نہ بنیں مگر اس مملکت خداداد اور اسلام کے قلعے کے محب وطن تو بنیں ۔ اپنے اپنے دائروں میں اپنے ماحول اور زمین سے خیانت تو نہ کریں ۔کیا یہ اللہ کی دی ہوئی امانت میں سے ایک امانت نہیں ؟ کیا یہ کفران نعمت نہیں ہے ؟
پنجابی ، سندھی، بلوچی ، پٹھان ،وغیرہ سب ہمارے اپنے ہیں ۔ انکا درد ہمارا درد ، انکا دکھ ہمارا دکھ ہے ۔ خدارا ایک دوسرے کے لیے، ملک و ملت کے لیے ، اپنے ماحول کے لیے حساسیت پیدا کریں ۔ آپ اپنے آپ کو اہمیت نہیں دیں گے تو دنیا میں کوئی بھی آپکو اہمیت نہیں دے گا ۔
اور مجھے تو امید بھی بہت ہے کیونکہ یہ قوم ناممکنات کو ممکن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔
مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں کیونکہ میں بھی آپ میں سے ایک ہوں ۔
انس اعوان

ترکیہ کا شیخوپورہ 😀 Türkiye’nin Şeyhupura’sı 😀

0 comments

 جمہوریہ ترکیہ کے بحیرہ اسود کے صوبہ صامسون میں ضلع “چارشانبا “کو ترکیہ میں وہی فضلیت اور نیک نامی حاصل ہے جو پاکستان میں شیخوپورہ کے حصے میں آئی ہے ۔ ہلکا پھلکا لڑائی جھگڑا ، اسلحہ رکھنا اور اسکا ایک دوسرے پہ استعمال باقی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے ۔البتہ ہماری انسے خوب بنتی ہے اسی سبب جب بھی کوئی صامسون سے استنبول کی جانب آتا ہے تو ہماری زوجہ کے ماموں حضرات ہماری قدرتی اشیاء خورد و نوش کا ذریعہ ترسیل بحال رکھتے ہیں ۔

جیسے پاکستان میں ہمارے ننھیال ہمارا خیال رکھتے تھے ایسے ہی ہماری ذوجہ کا ننھیال ترکیہ میں ہمارا خیال رکھتا ہے ۔ سرگودھا میں موسم کے حساب سے بالخصوص کنو مالٹے ، دودھ اور دیگر اشیاء ہوتی تھیں ۔ یہاں کیونکہ زوجہ کے ننھیال بحیرہ اسود کے بالکل کنارے پہ آباد ہیں تو یہاں سرد موسم میں بحیرہ اسود کی مشہور کالکان مچھلی ( Black Sea turbot -S. maeoticus) اور دیگر اقسام کی مچھلیاں اور جھینگے اپنے مقررہ وقت پہ انتہائی لذیذ ہوتے ہیں ، ہمارے رشتے داروں کا افواج ترکیہ میں ملازمت اور کھیتی باڑی کے علاوہ زریعہ معاش سمندر سے ایک خاص قسم کے جھینگوں کا شکار بھی ہے جو آدھا پکا کر محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے ، مقامی انجیر ،مقامی چاول گھر کی اگائی سبزیاں ،ہیزل نٹ قابل ذکر ہیں ۔ یہاں سمندر کے قریب کچھ دلدلی علاقہ بھی موجود ہے جہاں لوگ اپنی گائیں صبح چھوڑ دیتے ہیں اور وہ شام میں پیٹ بھر کر گھر آ جاتی ہیں ۔ جڑی بوٹیاں اور جنگلی گھاس پھوس کی وجہ سے دودھ کا معیار بہت اعلی ہوتا ہے چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ، اسی لیے یہاں مکھن بھی عام دودھ کے مکھن سے کہیں بہتر ہوتا ہے ۔
Türkiye’nin Şeyhupura’sı 😀
Türkiye Cumhuriyeti’nin Karadeniz bölgesindeki Samsun ilinin Çarşamba ilçesi, Türkiye’de tıpkı Pakistan’da Şeyhupura’nın sahip olduğu şöhrete ve namına sahiptir. Ufak tefek kavgalar, silah taşımak ve bunu birbirine karşı kullanmak, diğer bölgelere oranla burada daha çok görülür. Ancak bizim onlarla çok iyi geçimimiz vardır. Bu yüzden Samsun’dan İstanbul’a doğru gelen her yolculukta eşimin dayıları, doğal yiyecek-içecek ürünlerini bize ulaştırmayı ihmal etmezler.
Nasıl ki Pakistan’da bizim naniyal (anne tarafı akrabalarımız) bize özen gösterirdi, Türkiye’de de eşimin naniyalı, aynı şekilde bize sahip çıkar. Sargodha’da mevsime göre özellikle portakal, mandalina, süt ve diğer ürünler olurdu. Burada ise eşimin anne tarafı Karadeniz’in tam kıyısında yaşadığı için, kış aylarında Karadeniz’in meşhur kalkan balığı ve diğer balık çeşitleri ile karidesler tam mevsiminde son derece lezzetli olur. Akrabalarımızın geçim kaynakları arasında Türk Silahlı Kuvvetleri’nde görev yapmak ve tarımın yanı sıra denizden elde edilen özel bir karides türünün avcılığı da vardır. Bu karidesler yarı pişirilip saklanır ve sonra başka ülkelere ihraç edilir.
Yerel incir, yöresel pirinç, evde yetiştirilen sebzeler ve fındık da ayrı bir değer taşır. Denize yakın bölgelerde bazı bataklık alanlar bulunur. İnsanlar sabahleyin ineklerini bu alanlara salar, akşam olduğunda ise hayvanlar karınları doymuş şekilde kendiliğinden evlerine döner. Çeşitli otlar ve yabani bitkiler sayesinde süt kalitesi çok yüksektir, yağ oranı boldur. Bu nedenle buradaki tereyağı da sıradan sütten yapılan tereyağından çok daha lezzetlidir.
Muhammad Anas Awan
محمد انس اعوان



شام کا نیا انتخابی نظام

0 comments
شام میں پہلی بار دہائیوں بعد ایک حقیقی مجلسِ الشعب (پارلیمنٹ) بننے جا رہی ہے۔بشار الاسد کی ظالمانہ حکومت کے بعد یہ پہلا انتخاب ہے جو بدنام زمانہ بعث پارٹی کے تسلط سے آزاد ہوگا، یاد رہے کہ بعث پارٹی 1963 کے فوجی انقلاب کے بعد سے ملک پہ قابض تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ شام کا پہلا الیکشن ہے جو بلاواسطہ انتخابی طریقے (Indirect Election) کے زریعے سے وقوع پزیر ہوگا ۔
براہ راست انتخابات کیوں نہیں ؟
شام کی موجودہ غیر معمولی صورتحال کے پیشِ نظر، اور ان مشکلات کے باعث جو شہریوں کے رہائشی پتے طے کرنے میں درپیش ہیں ،خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو آزادی کے بعد وطن واپس آئے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ اُس بڑے پیمانے پر آبادی میں تبدیلی کے سبب جو انقلاب کے برسوں کے دوران بعض علاقوں میں اجتماعی ہجرت کے نتیجے میں ہوئی، براہِ راست عوامی ووٹ کے ذریعے مجلسِ الشعب (پارلیمنٹ) کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے شام کے نئے صدر احمد الشرع نے سنہ 2025 کا صدارتی فرمان نمبر (143) جاری کیا، جس میں نئی مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ کے انتخاب کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ انتخابی مجالس (Electoral College) کے ذریعے ہوگا، جو مختلف یورپی ممالک، کیوبا اور دیگر جگہوں پر مختلف صورتوں میں رائج ہے۔
بلاواسطہ انتخاب (Indirect Election) کیا ہے؟
پاکستانی نظام میں عوام براہِ راست امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں جیسے ہمارے ایم این اے/ایم پی اے ۔
لیکن شام کے اس نظام میں عوام براہِ راست ووٹ نہیں دیں گے۔
بلکہ حکومت کی جانب سے ایک درمیانی سطح پہ Electoral College کی تشکیل دیا جائے گا ۔
یہ کالج مخصوص افراد پر مشتمل ہوگی، جو پھر مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ کے اراکین منتخب کریں گے۔
انتخابی مجلس Electoral College
یہ وہ افراد ہوں گے جنہیں ایک آزاد کمیٹی چھانٹ کر منتخب کرے گی۔یہی لوگ امیدواروں کو ووٹ دینے کے مجاز ہوں گے۔ہر صوبے/علاقے کے حساب سے مخصوص تعداد رکھی جائے گی، جیسے پاکستان میں ہر ضلع/حلقے کی نشستوں کا کوٹہ ہوتا ہے۔
شرائط برائے اراکین انتخابی مجلس (Electoral College)و امیدواران
مسلح افواج یا خفیہ اداروں سے تعلق نہ ہو۔
پرانے نظام (بعث پارٹی) یا دہشت گرد تنظیموں کے حامی نہ ہوں۔
ملک کی تقسیم کے حامی نہ ہوں۔
اچھی ساکھ اور سماجی وقار رکھتے ہوں۔
نشستوں کی تقسیم کار
کل نشستیں:مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ میں کل 210 اراکین ہوں گے۔
ان میں سے ⅔ (دو تہائی) یعنی تقریباً 140 اراکین کو انتخابی مجالس منتخب کریں گی۔
باقی ⅓ (ایک تہائی) یعنی تقریباً 70 اراکین کو صدر براہِ راست نامزد کریں گے۔
انتخابی مہم
پاکستان کی طرح عام عوامی ریلیاں، جلسے یا بڑے بڑے انتخابی وعدے نہیں ہوں گے۔
امیدوار صرف اپنی مقرر کردہ انتخابی مجلس کے سامنے اپنی پالیسی اور منصوبہ پیش کر سکتے ہیں۔
انتخابی مہم صرف انہی مخصوص افراد تک محدود ہوگی۔
اب اس نظام کو پاکستانی مثال سے سمجھتے ہیں
اگر پاکستان میں یہی نظام ہوتا تو یوں ہوتا
عام ووٹر (عوام) کو ووٹ دینے کی اجازت نہ ہوتی۔
ایک کمیٹی ہر ضلع میں چند سو یا چند ہزار بااثر، معتبر اور منتخب شدہ افراد پر مشتمل “انتخابی مجلس ” بناتی۔
قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی میں جانے کے خواہش مند لوگ انہی مخصوص افراد کے سامنے اپنی پالیسی رکھتے۔
وہ مخصوص افراد اپنے ضلع کی نشستوں کے لیے نمائندے منتخب کرتے۔
اور اسمبلی کی کچھ نشستیں براہِ راست صدر (یا وزیراعظم) اپنی مرضی کے افراد کو دیتے ۔
محمد انس اعوان
استنبول ، ترکیہ

مرچ ، عشق اور بدھ بازار

0 comments



جیسے پاکستان میں اتوار بازار یا جمعہ بازار کا انعقاد  ہوتا ہے اسی طرز اور انداز پہ استنبول کے مختلف محلوں میں بازار سجتا ہے ۔ ہمارے ہاں یہ بازار بروز بدھ سجتا ہے اور ہفتے بھر کی سبزی  اور میوہ جات یہیں  سے خریدے جاتے ہے ۔ یہاں کا ماحول شدید دیسی ہوتا ہے اور لوگ کھل کر ایک دوسرے سے گپ شپ کر رہے ہوتے ہیں ۔ 

ترکیہ میں عام لوگ میٹھی سبز مرچ کو ترجیح دیتے ہیں اور تیکھی مرچ ڈھونڈنا قدرے مشکل ہوتا ہے ۔ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخرکار  ایک سٹال پہ مجھے پاکستان جیسی باریک سبز مرچ نظر آئی ۔ 

دکاندار سے پوچھا کہ بھیا یہ مرچ ذائقے میں کس قدر تیز  ہے ؟ 

دکاندار نے اپنا ہاتھ سینے پہ رکھ کر  کمال انداز سے کہا کہ ، 

“یہ مرچ محبت کے درد کی طرح  ہے“

ترک زبان میں جملہ کمال تھا، ترجمہ شاید اس قدر انصاف نہ کر پایا ہو ۔  

“Aşklar kadar acı” 

ترک زبان میں درد اور تیکھے پن کے لیے ایک ہی لفظ عموما استعمال ہوتا ہے اور وہ ہے acı ۔

اس جملے کا جو لطف اٹھایا  کہ بس۔۔۔۔


اگلے مرحلے پہ سبزی  خریدتے ہوئے  گھر والوں سے اردو میں بات کر رہا تھا کہ ، وہاں کھڑی خواتین نے میری بیگم سے پوچھا کہ تمہارا شوہر کس ملک سے ہے ۔ بیگم  نے جواب دیا تو اس کے بعد اپنے دیسی انداز میں سولات اور جوابات کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔ وہیں کھڑے کھڑے ایک خاتون نے پوچھا کہ پہلی بار آپ لوگ کہاں ملے تھے۔ بیگم نے کہا کہ “اسکدار شریف “ میں ۔ اس کو سن کر پیچھے سے ایک ادھیڑ عمر خاتون نے تبصرہ داغا کہ “ اجی ہم بھی اسکدار جا جا کر بوڑھے ہو گئے ہیں ، ہمیں تو کوئی نہیں ملا “ 

اس پہ سارا مجمع کھلکھلا اٹھا ، اس سے پہلے کہ سوالات کی نوعیت مزید ذاتی ہوتی ، ہم نے سامان اٹھایا اور گھر کی راہ لی 😅😅


انس 

استنبول ترکیہ

برطانوی مسجد اور وکیل صاحب

0 comments
دن بھر کی طوفانی ہوا سمندر کنارے سستا رہی ہے ،نومبر کی آخری رات برلب آبنائے باسفورس ایک کثیر المنزلہ قہوہ خانے کی چوتھی منزل سے استنبول کا دلکش نظارہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی وکیل اور دو احباب کے ہمراہ ترک چائے کا دوسرا دور چل رہا ہے اور طویل گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ 
بات بڑھتے بڑھتے بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی مذہبی تقسیم تک جا پہنچی ، مہمان گرامی گویا ہوئے کہ آج سے کچھ سال پہلے برطانیہ کی ایک معروف مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے سیکنڑوں لوگ موجود تھے۔ 
انہی دنوں پاکستان میں اسی مکتبہ فکر کی ایک مسجد پہ بم دھماکے سے شہادتیں ہوئیں تھیں ۔ خطبہ جمعہ سے پہلے امام صاحب نے انتہائی جذباتی ہو کر کہا کہ انکو پتہ ہے کہ یہ دھماکے کس نے کروائے ہیں!!! اسکے بعد انہوں نے وہ وہ باتیں بیان کیں جو پاکستان ،امریکہ ،برطانیہ ،روس و اسرائیل کی خفیہ اداروں کے علم میں بھی نہ ہوں گی ۔اور الزام ایک اور مکتبہ فکر پہ دھر دیا۔ 
وکیل صاحب سے رہا نہیں گیا اور بھری مسجد میں کھڑے ہو کر امام مسجد سے بصد احترام درخواست کی کہ آپ موقع کی مناسبت کو سمجھیے ،حالات کو دیکھیے اور یہ دیکھیے کہ آپ ایسی باتیں کس جگہ اور کن حالات میں کر رہے ہیں,یہاں دیگر مکتبہ فکر کے افراد بھی موجود ہیں، اگر ہو سکے تو اپنی خدمات خفیہ اداروں کو پیش کریں تاکہ اس سے مستفید ہوا جا سکے۔
امام مسجد سیخ پا ہو گئے اور مسجد کمیٹی سے درخواست کی کہ انکو مسجد سے فوراً بے دخل کیا جائے ۔مسجد کمیٹی کے ممبران کبھی وکیل صاحب کی جانب دیکھتے اور کبھی امام صاحب کی جانب ۔ مسجد کمیٹی بے بس تھی کیونکہ وکیل صاحب انکے داماد تھے 🤣۔
بہرحال وکیل صاحب احتجاج ریکارڈ کروا کر باہر تشریف لے آئے ۔۔۔۔۔!
ہنسا جائے یا رویا جائے ۔۔۔۔ہم تو فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

کرونا ‏

0 comments
برادران ملت اسلامیہ !
بات کچھ اس طرح سے ہے کہ یہ جو ہم روز کرونا نامی عالمی وبا ٕکے حوالے سے سینکڑوں ہدایات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں ۔۔۔۔ خدارا دست بستہ درخواست ہے کہ اس سلسلے کو روکیے اور ان ہدایات کو دماغ کے نہاں خانوں میں جگہ دیجئے وگرنہ آپکو زمین کے اندر ایک نہ ایک دن تو جگہ ویسے بھی مل ہی جائے گی۔

اپنا ذاتی تجربہ بتاتا ہے کہ اس موذی کے ہاں دل ہارنے کے بعد ایسی ایسی ہیجان انگیز روحانی و جسمانی کیفیات کا نزول و ظہور ہوتا ہے کہ انسان اپنے ارد گرد کی ہر شے لا یعنی اور بے مقصد محسوس کرتا ہے ۔ کمرے کی چھت سے لٹکتے ہوئے پنکھے کے پروں کے بیچ سے فرشتوں کے اترنے کے مناظر واضح طور پہ نظر آتے ہیں اور یہی گمان گزرتا ہے کہ ابھی یہ ہمارے جسم سے ہمارا سافٹویئر ہٹانے والے ہیں۔ ان دل سوز کیفیات کا اثر دنوں تک رہتا ہے اور اللہ کی ایک ایک نعمت پوری شدت کے ساتھ یاد آتی ہے۔ اقامت دین کے لیے "رہ"جانے والی کوششیں بھی نیزوں کے مصداق جگر کو چیرتی محسوس ہوتی ہیں۔ اس دوران ایسی غنودگی طاری رہتی ہے کہ موسم سرما میں دھند کی مانند حد نگاہ صفر ہو جاتی ہے، اس دوران اگر نماز پڑھنے کی توفیق حاصل ہو تو ایک شاعر ساغر کا شعر اپنی پوری تشریح کے ساتھ وقوع پزیر ہوتا نظر آتا ہے وہ کیا کہتے ہیں کہ

 آﺅ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں​
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں​

اسکے علاوہ بھی ایسا بہت کچھ ہے جسے یہاں لکھا جا سکتا ہے مگر تھوڑے کو زیادہ جانیے۔
علاوہ ازیں یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اللہ کے فضل سے صحتیاب ہو رہا ہوں اور اب طاقت بحال کرنے واسطے تگ و دو میں مبتلا ہوں۔ یار زندہ صحبت باقی 😂 سماجی فاصلہ قائم رکھیں ۔ ماسک لگا کر رکھیں ۔جہاں تک ہو سکے محدود ہو رہیں۔طبعیت زرا سی بھی خراب ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور انکی ہدایات پر بلا چوں چراں عمل کریں وگرنہ آپکی چوں چاں مستقل طور پہ بند بھی ہو سکتی ہے۔اگر آپ کے چند جماعتی ڈاکٹر (انگریزی طبیب) دوست ہیں تو سمجھیں آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں ، سوائے عمر بن اظہر کے جو رپورٹ دیکھنے کے بعد بلا مروت ولحاظ اصل صورتحال بتا کر تراہ بھی نکال سکتے ہیں۔میں قلبی طور پہ ان تمام ڈاکٹر حضرات کا ممنون و مشکور ہوں جو اب تک مجھے برداشت کرتے آ رہے ہیں ۔اللہ انہیں جزائے خیر ،اور تمام بیماروں کو شفاء عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ اعلان ختم ہوا.

عاجز ناچیز خاکسار
محمد انس

کچھ ‏بھی ‏مستقل ‏نہیں ‏ہے

0 comments
آج ان گلیوں سے گزر ہوا جس کے چپے چپے سے میری سبز رنگ کی بی ایم ایکس سائیکل کی دیرینہ شناسائی تھی، بام و در ہلکے پھلکے تغیر کے ساتھ اپنی جگہ موجود  مگر گئے دنوں کے تعاقب میں نظر آئے ۔ اساتذہ کے گھروں کے باہر سے گزرتے ہوئے انکے مخصوص الفاظ و القابات بے اختیار زباں پہ جاری ہو گئے۔ ہاتھوں میں چھڑی کی جلن کے خیال نے جنم لیا اور ایک جھرجھری سی آئی ۔ سرکاری پارک کی جنگلے سے اکھڑی ہوئی بیرونی پست دیوار کی وہ اینٹیں جنہیں ہم آتے جاتے اپنے تئیں محض ثواب کی نیت سے ٹھوکریں لگایا کرتے تھے ،اب ایک بلند قامت دیوار کا روپ دھار چکی ہیں۔ گُلّو  آج بھی اپنی دکان میں بیٹھا بازوؤں پہ ٹھوڑی ٹکائے کسی خیال میں گم تھا۔ ناجانے کتنے ہی فوت شدگان کے چہرے پردہ ذہن پہ ابھر ابھر کر مٹتے چلے گئے۔ گلیاں انجان چہروں سے بھر چکی ہیں ، مگر کہیں اکا دکا کوئی شناسا چہرہ پل بھر کو نظر بھی آیا تو آنکھوں کی اجنبیت نے ہمارے دل کے  قدم روک لیے۔ یہ لمحہ بھر کی دل سوز  کیفیات  حقیقت کا ایک چھوٹا سا پہلو ہیں کہ یہاں کچھ بھی مستقل نہیں ہے ۔یہ سب کچھ جو نظر آ رہا ہے حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے ایک مہلت کے جو ہم میں سے بلکہ  ہم جیسے  چلتے پھرتے کھاتے پیتے کئی انسانوں کے پاس نہیں رہی ہے۔اور ہمارے پاس بھی رہنے والی نہیں ہے۔

انس

احساسات ‏(اسکدار)

0 comments
استنبول کی ایشیائی جانب" اسکدار ساحل" کے قریب نئے غریب خانے میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہوا چاہتا ہے۔یہاں کھڑکی سے بر لب باسفورس یورپی کنارے پہ نظر آنے والے ڈولما باہچے محل کے منظر کے علاوہ سب سے دلچسپ چیز   پڑوس میں رہنے والے افراد ہیں،اکثریت مذہبی اور بہترین اخلاق والے ہیں،ہمارے سامنے ایک عبداللہ نام کے ترک بزرگ رہتے ہیں جو آئے دن کسی نہ کسی بہانے سے اپنا ٹول بکس اٹھا کر ہمارے گھر آ جاتے ہیں اور کوئی نہ کوئی کام اپنی مرضی سے  فی سبیل اللہ کر جاتے ہیں ، اور اس سے متعلق ضروری اشیاء بھی خود ہی خرید لاتے ہیں ایک بار اپنی انگلیاں بھی زخمی بھی کروا بیٹھے مگر باز نہیں آئے۔ آج تک ہمارے گھر سے ایک کپ چائے بھی نوش نہیں فرمائی مگر جیسے ہی  شام کو  گھر واپسی ہوئی تو معلوم ہوا کہ عبداللہ چچا ہم احباب واسطے آج  پنیر کا بنا ہوا  لذیز بوریک گھر دے گئے ہیں۔مالک مکان کی بیوی بھی ایک نہایت اعلی ظرف کی  بزرگ خاتون ہیں ،گزشتہ دنوں اپنے بیٹے کے ہمراہ  کچھ دیر  کو ہمارے ہاں ٹھہریں ،ہم نے اپنی سہولت کے لیے گھر کا کچھ کام کروایا معلوم پڑا  تو اسکے پیسے کرائے میں سے واپس کروائے اور روانگی سے کچھ ہی دیر بعد مزید کارپٹس دے کر اپنے بیٹے کو بھیج دیا ۔ 
یقیناً ہم میں سے ہر کسی کے ساتھ معاملات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہم بلا شبہ کہہ سکتے ہیں یہاں کے مذہبی اور روایتی لوگوں میں آپ ہر گز اجنبیت محسوس نہیں کریں گے۔الحمداللہ ہم یہاں بھی بزرگوں کی نصیحت  و نظر کرم سے محروم نہیں ہیں۔اور بحیثیت مسلم و پاکستانی جو محبت ہم یہاں سمیٹ رہے ہیں اس کے لیے احسان مند ہیں۔
انس اعوان

خط بنام زاہد محمود

0 comments
آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ سیفوکیہ (اعزازی و عارضی) 
استنبول، ترکی

محترم زاہد محمود الخراسانی

ہمارے "مرزا عبدالودود بیگ" امید ہے کہ آپ صحت ایمان، علم اور کاروبار کی بہترین حالت میں ہوں گے. اجی بات کچھ اس طرح سے ہے کہ ہم بھی بخیر عافیت ہیں،جب سے خاکسار پاک سر زمین چھوڑ کر یہاں استنبول آیا ہے گویا دیکھنے اور محسوس کرنے کو تو بہت کچھ میسر ہے مگر یہ دیکھنا اور یہ محسوس کرنا آپ کے مخصوص تہہ در تہہ تبصروں کی آمیزش کے نہ ہونے کے سبب قدرے نا مکمل محسوس ہوتا ہے.اور خدا جانتا ہے کہ "بوجھ کب ناتواں سے اٹھتا ہے". اس سے قبل بھی عاجز کی مکتوب نگاری کا سلسلہ جاری تھا جو پیشہ ورانہ سستی و کاہلی کے سبب جاری نہ رہ سکا. اب کہ ہم سوچتے ہیں کہ  بحالت مجبوری وقت بے وقت کی  انگریزی ہانکنے اور ترک زبان سننے سے کہیں ہماری اردو متاثر نہ ہو جائے، اسی اندیشے کو سامنے رکھتے ہوئے اور صلاحیت کو نکھارنے واسطے بقلم خود عاجز ناچیز خاکسار حاضر خدمت ہے. 
عزیز دوست ماحول کا لطیف اثر طبعیت پہ پڑ نہیں رہا اتر رہا ہے، راہ چلتے کسی کتے کو کنکر اور بلی کو بھگا دینے کو من تیار نہیں ہوتا، چلتے چلتے پھولوں کی کیاریوں سے ہاتھ پھیلائے ہوئے پتوں کو نوچنے، پھولوں کو مسلنے اور ٹہنیوں کے بانک پن کو چھیڑنے پہ طبعیت مائل نہیں ہوتی ہے. جو جہاں ہے جیسے ہے خوبصورت ہے، یہاں مجھے احساسات کی کشیدہ کاری سے  مزین دلکش کواڑ کھولنے کے لیے مکانوں کی لا تعداد قطار میں سے چلتے ہوئے کارخانوں کے دھواں اگلتے آتش فشاؤں کے قریب زرا ہرے بھرے ویرانوں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے. شہر استنبول میں تاریخ کی محبت کا فسوں سر چڑھ کر بولتا ہے.اور کچھ جام و بادہ کی طلب بھی محسوس نہیں ہوتی ہے، اور اگر یہ طلب محسوس ہو بھی تو یاد رکھیے یہاں ہماری چائے  دستیاب نہیں ہے، لہذا بس اپنے آپ کو اس شہر کی پر اسرار سرد ہوا کے حوالے کیجیے اور دیکھیے یہ کس طرح تاریخ کے معطر و منور جھرونکوں سے قدیم عشق و محبت  کی وہ خوشبو کشید لائے گی کہ جدیدیت تمام تر شعلہ سامانیوں کے باوجود ہاتھ ملتی رہ جائے.دعاؤں میں یاد رکھیے..!

خاکسار
انس اعوان

مہنگی کرپشن

0 comments

ہمارے ایک دوست درآمد برآمد کا کاروبار کرتے ہیں، استنبول سیر و سیاحت کے لئے تشریف لائے، حالیہ پاکستانی حکومت کے کارہائے نمایاں کو زیر بحث  لاتے ہوئے وہ گویا ہوئے کہ پاکستان کے حالات پہ تو تنزلی ہمیشہ کی طرح جاری ہی. ہے اور کرپشن پہ تو کوئی فرق نہیں پڑا  ہاں البتہ کرپشن مہنگی  ضرور ہو گئی ہے.
بات کچھ عجیب لگی خیر وضاحت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ دیکھیے اوپر سے نیچے تک ہر سرکاری محکمے کی صورتحال وہی ہے جو پہلے تھی، لیکن ایک بات زبان زد عام ہے کہ "اوپر سے بہت سختی ہے" اور اسی ہوائی سختی کی مد میں عام رشوت کے ساتھ ساتھ اضافی رقم بھی عوام کی جیب سے نکلوائی جا رہی ہے تاکہ اس "اوپر" سے آنے والی سختی کے اثر کو زائل کیا جا سکے.
یعنی کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ اس کرپشن کے خلاف نام نہاد جنگ کا اضافی بوجھ بھی عوام کی جیب پہ ہی پڑ رہا ہے.اور غریب کی جیب اور پیٹ پہ پڑنا والا ہر ہاتھ بولتا دکھائی دیتا ہے کہ
"اب نہیں تو کب - - - ہم نہیں تو کون"

انس اعوان - استنبول

سیاہ

0 comments

عجیب ماضی کی وحشتیں تھیں
عجیب حالات پھر رہے ہیں
ہم اپنے کمرے کی کھڑکیوں سے
اندھیر کرنوں کو گن رہے ہیں
سفیدیوں سے سیاہیوں کی
سیاہ لکیروں کو چن رہے ہیں
عجیب تصویر بن رہی ہے
عجیب انداز ڈھل رہے ہیں
سیاہ مائل سے کینوس پہ
خزاں کے دلدل ابل رہے ہیں
وہاں پہ سنسان راستوں پر
وہ شور وحشت مچا ہوا ہے
کہ ذات و ہستی الجھ رہی ہے
کوئی باب ذلت پلٹ رہا ہے 

Empty Bottles

0 comments
Brothers we are not the "Empty Bottles" to be thrown away in the Dustbin of History. We have to know who we are. From where we Belong and where we have to go. You have to understand that,we are losing our culture our traditions and our dearest religion Islam. Being a Muslim we consider our religion as above all the things that matters or even they does not matter. 
But today When we see ourselves in the mirror who we are?, we have lost our identity. We are no more ourselves.Our mind our thoughts got captured. You have to see from where the things are coming. We have to realize the "change" the change in everything. 
We have to return back to our foundation our Muslim identity. Our Muslim culture our Muslim tradition. We are different and we are important. You have to be careful about everything. We cannot lose ourselves for the sake of entertainment. We should not get inspired by the false ideologies and false doings. 
We have to create our own selves and our very own identity our own philosophy of everything. No one can decide how to eat how to wear and how to celebrate something. We are the one to decide what we have to do what we have not to do and how we have to do. Yes we are important. And we will reclaim our identity in a greatfull way by putting out ourselves from comfort zone and excell in every field by  using every possible knowledge available with  our intellect, courage and help from Allah Almighty.

Malik Anas Awan

Photo courtesy :
https://freephotoindia.blogspot.com/2016/04/close-up-of-empty-water-bottle-thrown.html?m=1

تسخیر

0 comments

صبح ہونا نہ ہونا ضروری نہیں، بس اٹھتے ہی آنکھیں ملنے سے زیادہ فکر پلکیں سیدھی کرنے کی ہوتی ہے، حالانکہ دیکھنے کے حوالے سے کچھ خاص ذوق نہیں پایا جاتا ہے مگر اس اہتمام کو قائم رکھا جاتا ہے، کیونکہ سیدھی روشنی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دل کے اسیر خانے کے اندر کسی تاریک، تعفن زدہ سنسان کمرے  کی چھت سے دھار بناتے ہوئے امید نام کے لاشے پہ پڑتی ہے، جو کارِ دنیا کی فکر میں لاحق ہڑبڑا کر اٹھتا ہے اور مجھے بھی  اٹھنے پہ مجبور کر دیتا ہے، حالانکہ اس بیداری کاحاصل آوارگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اب تک تو ہم نے کچھ کیا نہیں ہے اور بقول ہمارے نہ ہم سے کچھ سرزد ہونے کا امکان باقی ہے.
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اپنے ہر سوال کا جواب خود دینا عجیب عادت ہے. یہ مکالمہ ہماری شعوری بیداری سے لے کر تاحال جاری و ساری ہے، کبھی کبھی اسکا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہ لا شعور میں بھی قدم جمانے لگتا ہے.خوابوں کے کئی قافلے بھی اس کی زد میں آتے پائے گئے ہیں. اس عادت کی طرح نجانے کیوں ہر شے اپنے آپ میں ایک تسخیری وصف پیدا کرنا چاہتی ہے.
آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ کیسے میت کے چہرے پہ سے کپڑا اتار اتار کر دیدار کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، ظاہر ہے انہوں نے آگے ہی بڑھ جانا ہے. دنیا ہے ہوتا ہے اور چلتا ہے. لیکن یہ تسخیری صفت کہ بس دیکھ لیا جائے وحشت انگیز ہے . ارے کیا ہے اگر کوئی مر گیا ہے بات ختم اپنے احساسات کی تسخیری قوت کو روکیے، ہر لمحہ، ہر احساس، ہر منظر ہر شے فتح کرنے کے لیے نہیں ہوتی ہے. دوسرا دیکھنے والوں نے بنیادی طور پہ کچھ دیکھنا بھی نہیں ہوتا ہے. جوکہ کسی قدر دیکھنے کی توہین بھی ہے.
اب کہ ذوق دید کہاں بس ذوق تماشا کا رواج ہے، ہم یہ سوچتے ہیں اور سنا ہے کہ انسانی معاشروں میں جانوروں کو لڑا کر ذوق تماشا کو تسکین پہنچانے پہ پابندی ہے، چنانچہ یہ کام اب انسانوں کو باہم دست و گریباں کر کے پورا کیا جا رہا ہے. اور جدید انسان کے لیے ان تماشوں کا منعقد کرنا مزید سہل ٹھہر گیا ہے. اب تو ہم اسے جدید انسان کی بنیادی ضرورت سمجھنے لگے ہیں. کبھی کبھی تو چائے کی پیالی میں دیکھتے ہوئے پوری دنیا کا شور اضافی اور غیر اہم محسوس ہوتا ہے اور ایک موہوم سی خواہش انگرائی لیتی ہے کہ کاش اس پیالی میں دنیا و ما فیہا کو گھول کر پی جاؤں. مگر پھر کہیں دور پار سے یہ بھی خیال  آتا ہے کہ کہیں باہر کا دوزخ میرے اندر کے دوزخ سے نہ مل جائے وگرنہ "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی" حالانکہ سمجھ سے تو یہ پہلے ہی سے باہر ہے.
یہ دو دوزخوں کا معاملہ بھی کیا دلچسپ ہے کہ ان کے مابین کبھی کبھی تو اپنی ذات ایک پردہ معلوم ہوتی ہے، جس کا واحد کام ان دونوں کی شناخت کو قائم رکھنا ہے. اور اس وجود کے ہونے میں سے اگر "یقین" کی قوت نکال دی جائے تو، واقعتاً وجود کہیں بھی موجود نہیں ہے.
بقول جون "وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں" کے مصداق ہم ایک خلا میں جی رہے ہیں جہاں ہمارا وجود محض سوچتے رہنے کی حد تک موجود ہے جہاں آپ سوچنا بند کریں گے آپ موجود سے لا موجود میں ڈھل جائیں گے، آخر اس کمتر سی ہئیتی موجودگی کا مذاق بھی کیوں، یہ تو عجب  بدمذاقی ہوئی. اچھا ہے کہ سب کچھ انسان کے اختیار میں نہیں ہے، وگرنہ یہاں وہ وہ تماشے برپا ہوتے کہ خدا کی پناہ. صد شکر کہ ہم اب بھی اسی کی پناہ میں ہیں. 

ملک انس اعوان 

سید طفیل الرحمان شہید

0 comments
میں اس سید زادے سے سےآج تک نہیں ملا تھا،ہمارے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ تھا، مگر جب اس قیامت کی گھڑیوں کی خبر ملی تو میرا دل استنبول میں بھی پمز اسلام آباد کی گیلری میں دوڑتے ہوئے خون آلود اسٹریچر پہ لیٹے ہوئے اس خوبصورت نیک سیرت جوان کے دل کی طرح ڈوب رہا تھا. گویا  کوئی ایسی رسی کھینچی جا رہی ہو جس کے سرے ہمارے دلوں سے بندھے ہوئے ہیں، اذیت کی ایک عجب لہر رگوں سے نچوڑی جا رہی تھی.  دل و زباں سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ یہ خبر غلط ہو، غلط فہمی ہوئی ہو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے، یہ نہیں ہو گا. 
مگر ہم تقدیر الہی کے آگے بے بس ہیں. جب خبر ملی تو میرے  پاس کوئی جمعیت کا ساتھی بھی موجود نہیں تھا کہ جس کے کندھے پر سر رکھ کر چار آنسو ہی بہا سکوں. غریب الوطنی کا شاید اس سے بڑا دکھ اور کوئی نہیں ہے. 
وہ کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی تو تھا ہی لیکن میری پیاری جمعیت  میری بہت پیاری جمعیت کا امید وار رکن تھا. اس نے ہزاروں جوانوں کی طرح رنگ رلیاں منانے کی بجائے کتنے ہی دروس قرآن کا اہتمام کیا ہو گا، عین جوانی میں کتنی ہی دینی محافل کے انعقاد کا ایندھن بنا ہو گا، وہ بھی راتوں میں امت کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہو گا.
سوچتا ہو گا یہ آج میں نے فلاں کو دعوت دی ہے، کل فلاں کو دعوت دینی ہے، آج اس کی مدد کی ہے کل اُس کی مدد کرنی ہے، کسی کا ہاسٹل، کسی کی تعلیم کسی کی ذاتی زندگی میں معاون و مددگار بنا ہو گا.
ان خوبصورت فکروں اور خوابوں کو اپنی پاکیزہ جوانی کا خون دینے  والا اور اپنی خوشبو سے دیگر طلبہ کو بھی معطر دینے والا پھول ظالموں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے آنگن میں سفاکیت کے ساتھ کچل دیا ہے. 
وہ میرا ایک پھول 🌸 ظالموں کے ہزاروں سروں سے زیادہ قیمتی تھا. اور جب یہ پھول جنت کے باغوں میں سجے گا تو کتنا بھلا لگے گا. جمعیت کے پہلے شہید عبدالمالک سے لے کر سید طفیل الرحمان ہاشمی تک کا یہ گلدستہ آج جنت میں جلوہ خیز ہو گا. اس نے اپنے عمل سے اپنی فکر کی شہادت دی ہے. 

فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ‌ 
ان میں سے کوئی اپنی نظر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے ۔(الاحزاب :23)

ظالم سمجھتے ہیں کہ ایسا کر دینے سے ہمیں روک پائیں گے، تو وہ انکی بھول ہے، ہم اور مضبوط ہوتے ہیں، یہ شہداء ہمارے عزم کو توانا اور قدموں کو مستحکم کرتے ہیں،یہ لہو جمعیت کے پرچم پہ موجود سرخی کو اور بھڑکا دیتا ہے ،جو شمعیں خون سے جلائی جائیں، انہیں ظلم کی آندھیاں بجھا نہیں سکتیں ہیں، اس آندھی نے چنگاری کو اگ بنا دیا ہے. 
ہم سابقین جمعیت دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں، ہمارے.
دل آج بھی جمعیت کے ساتھ دھڑکتے ہیں.کس طرح دھڑکتے ہیں یہ احساس بیان کرنے لائق ہنر اور الفاظ میرے بس میں نہیں ہیں.

انس

OIC World Halal Summit

0 comments

Yesterday there was a beautiful event named as  "World Halal Summit 2019" arranged by #OIC - SIMIT in the historical city of Istanbul. Being a student of MBA it was a great experience to observe the B2B meetings .it was an opertunity to know about Halal food market, its advantages and its scope in future. I met many people from all over the Muslim world and they discussed their business  models and their collaboration with other nations and how they are expanding their businesses across the world.I was amazed to know about Indonesian  entrepreneurship model by providing the basic capital and business assistance to the Madrasas (Religious) schools by the Provincial Government to launch their own businesses using the same students as human resource and to provide quality goods and services to  community to earn profits which are then distributed for paying the loan back to Government in parts, to pay the wages and to provide money for development of Madrasas and Mosques, so by doing this at the same time they are empowering and training young blood and making the religious institutions a profit able entities who are not dependent on Zakat.There were some presentations of detailed scientific research on Halal meat and   scientific discussion about the methods to know "weather the meat is halal or not? " even its  still not possible to know it. But scientists described its different dimensions and the framework of their future research work. In this event there was a "Startup" corner in which the students shown up their ideas and business proposals to  get investments, and no doubt these ideas were amazingly useful and profitable at the same time. Luckily, I got  people from some IT and software companies and shall visit Istanbul Tech Park soon because there is a lot of space between Pakistan and Turkey for  IT industry, Turkey have the advantage of European market and Pakistan have low cost human resources. So if we can manage it, it would be a good thing for our local software houses in Pakistan who are relying on outsourcing from other countries. We can fill the gap and we will fill it. 

ان شاء اللہ

~Anas


محبت کی اک لازوال داستان

1 comments

محمد كمال الدين السنانيري اور آمنہ قطب

كمال الدين اخوان المسلیمون مصر کے 1941 میں سرکردہ کارکن تھے۔آپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اثر رسوخ کو دیکھتے ہوئے 1954 میں حکومت مصر نے آپکو عمر قید کی سزا سنائی ، جس کو بعد میں 25 سال کی سزا میں بدل دیا گیا ،پہلے 5 سال میں آپ پہ ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ آپ کی ظاہری شناخت بدل کر رہ گئی اور آپ عدالت میں دوران سماعت عام انسان کی طرح بولنے سے بھی قاصر ہو گئے ۔قرب مرگ چھانے لگا تو آپکو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں آپ کی ملاقات اکسیوی صدی کے عظیم اسلامی مفکر سید قطب شہید رح سے ہوئی ،جن سے آپ نے انکی بہن کے رشتے کی بات کی، سید قطب شہید رح نے یہ بات آمنہ قطب کے سامنے رکھی، آمنہ قطب نے کمال الدین کے علم تقوی اور جدوجہد کو دیکھتے ہوئے اور ان تمام عوامل کو سمجھتے ہوئے کہ انکی زندگی کن مشکلات میں ہے اور ابھی انکی سزا کو ختم ہونے میں 20 سال پڑے ہوئے ہیں ، اللہ پہ ایمان رکھتے ہوئے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور کچھ ہی عرصے میں آپ کا نکاح کر دیا گیا ۔
کمال الدیں کی قید کے دوران آمنہ قطب بار بار انسے ملنے قاہرہ سے بذریعہ ٹرین جیل جاتی رہیں اور کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی ۔ دونوں کے مابین اللہ کے کے لیے محبت کا پُر خلوص جزبہ پروان چڑھتا رہا ۔
کچھ سال بعد کمال الدین نے طویل انتظار کو مد نظر رکھتے ہوئے آمنہ قطب سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپکو اپنے نکاح سے آزاد کر سکتا ہوں ،لیکن آمنہ قطب نے انکار کیا اور کمال الدیں کو ایک نظم کی صورت میں جواب دیا کہ اگر میرے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں تو میں نہ جھکوں گی نہ آپ کو جھکنے دوں گی ،جنت تک آپ کا ساتھ دوں گی ۔

کمال الدین نے 17 سال مزید قید کاٹی اور 1973 میں رہائی حاصل کی اور آمنہ قطب کے ساتھ ایمان، محبت ، خلوص اور نیکیوں والی زندگی کے چند پرمسرت سال گزارے۔

اسی دوران سمبر 1981 میں مصر کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرتی ہے اور مخالفت کے خوف سے کمال الدین کو دوبارہ گرفتار کرتی ہے اور مہنے بعد انکی کٹی پھٹی تشدد زدہ لاش آمنہ قطب کو لوٹا دی جاتی ہے ۔آمنہ قطب اس صدمے کو اللہ کی رضا مجھ کر سہہ جاتی ہیں اور اس کے بعد آخری سانس تک شادی نہیں کرتی ہیں ،اور کمال دین کی شہادت پہ اپنی روح اور ذہن کو قلم کے دوش پہ رکھ ایک نظم لکھتی ہیں ۔

هل ترانا نلتقي ام انها … كانت اللقيا على أرض السرابِ
“Do you envisage us meeting again, or has it already…Taken place in the land of mirages;
ثم ولت و تلاشى ظلها … و استحالت ذكريات للعذاب
Then it withdrew and its shadow vanished…And turned into torturous memories;
هكذا يسأل قلبي كلما … طالت الايام من بعد غيابِ
This is what I ask my heart whenever…The days grow longer from the day of your departure;
فإذا طيفك يرنو بلسمـًا… و كأني في استماع للجوابِ
But then your memory stares at me, cheerfully…And so it is as if I am listening to the response;
أولم نمضي على الحقِ معـًا … كي يعود الخير للأرض اليبابِ
Did we not tread the path of truth together?…So that good can return to the barren land;
فمضينا في طريق شائك … نتخلى فيه عن كل الرغابِ
So we walked along a thorny path…Abandoning all of our other ambitions;
و دفنا الشوق في اعماقنا … و مضينا في رضاء و احتسابِ
We buried our love deep within ourselves…And we strove on in contentment, hoping in the reward of Allah;
قد تعاهدنا على السيرِ معـًـا … ثم اعجلتَ مجيبـًا للذهابِ
We had made an agreement to walk together…Then you hurried, responding to the call of departure;
حين ناداني رب منعم … لحياة في جنان ورحاب
When the generous Lord called me…Inviting me to a life amidst gardens and vastness;
و لقاء في نعيم دائم … بجنود الله مرحب الصحاب
To a sublime meeting in perpetual happiness…With the Soldiers of Allah, joyful in their companionship;
قدموا الأرواح و العمر فدا … مستجيبين على غير ارتياب
They presented their souls and lives, as sacrifice…Having responded without the slightest hesitation;
فليعد قلبك من غفلاته … فلقاء الخلد في تلك الرحاب
So let your heart awaken from its sleep…For the ever-lasting meeting is in such a land;
أيها الراحل عُذرًا في شِكاتي … فإلى طيفِك أنات عتابِ
Oh you who has left, pardon me for my complaining…For my heart aches at your remembrance;
قد تركت القلب يـدمي مثقلاا … تائها في الليل في عمق الضباب
You have left my heart to bleed heavily…Lost in the night, in the depths of fog;
و اذا اطوي وحيدا حائرا … اقطع الدرب طويلاً في اكتئابِ
My evenings have become ones of confusion and loneliness…As I tread the long path of life in anguish;
و اذا الليل خضم موحش … تتلاقى فيه امواج العذاب
My night has become a gloomy sea…Encountering within it waves of pain;
لم يعد يبَرق في ليلي سَنااهُ … قد توارت كل انوار الشهاب
No longer does light radiate from my nights…The brightness of stars have disappeared;
غير اني سوف امضي مثلما … كنت تلقاني في وجه الصعاب
Despite this, I shall march on just as…You used to find me, in the face of adversity;
سوف يمضي الرأس مرفوعا فلاا … يرتضى ضعفـًا بقولِ او جوابِ
My head shall remain raised, and never…Will it accept weakness in speech, nor in my replies;
سوف تحدوني دمااء عابقات … قد انارت كل فج للذهاب
I shall be spurred on by the sweet-scented blood…Blood that has illuminated the roads of ahead.”
نظم کا لنک : https://www.youtube.com/watch?v=hzjHgfSVP_g



تصاویر :


تحریر
ملک انس اعوان

بھڑ

0 comments

آج نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد جوں ہی اپنے غریب خانے کے آہنی دروازے پہ دستک دی، پاس ہی لگے برقی بورڈ کے اندر موجود بھڑوں کے چھتے کے ایک متحرک کارکن نے فرط جذبات میں آگے بڑھ کر لب بوسی کرنے کی کوشش کی جس سے بچنے کے لیے  کی گئی دفاعی کاروائی بھی بے سود ثابت ہوئی اور دشمن جاں کی جانب سے  نچلے ہونٹ کی اندرونی جانب ڈنگ شریف ثبت کر دیا گیا.
اب پچھتائے کا ہوت... البتہ فوراً  جوابی کارروائی اس طرح سے کی گئی کہ پہلے دشمن کا محاصرہ کیا گیا پھر ایک عدد اعلی کوالٹی کے insecticide سپرے کی آدھی مقدار دشمن کے علاقے میں اتار دی گئی. لاشیں عبرت کے لیے چھوڑ دی گئیں ہیں...!
تاہم مستقبل قریب کی ساری ملاقاتیں کینسل کر دی گئی ہیں...... 😜

ملک انس اعوان

طوطا سیاست

0 comments

ہمارے غریب خانے میں دو مادہ طوطے ہیں، جن میں سے ایک نسلی اور گھر کی پلی ہوئی ہے جبکہ دوسری کا بچپن کسی اور کے آنگن میں گزرا ہے اور نسلاً بھی کوئی خاص نسب کی حامل نہیں ہے ، جب دوسرے والی گھر لائی گئی تو زیادہ باتونی اور بے ضرر ہونے کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر ٹھہر گئی، یہ قربت بڑھتی گئی اور اس قدر کہ اسٹیبلشمنٹ کی طوطا چشمی کو پہلے والی طوطی نے شدت سے محسوس کیا اور برا مانا.... پہلے وہ چپ رہ کر احتجاج درج کرواتی رہی.. مگر کہاں اسٹیبلشمنٹ کی بے حسی...  جب اسے احساس ہوا کہ اس طرح تو اسٹیبلشمنٹ پگھلنے والی نہیں تو اس نے ایک نیا ہتھیار آزمایا، اس نے دوسری طوطی کی آوازوں کی نقالی شروع کر دی...... اب جب وہ نسلی طوطی دوسرے والی طوطی کی آنکھیں گھما گھما کر نقالی کرتی ہے تو بہت ترس آتا ہے اور پیار بھی...!
خیر یہ تو معصوم پرندے کی محبت ہے کہ وہ ہر دم اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا رہتا ہے ....!
خیر چھوڑیے اس کا سیاست سے کیا لینا دینا. 😂
انس

مدرس اور مونچھیں

0 comments

فیمنسٹ حضرات کی باتیں ایک جانب آج تو سورۃ النساء کی مختصر تفسیر کے دوران مدرس محترم نے مرد حضرات کو اچھا خاصہ پنجابی والا "دبلّا" ہے اور یہ تک کہہ دیا ہے کہ "ان مونچھوں والے بدمعاشوں کو کیوں خوشی سے جائداد دیتے ہو یہ کونسا بعد از مرگ دعائیں دیتے ہیں، اپنی بیٹیوں لاڈو رانیوں کو ضرور حصہ دو یہی تو دعائیں کرتی ہیں خیال رکھتی ہیں"
اس دوران سارے مونچھوں والے بدمعاش ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے، سب نے اپنی مونچھیں چھپا لیں 😂.

ملک انس اعوان