مگر ایک چاہنے والے سے مجھے آپ کے حوالے سے کچھ کہا ہے ۔ اس نے کہا کہ بحیثیت قوم اپنے نقصان کو معمول مت بنائیں ۔ آفات و حادثات میں کتنی ہی جانیں محض ایک گنتی کی سی صورت میں ہماری آنکھوں سے گزر جاتی ہیں ،آنکھوں میں زرا سی نمی نہیں آ پاتی ، دل ہے کہ تنگ نہیں ہوتا ۔ کون کس کو بس سے اتار کر مار رہا ، لیکن محض عصبیت کی بنیاد پہ ظلم پہ آواز بلند نہیں ہوتی۔ ہر سال سیلاب قدرتی آفات میں کتنا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے مگر سب ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ اور پھر اگلے سال مزید بڑے نقصان کا انتظار کیا جاتا ہے ۔
اس طرح ہم ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے ہوئے در اصل اپنی وقعت کھو رہے ہیں ، ہمارا جان مال بھی اپنی وقعت کھو رہا ہے ۔ ان ہاتھوں کو بھی سلام جو ہر مشکل میں قوم کو آگے بڑھ کر مدد کرتے ہیں ۔ مگر یہ حل نہیں ہے ۔ آپ کا میرا ہم سب کا اس قوم و ملت کا درد محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ بعض نقصانات کا مداوا مادی امداد و بیرونی بھیک سےممکن ہے ۔
مجھے اس ترک طالب علم کی بات نہیں بھولتی جو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران کوڑا زمین پہ نہیں پھینکتا تھا ۔ جب پوچھا تو اس کے کہا میں “وطن خائن “ نہیں ہوں ۔ میں اپنے ملک میں گند پھیلا کر خیانت نہیں کرتا تو جس ملک میں رہ رہا ہوں اس سے خیانت کیسے کروں ۔
قوم پرست نہ بنیں مگر اس مملکت خداداد اور اسلام کے قلعے کے محب وطن تو بنیں ۔ اپنے اپنے دائروں میں اپنے ماحول اور زمین سے خیانت تو نہ کریں ۔کیا یہ اللہ کی دی ہوئی امانت میں سے ایک امانت نہیں ؟ کیا یہ کفران نعمت نہیں ہے ؟
پنجابی ، سندھی، بلوچی ، پٹھان ،وغیرہ سب ہمارے اپنے ہیں ۔ انکا درد ہمارا درد ، انکا دکھ ہمارا دکھ ہے ۔ خدارا ایک دوسرے کے لیے، ملک و ملت کے لیے ، اپنے ماحول کے لیے حساسیت پیدا کریں ۔ آپ اپنے آپ کو اہمیت نہیں دیں گے تو دنیا میں کوئی بھی آپکو اہمیت نہیں دے گا ۔
اور مجھے تو امید بھی بہت ہے کیونکہ یہ قوم ناممکنات کو ممکن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔
مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں کیونکہ میں بھی آپ میں سے ایک ہوں ۔
انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔