ایک عزیر دوست کے اصرار پہ تیراکی سیکھنے کے لیے وقت مختص کیا گیا، تیراکی کے بنیادی اصول اسی دوست نے سکھائے اور پھر انہی مخصوص حرکات کا استعمال شروع کیا گیا، یہاں سے ہمارے مشاہدے کا آغاز ہوا چاہتا ہے. پانی کے مزاج اور طبعیت سے نا واقفیت کی بنا شروع کے ہفتے میں صرف ہاتھ پاؤں چلانے سے اور جسم تھکانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا. پھر چند دنوں بعد کنارے پہ بیٹھ کر پانی کے جسم اور اس کی طبعیت پہ غور کیا کہ اسکا مزاج کیا ہے اور یہ کیسے کیسے اپنے جسم میں خلا کو پیدا اور پھر اُس کو پُر کرتا ہے. یہ کس طرح کی چوٹ پہ نرم اور کیسی ضرب پہ پلٹ کر وار کرتا ہے، یہ دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اپنے ہونے کا یقین اپنی ہیئت کے اعتبار سے پختہ کیا گیا. پھر اپنے ہاتھ پاؤں اور جسم کو پانی کے جسم سے مطابقت پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا گیا. تجربے نے بتایا کہ دوسرے ہی ہفتے ہاتھوں اور جسم نے پانی میں سے اپنے جسم کا خلا پیدا کرنے اور اور اس خلا کو مسلسل آگے بڑھاتے چلے جانے کی اہلیت حاصل کر لی ہے.
یہی سیکھنے کا عمل ہمارا ذہن زندگی میں مختلف مقامات پر مسلسل پہ شروع بھی کرتا رہتا ہے اور نتائج بھی اخذ کرتا رہتا ہے، یہی نتائج فیصلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں. دراصل یہ زیست کا بہتا دھارا بھی پانی کی طرح ہی ہوتا ہے جس کے اندر شروعات میں ہم صرف ہاتھ پاؤں چلا کر خود کو تھکا لیتے ہیں اور پھر تھک ہار کر ایک جانب بیٹھ جاتے ہیں. یہ ہمارا سیکھنے کا پہلا عمل ہوتا ہے جہاں ہم چیزوں کو اپنے انداز سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں. جب کوشش امید پہ پوری نہ اتر سکے تو نا امیدی ہمیں گھیر لیتی ہے. اکثر لوگ یہیں پہ ہار مان لیتے ہیں، جبکہ باقی کے لوگ اسی وقت دوسری کوشش کی جانب بڑھ جاتے ہیں. اور کچھ لوگ اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے سیکھنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں. دوسروں سے سیکھنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو مستقبل میں نئی جہت دریافت کرنے کی قابلیت سے محروم ہوتے ہیں. جبکہ نئی جہت دریافت کرنے والے بار بار زیست کے دھارے میں گرتے ہیں اور گہرائیوں کے شوق میں اپنی جانوں کو غذاب سے گزارتے ہیں، تبھی تو وہ ایک مدت کے بعد تہہ میں سے ایک پتھر کو تراش کر شاہکار تخلیق کر پاتے ہیں. انہی میں سے کچھ لوگ رستے میں ہی جان سے چلے جاتے ہیں مگر انکا شاہکار بعد میں آنے والوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور یوں وہ دریافت کردہ "جہت" جدت کے عمل سے گزرتی رہتی ہے.
البتہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ تو ہار ماننے والوں میں سے خود کو شمار کرتے ہیں اور نہ ہی خود کوئی شاہکار تراشنے کی ہمت رکھتے ہیں، ایسے لوگ ہلکے پانی میں تیراکی سیکھتے ہیں اور زندگی کے دھارے میں سینکڑوں ان گنت بے جان جسموں کی طرح تیرتے رہتے ہیں، جنہیں وقت کی موجیں جیسے چاہیں پٹختی اور گھسیٹتی رہتی ہیں. اور یہ لوگ اپنی مردہ ضمیری کے باعث حیران کن طور پہ اپنے زندہ رہنے پہ ہی خوش ہوتے ہیں. انکے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے یہ "لذت حیات" سے نا آشنا مردہ اجسام زمین کا بوجھ ہوتے ہیں جنکو وقت کی موجیں گم نام ساحلوں پہ عبرت کے لیے پھینک دیتی ہیں.
1 جنوری 2018
ملک انس اعوان
Ad
موضوعات
آمدو رفت
لذت حیات
0
comments
دین کی ضرورت
0
comments
تمام مشاہدات ایک طرف اگر ہم اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے اوپر نافذ (معاشی، معاشرتی، اخلاقی) فرائض کو سمجھنے کی کوشش کریں تو معلوم ہو گا کہ ہم سب سماجی طور پر اپنے اپنے دائرے میں ظالم ہیں. آپ یا ہم کوئی بھی اس ظلم سے مستثنٰی نہیں ہیں . دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے ظلم کا اندازہ اپنے سے بڑے ظالم کو دیکھ کر ہوتا ہے. ہسپتال میں اپنے والدین کے ساتھ آئے ہوئے نوجوانوں جن میں ہم بھی شامل ہیں کو دیکھتے ہیں اور جب انکے تاثرات دیکھتے ہیں تو روح تک لرز جاتی ہے کہ والد یا والدہ کی انتہائی نازک صورتحال بھی انکو موم نہیں کر پاتی ہے اور ان کے معاملات جوں کے توں چلتے رہتے ہیں. باپ جان کی بازی لڑ رہا ہوتا ہے اور پاس موجود بیٹا موبائل پہ اپنے شغل پورے کرنے میں مصروف ہوتا ہے. اس میں ٹیکنالوجی کا قصور کم اور ہمارا قصور زیادہ ہے(کیونکہ ہمارا تعلق بھی اسی نسل سے ہے) . ہم جس نسل سے تعلق رکھتے ہیں یہ سوچتی ہے اور مانتی ہے کہ ہم اس دنیا کے سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے، اپنی اپنی ذاتی حیثیت میں دنیا کے نامی گرامی افلاطون ہیں.بالفرض ہوں گے بھی.....!
ہم مانتے ہیں کہ ہماری معلومات، ہمارے رابطے ہمارے والدین سے زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ ہیں. ہم اپنے والدین کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے اپنے آئی فون وغیرہ پہ فیس بک کی تحریر اور میسج لکھ پاتے ہیں.
لیکن ایک لمحہ ٹھہریے ان اچھے کیمرے والے موبائل فون، خوبصورت تیز رفتار گاڑیوں سمیت ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے سوائے ایک چیز کے جسے ہم احساس کہتے ہیں. یہاں ہمارے جیسے اکثر نوجوان ٹیکنالوجی پہ تنقید کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ شاید ٹیکنالوجی کو چھوڑ دینے کا کہا جا رہا ہے.ٹیکنالوجی کے ہونے اور نہ ہونے سے تب تک فرق نہیں پڑنے والا جب تک ہم "احساس" بیدار نہیں کر لیتے ہیں.
یہاں سماجی احساس بیدار کرنے کے دو ہی منبع ہیں، ایک ہمارا سماج اور دوسرا مذہب. کیونکہ برصغیر میں معاشرے کو تشکیل دینے والی ایک ہی قوت ہے جو کہ مذہب ہے .خوشقسمتی دیکھیے کہ یہاں ملک پاکستان میں ہمیں اسلام جیسی نعمت دستیاب ہے جس میں بالمتفق(مسلم و غیر مسلم) ہمارے پاس ایک انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہوا اکمل، اکبر و اجمل نمونہ اسوۃ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں موجود ہے. قصہ مختصر اس معاشرے کی کم از کم بقا اور بنیادی انسانیت کی افزائش کے لئے بھی" مذہب" ضروری ہے. اور ترقی کے لیے "دین" ناگزیر ہے.
تحریر
ملک انس اعوان
ہوا کی بات
0
comments
بوقت سہ پہر موٹر سائیکل پہ ہیلمیٹ پہنے ہم اپنی عمر کی طرح شاہراہ زندگی پہ تیز رفتاری سے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے، ایسے میں ذہن کی گنجان آباد گلیوں میں بچپن کی یادیں کھلکھلانے لگیں اور ایک سوال جو میں اکثر ابا جان سے پوچھا کرتا تھا کہ "یہ ہوا کیا ہوتی ہے، اگر ہوتی ہے تو نظر کیوں نہیں آتی؟ "
تب میں کسی بھی جواب سے مطمئن نہ ہو پاتا تھا اور اکثر ہوا کو ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتا تھا. لیکن آج سفر کے دوران وہی ہوا ہمیں پیچھے کی جانب دھکیل رہی تھی، اس کا لمس ہمیں اپنی چمڑے کی جیکٹ سے ہوتا ہوا سینے پہ بھی محسوس ہو رہا تھا. ہمارے ساتھ ساتھ چند پرندے بھی اڑ رہے تھے، اور حیرت انگیز طور پر میں تخیلاتی آنکھوں سے ان کے پروں کے نیچے پھسلنے والی ہوا کو دیکھ سکتا تھا. ایک ایسے بے حد نفیس اور دبیز جسم کی صورت میں جو ساری دنیا پہ بچھا دیا گیا جسے ہم فضا کہتے ہیں.
ایسی ہی فضا ہمارے گرد بھی ہوتی ہے اور اس سے ملتی جلتی ایک اور فضا ہم سب کے درمیان میں بھی ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتی لیکن چمڑے کے اندر پڑے ہوئے دل پہ اثر انداز ضرور ہوتی ہے. اور اس فضا کے عناصر فی کس مختلف ہوتے ہیں، اگر ہمارے مابین "انا" نامی فضا ہو تو ہم ایک دوسرے سے فاصلے بنائے رکھتے ہیں، جو اس فضا میں جیتے ہیں وہ جھکنا اور غلطی تسلیم کرنا بھول جاتے ہیں. انا کا زہریلی ہوا انکی سانس میں رچ بس جاتی ہے اور وہ اس انا کی تسکین کے لیے مزید ایسی فضا اپنے گرد تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں. نتیجتاً بقا کی چاہ میں گُم ہو جاتے ہیں. انکا وجود راکھ میں تبدیل ہو کر لوگوں کی راہ کی خاک بن جاتا ہے. دوسری جانب کچھ لوگوں کو محبت کی فضا راس آتی ہے، خوشبوؤں سے معطر وزن میں ہلکی لطیف ہوا جس میں وجود آہستگی سے گھل کر سراپا تسلیم، عاجزی، اعتراف اور اطمینان کے رنگین دھوئیں میں تبدیل ہو جاتا ہے، اسے جیسی جگہ ملتی ہے وہ وہاں سما جاتا ہے، جیسا رنگ ملتا ہے ڈھل جاتا ہے، جیسی زمین ملتی ہے رُل جاتا ہے، غرض وہ اپنی خواہش سے دستبردار ہو کر کسی اور کی رضا میں راضی ہو جاتا ہے. ایسی فضا بنانے سے بنتی ہے اور تو اور بندگی کا مقصود بھی یہی فضا تو ہے....!
ملک انس اعوان
لاہوری اشارے
0
comments
"پائن ایہہ والے" شارہے" توں بعد اک ہور" شارہ "آوے گا اوس توں" شجے"" پاشے "مڑو گے تے سامنے ای بورڈ لگا ہویا ایے "
کیونکہ منزل زیادہ دور نہیں تھی اور وقت کی کمی بھی نہیں تھی چنانچہ میں نے چہرے پہ پہنا ہوا احتیاطی ماسک احتیاط سے اتارا اور بھائی کو ہاتھ کے اشارے سے متوجہ کر کے کہا کہ
بھائی پہلے بات یہ ہے کہ یہ "شارہ" نہیں اشارہ ہوتا ہے اور دوسرا یہ "شجے" نہیں سجے ہوتا ہے اور تیسری اور آخری بات یہ کہ" پاشے" نہیں ہوتا "پاسے" ہوتا ہے.
اس کے بعد دو بار ان الفاظ کی مشق بھی کروائی جس کے بعد وہ صاحب سمجھ گئے کہ
"گل وچ ہور ایے"
تیسری مشق کے آغاز میں بھائی نے مٹھیاں بھینچ لیں.
بس پھر وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی . بہرحال ان صاحب کی معصومیت اور تاثرات ہر "شارہے "پہ یاد آ جاتے ہیں....!
انس اعوان
دیہان کی زد پہ
0
comments
سر کے نیچے بازو کا تکیہ دیے، بند آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی لا محدود غیر مرئی کائنات کے دھوئیں میں گویا میں اکلوتا تماش بین ہوں. رنگ ہا رنگ کی ان گنت کہکشائیں قطار اندر قطار ایک دوسرے سے ملتی اور جدا ہوتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں، جن کے پس منظر میں ان گنت بھانت بھانت کی بولیاں، لہجے، اور رویے "نوری گرد" کی صورت میں محو سفر ہیں. اس نوری گرد کے ایک ایک ذرے کا باہم فاصلہ سینکڑوں برس سے زیادہ طویل ہے، گویا صدیوں سے ان کا ربط "فاصلہ" ہی ہے . یہ تمام منظر اور پس منظر ایک ایسے گھماؤ دار سفر پہ روانہ ہیں جسکا محور اور مرکز اس کا وہ مرکز ہے جو اپنے آپ میں لا یعنی ہے .افسوس یہ ہے کہ تحریر(جو کہ بذات خود ایک صورت ہے) میں لانے سے پہلے وہ ہزاروں کہکشاؤں کا موجد ایک بے دیہان لمحہ محض ایک بے خیال لمحہ ہی تھا، جو تحریر میں ڈھل کر دیہان کی زد پہ آ چکا ہے.
ملک انس اعوان
کھڑکی
0
comments
بند کھڑکی کے ادھ کھلے پٹ کی داستاں یا تو ہوا کے جھونکے جانتے ہیں یا اس سے متصل بھاری بھر کم در و دیوار جو سالوں سے اپنے وجود کی ضد کو لیے زمین کے سینے پہ تنے رہتے ہیں .اس کھڑکی کے پیچھے محض اندھیرا ہی نہیں ایک تجسس بھی ہے جو اس کے اندھیرے سے کہیں زیادہ تاریک ہے اور مکمل ہے.... ناجانے اس کے پیچھے کون ہے، کیوں ہے اور کب سے ہے.
کوئی ہے، تو کیوں ہے
کوئی تھا، تو کیوں تھا
کوئی ہوگا، تو کیوں ہوگا
یقین اور گمان آپس میں الجھتے رہتے ہیں لیکن کھڑکی کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہو پاتی مبادا....... اس سے کہیں اپنا یقین نہ ٹوٹ جائے.اور وہاں صرف اندھیرا ہی موجود ہو.................!
ملک انس اعوان
سیال
0
comments
یہ تمنائے بیتاب جو جو میرے اندر جل جل کر اور گھٹ گھٹ کر آتشیں سیال مادے کا روپ دھار چکی ہے اور ایک نامعلوم آتش فشاں سے میری جانب دوڑتی چلی آ رہی ہے. میرا بکھرا وجود اس کی زد میں ہے اور میں بے بس، بے بس اس طرح سے کہ اپنے کرچی کرچی وجود کے کس حصے کو بچاؤں اور کس کو چھوڑ دوں، میرا قوت فیصلہ، میرا قوت ارادی وہ بھی تو انہیں کرچیوں میں ہی کہیں کھو گیا ہے. ہر کرچی منفرد اور ہر کرچی میں میرا عکس ہے، وہ سیال گرم مادہ میری کرچیوں کو نگلتا جا رہا ہے، آہستہ آہستہ میرے رنگ، میرا تخیل، میری سوچ، میرے جزبے، میرے احساسات سب کچھ نگلتا جا رہا ہے. میں ختم ہو رہا ہوں. میرے وجود کی آخری رمق اس دھویں میں ہیں جو بے اختیار ہوا میں مدغم ہوتا چلا جا رہا ہے....... گاڑی موٹر وے کے کنارے رک چکی ہے، میں گویا گمان سے بیدار ہوا اور بونٹ کی جانب دیکھا جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا،ہاں یہ وہی سیال مادہ ہو گا جو گمان سے حقیقت میں آ چکا ہے اور سب کچھ جلائے جا رہا ہے.
ملک انس اعوان
یکم اگست 2017
کتنی دیر لگتی ہے؟
0
comments
سحر کے ماتھے پر
روشنی کی کرنوں کو
بے طرح بکھرنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
ضروری نہیں یہ خاموشی
ہر بار معتبر بھی ہو
بات کو بدلنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
بات تو زرا سی ہے
اپنی خوشی تو ہے، سو ہے
کسی کا غم سمجھنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
خواب ہوں بھلے یہاں
دلوں میں پختگی نہ ہو
خواب کو بکھرنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
ملک انس اعوان
ایک ترک خاتون "سمانور" کی جانب سے کیا گیا ترکی زبان میں ترجمہ
Seherin alnındaki
aydınlık ışıkların
şekilsiz dağılması
ne kadar sürer?
Şart değil bu sessizlik
her defasında muteber ol
söz değiştiğinde
ne kadar sürer?
Mesele ufacık aslında
kendi mutluluğun, yine de
birinin derdini anlamak
ne kadar sürer?
rüyayım, unut burada
gönüllerde kalıcılık yok
bir rüyanın darmadağın olması
ne kadar sürer?
Malik Anas Awan
کچھ کشمیر کے بارے میں
0
comments
اپنی تسلی کے لیے
2
comments
اور ایک نیا منظر آنکھ سے دل کی جانب سفر شروع کر چکا ہوتا ہے....!
جستجوئے یقیں
0
comments
ڈر اور لالچ
0
comments
دھواں دار تخیل
0
comments
کافی غور کے بعد انکشاف ہوا یا کیا جارہا ہے کہ یہ جو ہم سرِ شام حسب طبعیت ریلوے اسٹیشن پہ بادلوں کا نظارہ کرنے اور حسب توفیق ٹہلنے جاتے ہیں اس دوران ہمارے تخیل میں دھویں کی مقدار زیادہ کیوں ہو جاتی ہے؟
اس لیے کہ وہاں پہ شہر بھر سے آئے ہوئے چھوٹے طیارے ہمارے ارد گرد "ریفیولنگ" اور پرواز کی نیت سے اجتماعی طور پہ اڑان بھرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث نشیلا دھواں اکثر و بیشتر ہوا کے سر پہ سوار ہو کر ہماری جانب لپکتا ہے، جو بالآخر کسی نہ کسی صورت ہمارے تخیل تک پہنچ جاتا ہے. شہری انتظامیہ کو اس ضمن میں بھی سوچنا چاہیے، یا ریلوے اسٹیشن کی حدود کو سرکاری طور پر رن وے قرار دے کر اس کا انتظام اپنے سر لے لینا چاہیے . وگرنہ جس رفتار سے طیاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے کچھ بعید نہیں کہ چند ماہ تک یہاں بین الاقوامی پروازوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فضائی کرتب کے مظاہرے بھی دیکھنے کو ملیں گے.....!
ارے ہاں رکیے اسپانسر کا نام تو سنتے جائیے.
اس انکشاف میں ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے محمد اجمل مہوٹہ سکنہ پکہ ملانہ تحصیل و ضلع ڈیرہ اسماعیل خان.
ملک انس اعوان
بمقام :ریلوے اسٹیشن، اٹک شریف
کیفیت : معتدل شریف
3 مئی 2017
تذکرہ لسی شریف
0
comments
غالباً بلکہ یقیناً ستمبر 2013 میں ہم اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اٹک شریف تشریف لے آئے تھے یاد رہے کہ اس وقت "آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ" کی عدم موجودگی کے باعث اٹک "شریف" نہیں تھا بہرحال ان دنوں سے جنوری 2014 تک ہم اپنے احباب کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ہوٹل، ڈھابہ ہم سے بچ گیا ہو جہاں ہم نے لسی شریف کا سوال نہ کیا ہو.... وہ کہتے ہیں ناں کہ
"قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں"
کیونکہ ہماری آمد کے بعد موسم سرما کا آغاز ہو چکا تھا، چناچہ جیسے تیسے سردیاں جہاد بالنفس کرتے ہوئے گزاریں اور گرمیوں کا انتظار کیا یا اس دوران اپنے دستِ نیم نازک سے ہاسٹل میں ہی اپنی روحانی تسکین کا سامان کیے رکھا.
اب تو الحمداللہ جوبھی موسم ہو، کہیں نہ کہیں سے لسی شریف درآمد کروا ہی لیتے ہیں.
انس اعوان
رشتے پرندے
0
comments
رشتے بھی کسی حد تک پرندوں کی طرح ہی ہوتے ہیں، انکو اول تو پالیے نہیں، اگر پالیے تو خوب دیہان سے پالیے. اور جب پر نکل آئیں تو مزید قید میں مت رکھیے. کیونکہ ایسا کرنے سے یا تو وہ پنجرے کو اپنی دنیا سمجھنے لگے گا یا پنجرے سے سر پھوڑنے کی کوشش کرے گا. اس کے پَر کبھی مت کاٹیے.... ورنہ وہ بظاہر زندہ پرند اڑنے کی چاہ میں اندر سے مر جائے گا. جو اڑنا چاہے اسے اڑا دیجئے، جو لوٹ آئے اسے پناہ دیجیے لیکن............ پنجرہ توڑ دیجئیے . آپ کو بس اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ آپ کے لیے اور آپ کے بعد والوں کے لیے قدرت اپنے حقیقی رنگ میں نکھر سکے.
ملک انس اعوان
اٹک کے حجام
0
comments
اگر آپ اٹک کے باہر کسی اور ضلع سے تعلق رکھتے ہیں تو کچھ عرصہ اٹک شہر میں ریہائش رکھنے کے بعد آپ یہ بخوبی جان پائیں گے کہ یہاں کے سب سے زیادہ نخرے والا طبقہ "حجام" ہیں، حیرت تو ہوئی ہو گی!
ہونی بھی چاہیے کیونکہ بات ہی کچھ ایسی ہے، دراصل راولپنڈی کے قریب ہونے کی وجہ سے "پنڈی بوائز" کا ایک
مخصوص انداز کسی حد تک یہاں کے نوجوانوں میں بھی پایا جاتا ہے. لہذا عموماً شہری علاقوں میں نوک دار اور غیر معمولی داڑھی کے خط اور بالوں کے انداز زیادہ دیکھنے کو ملیں گے. اول تو آپ کو حجام سے فون پہ وقت لینا پڑے گا اور ایک اچھے بچے کی طرح عین وقت پر کرسی تک پہنچنا بھی ہو گا ورنہ آپ کے حصے کا وقت صدر مملکت کسی اور کے لیے وقف کر چکے ہوں گے، کھانا کھانے کے وقت یا انتہائی اوقات میں اگر آپ کسی مجبوری سے بھی چلے جائیں تو بڑا پکا سا منہ بنا کر انکار سننا پڑے گا. اور تو اور اگر آپ ہماری طرح وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہوئے تو آپ کو اندر ہی اندر میری طرح جلنا بھننا بھی ہو گا کہ" واہ ملک صاحب بستی جئی نہیں ہو گئی؟ "کیونکہ کم از کم ہماری اپنی صورتحال یہ ہے کہ ایک تو ہم پہلے ہی ماشاءاللہ سادہ سے ہیں اور اگر نائی کی دوکان پر چلے بھی جائیں تو کم از کم اپنے علاقے میں ٹھیک ٹھاک پروٹوکول وصول کرنے کی عادت رکھتے ہیں، یا جاتے ہی ان کے پاس ہیں جو ہمیں جانتے ہوں. ہمارے ہاں تو اگر وہ الله کے بندے کھانا بھی کھا رہے ہوں تو گاہک کو دیکھتے ہی کھانا چھوڑ دیتے ہیں. جبکہ اٹک میں جب تک نائی محترم بذات خود تمام اہم امور نمٹا نہ لیں تب تک گاہک کی جانب دیکھتے بھی نہیں اور جیب کی کھال بھی ثواب سمجھ کر اتارتے ہیں.
ملک انس اعوان
ہندسوں کا طواف
0
comments
سیاہ اندھیرے کا راج تھا ،ننھیالی ڈیرے پہ آم کے قدیم اور بلند سایہ دار درخت کے عین سامنے چند چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں . جن پہ ایک وین ڈرائیور اور اس کا ساتھی کھانا کھا رہے تھے جبکہ مجھ سمیت میرے چند دیگر رشتہ دار بھی وہیں چار پائیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے. کھانا کھانے کے بعد انہوں نے برتن اوپر تلے ترتیب سے رکھتے ہوئے اجازت چاہی تو ماموں جان نے انسے مہمانوں کو دوسرے شہر سے گھر پہنچانے کا معاوضہ پوچھا تو ان میں سے ایک جو قدرے بڑی جسامت کا تھا کہنے لگا کہ "جنے دل کرے دے چھڈو ، متھہ تے بندیاں نال لگدا ایے، پیسیاں دی کیڑھی گل ایے؟"
اس کے بعد کیا مکالمہ ہوا مجھے یاد نہیں لیکن ایک جملہ کہ" واسطہ تو انسانوں سے پڑتا ہے " نے حیرت میں مبتلا کر دیا. ایک ان پڑھ اور گاؤں کے معمولی سے ڈرائیور کی بات نے دل میں گھر کر لیا. گھر کیوں نہ کرتی جس خوبصورت انداز سے اس نے انسان کو پیسے سے الگ کیا وہ لاجواب تھا. بھلے ہی اس نے یہ بات مروت میں ہی کہی ہو مگر وزن میں بھاری تھی. میرا انتہائی قلیل مشاہدہ بتاتا ہے کہ دفتروں میں موجود سپاٹ چہروں کے حامل وہ" ہندسے" جو ہندسوں میں اضافہ کمی کرتے کرتے صبح کو شام اور شام کو صبح کرتے رہتے ہیں، انسان کو ایک ID نمبر سے پہچانتے ہیں، انہی ہندسوں میں معاملات طے کرتے ہیں، انہی ہندسوں سے انسان کی قیمت طے کرتے ہیں واقعی انسان نہیں ہیں کیونکہ انکا" متھہ بندیاں نال نہیں لگدا، پیسیاں نال لگدا ایے ".
غرور، تکبر، اکڑی گردن، قہر آلود نگاہیں اور حقارت بھرا رویہ رکھنے والے احساسات کی چاشنی سے عاری دفتری ملازم یعنی " ہندسے "جنہیں ہمیں باامر مجبوری" انسان "قرار دینا پڑتا ہے، ایک ایسی سوچ کا شکار ہوتے ہیں جو اپنے اندر موجود احساس کمتری کا ازالہ دوسرے کے احساس کو کچل کر کرتے ہیں. انا کا ایک طوفان ان کے رگ و پے میں بہتا ہوا دل کے کونے کونے میں سے احساس کو کھرچ ڈالتا ہے. حیرت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ہندسوں میں کیسے تول لیتے ہیں، مجھے بھی اس مقام حیرت سے گزرنا ہے کیونکہ شاید سلسلہ تعلیم کے بعد مجھے بھی گزرے موسم کے کپڑوں کی طرح احساسات و جذبات کی کنڈلی کو پرانی آہنی پیٹی میں رکھ کر ایک ہندسہ بن کر ساری زندگی ہندسوں کا طواف کرنا ہے.....!
تحریر
ملک انس اعوان
الو شریف
0
comments
آپ کی طبعیت آپکی پسند پہ بہت اثر ڈالتی ہے اس لیے اکثر و بیشتر آپکو وہی چیزیں زیادہ متاثر کرتی ہیں جو آپ کی طبعیت سے بہت مطابقت رکھتی ہوں، یا بہت مخالفت ، عموماً انسان کے لیے یہ دو انتہائیں ہی خاص ہوتی ہیں اس کے درمیان سب کچھ معمولی تصور کیا جاتا ہے. رہی بات "الو" کی تو اس کی پسندیدگی کی کئی وجوہات ہیں.
اس کی شخصیت جو کہ بڑی گردن، سر اور آنکھوں کی وجہ سے نہایت پر وقار بن جاتی ہے،ایک بڑا الو اگر نظر بھر کر دیکھ لے تو پورے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے. اسی باعث لوگ اس سے ڈرتے بھی ہیں اور اس سے قصے بھی منسوب کرتے ہے . اگر اس کی ظاہری شکل میں صرف آنکھوں پہ ہی لکھا جائے تو کتاب بن جائے.
اور اس کے "پر" پوچھیے ہی مت بالکل ترتیب سے جڑے ہوئے، سلیقے سے بندھے ہوئے ایسے کہ پرواز کی آواز تک پیدا نہیں ہونے دیتے. اس قدر سلیقے سے پرواز کہ زمین کی سطح کے چند انچ اوپر اڑے تو زمین پر پڑے خشک پتوں کو بھی خبر نہ ہونے دے.
عقاب یا باز کی طرح بھی ایک شکاری جانور ہی ہے. اس کی فطرت بھی وہی ہے جو عقاب کی ہی ہوتی ہے البتہ حکمت عملی مختلف ہوتی ہے.
زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرتا اور شکار کے لیے سورج کی روشنی کا محتاج بھی نہیں ہوتا، تسلی کے ساتھ رات ہونے کا انتظار کرتا ہے، گھات لگا کر بیٹھتا ہے، پرسکون پرواز کرتا ہے، اور خبر ہونے سے پہلے پہلے شکار کی گردن ادھیڑ چکا ہوتا ہے.
عموماً دنیا کے ہر کونے میں مختلف شکلوں اور رنگوں میں پایا جاتا ہے. برفیلی چوٹیوں سے صحراؤں تک اس کا دائرہ محیط ہے.
_________________
آپ نے سن رکھا ہو گا کہ "محنت اس قدر خاموشی سے کرو کہ آپکی کامیابی شور مچا دے" تو اس کی عملی تفسیر الو ہی ہے کیونکہ جب یہ شکار پہ نکلتا ہے تو جو واحد آواز رات کے سناٹے کو چیرتی ہے وہ اس کے پنجوں میں جکڑے ہوئے دم توڑتے ہوئے، اس کا نشانہ بننے والے کی ہوتی ہے.....!
رہی بات اس کی طمانیت کی تو وہ اپنی مثال آپ ہے.
دن کا بے ضرر سا پرندہ رات کو جلاد بن جاتا ہے. کیونکہ اس کے دن کا امن اس کی رات کی تیاری ہوتی ہے.💗💗
ملک انس اعوان
لوگ آسان سمجھتے ہیں دراز قد ہونا
0
comments
الله نے 6 فٹ سے کچھ زیادہ قد عطا کیا ہے اور الحمداللہ صحت بھی ٹھیک ٹھاک دی ہے، اس لیے جب بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا موقع ملتا ہے ہماری نظر ایسی جگہ پہ ہوتی ہے جہاں ہم اپنی طویل ٹانگوں کو سمیٹ کر بیٹھ سکیں وگرنہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر گاڑی کا رخ مشرق کی جانب ہو تو ہمیں اپنی ٹانگیں شمالاً جنوباً رکھنی پڑتی ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی اور صحت مند فرد نے ساتھ بیٹھنا ہو تو سینے کو بھی شمالاً جنوباً رکھ کر حسب عادت تانک جھانک کے لیے گردن کو بطرف کھڑکی شریف رکھنے کے لیے انتہائی شمال یا انتہائی جنوب موڑنا پڑتا ہے. چناچہ عسکری اصطلاح میں ہم ایک دلچسپ "اسٹریٹیجک پوزیشن" اختیار کر چکے ہوتے ہیں.
یوں مناظر کی لطافت گردن کی جڑوں میں بیٹھ جاتی ہے اور محض گھنٹے بھر کے سفر میں طبعیت ٹھکانے لگ جاتی ہے. اس کے علاوہ اگر پیچھے یا آگے خواتین بھی بیٹھی ہوں تو خدا کی پناہ، دوران سفر کھانے بنانے کے طریقوں سے لے کر کس کس کا رشتہ کہاں کہاں نہیں ہو پایا، اس کی وجوہات کیا تھیں، اور اس کے معاشرے پہ کیا اثرات وقوع پذیر ہوں گے، جیسے گھمبیر مسائل تک بلا معاوضہ سننے کو ملتے ہیں. جس سے سفر میں دیکھے جانے والے مناظر کے نوٹس منتشر ہو جاتے ہیں اور انکو موبائل فون میں محفوظ نہیں کر پاتا اور نتیجتاً ایسی تحریریں جنم لیتی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا.
رہے نام اللہ کا......
ملک انس اعوان



