لذت حیات

0 comments

ایک عزیر دوست کے اصرار پہ تیراکی سیکھنے کے لیے وقت  مختص کیا گیا، تیراکی کے بنیادی اصول اسی دوست نے سکھائے اور پھر انہی مخصوص حرکات کا استعمال شروع کیا گیا، یہاں سے ہمارے مشاہدے کا آغاز ہوا چاہتا ہے. پانی کے مزاج اور طبعیت سے نا واقفیت کی بنا شروع کے ہفتے میں  صرف ہاتھ پاؤں چلانے سے اور جسم تھکانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا. پھر چند دنوں بعد کنارے پہ بیٹھ کر پانی کے جسم اور اس کی طبعیت پہ غور کیا کہ اسکا مزاج کیا ہے اور یہ کیسے کیسے اپنے جسم میں خلا کو پیدا اور پھر اُس کو پُر کرتا ہے. یہ کس طرح کی چوٹ پہ نرم اور کیسی ضرب پہ پلٹ کر وار کرتا ہے، یہ دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اپنے ہونے کا یقین اپنی ہیئت کے اعتبار سے پختہ کیا گیا. پھر اپنے ہاتھ پاؤں اور جسم کو پانی کے جسم سے مطابقت پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا گیا. تجربے نے بتایا کہ دوسرے ہی ہفتے ہاتھوں اور جسم نے پانی میں سے اپنے جسم کا خلا پیدا کرنے اور اور اس خلا کو مسلسل آگے بڑھاتے چلے جانے کی اہلیت حاصل کر لی ہے.
یہی سیکھنے کا عمل ہمارا ذہن زندگی میں  مختلف مقامات پر مسلسل پہ شروع بھی کرتا رہتا ہے اور نتائج بھی اخذ کرتا رہتا ہے، یہی نتائج فیصلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں. دراصل یہ زیست کا بہتا دھارا بھی پانی کی طرح ہی ہوتا ہے جس کے اندر شروعات میں ہم صرف ہاتھ پاؤں چلا کر خود کو تھکا لیتے ہیں اور پھر تھک ہار کر ایک جانب بیٹھ جاتے ہیں. یہ ہمارا  سیکھنے کا پہلا عمل ہوتا ہے جہاں ہم چیزوں کو اپنے انداز سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں. جب کوشش امید پہ پوری نہ اتر سکے تو نا امیدی ہمیں گھیر لیتی ہے. اکثر لوگ یہیں پہ ہار مان لیتے ہیں، جبکہ باقی کے لوگ اسی وقت دوسری کوشش کی جانب بڑھ جاتے ہیں. اور کچھ لوگ اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے سیکھنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں. دوسروں سے سیکھنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو مستقبل میں نئی جہت دریافت کرنے کی قابلیت سے محروم ہوتے ہیں. جبکہ نئی جہت دریافت کرنے والے بار بار زیست کے دھارے میں گرتے  ہیں اور گہرائیوں کے شوق میں اپنی جانوں کو غذاب سے گزارتے ہیں، تبھی تو وہ ایک مدت کے بعد تہہ میں سے ایک پتھر کو تراش کر شاہکار تخلیق کر پاتے ہیں. انہی میں سے کچھ لوگ رستے میں ہی جان سے چلے جاتے ہیں مگر انکا شاہکار بعد میں آنے والوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور یوں وہ دریافت کردہ "جہت" جدت کے عمل سے گزرتی رہتی ہے.
البتہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ تو ہار ماننے والوں میں سے خود کو شمار کرتے ہیں اور نہ ہی خود کوئی شاہکار تراشنے کی ہمت رکھتے ہیں، ایسے لوگ ہلکے پانی میں تیراکی سیکھتے ہیں اور زندگی کے دھارے میں سینکڑوں ان گنت بے جان جسموں کی طرح تیرتے رہتے ہیں، جنہیں وقت کی موجیں جیسے چاہیں پٹختی اور گھسیٹتی رہتی ہیں. اور یہ لوگ  اپنی مردہ ضمیری کے باعث حیران کن طور پہ اپنے زندہ رہنے پہ ہی خوش ہوتے ہیں. انکے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے یہ "لذت حیات" سے نا آشنا مردہ اجسام زمین کا بوجھ ہوتے ہیں جنکو وقت کی موجیں گم نام ساحلوں پہ عبرت کے لیے پھینک دیتی ہیں.
1 جنوری 2018
ملک انس اعوان

دین کی ضرورت

0 comments

تمام مشاہدات ایک طرف اگر ہم اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے اوپر نافذ (معاشی، معاشرتی، اخلاقی) فرائض کو سمجھنے کی کوشش کریں تو معلوم ہو گا کہ ہم سب سماجی طور پر اپنے اپنے دائرے میں ظالم ہیں. آپ یا ہم کوئی بھی اس ظلم سے مستثنٰی نہیں ہیں . دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے ظلم کا اندازہ اپنے سے  بڑے ظالم کو دیکھ کر ہوتا ہے. ہسپتال میں اپنے والدین کے ساتھ آئے ہوئے نوجوانوں جن میں ہم بھی شامل ہیں کو دیکھتے ہیں اور جب انکے تاثرات دیکھتے ہیں تو روح تک لرز جاتی ہے کہ والد یا والدہ کی انتہائی نازک صورتحال بھی انکو موم نہیں کر پاتی ہے اور ان کے معاملات جوں کے توں چلتے رہتے ہیں. باپ جان کی بازی لڑ رہا ہوتا ہے اور پاس موجود بیٹا موبائل پہ اپنے شغل پورے کرنے میں مصروف ہوتا ہے. اس میں ٹیکنالوجی کا قصور کم اور ہمارا قصور زیادہ ہے(کیونکہ ہمارا تعلق بھی اسی نسل سے ہے) . ہم جس نسل سے تعلق رکھتے ہیں یہ سوچتی ہے اور مانتی ہے کہ ہم اس دنیا کے سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے، اپنی اپنی ذاتی حیثیت میں دنیا کے نامی گرامی افلاطون ہیں.بالفرض ہوں گے بھی.....!
ہم مانتے ہیں کہ ہماری معلومات، ہمارے رابطے  ہمارے والدین سے زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ ہیں. ہم اپنے والدین کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے اپنے آئی فون وغیرہ پہ فیس بک کی تحریر اور میسج لکھ پاتے ہیں.
لیکن ایک لمحہ ٹھہریے ان اچھے کیمرے والے موبائل فون، خوبصورت تیز رفتار گاڑیوں سمیت ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے سوائے ایک چیز کے جسے ہم احساس کہتے ہیں. یہاں ہمارے جیسے اکثر نوجوان ٹیکنالوجی پہ تنقید کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ شاید ٹیکنالوجی کو چھوڑ دینے کا کہا جا رہا ہے.ٹیکنالوجی کے ہونے اور نہ ہونے سے تب تک فرق نہیں پڑنے والا جب تک ہم "احساس" بیدار نہیں کر لیتے ہیں.
یہاں  سماجی احساس بیدار کرنے کے دو ہی  منبع ہیں، ایک ہمارا سماج اور دوسرا مذہب. کیونکہ برصغیر میں  معاشرے کو تشکیل دینے والی ایک ہی قوت ہے جو کہ مذہب ہے .خوشقسمتی دیکھیے کہ یہاں ملک پاکستان میں ہمیں اسلام جیسی نعمت دستیاب ہے جس میں بالمتفق(مسلم و غیر مسلم) ہمارے پاس ایک انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہوا اکمل، اکبر و اجمل نمونہ اسوۃ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں موجود ہے. قصہ مختصر اس معاشرے کی کم از کم بقا اور بنیادی انسانیت کی افزائش کے لئے بھی" مذہب" ضروری ہے. اور ترقی کے لیے "دین" ناگزیر ہے.
تحریر
ملک انس اعوان

ہوا کی بات

0 comments

بوقت سہ پہر موٹر سائیکل پہ ہیلمیٹ پہنے ہم اپنی عمر کی طرح شاہراہ زندگی پہ تیز رفتاری سے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے، ایسے میں ذہن کی گنجان آباد گلیوں میں بچپن کی یادیں کھلکھلانے لگیں اور ایک سوال جو میں اکثر ابا جان سے پوچھا کرتا تھا کہ "یہ ہوا کیا ہوتی ہے، اگر ہوتی ہے تو نظر کیوں نہیں آتی؟ "
تب میں کسی بھی جواب سے مطمئن نہ ہو پاتا تھا اور اکثر ہوا کو ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتا تھا. لیکن آج سفر کے دوران وہی ہوا ہمیں پیچھے کی جانب دھکیل رہی تھی، اس کا لمس ہمیں  اپنی چمڑے کی جیکٹ سے ہوتا ہوا سینے پہ بھی محسوس ہو رہا تھا. ہمارے ساتھ ساتھ چند پرندے بھی اڑ رہے تھے، اور حیرت انگیز طور پر  میں تخیلاتی آنکھوں سے ان کے پروں کے نیچے پھسلنے والی ہوا کو دیکھ سکتا تھا. ایک ایسے بے حد نفیس اور دبیز جسم کی صورت میں جو ساری دنیا پہ بچھا دیا گیا جسے ہم فضا کہتے ہیں.
ایسی ہی فضا ہمارے گرد بھی ہوتی ہے اور اس سے ملتی جلتی ایک اور فضا ہم سب کے درمیان میں بھی ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتی لیکن چمڑے کے اندر پڑے ہوئے دل پہ اثر انداز ضرور ہوتی ہے. اور اس فضا کے عناصر فی کس مختلف ہوتے ہیں، اگر ہمارے مابین "انا" نامی فضا ہو تو ہم ایک دوسرے سے فاصلے بنائے رکھتے ہیں، جو اس فضا میں جیتے ہیں وہ جھکنا اور غلطی تسلیم کرنا بھول جاتے ہیں. انا کا زہریلی ہوا انکی سانس میں رچ بس جاتی ہے اور وہ اس انا کی تسکین کے لیے مزید ایسی فضا اپنے گرد تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں. نتیجتاً بقا کی چاہ میں گُم ہو جاتے ہیں. انکا وجود راکھ میں تبدیل ہو کر لوگوں کی راہ کی خاک بن جاتا ہے. دوسری جانب کچھ لوگوں کو محبت کی فضا راس آتی ہے، خوشبوؤں سے معطر وزن میں ہلکی لطیف ہوا جس میں وجود آہستگی سے گھل کر سراپا تسلیم، عاجزی، اعتراف اور اطمینان کے رنگین دھوئیں میں تبدیل ہو جاتا ہے، اسے جیسی جگہ ملتی ہے وہ وہاں سما جاتا ہے، جیسا رنگ ملتا ہے ڈھل جاتا ہے، جیسی زمین ملتی ہے رُل جاتا ہے، غرض وہ اپنی خواہش سے دستبردار ہو کر کسی اور کی رضا میں راضی ہو جاتا ہے. ایسی فضا بنانے سے بنتی ہے اور تو اور بندگی کا مقصود بھی یہی فضا تو  ہے....!
ملک انس اعوان

لاہوری اشارے

0 comments
مال روڈ لاہور پہ ایک معصوم سے لاہوری کو دیکھ کر موٹر سائیکل روک لی رستہ پوچھا تو محترم اپنے روایتی لہجے میں بولے . 
"پائن ایہہ والے" شارہے" توں بعد اک ہور" شارہ "آوے گا اوس توں" شجے"" پاشے "مڑو گے تے سامنے ای بورڈ لگا ہویا ایے " 
کیونکہ منزل زیادہ دور نہیں تھی اور وقت کی کمی بھی نہیں تھی چنانچہ میں نے چہرے پہ پہنا ہوا احتیاطی ماسک احتیاط سے اتارا اور بھائی کو ہاتھ کے اشارے سے متوجہ کر کے کہا کہ 
بھائی پہلے بات یہ ہے کہ یہ "شارہ" نہیں اشارہ ہوتا ہے اور دوسرا یہ "شجے" نہیں سجے ہوتا ہے اور تیسری اور آخری بات یہ کہ" پاشے" نہیں ہوتا "پاسے" ہوتا ہے.
اس کے بعد دو بار ان الفاظ کی مشق بھی کروائی جس کے بعد وہ صاحب سمجھ گئے کہ
"گل وچ ہور ایے"
تیسری مشق کے آغاز میں بھائی نے مٹھیاں بھینچ لیں.
بس پھر وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی . بہرحال ان صاحب کی معصومیت اور تاثرات ہر "شارہے "پہ یاد آ جاتے ہیں....! 
😂
انس اعوان

دیہان کی زد پہ

0 comments

سر کے نیچے بازو کا تکیہ دیے، بند آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی لا محدود غیر مرئی کائنات کے دھوئیں میں گویا میں اکلوتا تماش بین ہوں. رنگ ہا رنگ کی ان گنت کہکشائیں قطار اندر قطار ایک دوسرے سے ملتی اور جدا ہوتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں، جن کے پس منظر میں ان گنت بھانت بھانت کی بولیاں، لہجے، اور رویے "نوری گرد" کی صورت میں محو سفر ہیں. اس نوری گرد کے ایک ایک ذرے کا باہم فاصلہ سینکڑوں برس سے زیادہ طویل ہے، گویا صدیوں سے ان کا ربط "فاصلہ" ہی ہے . یہ تمام منظر اور پس منظر ایک ایسے گھماؤ دار سفر پہ روانہ ہیں جسکا محور اور مرکز  اس کا وہ مرکز ہے جو اپنے آپ میں لا یعنی ہے .افسوس یہ ہے کہ تحریر(جو کہ بذات خود ایک صورت ہے) میں لانے سے پہلے وہ ہزاروں کہکشاؤں کا موجد ایک بے دیہان لمحہ محض ایک بے خیال لمحہ ہی تھا، جو تحریر میں ڈھل کر دیہان کی زد پہ آ چکا ہے.
ملک انس اعوان

کھڑکی

0 comments

بند کھڑکی کے ادھ کھلے پٹ کی داستاں یا تو ہوا کے جھونکے جانتے ہیں یا اس سے متصل بھاری بھر کم در و دیوار جو سالوں سے اپنے وجود کی ضد کو لیے زمین کے سینے پہ تنے رہتے ہیں .اس کھڑکی کے پیچھے محض اندھیرا ہی نہیں ایک تجسس بھی ہے جو اس کے اندھیرے سے کہیں زیادہ تاریک ہے اور مکمل ہے.... ناجانے اس کے پیچھے کون ہے، کیوں ہے اور کب سے ہے.
کوئی ہے، تو کیوں ہے
کوئی تھا، تو کیوں تھا
کوئی ہوگا، تو کیوں ہوگا
یقین اور گمان آپس میں الجھتے رہتے ہیں لیکن کھڑکی کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہو پاتی مبادا....... اس سے کہیں اپنا یقین نہ ٹوٹ جائے.اور وہاں صرف اندھیرا ہی موجود ہو.................!

ملک انس اعوان

سیال

0 comments

یہ تمنائے بیتاب جو جو میرے اندر جل جل کر اور گھٹ گھٹ کر آتشیں سیال مادے کا روپ دھار چکی ہے اور ایک نامعلوم آتش فشاں سے میری جانب دوڑتی چلی آ رہی ہے. میرا بکھرا وجود اس کی زد میں ہے اور میں بے بس، بے بس اس طرح سے کہ اپنے کرچی کرچی وجود کے کس حصے کو بچاؤں اور کس کو چھوڑ دوں، میرا قوت فیصلہ، میرا قوت ارادی وہ بھی تو انہیں کرچیوں میں ہی کہیں کھو گیا ہے. ہر کرچی منفرد اور ہر کرچی میں میرا عکس ہے، وہ سیال گرم مادہ میری کرچیوں کو نگلتا جا رہا ہے، آہستہ آہستہ میرے رنگ، میرا تخیل، میری سوچ، میرے جزبے، میرے احساسات سب کچھ نگلتا جا رہا ہے. میں ختم ہو رہا ہوں. میرے وجود کی آخری رمق اس دھویں میں ہیں جو بے اختیار ہوا میں مدغم ہوتا چلا جا رہا ہے....... گاڑی موٹر وے کے کنارے رک چکی ہے، میں گویا گمان سے بیدار ہوا اور بونٹ کی جانب دیکھا جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا،ہاں یہ وہی سیال مادہ ہو گا جو گمان سے حقیقت میں آ چکا ہے اور سب کچھ جلائے جا رہا ہے.
ملک انس اعوان
یکم اگست 2017

کتنی دیر لگتی ہے؟

0 comments

سحر کے ماتھے پر
روشنی کی کرنوں کو
بے طرح بکھرنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
ضروری نہیں یہ خاموشی
ہر بار معتبر بھی ہو
بات کو بدلنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
بات تو زرا سی ہے
اپنی خوشی تو ہے، سو ہے
کسی کا غم سمجھنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
خواب ہوں بھلے یہاں
دلوں میں پختگی نہ ہو
خواب کو بکھرنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟

ملک انس اعوان

ایک ترک خاتون "سمانور" کی جانب سے کیا گیا ترکی زبان میں ترجمہ


Seherin alnındaki 

aydınlık ışıkların

şekilsiz dağılması

ne kadar sürer?

Şart değil bu sessizlik

her defasında muteber ol

söz değiştiğinde

ne kadar sürer?

Mesele ufacık aslında

kendi mutluluğun, yine de

birinin derdini anlamak

ne kadar sürer?

rüyayım, unut burada

gönüllerde kalıcılık yok

bir rüyanın darmadağın olması

ne kadar sürer?


Malik Anas Awan


کچھ کشمیر کے بارے میں

0 comments
جدوجہد آزدی کشمیر کے ضمن میں پاکستان کے اند بیٹھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ  بحیثیت پاکستانی جہاد کشمیر کی بذور شمشیر جدو جہد پانی میں "مدھانی" چلانےسے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ کیونکہ ریاست اس سلسے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ اس لیے چاہے جتنی بھی مدھانی چلا لیں یہاں سے مکھن نکلنے والا نہیں ہے ، ہو سکتا ہے آپکو میری بات سے خلاف ہو یا آپ اسے جہاد سے بھاگنے کا ایک پہلو مان رہے ہوں تو ٹھیک ہے یہ آپکی جزباتی وابستکی کا اثر ہے لیکن زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیے کہ اگر یہ معاملہ کم ازکم (دوبارہ "کم از کم" پڑھیے) فاٹا ریجن و دیگر سے بھی اہم ہوتا تو اس کے لیے اب تک ریاست کی جانب سے بیانات کے ہوائی فائر سےہٹ کرکوئی بڑا نہ صحیح ،کوئی چھوٹا سا بھی فوجی آپریشن ترتیب دیا گیا ہو تو بتائیے۔الٹا صورتحال یہ ہے ایک مخصوص طبقے کو چھوڑ کو جہاد کشمیر کے بہت سے متحرک لوگ آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے "ثواب" کا حساب کتاب دے رہے ہیں ۔ان لوگوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو خالصتاً ریاست کے لیے ہی ماضی میں اپنا تن من دھن پیش کر چکے ہیں ۔
جبکہ بدلے میں انہی کی محنت کی بدولت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ سے لے کر دیگر عالمی فورمز پہ کشمیر کاز کا اپنے ریاستی مفاد کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا ہے ، حلانکہ جہاں ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہو وہاں ہم دنیا کے سامنے کشمیر کاز کی پرانی فائل اٹھا کر دنیا کو پڑھ کر سنانا شروع کر دیتے ہیں ۔
لیکن اگر کسی نے اپنا خون ، جان ، مال ، جوانی اس مشن میں صرف کیا ہے تو وہ ہم جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں سے افضل ہے ،اور وہ اللہ سے اپنی قربانی اور خلوص کا صلہ ضرور پائے گا۔
دوسری جانب کرنے کا اصل کام یہی ہے کہ عام عوام میں اس سے متعلق شعور بیدار کیا جائے اور کشمیر کے مسئلے کو دلوں زہنوں اور کتابوں میں تا پائیدار حل زندہ رکھا جائے ، کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا تقاضا بھی ہے اور ریاست کی ضرورت بھی۔۔۔!
(ایک مسلمان بن کر لکھا ہے ، پاکستانی بن کر نہیں )
ملک انس اعوان

اپنی تسلی کے لیے

2 comments


 کسی بھی شے میں جب نظر شامل ہو تو ہم اسے منظر کہتے ہیں، منظر کا سفر آنکھ سے شروع ہوتا ہے اور دل پہ قیام کرتا ہے، پھر رنگ اور ان کی تاثیر علیحدہ علیحدہ ہو کر دل کی باریک رگوں میں اترنے لگتے ہیں، اور ذہن انہی رگوں سے احساسات نچوڑ کر تخیل (Imagination) کے سٹیج پر چشم زدن میں نت نئے کردار تشکیل دیتا چلا جاتا ہے . پردہ ہٹتا ہے. دل تماشائی بن جاتا ہے اور تخیل کے اسٹیج پہ برق رفتاری سے یکے بعد دیگرے خوشی، غم، حیرت، وجد، رقص اور خوف کے ادوار گزرتے چلے جاتے ہیں، ایک ہاہوکار مچتی ہے، اور تب تک مچی رہتی ہے جب تک یہ تماشبین دل، تماشے کے ختم ہونے کا اعلان نہیں کرتا. اعلان کر دیا جاتا ہے، پردہ گرا دیا جاتا ہے.
 اور ایک نیا منظر آنکھ سے دل کی جانب سفر شروع کر چکا ہوتا ہے....!
ملک انس اعوان


جستجوئے یقیں

0 comments
ہم ہمیشہ سے ہی دو ہی رہے ہیں، ایک "یہ" اور ایک "وہ"۔
۔"یہ" وہ ہے جو"منظر" میں موجود ہے . یہ تربیت یافتہ بھی ہے اور تربیت پزیر بھی، اس کا کچھ حصہ میرے اختیارا میں ہے جسے میں مٹی کے برتن کی طرح سوچ کے مدار پہ ڈھال، سنبھال اور اتار سکتا ہوں . بیک وقت بنا سکتا ہوں، بگاڑ سکتا ہوں۔
جبکہ اسی "یہ" کا وہ حصہ جو میرے بس میں نہیں ہے وہ لوگوں کے ذہنوں میں انکے میرے متعلق احساسات کی صورت میں موجود ہے. یہاں معاملہ اختیار کا نہیں "نظر" کا ہے۔
"وہ " وہ ہے جو اصل میں موجود ہے لیکن منظر میں موجود نہیں ہے، یہ وہی" وہ "ہے جو باہر آنا چاہتا ہے،لیکن اپنے غلاف کے اندر لپٹا ایک جانب دھرا ہوا ہے، بے چین بھی ہے اور بیزار بھی، بیمار بھی اور لاچار بھی. اس بیچارگی و بیماری کا علاج صرف" یقین "کے ذائقے میں دھرا ہے۔
ایسا یقین جو امید پہ حاوی ، حقیقت پہ مبنی، تخیل میں کامل اور سلسلوں میں مکمل ہو۔

تحریر
ملک انس اعوان


ڈر اور لالچ

0 comments
ہزار نسخوں، کتابوں، تحریری و تقریری مواد سے کہیں زیادہ کارآمد شے آپکا اپنا زہن ہے. یہ کیسے اور کس معیار کے تحت فیصلے کرتا ہے، کہاں کہاں کیسے تبدیلیاں قبول کرتا ہے یہ سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے. اس ضمن میں وہ چیزیں جو زہن اور عقل پہ سب سے زیادہ پر اثر ہیں ان میں سے پہلا "ڈر" اور دوسری چیز "لالچ"ہے . 
ایک لمحے کے لیے رکیے.... یہ دونوں چیزیں اپنی ذاتی حیثیت میں بری نہیں ہیں بلکہ محض فطری احساسات ہیں. ان فطری احساسات کو Deal کیسے کرنا ہے اس کے لیے خالقِ فطرت و قدرت کا تیار کردہ انسان کے لیے آخری اور بہترین user manual اٹھا لیجیے اور سمجھیے کہ خالق نے بار بار کیوں آیات مبارکہ میں کہیں دوزخ سے ڈرایا ہے اور کبھی جنت کے حسین مناظر کی خیالی تصویر سے نیکی کی جانب راغب کیا ہے. 
اب پھر رکیے...... غور کیجیئے کہ الله آپکے نفس کو kill نہیں کر رہا بلکہ modify کر رہا ہے کبھی جہنم کے ڈر سے اور کبھی جنت کے لالچ سے، بس یہی کچھ آپکو کرنا ہے. 
یعنی.... خود سے لڑنا نہیں بلکہ اپنی ذات سے مذاکرات کرنے ہیں، اس کو مائل کرنا ہے اور اس عمل کے پریکٹیکلی کئی طریقے ہیں اور کئی انداز، حسب ضرورت کسی بھی دوا کا استعمال کیا جا سکتا ہے، ان طریقوں پہ پھر کبھی تفصیل سے بتایا جائے گا اب آ جائیے 
"ڈر " کے ذکر کو کھولتے ہیں. 
ڈر پہ قابو پائیے،کیونکہ انسانی ذہن ایک وقت میں صرف ایک ہی قسم کے ڈر کا سامنا کر سکتا ہے، ڈر کا جھمگٹا اس کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے اور باقی صلاحیتوں پہ بھی غالب آنے کی کوشش کرتا ہے. 
لہذا ڈر کو خدا تک محدود کر دیجیے اور باقی ہر قسم کے خوف سے خود کو آزاد کر لیجیے. کیونکہ جس قدر آپ اپنے ڈر کو قابو میں رکھ سکیں گے اتنی ہی تیزی سے امید آپ کے اندر پیدا ہوگی اور فروغ پائے گی. 
دوسری چیز تھی"لالچ"یہ بھی انسان کے اندر خدا کی جانب سے ایک Built in Function ہے ،لالچ بذات خود اپنے اندر ڈھیروں احساسات کا مجموعہ ہے مگر اس کے اجزاء ترکیبی  یعنی recipe میں سب سے اہم چیز چاہت ہے. آپ کسی بھی چیز کو  کسی بھی حد تک چاہ سکتے ہیں لہذا اپنی چاہت کو مثبت چیزوں میں  اس طرح تقسیم کر دیجیے کہ منفی اشیاء کے لیے آپکے پاس کوئی چاہت باقی نہ رہے.
آپکا یہی عمل آپکی توجہ کو بھی تقسیم کرتا ہے. اور جب توجہ تقسیم ہوتی ہے تو وقت کی تقسیم بھی خود بخود ہوتی چلی جاتی ہے. 
آپ سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں جانتا ہے لہذا اپنے آپ سے دوستی کیجیئے، سمجھائیے اور احساسات کو قابو کرنے میں خود کفیل ہو جائیے. 


تحریر 
ملک انس اعوان




دھواں دار تخیل

0 comments

کافی غور کے بعد انکشاف ہوا یا کیا جارہا ہے کہ یہ جو ہم سرِ شام حسب طبعیت ریلوے اسٹیشن پہ بادلوں کا نظارہ کرنے اور حسب توفیق ٹہلنے جاتے ہیں اس دوران ہمارے تخیل میں دھویں کی مقدار  زیادہ کیوں ہو جاتی ہے؟
اس لیے کہ وہاں پہ شہر بھر سے آئے ہوئے چھوٹے طیارے ہمارے ارد گرد "ریفیولنگ" اور پرواز کی نیت سے اجتماعی طور پہ اڑان بھرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث نشیلا دھواں اکثر و بیشتر ہوا کے سر پہ سوار ہو کر ہماری جانب لپکتا ہے، جو بالآخر کسی نہ کسی صورت ہمارے تخیل تک پہنچ جاتا ہے. شہری انتظامیہ کو اس ضمن میں بھی سوچنا چاہیے، یا ریلوے اسٹیشن کی حدود کو سرکاری طور پر رن وے قرار دے کر اس کا انتظام اپنے سر لے لینا چاہیے . وگرنہ جس رفتار سے طیاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے کچھ بعید نہیں کہ چند ماہ تک یہاں  بین الاقوامی پروازوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فضائی کرتب کے مظاہرے بھی دیکھنے کو ملیں گے.....!
ارے ہاں رکیے اسپانسر کا نام تو سنتے جائیے.

اس انکشاف میں ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے محمد اجمل مہوٹہ سکنہ پکہ ملانہ تحصیل و ضلع ڈیرہ اسماعیل خان.

ملک انس اعوان
بمقام :ریلوے اسٹیشن، اٹک شریف
کیفیت : معتدل شریف
3 مئی 2017

تذکرہ لسی شریف

0 comments


غالباً بلکہ یقیناً ستمبر 2013 میں ہم اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اٹک شریف تشریف لے آئے تھے  یاد رہے کہ اس وقت "آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ" کی عدم موجودگی کے باعث اٹک "شریف" نہیں تھا بہرحال ان دنوں سے جنوری 2014 تک ہم اپنے احباب کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ہوٹل، ڈھابہ ہم سے بچ گیا ہو جہاں ہم نے لسی شریف کا سوال نہ کیا ہو.... وہ کہتے ہیں ناں کہ
"قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں"
کیونکہ ہماری آمد کے بعد موسم سرما کا آغاز ہو چکا تھا، چناچہ جیسے تیسے سردیاں جہاد بالنفس کرتے ہوئے گزاریں اور گرمیوں کا انتظار کیا یا  اس دوران اپنے دستِ نیم نازک سے ہاسٹل میں ہی اپنی روحانی تسکین کا سامان کیے رکھا.
اب تو الحمداللہ جوبھی موسم ہو، کہیں نہ کہیں سے لسی شریف درآمد کروا ہی لیتے ہیں.

انس اعوان

رشتے پرندے

0 comments

رشتے بھی کسی حد تک پرندوں کی طرح ہی ہوتے ہیں، انکو اول تو پالیے نہیں، اگر پالیے تو خوب دیہان سے پالیے. اور جب پر نکل آئیں تو مزید قید میں مت رکھیے. کیونکہ ایسا کرنے سے یا تو وہ پنجرے کو اپنی دنیا سمجھنے لگے گا یا پنجرے سے سر پھوڑنے کی کوشش کرے گا. اس کے پَر کبھی مت کاٹیے.... ورنہ وہ بظاہر زندہ پرند اڑنے کی چاہ میں اندر سے مر جائے گا. جو اڑنا چاہے اسے اڑا دیجئے، جو لوٹ آئے اسے پناہ دیجیے لیکن............ پنجرہ توڑ دیجئیے . آپ کو بس اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ آپ کے لیے اور آپ کے بعد والوں کے لیے قدرت اپنے حقیقی رنگ میں نکھر سکے.
ملک انس اعوان

اٹک کے حجام

0 comments

اگر آپ اٹک کے باہر کسی اور ضلع سے تعلق رکھتے ہیں تو کچھ عرصہ اٹک شہر میں ریہائش رکھنے کے بعد آپ یہ بخوبی جان پائیں گے کہ یہاں کے سب سے زیادہ نخرے والا طبقہ "حجام" ہیں، حیرت تو ہوئی ہو گی!
ہونی بھی چاہیے کیونکہ بات ہی کچھ ایسی ہے، دراصل راولپنڈی کے قریب ہونے کی وجہ سے "پنڈی بوائز" کا ایک
مخصوص انداز کسی حد تک یہاں کے نوجوانوں میں بھی پایا جاتا ہے. لہذا عموماً شہری علاقوں میں نوک دار اور غیر معمولی داڑھی کے خط اور بالوں کے انداز زیادہ دیکھنے کو ملیں گے. اول تو آپ کو حجام سے فون پہ وقت لینا پڑے گا اور ایک اچھے بچے کی طرح عین وقت پر کرسی تک پہنچنا بھی ہو گا ورنہ آپ کے حصے کا وقت صدر مملکت کسی اور کے لیے وقف کر چکے ہوں گے، کھانا کھانے کے وقت یا  انتہائی اوقات میں اگر آپ کسی مجبوری سے بھی چلے جائیں تو بڑا پکا سا منہ بنا کر انکار سننا پڑے گا. اور تو اور اگر آپ ہماری طرح وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہوئے تو آپ کو اندر ہی اندر میری طرح جلنا بھننا بھی ہو گا کہ" واہ ملک صاحب بستی جئی نہیں ہو گئی؟ "کیونکہ کم از کم ہماری اپنی صورتحال یہ ہے کہ ایک تو ہم پہلے ہی ماشاءاللہ سادہ سے ہیں اور اگر نائی کی دوکان پر چلے بھی جائیں تو کم از کم اپنے علاقے میں ٹھیک ٹھاک پروٹوکول وصول کرنے کی عادت رکھتے ہیں، یا جاتے ہی ان کے پاس ہیں جو ہمیں جانتے ہوں. ہمارے ہاں تو اگر وہ الله کے بندے کھانا بھی کھا رہے ہوں تو گاہک کو دیکھتے ہی کھانا چھوڑ دیتے ہیں. جبکہ اٹک میں جب تک نائی محترم بذات خود تمام اہم امور نمٹا نہ لیں تب تک گاہک کی جانب دیکھتے بھی نہیں اور جیب کی کھال بھی ثواب سمجھ کر اتارتے ہیں.

ملک انس اعوان

ہندسوں کا طواف

0 comments

سیاہ اندھیرے کا راج تھا ،ننھیالی ڈیرے پہ  آم کے قدیم اور بلند سایہ دار درخت کے عین سامنے چند چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں . جن پہ ایک وین ڈرائیور اور اس کا ساتھی کھانا کھا رہے تھے جبکہ مجھ سمیت میرے چند دیگر رشتہ دار بھی وہیں چار پائیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے. کھانا کھانے کے بعد انہوں نے برتن اوپر تلے ترتیب سے رکھتے ہوئے اجازت چاہی تو ماموں جان نے انسے مہمانوں کو دوسرے شہر سے گھر پہنچانے کا معاوضہ پوچھا تو ان میں سے ایک جو قدرے بڑی جسامت کا تھا کہنے لگا کہ "جنے دل کرے دے چھڈو ، متھہ تے بندیاں نال لگدا ایے، پیسیاں دی کیڑھی گل ایے؟"
اس کے بعد کیا مکالمہ ہوا مجھے یاد نہیں لیکن ایک جملہ کہ" واسطہ تو انسانوں سے پڑتا ہے " نے حیرت میں مبتلا کر دیا. ایک ان پڑھ اور گاؤں کے معمولی سے ڈرائیور کی بات نے دل میں گھر کر لیا. گھر کیوں نہ کرتی جس خوبصورت انداز سے اس نے انسان کو پیسے سے الگ کیا وہ لاجواب تھا. بھلے ہی اس نے یہ بات مروت میں ہی کہی ہو مگر وزن میں بھاری تھی. میرا  انتہائی قلیل مشاہدہ بتاتا ہے کہ دفتروں میں موجود سپاٹ چہروں کے حامل وہ"  ہندسے" جو ہندسوں میں اضافہ کمی کرتے کرتے صبح کو شام اور شام کو صبح کرتے رہتے ہیں، انسان کو ایک ID نمبر سے پہچانتے ہیں، انہی ہندسوں میں معاملات طے کرتے ہیں، انہی ہندسوں سے انسان کی قیمت طے کرتے ہیں واقعی انسان نہیں ہیں کیونکہ انکا" متھہ بندیاں نال نہیں لگدا، پیسیاں نال لگدا ایے ".
غرور، تکبر، اکڑی گردن، قہر آلود نگاہیں اور حقارت بھرا رویہ رکھنے والے احساسات کی چاشنی سے عاری دفتری ملازم یعنی " ہندسے "جنہیں ہمیں باامر مجبوری" انسان "قرار دینا پڑتا ہے، ایک ایسی سوچ کا شکار ہوتے ہیں جو اپنے اندر موجود احساس کمتری کا ازالہ دوسرے کے احساس کو کچل کر کرتے ہیں. انا کا ایک طوفان ان کے رگ و پے میں بہتا ہوا دل کے کونے کونے میں سے احساس کو کھرچ ڈالتا ہے. حیرت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ہندسوں  میں کیسے تول لیتے ہیں، مجھے بھی اس مقام حیرت سے گزرنا ہے کیونکہ شاید سلسلہ تعلیم کے بعد مجھے بھی گزرے موسم کے کپڑوں کی طرح احساسات و جذبات کی کنڈلی کو پرانی آہنی پیٹی میں رکھ کر ایک ہندسہ بن کر ساری زندگی ہندسوں کا طواف کرنا ہے.....!
تحریر
ملک انس اعوان

الو شریف

0 comments

آپ کی طبعیت آپکی پسند پہ بہت اثر ڈالتی ہے اس لیے اکثر و بیشتر آپکو وہی چیزیں زیادہ متاثر کرتی ہیں جو آپ کی طبعیت سے بہت مطابقت رکھتی ہوں، یا بہت مخالفت ، عموماً انسان کے لیے یہ دو انتہائیں ہی خاص ہوتی ہیں اس کے درمیان سب کچھ معمولی تصور کیا جاتا ہے. رہی بات "الو" کی تو اس کی پسندیدگی کی کئی وجوہات ہیں.
اس کی شخصیت جو کہ بڑی گردن، سر اور آنکھوں کی وجہ سے نہایت پر وقار بن جاتی ہے،ایک بڑا الو اگر نظر بھر کر دیکھ لے تو پورے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے. اسی باعث لوگ اس سے ڈرتے بھی ہیں اور اس سے قصے بھی منسوب کرتے ہے . اگر اس کی ظاہری شکل میں صرف آنکھوں پہ ہی لکھا جائے تو کتاب بن جائے.
اور اس کے "پر" پوچھیے ہی مت بالکل ترتیب سے جڑے ہوئے، سلیقے سے بندھے ہوئے ایسے کہ پرواز کی آواز تک پیدا نہیں ہونے دیتے. اس قدر سلیقے سے پرواز کہ زمین کی سطح کے چند انچ اوپر اڑے تو زمین پر پڑے خشک پتوں کو بھی خبر نہ ہونے دے.
عقاب یا باز کی طرح بھی ایک شکاری جانور ہی ہے. اس کی فطرت بھی وہی ہے جو عقاب کی ہی ہوتی ہے البتہ حکمت عملی مختلف ہوتی ہے.
زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرتا اور شکار کے لیے سورج کی روشنی کا محتاج بھی نہیں ہوتا، تسلی کے ساتھ رات ہونے کا انتظار کرتا ہے، گھات لگا کر بیٹھتا ہے، پرسکون پرواز کرتا ہے، اور خبر ہونے سے پہلے پہلے شکار کی گردن ادھیڑ  چکا ہوتا ہے.
عموماً دنیا کے ہر کونے میں مختلف شکلوں اور رنگوں میں پایا جاتا ہے. برفیلی چوٹیوں سے صحراؤں تک اس کا دائرہ محیط ہے.
_________________
آپ نے سن رکھا ہو گا کہ "محنت اس قدر خاموشی سے کرو کہ آپکی کامیابی شور مچا دے" تو اس کی عملی تفسیر الو ہی ہے کیونکہ جب یہ شکار پہ نکلتا ہے تو جو واحد آواز رات کے سناٹے کو چیرتی ہے وہ اس کے پنجوں میں جکڑے ہوئے دم توڑتے ہوئے، اس کا نشانہ بننے والے کی ہوتی ہے.....!
رہی بات اس کی طمانیت کی تو وہ اپنی مثال آپ ہے.
دن کا بے ضرر سا پرندہ رات کو جلاد بن جاتا ہے. کیونکہ اس کے دن کا امن اس کی رات کی تیاری ہوتی ہے.💗💗
ملک انس اعوان

لوگ آسان سمجھتے ہیں دراز قد ہونا

0 comments

الله نے 6 فٹ سے کچھ زیادہ قد عطا کیا ہے اور الحمداللہ صحت بھی ٹھیک ٹھاک دی ہے، اس لیے جب بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا موقع ملتا ہے ہماری نظر ایسی جگہ پہ ہوتی ہے جہاں ہم اپنی طویل ٹانگوں کو سمیٹ کر بیٹھ سکیں وگرنہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر گاڑی کا رخ مشرق کی جانب ہو تو ہمیں اپنی ٹانگیں شمالاً جنوباً رکھنی پڑتی ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی اور صحت مند فرد نے ساتھ بیٹھنا ہو تو سینے کو بھی شمالاً جنوباً رکھ کر حسب عادت تانک جھانک کے لیے گردن کو بطرف کھڑکی شریف رکھنے کے لیے انتہائی شمال یا انتہائی جنوب موڑنا پڑتا ہے. چناچہ عسکری اصطلاح میں ہم ایک دلچسپ "اسٹریٹیجک پوزیشن" اختیار کر چکے ہوتے ہیں.
یوں مناظر کی لطافت گردن کی جڑوں میں بیٹھ جاتی ہے اور محض گھنٹے بھر کے سفر میں طبعیت ٹھکانے لگ جاتی ہے. اس کے علاوہ اگر پیچھے یا آگے  خواتین بھی بیٹھی ہوں تو خدا کی پناہ، دوران سفر کھانے بنانے کے طریقوں سے لے کر کس کس کا رشتہ کہاں کہاں نہیں ہو پایا، اس کی وجوہات کیا تھیں، اور اس کے معاشرے پہ کیا اثرات وقوع پذیر ہوں گے، جیسے گھمبیر مسائل تک بلا معاوضہ سننے کو ملتے ہیں. جس سے سفر میں دیکھے جانے والے مناظر کے نوٹس منتشر ہو جاتے ہیں اور انکو موبائل فون میں محفوظ نہیں کر پاتا اور نتیجتاً ایسی تحریریں جنم لیتی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا.
رہے نام اللہ کا......
ملک انس اعوان