جس طرح پاکستان میں کچھ خواتین پورے خاندان کی نانیاں ہوتی ہیں ۔ ایسے ہی ہماری بھی ترکیہ میں ایک نانی ہیں انکا نام ہے رمزی آبلہ ۔ استنبول کے قریبی صوبے میں رہائش ہے ، بہترین سا دیہاتی انداز کا نظام ہے ، دودھ دہی سے لے کر سبزی تک ہر شئے گھر کی ہوتی ہے، پورا گاؤں انکو جانتا ہے اور انکی سفارش پہ آپ گاؤں میں کوئی بھی آسائش حاصل کر سکتے ہیں ۔ بلکہ وہ چھین کر بھی دلوا سکتی ہیں ۔
Ad
موضوعات
آمدو رفت
رمزی آبلہ
0
comments
مجھے تو آپ سے کوئی گلہ نہیں !
0
comments
ترکیہ کا شیخوپورہ 😀 Türkiye’nin Şeyhupura’sı 😀
0
comments
جمہوریہ ترکیہ کے بحیرہ اسود کے صوبہ صامسون میں ضلع “چارشانبا “کو ترکیہ میں وہی فضلیت اور نیک نامی حاصل ہے جو پاکستان میں شیخوپورہ کے حصے میں آئی ہے ۔ ہلکا پھلکا لڑائی جھگڑا ، اسلحہ رکھنا اور اسکا ایک دوسرے پہ استعمال باقی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے ۔البتہ ہماری انسے خوب بنتی ہے اسی سبب جب بھی کوئی صامسون سے استنبول کی جانب آتا ہے تو ہماری زوجہ کے ماموں حضرات ہماری قدرتی اشیاء خورد و نوش کا ذریعہ ترسیل بحال رکھتے ہیں ۔
شام کا نیا انتخابی نظام
0
comments
مرچ ، عشق اور بدھ بازار
0
comments
جیسے پاکستان میں اتوار بازار یا جمعہ بازار کا انعقاد ہوتا ہے اسی طرز اور انداز پہ استنبول کے مختلف محلوں میں بازار سجتا ہے ۔ ہمارے ہاں یہ بازار بروز بدھ سجتا ہے اور ہفتے بھر کی سبزی اور میوہ جات یہیں سے خریدے جاتے ہے ۔ یہاں کا ماحول شدید دیسی ہوتا ہے اور لوگ کھل کر ایک دوسرے سے گپ شپ کر رہے ہوتے ہیں ۔
ترکیہ میں عام لوگ میٹھی سبز مرچ کو ترجیح دیتے ہیں اور تیکھی مرچ ڈھونڈنا قدرے مشکل ہوتا ہے ۔ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخرکار ایک سٹال پہ مجھے پاکستان جیسی باریک سبز مرچ نظر آئی ۔
دکاندار سے پوچھا کہ بھیا یہ مرچ ذائقے میں کس قدر تیز ہے ؟
دکاندار نے اپنا ہاتھ سینے پہ رکھ کر کمال انداز سے کہا کہ ،
“یہ مرچ محبت کے درد کی طرح ہے“
ترک زبان میں جملہ کمال تھا، ترجمہ شاید اس قدر انصاف نہ کر پایا ہو ۔
“Aşklar kadar acı”
ترک زبان میں درد اور تیکھے پن کے لیے ایک ہی لفظ عموما استعمال ہوتا ہے اور وہ ہے acı ۔
اس جملے کا جو لطف اٹھایا کہ بس۔۔۔۔
اگلے مرحلے پہ سبزی خریدتے ہوئے گھر والوں سے اردو میں بات کر رہا تھا کہ ، وہاں کھڑی خواتین نے میری بیگم سے پوچھا کہ تمہارا شوہر کس ملک سے ہے ۔ بیگم نے جواب دیا تو اس کے بعد اپنے دیسی انداز میں سولات اور جوابات کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔ وہیں کھڑے کھڑے ایک خاتون نے پوچھا کہ پہلی بار آپ لوگ کہاں ملے تھے۔ بیگم نے کہا کہ “اسکدار شریف “ میں ۔ اس کو سن کر پیچھے سے ایک ادھیڑ عمر خاتون نے تبصرہ داغا کہ “ اجی ہم بھی اسکدار جا جا کر بوڑھے ہو گئے ہیں ، ہمیں تو کوئی نہیں ملا “
اس پہ سارا مجمع کھلکھلا اٹھا ، اس سے پہلے کہ سوالات کی نوعیت مزید ذاتی ہوتی ، ہم نے سامان اٹھایا اور گھر کی راہ لی 😅😅
انس
استنبول ترکیہ
