تصور جاناں

0 comments
کبھی کبھار دل کے ویران سے کونے سے آواز آتی ہے کہ میاں اٹھو اور اس جسم کے پردے کو زرا سا کھِسکا کر اپنے اندر چلے آؤ اور اپنے آپ سے ملاقات کرو اوراس کا دکھ سمجھو۔ پہلے تو ہم نے پڑھ رکھا کہ اگر خود سے ملاقات مقصود ہو تو تنہائی اور فرصت درکار ہے،چناچہ دونوں کا اہتمام  کچھ اس طرح کیا گیا کہ
"بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے"
مگر اس گھنٹوں تصور جاناں کے بعد بھی جاناں نے پردے سے باہر آنے سے انکار کر دیا سو ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے اور پھر سے وہی معمولات زندگی میں کھو گئے جہاں ہم اپنے سے زیادہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں ۔اسی دوران ایک محفل میں ذہن میں دھماکہ سا ہوا اور چاروں جانب کی آوازیں مدھم سی ہو گئیں اور منظر قدرے دھندلے ہونے لگے زرا سا غور کرنے پر پتا چلا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ درصل میں ہی تھا جو آج میرے سامنے آ کھڑا تھا۔میں نے آنے آپ کولوگوں کی آنکھوں میں تیرتا اور اور لوگوں کی زبانوں سے پھسلتا ہوا پایا ،کہیں میرا قد کئی گز لمبا اورکہیں میں محض چند انگلیوں کے برابر تھا کہیں میں نے خود کو بلند ہمت اور کہیں حالات سے ڈرا ہوا ،سہما ہوا پایا ،کہیں میری شکل خوشنما تھی اور کہیں میری ہیت یکسر بگڑ چکی تھی ، میں نے اس سب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مارے ڈر کے اپنی آنکھیں موند لیں ۔ کچھ دیر بعد وہی دنیا کا ہنگامہ بلند ہونے لگا اورمنظر بھی روشنیوں اور قہقہوں میں ڈھل گیا۔ آنکھ کھولی تو سامنے وہی معمول کی زندگی تھی ، وہی لوگ تھے ،وہی زمین تھی ،وہی چہل پہل اور رنگ تھے مگر دل کو قرار سا مل گیا تھا گویا مین نے اسم اعظم پا لیا ہو۔جلدی ہی اس محفل کو چھوڑا اور اپنے کمرے میں بیٹھا تو اس اسم اعظم کو کھولا تو پتہ چلا کہ اس دنیا میں خود سے ملاقات کرنے کا اک ہی طریقہ ہے کہ اپنے بارے میں وہی گمان کیا جائے ،بالکل ایسا ہی سوچا جائے اور بالکل ایساہی گمان کیا جائے جو ہم دوسروں کے لئے کرتے ہیں ۔وہی سوال خود ے کیے جائیں جو ہم دوسروں سے پوچھنا چاہتے ہیں ۔اور پھر خود ہی ان سب سولات کے جوابات خود کو دیں اور دیکھیں کہ اب ہمارا قد کتنا ہے ، ہمارا رنگ کیسا ہے ، ہماری ہیت کس قدر بدلی ہے اور کیا ہم میں اور دوسروں میں کچھ فرق باقی رہا یا نہیں ۔

تحریر:
ملک انس اعوان 



در آستاں

0 comments

یوں کہ ذکر خیر کی صورت
کتنے پہلو بچائے جا رہے ہوں گے
دیکھ دیکھ ایک دوسرے کی جانب
اور چہرے چھپائے جا رہے ہوں گے
تیرے شہر میں وہی سی رونقیں ہوں گی
ہم در آستاں سے لے جائے جا رہے ہوں گے


----
ملک انس اعوان


ضد

0 comments
میں اپنی آنکھیں نکال دوں گا 
نہ اپنا رستہ  کسی کو دوں گا
ہجر کی سولی پہ جان دوں گا 
نہ  زاد وصال کسی کو دوں گا
جو عشق مانگے جناب حاظر 
نہ میں پلٹ کر سوال دوں گا 
تیرے ہی لہجے میں ایک دن میں
ہاں تیرے لہجے کو مات دوں گا
اگر میری ضد کو نہ میرے دل میں
نہ میرے دل نے جگہ دی تو
تو اپنے ہاتھوں سے اپنے دل کو 
خدا قسم ہے کہ کاٹ دوں گا 
ابھی  تخیل کی انجمن میں 
ہزار منظر بھٹک رہے ہیں
مگر ایک منظر کی جستجو میں 
ہزار منظر اجاڑ دوں گا


ملک انس اعوان 


--

بے خوابی

0 comments
لذت ہجر میں ہے ساعت جاں بے خوابی
خواہش وصل حقیقت میں گماں بے خوابی
ائےاجل رک تو سہی ہم بھی تھے مکین بہشت
میرےواسطے وسعت ارض وسماں بے خوابی
طلبِ لامکاں ہے تجھے اور فکر مکاں بھی ساتھ 
کاٹ کر پھینک دے کافر زباں بے خوابی
یقین کامل ہو کمال دست دوستاں پہ مگر
یقیں شکن ہے مزاج جہان بے خوابی


----
ملک انس اعوان



ایک اور پاگل

0 comments
بات کچھ اس طرح سے ہے کہ ہمارے زیر استعمال ایک عدد رہائشی مکان نما دکان  جسے بطور دفتر استعمال کیا جا رہا تھا اس کا  بجلی کا میٹر  محکمہ برقیات کا عملہ بروقت میزان  ادا نہ کرنے کی بنیاد پر اتار کر لے گئے۔ اب جب ہمیں اس کا علم ہوا تو پہلے تو ہم نے دل میں ٹھان لی بس آج ہی اس میٹر کو بازیاب کروا کر لگوا دیا جائے گا مگر وہ "آج" آتے آتے 2 ہفتے بیت گئے آخر کار ایک مہربان نے خود ہی زحمت کی اور ہمیں متعلقہ محکمے میں لے گئے ، ان دنوں محکمے کی نجکاری کا شور اٹھ رہا تھا اس لئے محکمے کے تمام عملہ جلد از جلد پرانے کھاتوں کی درستی کے عمل میں مصروف تھا اسی بہانے ،ادھر اُدھر سے دستخط سبط کروانے اور فائل آگے  پہنچانے میں معمول سے زیادہ وقت صرف ہوا۔ 
پھر ہمیں ایک دفتر سے دوسرے فائل تھما کر بھیج دیا گیا ۔جیسے ہی دوسرے دفتر پہنچے سب سے پہلے والےکمرے میں چلے گئے جہاں "کمرہ برائے شکایات" کندہ تھا۔ دفتر میں ایک درمیانے قد اور پتلے جسم کے حامل صاحب اپنی کرسی پر نیم دراز حالت میں بیٹھے ہوئے تھے اور میز پر ایک عدد سفید کاغذ پر کچھ اشکال کو تخلیق کر رہے تھے۔ ہم بجائے اپنے کام کے انکے فن پارے کو دیکھنے لگے اور انکے قریب پڑی کرسی پہ جا بیٹھے اور سانس بھر کر سلام پیش کیا۔ان صاحب نے عینک کے پیچھے موجود آنکھوں کو حرکت دی اور میری جانب دیکھتے ہوئے شائستگی سے سلام کا جواب دیا ،اس شائستگی کے سامنے مجھے اپنےسلام پیش کرنے کے انداز پر ندامت ہوئی لیکن فوراً گفتگو کا آغاز کرنے کی غرض سے سوال کر دیا کہ جناب کیا شاہکار بنا رہے ہیں ؟
وہ صاحب عینک  میز پر رکھتے ہوئے اور قلم کو کاغذ پر نفاست سے رکھتے ہوئے فرمانے لگے کہ بیٹا میں احساسات میں ہنسوں کو ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہوں ،لیکن ایسا ممکن نہیں ہو پا رہا ،ہمیشہ ہندسے احساسات پر سبقت لے جاتے ہیں ۔
اس کے بعد ان صاحب نے جو گفتگو کی وہ میرے لیے حیرت کا باعث تھی کہ اس محکمے میں کہ جس کو عوام ہر بار بجلی آنے اور جانے کی صورت میں متفرق اقسام کی گالیوں سے نوازتی رہتی ہے اسی محکمے میں ایک ایسا انسان بھی موجود ہے کہ جو اس محکمے کے لاکھوں صارفین سے زیادہ حساس اور درد دل رکھنے والا ہے۔ ان صاحب سے قریباً 20 منٹ گفتگو رہی لیکن میرےساتھ موجود دوست کا اصرار تھا کہ اب یہاں سے چلا جائے ، اسی لئے جلد از جلد ان سے اجازت لی اور واپسی کی راہ پکڑی اور خلاف آداب محفل کے اختتام میں ان صاحب کا نام دریافت کیا تو انہوں نے خندہ پیشانی سے اپنا اسم گرامی"تنویر" بتایا۔واپسی پر میرے ساتھ آئے ہوائے دوست فرمانے لگے کہ کیا پاگل آدمی تھا،تو میں زیر لب مسکرا دیا اور ان سے کہا کہ حضور اس دنیا میں پاگل اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ اگر ان میں کہیں کوئی درد دل رکھنے والا انسان مل بھی جائے تو حالات کی  ستم ظریفی  اس بیچارے کو پاگل قرار دے دیتی ہے کیونکہ " پاگل کبھی خود کو پاگل نہیں کہتے"۔

بقلم : ملک انس اعوان 



میں عشق کی نماز ہوں

1 comments
میں عشق کی نماز ہوں ،میں خود ہی اک جہان ہوں
جہاں کا رازدان ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
سمجھ سے بالا تر ہوں میں کہ اک فقط دیہان ہوں
جہان سے قریب تر الگ تھلگ جہان ہوں
جہان میری گود میں ، جہا ں کے درمیان ہوں
دلوں کا میں مکین اور مکین لا مکان ہوں
میں منتقی کی سوچ ہوں ،کلیم کا بیان ہوں
لوح وقلم کا لفظ ہوں اور لفظ کی زبان ہوں
میں صرف ممتحن نہیں کہ خود ہی امتحان ہوں
میں انتہا ہوں سوچ کی، الست کی آواز ہوں
منزل ہوں میں پیار کی،محبتوں کا باب ہوں
کلی کلی کا روپ ہوں ،میں گل کا بھی شباب ہوں
میں ہر رنگ کا ناز ہوں ،میں خوشبوئے گلاب ہوں
قدم قدم کریم ہوں ---------،قدم قدم عتاب ہوں
میں حمد ہوں حمید ہوں ،ودود ہوں وھاب ہوں
ازل کامحتسب بیاں ابد کا احتساب ہوں
سنو اگر سوال ہوں ، سمجھ سکو جواب ہوں
میں غرضِ عرض مند کی سنے تو بے نیازہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
کہیں کہیں قیاس ہوں ،کہیں کہیں خیال ہوں
نہ کوئی میری مثال ہے نہ کسی کی میں مثال ہوں
نشیب ہوں فراز ہوں ،عروج ہوں زوال ہوں
ہر ادا ادا ئے دلبری ،جمال پرُ جلال ہوں
میں رنگ روپ راگ ہوں ،میں سوز ساز تال ہوں
میں ہر کسی سےدورہوں ، میں ہر کے ساتھ ہوں
میں نہیں محتاج وقت کا، ہمیش کا جواز ہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
معشوق بن کے عاشقوں سے وطن انکا چھڑا دیا
چھرُی کی تیز دھار تلے نبی کو بھی سلا دیا
پوچھا کہ کون خلیل ہے؟ پھر آگ میں بٹھا دیا
مسیح جیسے عظیم کو دار تک پہنچا دیا
ان محبتوں نے تو ظفر کو بھی جھکا دیا
جنونِ پُر سکون ہوں ،غرور ہوں غماز ہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں

سرائیکی شاعری : ظفر جتوئی
اردو ترجمہ : انس اعوان