کبھی کبھار دل کے ویران سے کونے سے آواز آتی ہے کہ میاں اٹھو اور اس جسم کے پردے کو زرا سا کھِسکا کر اپنے اندر چلے آؤ اور اپنے آپ سے ملاقات کرو اوراس کا دکھ سمجھو۔ پہلے تو ہم نے پڑھ رکھا کہ اگر خود سے ملاقات مقصود ہو تو تنہائی اور فرصت درکار ہے،چناچہ دونوں کا اہتمام کچھ اس طرح کیا گیا کہ
"بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے"
مگر اس گھنٹوں تصور جاناں کے بعد بھی جاناں نے پردے سے باہر آنے سے انکار کر دیا سو ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے اور پھر سے وہی معمولات زندگی میں کھو گئے جہاں ہم اپنے سے زیادہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں ۔اسی دوران ایک محفل میں ذہن میں دھماکہ سا ہوا اور چاروں جانب کی آوازیں مدھم سی ہو گئیں اور منظر قدرے دھندلے ہونے لگے زرا سا غور کرنے پر پتا چلا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ درصل میں ہی تھا جو آج میرے سامنے آ کھڑا تھا۔میں نے آنے آپ کولوگوں کی آنکھوں میں تیرتا اور اور لوگوں کی زبانوں سے پھسلتا ہوا پایا ،کہیں میرا قد کئی گز لمبا اورکہیں میں محض چند انگلیوں کے برابر تھا کہیں میں نے خود کو بلند ہمت اور کہیں حالات سے ڈرا ہوا ،سہما ہوا پایا ،کہیں میری شکل خوشنما تھی اور کہیں میری ہیت یکسر بگڑ چکی تھی ، میں نے اس سب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مارے ڈر کے اپنی آنکھیں موند لیں ۔ کچھ دیر بعد وہی دنیا کا ہنگامہ بلند ہونے لگا اورمنظر بھی روشنیوں اور قہقہوں میں ڈھل گیا۔ آنکھ کھولی تو سامنے وہی معمول کی زندگی تھی ، وہی لوگ تھے ،وہی زمین تھی ،وہی چہل پہل اور رنگ تھے مگر دل کو قرار سا مل گیا تھا گویا مین نے اسم اعظم پا لیا ہو۔جلدی ہی اس محفل کو چھوڑا اور اپنے کمرے میں بیٹھا تو اس اسم اعظم کو کھولا تو پتہ چلا کہ اس دنیا میں خود سے ملاقات کرنے کا اک ہی طریقہ ہے کہ اپنے بارے میں وہی گمان کیا جائے ،بالکل ایسا ہی سوچا جائے اور بالکل ایساہی گمان کیا جائے جو ہم دوسروں کے لئے کرتے ہیں ۔وہی سوال خود ے کیے جائیں جو ہم دوسروں سے پوچھنا چاہتے ہیں ۔اور پھر خود ہی ان سب سولات کے جوابات خود کو دیں اور دیکھیں کہ اب ہمارا قد کتنا ہے ، ہمارا رنگ کیسا ہے ، ہماری ہیت کس قدر بدلی ہے اور کیا ہم میں اور دوسروں میں کچھ فرق باقی رہا یا نہیں ۔
تحریر:
ملک انس اعوان





