میں عشق کی نماز ہوں

1 comments
میں عشق کی نماز ہوں ،میں خود ہی اک جہان ہوں
جہاں کا رازدان ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
سمجھ سے بالا تر ہوں میں کہ اک فقط دیہان ہوں
جہان سے قریب تر الگ تھلگ جہان ہوں
جہان میری گود میں ، جہا ں کے درمیان ہوں
دلوں کا میں مکین اور مکین لا مکان ہوں
میں منتقی کی سوچ ہوں ،کلیم کا بیان ہوں
لوح وقلم کا لفظ ہوں اور لفظ کی زبان ہوں
میں صرف ممتحن نہیں کہ خود ہی امتحان ہوں
میں انتہا ہوں سوچ کی، الست کی آواز ہوں
منزل ہوں میں پیار کی،محبتوں کا باب ہوں
کلی کلی کا روپ ہوں ،میں گل کا بھی شباب ہوں
میں ہر رنگ کا ناز ہوں ،میں خوشبوئے گلاب ہوں
قدم قدم کریم ہوں ---------،قدم قدم عتاب ہوں
میں حمد ہوں حمید ہوں ،ودود ہوں وھاب ہوں
ازل کامحتسب بیاں ابد کا احتساب ہوں
سنو اگر سوال ہوں ، سمجھ سکو جواب ہوں
میں غرضِ عرض مند کی سنے تو بے نیازہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
کہیں کہیں قیاس ہوں ،کہیں کہیں خیال ہوں
نہ کوئی میری مثال ہے نہ کسی کی میں مثال ہوں
نشیب ہوں فراز ہوں ،عروج ہوں زوال ہوں
ہر ادا ادا ئے دلبری ،جمال پرُ جلال ہوں
میں رنگ روپ راگ ہوں ،میں سوز ساز تال ہوں
میں ہر کسی سےدورہوں ، میں ہر کے ساتھ ہوں
میں نہیں محتاج وقت کا، ہمیش کا جواز ہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں
معشوق بن کے عاشقوں سے وطن انکا چھڑا دیا
چھرُی کی تیز دھار تلے نبی کو بھی سلا دیا
پوچھا کہ کون خلیل ہے؟ پھر آگ میں بٹھا دیا
مسیح جیسے عظیم کو دار تک پہنچا دیا
ان محبتوں نے تو ظفر کو بھی جھکا دیا
جنونِ پُر سکون ہوں ،غرور ہوں غماز ہوں
میں عشق کی نماز ہوں ،میں عشق کی نماز ہوں

سرائیکی شاعری : ظفر جتوئی
اردو ترجمہ : انس اعوان





1 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔