جامعہ سرگودھا میں ایک دن

0 comments
پچھلے دنوں ایک کام کے سلسلے میں سرگودھا شہر جانا پڑا ۔ہمارا کام صبح دس بجے ہو گیا اور ہم سوچنے لگے کہ اب کیا کیا جائے۔حسب معمول جماعت اسلامی کے دفتر کا پتہ پوچھا اور وہاں پہنچ گئے۔مہمان خانے میں جمعیت کے ساتھی پہلے سے ہی موجود تھے ۔
جن میں  ناظم جامعہ سرگودھا فاروق بھائی، باسط بھائی ،فرحان بھائی اور اویس بھائی موجود تھے۔ اکٹھے ناشتہ کیا اور ناظم جامعہ کے ساتھ  تنظیمی کام کے سلسلے میں نکل  پڑے۔سب سے پہلے پنجاب کالج آف ٹیکنالوجی پہنچے جس کے پرنسپل جناب خواجہ اقبال صاحب کچھ ہی دن پہلے حج کی سعادت حاصل  کرنے کے بعد پاکستان پہنچے تھے۔اُن کومبارک باد پیش کی اور زم زم نوش کیا۔
انکے بقول  سعودی عرب میں میں حاجیوں کی سہولت کے لیے کچھ لوگ رضاکارانہ طور پر مدد، راہنما کتابچے اور راہنمائی فراہم کر رہے تھے۔وہ جو کتابیں اور کتابچے تقسیم کر رہے تھے وہ سید ابو الاعلی مودودی ؒ کی تحریر کردہ تھیں۔پوچھنے پر ان لوگوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں بھی اخوان  اور جماعت کے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو ہر حالات میں عوام کی راہنمائی اور سہولت کے لیے موجود رہتے ہیں۔لیکن حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سےجماعت کا نام استعمال نہیں کر سکتے۔
خوجہ اقبال صاحب  کے ساتھ بہت عمدہ گفتگو رہی وہاں سے ہم جامعہ سرگودھا پہنچے جہاں ہفتہ یوم ِ تکریم  اساتذہ منایا جارہا تھا۔

مختلف ڈیپارٹمنٹس کے اساتذہ کو گلدستے، کتاب اور پھول پیش کیے گئے۔ جسے دیکھ کر نئے آنے والے طلبہ بھی بہت متاثر اور پر عزم نظر آ رہے تھے۔





یہی وہ خوبصورت روایات ہیں جو اسلامی جمعیت طلبہ کے باعث نسل در نسل پاکستان کے کونے کونے میں  پھیل رہی ہیں۔

نئے آنے والے طلبہ کو کلاسز میں جا کر اسلامی جمعیت طلبہ کے نصب العین اور کام کے حوالے سے تعارف پیش کیا گیا اور مسائل کے حل کے لیے متعلقہ ساتھی سے ملوایا گیا۔وقت کی کمی کے باعث  اکٹھے کھانا کھایا اور میں سرگودھا اپنے گاؤں چلا گیا لیکن دل کو سکون حاصل ہوا کہ چلو آج کا دن بیکار نہیں گیا۔ایک اچھی اور صحت مندانہ  سرگرمی کو سر انجام دیتے ہوئے گزرا۔
تحریر
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔