ہماری یونیورسٹی کی تعمیری ساخت مشرقی اور
مغربی پاکستان سے مماثلت رکھتی ہے۔سڑک کے اوپر
تعمیر شدہ کیمپس کو اولڈ کیمپس کے نام سے جانا جاتا ہے جو مشرقی پاکستان کی
مانند نیو کیمپس (مغربی پاکستان) سے رقبے
کے لحاظ سےچھوٹا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک
عدد خشکی کا قطعہ موجود ہے جو آوارگانِ یونیورسٹی کے لیے راہگزر کا کام سرانجام
دیتا ہے۔
شاید آپکو معلوم ہو کہ وہ طلبہ جو نیو کیمپس کے سخت قوانین و ضوابط سے گھبرا جاتے ہیں ،اپنے اہل خانہ سمیت اولڈ
کیمپس کی جانب کوچ فرما جاتے ہیں ۔جہاں کی نرم و ملائم گھاس اور قدرے معطر ہوا
انتہائی خوبصورتی سےمہما نوازی کا مکمل حق
ادا کرتی ہے۔جس کی بدولت بین الڈیپارٹ مینٹ ہم آہنگی اور(بیشتر اوقات) بھائی چارے
کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔
اس کا ایک سبب اولڈکیمپس کی بریانی بھی ہے جس سے لطف اندوز ہونے کے لیے
ہمارے نیو کیمپس کے نوجوان خصوصی طور پر تشریف لاتے ہیں۔بلکہ یہاں کی مقبولیت اس
قدر پھیل چکی ہے کہ اگر کوئی طالب علم
اولڈ کیمپس کے کیفے میں پایا جائے تو
اِس کو باعث تشویش سمجھا جاتاہے اور اس حوالے سے ہنگامی کانفرنس بھی بُلالی
جاتی ہےاور آئندہ حکمت عملی بھی فوراً ترتیب دے دی جاتی ہے۔
اسی کیمپس میں ایڈمن بلاک بھی موجود ہے جہاں مغربی جانب سکالر شپ پہ پڑھنے والے طلبہ کے
منظور نظر خٹک صاحب کا دفتر موجود ہے جہاں وہ ہمیشہ کی طرح اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔ہاتھ میں 2 یا 3
انگوٹھیاں ڈالے،خوبصورت مونچھیں رکھےبارعب شخصیت کے حامل آدمی ہیں۔
مُلا کی دوڑ مسجد تک اور ہماری دوڑ سکالر
شپ کے چیک تک (جسے عرف عام میں بونس کہا کرتا ہوں)
اسی چیک کی وصولی کے لیے جب بھی خٹک صاحب کے دفتر جانا ہوا ،سب سے پہلے
خوبصورتی کے ساتھ سلام لیتے اور اُس سے بھی زیادہ خوبصورتی کے ساتھ ہمیں اگلے ماہ
تک ٹال دیتے۔ہم بھی اپنا سا منہ لے کر
واپس آ جاتے اور ایک ماہ تک دوبارہ زیارت کا انتظار فرماتے کیونکہ ہمیں خدشہ لاحق
رہتا کہ
ہم بھی غالبؔ کی طرح کوچہ ِ جاناں سے محسنؔ
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے۔۔۔
تحریر:
ملک انس اعوان











kia bat hy bhai ki....(Y) (Y)
thanks bhai