مجھے میری ضرورت ہے

0 comments
یقینً خواب لگتا ہے
مجھے کچھ یاد پڑتا ہے
کہ تم بھی آشنا سے تھے
کہ تم بھی راز داں سے تھے
تمہیں کچھ بھی نہیں کہنا
فقط اپنی مجبوری سے
مجھے اب دیر ہونی ہے
یہاں سے کوچ کرنے میں
زرا سی سانس اکھڑے گی
زرا سی چال بدلے گی
کسی در پہ جو گر جاؤں
زرا سا ساتھ رکھ دینا
مجھے اچھا نہیں لگتا
روح کا جسم میں رہنا
کہ جب بھی سانس چلتی ہے
کہ جب بھی دل دھڑکتا ہے
تھکے ٹوٹے میرے اعضاء
کوجب آرام ملتا ہے
نشے میں ڈوب جاتے ہیں
یہ اکثر ٹوٹ جاتےہیں
یہ ٹوٹی ہوئی چیزیں
مجھے اچھی نہیں لگتیں
کہ جب بھی ٹوٹ جاتا ہوں
میں خود کو پھینک دیتا ہوں
مجھے دیکھو میرے ساتھی
میں اکثر میں نہیں رہتا
مجھے تم  ڈھونڈنے دے دو
کچھ  لمحے سوچنے دے دو
ناجانے گر گیا مجھ سے
میرا شرارتی چہرا
میری ہنستی ہوئی آنکھیں
میری مہکی ہوئی باتیں
اگر تم کو جو مل جائیں
مجھے اس کی ضرورت ہے
لا کر مجھے دے دو
مجھے میری ضرورت ہے


مجھے میری ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔



ملک انس اعوان حزبی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔