امیدوں کے باعث پریشانی

0 comments
ہم اکثر اپنی امیدوں کے باعث پریشانی اور غم کا شکار ہوتے ہیں۔ان سے چھٹکارا پانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی  حیثیت اور مقام کو پہچان لیں،ہم یہ جان لیں کہ  اس دنیا میں ہماری آمد خالی ہاتھ ہوئی تھی اور رخصتی  (عمومی طور پر) ایک عدد سفید کپڑے اور خالی ہاتھوں ہو گی۔نہ کچھ ہم ساتھ لے آئے تھے اور نہ ہی کچھ ساتھ لے کر جائیں گے۔کسی بھی چیز پر ہمارا کوئی  اختیار تب تک نہیں ہوتا جب تک اس  میں اللہ کی رضا شامل نہ ہو۔اگر ہو اختیار دے تو صد شکر اور اگر نہ دے تو اس کو دعا میں مانگ کر آخرت کے لیے Reserveکروا لیں۔
میرے ایک استاد بتایا کرتے ہیں کہ حجاج بن یوسف ایک روز کعبہ کے پاس سے گزرے تو ایک آدمی خانہ کعبہ کا غلاف  پکڑے  رورو کر اللہ سےاپنی بینائی  واپس پانےکے لیے دعا مانگ رہا تھا۔حجاج بن یوسف اس بندے کے پاس جا کھڑا ہوا اور پوچھا کہ ائے آدمی تو کب سے دعا مانگ رہا ہے؟ اس بندے نے جواب دیا کہ وہ ایک لمبے عرصے سے اللہ سے التجائیں کر رہا ہے لیکن دعا پوری نہیں ہو رہی۔حجاج نے اچانک اس آدمی کو کہا کہ میں تین دن بعد واپس اسی جگہ آؤں گا ۔اگرتیری بینائی واپس نہ آئی تو میں تجھے قتل کر دوں گا۔
یہ سننے کی دیر تھی کہ آدمی نے ڈھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔حجاج تین دن بعد واپس آیا تو اس آدمی کی بینائی واپس آ چکی تھی۔
یہ تھا ایک آدمی کے ڈر سے دعا  کا نتیجہ اگر اتنا ہی خوف الہی موجود ہو تو دعاؤں کا رد ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ساری Gameیقین کی ہی ہے۔جتنا یقین پختہ اور مکمل ہو گا اُتنا ہی دعاؤں اور عبادات کا ا ثر بڑھ جائے گا۔

رہی بات انسانوں کی تو ان سے امید رکھنا اور  بلکل ایسے ہی جیسے موت کا نکار کرنا۔انسانی سوچ پلک جھپکنے سے  بھی کم وقت میں بدل جاتی ہے۔اور بدلنے والی چیز نے بدل ہی جانا ہوتا ہے۔


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔