ہم روز اتفاق کی بات کرتے ہیں ،اتحاد کی
بات کرتے ہیں لیکن یاد رکھیے کہ اتفاق اور اتحاد یہاں تک کہ مذاکرات بھی صرف مشترکہ چیزوں پر ہوتے ہیں اگر مکمل نہیں تو
قدرے مشترک چیزوں کو بنیاد بنا کر اتحاد قائم کیا جاتا ہے۔لیکن یہ ہے ہمارا ملک
جہاں ایک طرف دائیں بازو کی جماعتیں ہیں
ایک طرف بائیں بازو کی
ایک طرف نیشنلسٹ
اور ایک طرف بیرونی آقاؤں کے تلوے چاٹ غلام
ایک طرف لسانی بنیادوں پر قائم جماعتیں ہیں
تو دوسری طرف علاقائی جماعتیں
کوئی مارکس ازم کا پیرو کار
تو کوئی نام نہاد دانشوروں کی مو شگافیوں
پر مبنی افکار کا ترجمان
کوئی
کاروبار ِ زندگی سے لا تعلق اور
کسی کے نزدیک دنیا ہی سب کچھ ہے
کوئی کارو باری
تو کوئی
صنعت کار
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم میں بس ایک چیز مشترک ہے،مکمل نہیں تو
کچھ کچھ
اور وہ ہے
«اسلام»
یہ وہ مشترک چیز ہے جو ہر مہاجر،
سندھی،پنجابی،بلوچی،سرائیکی،ہزاری،سرحدی،وزیری میں مشترک ہے۔
سب کا رب ایک ہے،سب ایک ہی نبی ﷺ کے ماننے
والے اورایک ہی کتاب قرآن مجید کے پیروکار ہیں۔
تو پھر یہ دنگا فساد ،لڑائی ،جھگڑا آخر
کیوں
ہمیں کسی
غیرنظام کسی غیر نظریے کو ماننے کی ضرورت اور مجبوری آخر کیوں ہے۔۔؟
جبکہ رسول ﷺ کی اسوۃ حسنہ ہمارے سامنے احادیث اور دستور، قرآن کی شکل میں موجود
ہے۔ہمارے خلفہ راشدین (رض) کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
اللہ نے ہمارے تمام معاشی ،معاشرتی،اجتماعی
و ذاتی مسائل کا حل ایک Packet
کی
صورت میں Design کر کے ہماری طرف بھیج دیا ہے۔
ہم کیسے بدنصیب لوگ ہیں کہ جنہیں بیماری
کا بھی پتہ ہے اور دوا کا بھی ، طبیب بھی موجود ہے لیکن علاج نہیں
کر رہے۔ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں اسلام کی تعریف چند مذہبی رسومات بن کر رہ
گئی ہے۔
اگر آپ اسلام کی تعریف ایک نظام کی صورت
میں کریں تو غیر کیا اپنے بھی گردن مارنے کو دوڑیں گے۔آپ پر پابندیاں لگائیں گے آپ پر ڈرون
حملے کریں گے، عافیہ صدیقی کی طرح ظلم و زیادتی کا نشانہ بنائیں گے۔جیلوں اور
صلیبوں کو آپ کے خوں سے رنگ دیا جائے
گا۔آپ بھی کسی گوانتا نا موبے میں موت سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے
جائیں گے۔آپ کو بھی سید قطب شہید ،عبدالقادر مولہ شہید کی طرح قانونی قتل کر دیا
جائے گا۔
لیکن سلام ہے ۔۔
اللہ کے اُن شیروں پر جو ہر دور پُر فتن
میں اللہ کی حاکمیت اعلی کا پرچم بلند کیے
رکھتے ہیں۔جو آج کے دور میں بھی حق بات کہہ کر حضرت بلال حبشی(رض) کی سنت کو زندہ
کیے ہوئے ہیں۔اور مقتل میں کھڑے ہو کر کہہ
رہے ہیں کہ
دنیا کے بُت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اُس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
تحریر
انس اعوان حزبی











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔