خدیجہ کو انصاف دیجیے..!

0 comments

کئی ماہ پہلے  لاہور میں "Herself " نامی ایک ادارے کا "Fireside Chat with Khadija" کے عنوان سے پروگرام تھا, کافی دن سے میں اس کیس کے حوالے سے بہت کچھ سن چکا تھا،
ہال میں بیٹھے بیٹھے پروگرام کے آغاز سے پہلے  مختلف سائٹس پہ اس کیس کے حوالے سے پڑھتا رہا، بالآخر پروگرام کا آغاز ہوا اور گفتگو چلتی رہی، عموماً ایسی جگہوں پہ بات fundamentalism،مولوی حضرات پہ طعنہ زنی، جہالت وغیرہ سے شروع ہو کر معاشرے کی بے حسی پہ آ کر ختم ہو جاتی ہے. مگر مزکورہ خاتون خدیجہ کی گفتگو اللہ کے نام سے شروع اور بار بار اللہ سے امید اور یقین پہ ختم ہو رہی تھی، ہر سوال کے جواب میں یہی فارمیٹ چلتا رہا جس سے وہاں بیٹھے بائیں بازو کے عناصر کی حالت  غیر ہو رہی تھی.
میں کچھ اور سوچ کر آیا تھا لیکن جیسے جیسے گفتگو اختتام کی جانب جا رہی تھی میں مزید حیرت میں پڑتا جا رہا تھا.
سیشن کے اختتام پہ کسی دل جلے سرخے نے تمام مسائل کا حل سیکولر state بتایا تو میرے بولنے سے پہلے ہی حاضرین میں موجود ایک جدید تراش خراش والے صاحب نے موصوف کی وہ دھلائی کی جو شاید میں بھی نہ کر پاتا.
قصہ مختصر سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک جانب تو ہم لوگ ہیں جو اپنے علاقے کے چوہدری کے آگے بھی بات کرنے سے ڈرتے ہیں اور اکثر اسے حکمت کا نام دے کر کان لپیٹ کر سو جاتے ہیں،لیکن یہ ہمارا ہی معاشرہ ہے جس میں ہمارے علاوہ "خدیجہ" اور ایسے ہی دیگر لوگ بھی رہتے ہیں جو باقاعدہ ظلم کے خلاف اور ظالم نظام کے خلاف نکلتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں کوشش کرتے ہیں.  کہیں یہ کوشش سیاسی بھی ہوتی ہے، اجتماعی بھی اور  انفرادی بھی، لیکن ان سب کوششوں کو کرنے والے ہاتھوں کی مدد کرنے کے لیے کتنے ہاتھ آگے بڑھتے ہیں؟
یہ تعداد  افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرے کے اجتماعی شعور کی عکاس ہے. ہر قسم کے مظلوم بھلے وہ مسنگ پرسن ہوں یا  سسٹم کی کمزوریوں کا نشانہ بننے والی خدیجہ جیسے دیگر کردار، ان سب کی آنکھیں ہماری جانب اٹھی ہوئی ہیں. ہر ظلم پہ آواز اٹھائیے، بلا تفریق ان کو اپنے ہاں جگہ دیجیے ...یہ ادارے خدا نہیں ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں، ان میں سینکڑوں loopholes تاحال موجود ہیں جو موجودہ نظام حکومت میں صرف اجتماعی شعور کی بیداری سے ہی حل ہو سکتے ہیں.
یہی سوشل میڈیا یہی زرائع تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں، انکو مثبت تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے. کیونکہ ہم سب اس کے استعمال کے حوالے سے بھی جواب دہ ہیں.

#JusticeForKhadija

توم گرمائی

0 comments

دوران رمضان پوری امت بالعموم" توم گرمائی" میں مبتلا ہو جاتی ہے ایسے میں گرم تر تھپیڑوں اور دھوپ میں گر آپکو ہماری طرح ہفتے میں متعدد بار  سیونٹی سی سی پہ سوار ہو کر شیخوپورہ سے لاہور کا سفر کرنا پڑے تو زہن تشکیک کے کن کن مراحل سے گزرتا ہے.... خدا کی پناہ.....!
تمام سائے سمٹ کر موٹر سائیکل کے آگے آتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، اور موٹر سائیکل ایک عجیب کشش کے زیر سایہ ٹرک  وغیرہ سے بغل گیر ہونے کی کوشش میں سرگرداں رہتی ہے، جسے بار بار بذریعہ ہینڈل راہ راست پہ ڈالنا پڑتا ہے.
ارے ہاں اس کے علاوہ اگر  ذہن کوئی سوچ، سوچنے کی کوشش بھی کرے تو ذہن کو قسطنطنیہ اور غرناطہ کے باغات سے سول ہسپتال کے در و دیوار کا واسطہ دے کر کان پکڑ کر واپس لانا پڑتا  ہے.کیونکہ بقول شخصے سر میں لگی ایک چھوٹی سی چوٹ بھی اچھے بھلے انسان کو "یوتھیا" بنا سکتی ہے. توبہ توبہ.....!
اس سے بچنے واسطے ہم نے ایک عدد ہیلمیٹ خرید رکھا ہے، جس کا سہرا  لبرٹی چوک میں کھڑے اس طویل قابل بے رحم  اور سفاک ٹریفک وارڈن کے سر جاتا ہے جس نے اوائل میں ہی چالان کاٹ کر ہمارے "وہابی" ذہن کو غلطی تسلیم کرنے پہ مجبور کیا تھا.
عموماً ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سفر کے ضمن میں پیشگی ہی کوئی "موٹیویشن" گھڑ لی جائے، مگر آج صبح یہ نوبت ہی نہ آ سکی، کیونکہ آج فجر کے بعد کا درس ملی مسلم لیگ کے مذہبی ونگ سے تعلق رکھنے والے مدرس نے دیا تھا. اس لیے آج کے لیے اچھی خاصی موٹیویشن جمع ہو گئی ہے..... ایمان سے.... 😂
ارے ہاں یاد آیا کہ یہ اپنے وہی بھائی ہیں جو دعاؤں اور کارگزاریوں میں  کشمیر کے بعد سیدھا فلسطین کا ذکر کرتے ہیں اور درمیان والے ہمسایہ خطے کو دانستہ طور پہ "حزف" کر جاتے ہیں...!
وہ کسی شاعر کیا خوب کہا ہے...

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
"عقل" ہے محو تماشائے لب بام ابھی

لیجیے بات شروع کہاں سے ہوئی تھی اور پہنچی کہاں تک.... کیونکہ دل کی بات تھی، جہاں چاہے لے جائے اور جہاں چاہے پہنچا دے. شاد رہیے آباد رہیے... اور دعاؤں میں یاد رکھیے.

حامل اکاؤنٹ ہذا :

محمد انس اعوان
بشکریہ:
سوفٹ Swift کی بورڈ، کیو موبائل ایل ٹی سیون ہنڈرڈ پرو شریف