رمزی آبلہ

0 comments

 جس طرح پاکستان میں کچھ خواتین پورے خاندان کی نانیاں ہوتی ہیں ۔ ایسے ہی ہماری بھی ترکیہ میں ایک نانی ہیں انکا نام ہے رمزی آبلہ ۔ استنبول کے قریبی صوبے میں رہائش ہے ، بہترین سا دیہاتی انداز کا نظام ہے ، دودھ دہی سے لے کر سبزی تک ہر شئے گھر کی ہوتی ہے، پورا گاؤں انکو جانتا ہے اور انکی سفارش پہ آپ گاؤں میں کوئی بھی آسائش حاصل کر سکتے ہیں ۔ بلکہ وہ چھین کر بھی دلوا سکتی ہیں ۔

فصل تیار ہو تو یہاں فندک یعنی hazelnut کے باغات سے اول دودھیا قسم کے یہ خشک میوے ضرور ہمارے ہاں بھجواتی ہیں ۔ باتوں باتوں میں بیگم نے انہیں بتایا کہ ہمیں بھنڈی بہت پسند ہے تو نانی نے پیغام بھیجا کہ اگلےکچھ دنوں میں چکر لگاؤ ہماری بھنڈی بھی تیار ہے ۔
خیر ہمیں سسر مرحوم کے ساتھ کسی اور جگہ جانا تھا رستے میں ہم انکے ہاں ٹھہر گئے ۔ خیر بھوک زوروں پہ تھی ۔۔۔ رمزی آبلہ نے کھانا میز پہ رکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ بھنڈی کا شوربہ (عرف عام میں چوربہ )ہمارے سامنے ہے ۔
نزاکت لے کے آنکھوں میں وہ انکا دیکھنا توبہ
‏الہی ہم انہیں دیکھیں یا ان کا دیکھنا دیکھیں
چھوٹی چھوٹی بھنڈیاں اور وہ بھی ڈنڈیوں کے ساتھ (یہاں اچھی سمجھی جانے والی بھنڈی چھوٹی ہوتی ہیں اور ڈنڈی سمیت پکائی جاتی ہے )، اللہ کا نام لیا اور کھانا شروع کیا ، رمزی قبلہ کا خلوص شامل تھا کہ ذائقہ اچھا لگا ۔دیسی بھنڈی تو شاید اب ہمارے ہاکستان میں شاید خال خال ہی نظر آتی ہے ۔ البتہ بھنڈی کا وہ تصورجو ہمارے ذہن میں تھا ۔۔۔ نہیں رہا ۔۔۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہاں کونیا کے قریب بھنڈی کا چوربہ اچھی خاصی مشہور غذا ہے ۔ اللہ کی قدرت 🙂
دل کرتا ہے کہ کسی سندھی کے ہاتھ کی بنی ہوئی کرکری کراری بھنڈیاں انہیں کھلاؤں تو چس آ جائے 🙃

مجھے تو آپ سے کوئی گلہ نہیں !

0 comments
مگر ایک چاہنے والے سے مجھے آپ کے حوالے سے کچھ کہا ہے ۔ اس نے کہا کہ بحیثیت قوم اپنے نقصان کو معمول مت بنائیں ۔ آفات و حادثات میں کتنی ہی جانیں محض ایک گنتی کی سی صورت میں ہماری آنکھوں سے گزر جاتی ہیں ،آنکھوں میں زرا سی نمی نہیں آ پاتی ، دل ہے کہ تنگ نہیں ہوتا ۔ کون کس کو بس سے اتار کر مار رہا ، لیکن محض عصبیت کی بنیاد پہ ظلم پہ آواز بلند نہیں ہوتی۔ ہر سال سیلاب قدرتی آفات میں کتنا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے مگر سب ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ اور پھر اگلے سال مزید بڑے نقصان کا انتظار کیا جاتا ہے ۔
اس طرح ہم ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے ہوئے در اصل اپنی وقعت کھو رہے ہیں ، ہمارا جان مال بھی اپنی وقعت کھو رہا ہے ۔ ان ہاتھوں کو بھی سلام جو ہر مشکل میں قوم کو آگے بڑھ کر مدد کرتے ہیں ۔ مگر یہ حل نہیں ہے ۔ آپ کا میرا ہم سب کا اس قوم و ملت کا درد محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ بعض نقصانات کا مداوا مادی امداد و بیرونی بھیک سےممکن ہے ۔
مجھے اس ترک طالب علم کی بات نہیں بھولتی جو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران کوڑا زمین پہ نہیں پھینکتا تھا ۔ جب پوچھا تو اس کے کہا میں “وطن خائن “ نہیں ہوں ۔ میں اپنے ملک میں گند پھیلا کر خیانت نہیں کرتا تو جس ملک میں رہ رہا ہوں اس سے خیانت کیسے کروں ۔
قوم پرست نہ بنیں مگر اس مملکت خداداد اور اسلام کے قلعے کے محب وطن تو بنیں ۔ اپنے اپنے دائروں میں اپنے ماحول اور زمین سے خیانت تو نہ کریں ۔کیا یہ اللہ کی دی ہوئی امانت میں سے ایک امانت نہیں ؟ کیا یہ کفران نعمت نہیں ہے ؟
پنجابی ، سندھی، بلوچی ، پٹھان ،وغیرہ سب ہمارے اپنے ہیں ۔ انکا درد ہمارا درد ، انکا دکھ ہمارا دکھ ہے ۔ خدارا ایک دوسرے کے لیے، ملک و ملت کے لیے ، اپنے ماحول کے لیے حساسیت پیدا کریں ۔ آپ اپنے آپ کو اہمیت نہیں دیں گے تو دنیا میں کوئی بھی آپکو اہمیت نہیں دے گا ۔
اور مجھے تو امید بھی بہت ہے کیونکہ یہ قوم ناممکنات کو ممکن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔
مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں کیونکہ میں بھی آپ میں سے ایک ہوں ۔
انس اعوان

ترکیہ کا شیخوپورہ 😀 Türkiye’nin Şeyhupura’sı 😀

0 comments

 جمہوریہ ترکیہ کے بحیرہ اسود کے صوبہ صامسون میں ضلع “چارشانبا “کو ترکیہ میں وہی فضلیت اور نیک نامی حاصل ہے جو پاکستان میں شیخوپورہ کے حصے میں آئی ہے ۔ ہلکا پھلکا لڑائی جھگڑا ، اسلحہ رکھنا اور اسکا ایک دوسرے پہ استعمال باقی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے ۔البتہ ہماری انسے خوب بنتی ہے اسی سبب جب بھی کوئی صامسون سے استنبول کی جانب آتا ہے تو ہماری زوجہ کے ماموں حضرات ہماری قدرتی اشیاء خورد و نوش کا ذریعہ ترسیل بحال رکھتے ہیں ۔

جیسے پاکستان میں ہمارے ننھیال ہمارا خیال رکھتے تھے ایسے ہی ہماری ذوجہ کا ننھیال ترکیہ میں ہمارا خیال رکھتا ہے ۔ سرگودھا میں موسم کے حساب سے بالخصوص کنو مالٹے ، دودھ اور دیگر اشیاء ہوتی تھیں ۔ یہاں کیونکہ زوجہ کے ننھیال بحیرہ اسود کے بالکل کنارے پہ آباد ہیں تو یہاں سرد موسم میں بحیرہ اسود کی مشہور کالکان مچھلی ( Black Sea turbot -S. maeoticus) اور دیگر اقسام کی مچھلیاں اور جھینگے اپنے مقررہ وقت پہ انتہائی لذیذ ہوتے ہیں ، ہمارے رشتے داروں کا افواج ترکیہ میں ملازمت اور کھیتی باڑی کے علاوہ زریعہ معاش سمندر سے ایک خاص قسم کے جھینگوں کا شکار بھی ہے جو آدھا پکا کر محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے ، مقامی انجیر ،مقامی چاول گھر کی اگائی سبزیاں ،ہیزل نٹ قابل ذکر ہیں ۔ یہاں سمندر کے قریب کچھ دلدلی علاقہ بھی موجود ہے جہاں لوگ اپنی گائیں صبح چھوڑ دیتے ہیں اور وہ شام میں پیٹ بھر کر گھر آ جاتی ہیں ۔ جڑی بوٹیاں اور جنگلی گھاس پھوس کی وجہ سے دودھ کا معیار بہت اعلی ہوتا ہے چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ، اسی لیے یہاں مکھن بھی عام دودھ کے مکھن سے کہیں بہتر ہوتا ہے ۔
Türkiye’nin Şeyhupura’sı 😀
Türkiye Cumhuriyeti’nin Karadeniz bölgesindeki Samsun ilinin Çarşamba ilçesi, Türkiye’de tıpkı Pakistan’da Şeyhupura’nın sahip olduğu şöhrete ve namına sahiptir. Ufak tefek kavgalar, silah taşımak ve bunu birbirine karşı kullanmak, diğer bölgelere oranla burada daha çok görülür. Ancak bizim onlarla çok iyi geçimimiz vardır. Bu yüzden Samsun’dan İstanbul’a doğru gelen her yolculukta eşimin dayıları, doğal yiyecek-içecek ürünlerini bize ulaştırmayı ihmal etmezler.
Nasıl ki Pakistan’da bizim naniyal (anne tarafı akrabalarımız) bize özen gösterirdi, Türkiye’de de eşimin naniyalı, aynı şekilde bize sahip çıkar. Sargodha’da mevsime göre özellikle portakal, mandalina, süt ve diğer ürünler olurdu. Burada ise eşimin anne tarafı Karadeniz’in tam kıyısında yaşadığı için, kış aylarında Karadeniz’in meşhur kalkan balığı ve diğer balık çeşitleri ile karidesler tam mevsiminde son derece lezzetli olur. Akrabalarımızın geçim kaynakları arasında Türk Silahlı Kuvvetleri’nde görev yapmak ve tarımın yanı sıra denizden elde edilen özel bir karides türünün avcılığı da vardır. Bu karidesler yarı pişirilip saklanır ve sonra başka ülkelere ihraç edilir.
Yerel incir, yöresel pirinç, evde yetiştirilen sebzeler ve fındık da ayrı bir değer taşır. Denize yakın bölgelerde bazı bataklık alanlar bulunur. İnsanlar sabahleyin ineklerini bu alanlara salar, akşam olduğunda ise hayvanlar karınları doymuş şekilde kendiliğinden evlerine döner. Çeşitli otlar ve yabani bitkiler sayesinde süt kalitesi çok yüksektir, yağ oranı boldur. Bu nedenle buradaki tereyağı da sıradan sütten yapılan tereyağından çok daha lezzetlidir.
Muhammad Anas Awan
محمد انس اعوان



شام کا نیا انتخابی نظام

0 comments
شام میں پہلی بار دہائیوں بعد ایک حقیقی مجلسِ الشعب (پارلیمنٹ) بننے جا رہی ہے۔بشار الاسد کی ظالمانہ حکومت کے بعد یہ پہلا انتخاب ہے جو بدنام زمانہ بعث پارٹی کے تسلط سے آزاد ہوگا، یاد رہے کہ بعث پارٹی 1963 کے فوجی انقلاب کے بعد سے ملک پہ قابض تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ شام کا پہلا الیکشن ہے جو بلاواسطہ انتخابی طریقے (Indirect Election) کے زریعے سے وقوع پزیر ہوگا ۔
براہ راست انتخابات کیوں نہیں ؟
شام کی موجودہ غیر معمولی صورتحال کے پیشِ نظر، اور ان مشکلات کے باعث جو شہریوں کے رہائشی پتے طے کرنے میں درپیش ہیں ،خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو آزادی کے بعد وطن واپس آئے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ اُس بڑے پیمانے پر آبادی میں تبدیلی کے سبب جو انقلاب کے برسوں کے دوران بعض علاقوں میں اجتماعی ہجرت کے نتیجے میں ہوئی، براہِ راست عوامی ووٹ کے ذریعے مجلسِ الشعب (پارلیمنٹ) کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے شام کے نئے صدر احمد الشرع نے سنہ 2025 کا صدارتی فرمان نمبر (143) جاری کیا، جس میں نئی مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ کے انتخاب کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ انتخابی مجالس (Electoral College) کے ذریعے ہوگا، جو مختلف یورپی ممالک، کیوبا اور دیگر جگہوں پر مختلف صورتوں میں رائج ہے۔
بلاواسطہ انتخاب (Indirect Election) کیا ہے؟
پاکستانی نظام میں عوام براہِ راست امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں جیسے ہمارے ایم این اے/ایم پی اے ۔
لیکن شام کے اس نظام میں عوام براہِ راست ووٹ نہیں دیں گے۔
بلکہ حکومت کی جانب سے ایک درمیانی سطح پہ Electoral College کی تشکیل دیا جائے گا ۔
یہ کالج مخصوص افراد پر مشتمل ہوگی، جو پھر مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ کے اراکین منتخب کریں گے۔
انتخابی مجلس Electoral College
یہ وہ افراد ہوں گے جنہیں ایک آزاد کمیٹی چھانٹ کر منتخب کرے گی۔یہی لوگ امیدواروں کو ووٹ دینے کے مجاز ہوں گے۔ہر صوبے/علاقے کے حساب سے مخصوص تعداد رکھی جائے گی، جیسے پاکستان میں ہر ضلع/حلقے کی نشستوں کا کوٹہ ہوتا ہے۔
شرائط برائے اراکین انتخابی مجلس (Electoral College)و امیدواران
مسلح افواج یا خفیہ اداروں سے تعلق نہ ہو۔
پرانے نظام (بعث پارٹی) یا دہشت گرد تنظیموں کے حامی نہ ہوں۔
ملک کی تقسیم کے حامی نہ ہوں۔
اچھی ساکھ اور سماجی وقار رکھتے ہوں۔
نشستوں کی تقسیم کار
کل نشستیں:مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ میں کل 210 اراکین ہوں گے۔
ان میں سے ⅔ (دو تہائی) یعنی تقریباً 140 اراکین کو انتخابی مجالس منتخب کریں گی۔
باقی ⅓ (ایک تہائی) یعنی تقریباً 70 اراکین کو صدر براہِ راست نامزد کریں گے۔
انتخابی مہم
پاکستان کی طرح عام عوامی ریلیاں، جلسے یا بڑے بڑے انتخابی وعدے نہیں ہوں گے۔
امیدوار صرف اپنی مقرر کردہ انتخابی مجلس کے سامنے اپنی پالیسی اور منصوبہ پیش کر سکتے ہیں۔
انتخابی مہم صرف انہی مخصوص افراد تک محدود ہوگی۔
اب اس نظام کو پاکستانی مثال سے سمجھتے ہیں
اگر پاکستان میں یہی نظام ہوتا تو یوں ہوتا
عام ووٹر (عوام) کو ووٹ دینے کی اجازت نہ ہوتی۔
ایک کمیٹی ہر ضلع میں چند سو یا چند ہزار بااثر، معتبر اور منتخب شدہ افراد پر مشتمل “انتخابی مجلس ” بناتی۔
قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی میں جانے کے خواہش مند لوگ انہی مخصوص افراد کے سامنے اپنی پالیسی رکھتے۔
وہ مخصوص افراد اپنے ضلع کی نشستوں کے لیے نمائندے منتخب کرتے۔
اور اسمبلی کی کچھ نشستیں براہِ راست صدر (یا وزیراعظم) اپنی مرضی کے افراد کو دیتے ۔
محمد انس اعوان
استنبول ، ترکیہ