نقوش

0 comments

آئینے سے کچھ نقوش چرانے ہی پڑیں گے

میرے دوست کچھ چراغ بُجھانے ہی پڑیں گے
یہ اپنی طبعیت صدا گردش میں رہے گی
اب راہ میں کچھ خار سجانے ہی پڑیں گے
ملک انس اعوان

حد ہو گئی

0 comments
دل ِ بے قرار کی حد ہو گئ

تیرے وصال کی حد ہو گئی
وہ جو آئے تو کچھ اس ادا سے آئے
تمام حدودں کی حد ہو گئی
کس کو خبر میری آمد کی
کس کو خیال میرے جانے کا
آپ اور وہ آپ کے ہم نشیں
اس احترام کی حد ہو گئی
--
ملک انس اعوان

مطلب

0 comments
اگر ممکن نہیں تو ہوش میں آنے سے کیا مطلب
 کہ جس در سے چلا آیا وہاں جانے سے کیا مطلب
اگر تقیہ و لعنت ہی تیرے مذہب کا خاصہ ہے
تو اس رندوں کی بستی کو تیرے مذہب سے کیا مطلب
باندھے سر پہ کفن نکلے ہوئے لوگوں کا کہنا ہے
یہ گردن جھک نہیں سکتی اِسے گولی سے کیا مطلب
عدو پر بپھر شیروں کی ضرورت ہے میرے یارو


اگر جی کر بھی مرنا ہے تو اس جینے سے کیا مطلب
ملک انس اعوان

آوازِدل

0 comments
ہم روز اتفاق کی بات کرتے ہیں ،اتحاد کی بات کرتے ہیں لیکن یاد رکھیے کہ اتفاق اور اتحاد یہاں تک کہ مذاکرات بھی  صرف مشترکہ چیزوں پر ہوتے ہیں اگر مکمل نہیں تو قدرے مشترک چیزوں کو بنیاد بنا کر اتحاد قائم کیا جاتا ہے۔لیکن یہ ہے ہمارا ملک
جہاں ایک طرف دائیں بازو کی جماعتیں ہیں
ایک طرف بائیں بازو کی
ایک طرف نیشنلسٹ
اور ایک طرف بیرونی  آقاؤں کے تلوے چاٹ غلام
ایک طرف لسانی بنیادوں پر  قائم جماعتیں ہیں
تو دوسری طرف علاقائی  جماعتیں
کوئی مارکس ازم کا پیرو کار
تو کوئی نام نہاد دانشوروں کی مو شگافیوں پر مبنی افکار کا ترجمان
کوئی  کاروبار ِ زندگی  سے لا تعلق اور
کسی کے نزدیک دنیا ہی سب کچھ ہے
کوئی کارو باری
تو کوئی
صنعت کار
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم میں بس ایک چیز مشترک ہے،مکمل نہیں تو کچھ کچھ
اور وہ ہے
«اسلام»
یہ وہ مشترک چیز ہے جو ہر مہاجر، سندھی،پنجابی،بلوچی،سرائیکی،ہزاری،سرحدی،وزیری میں مشترک ہے۔
سب کا رب ایک ہے،سب ایک ہی نبی ﷺ کے ماننے والے اورایک ہی کتاب قرآن مجید کے پیروکار ہیں۔
تو پھر یہ دنگا فساد ،لڑائی ،جھگڑا آخر کیوں
ہمیں کسی  غیرنظام کسی غیر نظریے کو ماننے کی ضرورت اور مجبوری آخر کیوں ہے۔۔؟
جبکہ رسول ﷺ کی اسوۃ حسنہ ہمارے  سامنے احادیث اور دستور، قرآن کی شکل میں موجود ہے۔ہمارے خلفہ راشدین (رض) کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
اللہ نے ہمارے تمام معاشی ،معاشرتی،اجتماعی و ذاتی مسائل کا حل ایک Packet کی صورت میں Design کر کے ہماری طرف بھیج دیا ہے۔
ہم کیسے بدنصیب لوگ ہیں کہ جنہیں بیماری کا  بھی پتہ ہے اور  دوا کا بھی ، طبیب بھی موجود ہے لیکن علاج نہیں کر رہے۔ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں اسلام کی تعریف چند مذہبی رسومات بن کر رہ گئی ہے۔
اگر آپ اسلام کی تعریف ایک نظام کی صورت میں کریں تو  غیر کیا اپنے بھی  گردن مارنے کو   دوڑیں گے۔آپ پر پابندیاں لگائیں گے آپ پر ڈرون حملے کریں گے، عافیہ صدیقی کی طرح ظلم و زیادتی کا نشانہ بنائیں گے۔جیلوں اور صلیبوں کو  آپ کے خوں سے رنگ دیا جائے گا۔آپ بھی کسی گوانتا نا موبے میں موت سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے جائیں گے۔آپ کو بھی سید قطب شہید ،عبدالقادر مولہ شہید کی طرح قانونی قتل کر دیا جائے گا۔
لیکن سلام ہے ۔۔
اللہ کے اُن شیروں پر جو ہر دور پُر فتن میں اللہ  کی حاکمیت اعلی کا پرچم بلند کیے رکھتے ہیں۔جو آج کے دور میں بھی حق بات کہہ کر حضرت بلال حبشی(رض) کی سنت کو زندہ کیے ہوئے ہیں۔اور مقتل میں کھڑے ہو کر  کہہ رہے ہیں کہ
دنیا کے بُت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اُس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
تحریر


انس اعوان حزبی

پُر مسکان بظاہر رہنا

0 comments
پُر مسکان بظاہر رہنا
مشکل تر سا لگتا ہے
بھلے انجام کا ڈر ہو
بھلے وہ آج کا کل ہو
بھلے کچھ یاد رہ جائے
بھلے کچھ بھول بھی جائے
بھلے ہمراہ ہو جائیں
بھلے تنہا ہی رہ جائیں
بھلے محفل جمے کوئی
بھلے ہمکلام ہو جائیں
بھلے سب کام ہوجائیں
بھلے کچھ کام رہ جائیں
بھلے منزل تلک پہنچیں
بھلے رستے میں کھو جائیں
بھلے پھر نام ہو جائے
بھلے گُم نام رہ جائیں
بھلے ظاہر ہی ہو جائیں
بھلے سب راز رہ جائیں
کوئی شکوہ نہیں لیکن
کوئی  اپنا نہیں لیکن
بھلے سب چھوڑ بھی جائیں
بھلے سب ساتھ مل جائیں
زرا سا فرق اگر ہو بھی
تو اس کا اب تلک کیا ہو؟
حقیقت یوں ہوئی ظاہر
۔۔!
پُر مسکان بظاہر رہنا


مشکل تر سا لگتا ہے

::::::::::::::::::::
ملک انس اعوان حزبیؔ

امیدوں کے باعث پریشانی

0 comments
ہم اکثر اپنی امیدوں کے باعث پریشانی اور غم کا شکار ہوتے ہیں۔ان سے چھٹکارا پانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی  حیثیت اور مقام کو پہچان لیں،ہم یہ جان لیں کہ  اس دنیا میں ہماری آمد خالی ہاتھ ہوئی تھی اور رخصتی  (عمومی طور پر) ایک عدد سفید کپڑے اور خالی ہاتھوں ہو گی۔نہ کچھ ہم ساتھ لے آئے تھے اور نہ ہی کچھ ساتھ لے کر جائیں گے۔کسی بھی چیز پر ہمارا کوئی  اختیار تب تک نہیں ہوتا جب تک اس  میں اللہ کی رضا شامل نہ ہو۔اگر ہو اختیار دے تو صد شکر اور اگر نہ دے تو اس کو دعا میں مانگ کر آخرت کے لیے Reserveکروا لیں۔
میرے ایک استاد بتایا کرتے ہیں کہ حجاج بن یوسف ایک روز کعبہ کے پاس سے گزرے تو ایک آدمی خانہ کعبہ کا غلاف  پکڑے  رورو کر اللہ سےاپنی بینائی  واپس پانےکے لیے دعا مانگ رہا تھا۔حجاج بن یوسف اس بندے کے پاس جا کھڑا ہوا اور پوچھا کہ ائے آدمی تو کب سے دعا مانگ رہا ہے؟ اس بندے نے جواب دیا کہ وہ ایک لمبے عرصے سے اللہ سے التجائیں کر رہا ہے لیکن دعا پوری نہیں ہو رہی۔حجاج نے اچانک اس آدمی کو کہا کہ میں تین دن بعد واپس اسی جگہ آؤں گا ۔اگرتیری بینائی واپس نہ آئی تو میں تجھے قتل کر دوں گا۔
یہ سننے کی دیر تھی کہ آدمی نے ڈھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔حجاج تین دن بعد واپس آیا تو اس آدمی کی بینائی واپس آ چکی تھی۔
یہ تھا ایک آدمی کے ڈر سے دعا  کا نتیجہ اگر اتنا ہی خوف الہی موجود ہو تو دعاؤں کا رد ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ساری Gameیقین کی ہی ہے۔جتنا یقین پختہ اور مکمل ہو گا اُتنا ہی دعاؤں اور عبادات کا ا ثر بڑھ جائے گا۔

رہی بات انسانوں کی تو ان سے امید رکھنا اور  بلکل ایسے ہی جیسے موت کا نکار کرنا۔انسانی سوچ پلک جھپکنے سے  بھی کم وقت میں بدل جاتی ہے۔اور بدلنے والی چیز نے بدل ہی جانا ہوتا ہے۔


مجھے میری ضرورت ہے

0 comments
یقینً خواب لگتا ہے
مجھے کچھ یاد پڑتا ہے
کہ تم بھی آشنا سے تھے
کہ تم بھی راز داں سے تھے
تمہیں کچھ بھی نہیں کہنا
فقط اپنی مجبوری سے
مجھے اب دیر ہونی ہے
یہاں سے کوچ کرنے میں
زرا سی سانس اکھڑے گی
زرا سی چال بدلے گی
کسی در پہ جو گر جاؤں
زرا سا ساتھ رکھ دینا
مجھے اچھا نہیں لگتا
روح کا جسم میں رہنا
کہ جب بھی سانس چلتی ہے
کہ جب بھی دل دھڑکتا ہے
تھکے ٹوٹے میرے اعضاء
کوجب آرام ملتا ہے
نشے میں ڈوب جاتے ہیں
یہ اکثر ٹوٹ جاتےہیں
یہ ٹوٹی ہوئی چیزیں
مجھے اچھی نہیں لگتیں
کہ جب بھی ٹوٹ جاتا ہوں
میں خود کو پھینک دیتا ہوں
مجھے دیکھو میرے ساتھی
میں اکثر میں نہیں رہتا
مجھے تم  ڈھونڈنے دے دو
کچھ  لمحے سوچنے دے دو
ناجانے گر گیا مجھ سے
میرا شرارتی چہرا
میری ہنستی ہوئی آنکھیں
میری مہکی ہوئی باتیں
اگر تم کو جو مل جائیں
مجھے اس کی ضرورت ہے
لا کر مجھے دے دو
مجھے میری ضرورت ہے


مجھے میری ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔



ملک انس اعوان حزبی

کچھ یادیں بچپن کی

0 comments
ہماری زندگی گویا بہت چھوٹی لیکن یادوں اور تجربات سے بھرپور ہوتی ہے۔ان یادوں کو یاد رکھنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ انکو کسی چیز کے ساتھ نتھی کر دیا جائے۔ہم انسان بچے سے بڑے اور بڑے سے بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن یہ یادیں ہمیشہ جوان رہتی ہیں۔
میرےننھیال کے پرانے گھر  کےسامنے ایک مسجد ہے۔وضو کرنے کے لیے جیسے ہی پانی منہ میں ڈالا۔اس  نمکین پانی کا ذائقہ آج بھی وہی تھا جو آج سے کئی سال پہلے تھا۔لیکن وہ ٹوٹی جسے میرے نانا ابو کھول کر دیا کرتے تھے اب میں خود کھول لیتا ہوں۔نانا ابو میرے کف خود اوپر چڑھا دیتے اور پاؤں دھلوا دیا کرتے کیونکہ مجھے فاصلہ زیادہ ہونے کی بنا پر نیچے گر جانے کا خدشہ رہتا۔ آج میں اپنے بازو خود اوپر چڑھا کر آسانی کے ساتھ اپنے پاؤں دھو سکتا ہوں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ  جہاں نان ابو اپنے جوتے رکھتے میں بھی وہیں اپنی چھوٹی چھوٹی جوتیاں رکھ دیا کرتا اور سوچتا کہ ایک دن میں بھی نانا ابو سے بڑا جوتا پہنوں گا اور اسی جگہ انکے ساتھ رکھوں گا۔
نا نا بو اگلی صف میں کھڑے ہو تے اور میں پچھلی صف میں کھڑا ہو کر مسجد کی چھت کا جائزہ لیتا رہتا۔نماز کے ختم ہونے بعد گھر کی جانب دوڑ لگا دیتا جہاں  اپنے مامو ں زاد بھائیوں کے ساتھ بہت بڑے  کچےصحن میں سارا دن دھما چوکڑی مچائے رکھتا۔نانی اماں (مرحوم) کی لاٹھی لے کر بھاگ جاتا اور انکو تنگ کیا کرتا۔
ماموں کے ساتھ گاؤں سے باہر ایک کھالے( ذرعی پانی کی ترسیل کے لیے بنائی گئی نالی) کے ساتھ قائم پگڈنڈی پر چلتے ہوئے گھنے درختوں کے بیچ سے فصلوں کے درمیان ڈیرہ پر جاتے۔چھوٹے چھوٹے چوزوں اور بکری کے بچوں سے خوب کھیلتے۔ موسم سرما میں میں مالٹوں کا دور چلتا ، آدھا مالٹا کھا کر پھینک دیا کرتے اور نیا  توڑ لیتے۔
واپسی پر آم،کھجور،کیکر یا کوئی بھی چھوٹا سا پودا ملتا تو اسے اُکھاڑ کر گھر لے آتے۔کچے صحن میں پودے کو نصب کرتے اور بڑے ماموں یوسف سے پودے کے لیے دعا کرواتے جو ماموں  جان بخوشی کر دیا کرتے۔
لیکن اگلے روز  پودا مر چکا ہوتا ہم دوبارہ پودے لاتے اور لگاتے رہتے۔
لیکن آج اس صحن کے اندر کئی پکے مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔کہاں گئے وہ دن؟؟؟
ہم کتنے بدل چکے ہیں لیکن زمین اب بھی وہی ہے،وہی پانی کا ذائقہ ہے وہی صحن ہے لیکن اب اس صحن میں مزید کئی صحن ،کمرے اور راہداریاں قائم ہو چکی ہیں۔شائد کہ گزرے وقت کو واپس کھینچ لانا ممکن ہوتا۔

کس امید پر کہئیے کہ آرزو کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تحریر:


جامعہ سرگودھا میں ایک دن

0 comments
پچھلے دنوں ایک کام کے سلسلے میں سرگودھا شہر جانا پڑا ۔ہمارا کام صبح دس بجے ہو گیا اور ہم سوچنے لگے کہ اب کیا کیا جائے۔حسب معمول جماعت اسلامی کے دفتر کا پتہ پوچھا اور وہاں پہنچ گئے۔مہمان خانے میں جمعیت کے ساتھی پہلے سے ہی موجود تھے ۔
جن میں  ناظم جامعہ سرگودھا فاروق بھائی، باسط بھائی ،فرحان بھائی اور اویس بھائی موجود تھے۔ اکٹھے ناشتہ کیا اور ناظم جامعہ کے ساتھ  تنظیمی کام کے سلسلے میں نکل  پڑے۔سب سے پہلے پنجاب کالج آف ٹیکنالوجی پہنچے جس کے پرنسپل جناب خواجہ اقبال صاحب کچھ ہی دن پہلے حج کی سعادت حاصل  کرنے کے بعد پاکستان پہنچے تھے۔اُن کومبارک باد پیش کی اور زم زم نوش کیا۔
انکے بقول  سعودی عرب میں میں حاجیوں کی سہولت کے لیے کچھ لوگ رضاکارانہ طور پر مدد، راہنما کتابچے اور راہنمائی فراہم کر رہے تھے۔وہ جو کتابیں اور کتابچے تقسیم کر رہے تھے وہ سید ابو الاعلی مودودی ؒ کی تحریر کردہ تھیں۔پوچھنے پر ان لوگوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں بھی اخوان  اور جماعت کے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو ہر حالات میں عوام کی راہنمائی اور سہولت کے لیے موجود رہتے ہیں۔لیکن حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سےجماعت کا نام استعمال نہیں کر سکتے۔
خوجہ اقبال صاحب  کے ساتھ بہت عمدہ گفتگو رہی وہاں سے ہم جامعہ سرگودھا پہنچے جہاں ہفتہ یوم ِ تکریم  اساتذہ منایا جارہا تھا۔

مختلف ڈیپارٹمنٹس کے اساتذہ کو گلدستے، کتاب اور پھول پیش کیے گئے۔ جسے دیکھ کر نئے آنے والے طلبہ بھی بہت متاثر اور پر عزم نظر آ رہے تھے۔





یہی وہ خوبصورت روایات ہیں جو اسلامی جمعیت طلبہ کے باعث نسل در نسل پاکستان کے کونے کونے میں  پھیل رہی ہیں۔

نئے آنے والے طلبہ کو کلاسز میں جا کر اسلامی جمعیت طلبہ کے نصب العین اور کام کے حوالے سے تعارف پیش کیا گیا اور مسائل کے حل کے لیے متعلقہ ساتھی سے ملوایا گیا۔وقت کی کمی کے باعث  اکٹھے کھانا کھایا اور میں سرگودھا اپنے گاؤں چلا گیا لیکن دل کو سکون حاصل ہوا کہ چلو آج کا دن بیکار نہیں گیا۔ایک اچھی اور صحت مندانہ  سرگرمی کو سر انجام دیتے ہوئے گزرا۔
تحریر
ملک انس اعوان

احساسِ ذمہ داری

0 comments
وہی انسان ہوتا ہے۔وہی دو آنکھیں ہوتی ہیں۔ وہی مقام ہوتا ہے لیکن آپکے دماغ میں موجود عکس بدل جاتا ہے۔یہ تب ہوتا ہے جب ہم اپنے سامنے موجود باریکیوں پر غور کرنے لگتے ہیں اور ان میں موجود احساس کو سمجھنے لگتے ہیں۔اکثر اوقات ہم اپنی خواہشات اور منزلوں کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ اپنے ارد گرد خلا میں موجود و  معلق بہت سی باریکیوں سے لا تعلق اور بے نیاز ہو جاتے ہیں۔لیکن جونہی آگے بڑھنے لگتے ہیں ان میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
اس کی مثال ایک وہ باریک سی جالی ہے جس کے پار کا منظر تو آپ کو دور دیکھنے پر صاف نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن اس کا وجود اپنی جگہ قائم و دائم رہتا ہے۔
ان باریکیوں کے پار سے آپ کو اپنی منزل بھی  نظر آ رہا ہوتا ہے  اور اُسی جانب سے ہوا کے جھونکے بھی آ رہے ہوتے ہیں جو آپکو یقین کی پختگی بخشتے  ہیں۔لیکن وہ چیز جو ہم اس دوران کھو رہے ہوتے ہیں وہ ہیں ہم سے منسلک افراداور اُن افراد کے ساتھ یا اُنکی آپکے ساتھ منسلک امیدیں اور تمنائیں  ہیں۔یہ وہ باریکیاں ہیں جو بظاہر تو بہت معمولی اور بے ضرر لگ رہی ہوتی ہیں لیکن اپنے اندر بے پناہ قوت لیے ہوتی ہیں۔وقتی طور پر یہ رشتے ہمیں اپنی منزل کی جانب ایک رکاوٹ محسوس ہوتے ہیں لیکن جیسے  ہی ہم ان کو سمجھنے اور پرکھنے لگتے ہیں یہ خودبخود اپنی گرہیں  کھولتے  جاتے ہیں ۔
یہ رشتے آخر ہیں کیا؟
یہ تو بس وہ پودے ہیں جو دلوں میں لگائے جاتے ہیں اگر پر خلوص دلوں میں لگائیں جائیں تو سنگین سے سنگین موسم میں بھی اپنی آ ب و تاب برقرار رکھتے ہیں۔ان پر لگنے والے پھل کو "احساس" کہا جاتا ہے۔مزہ تو تب ہے جب اس احساس کو دل سے مت توڑا جائے بلکے خود گرنے دیا جائے ۔جب یہ خود پک کر گرتا ہے تو جلد ہی پودے کا غذائی جزو بن جاتا ہے اور اگلے موسم میں پہلے سے بھی زیادہ میٹھے پھل کا باعث بنتا ہے۔ 
آپ   اپنا جائزہ لیجئے۔۔
آپ کمپیوٹر کسی ایسی  گیم کا حصہ نہیں جس میں صرف آپ ہی ایک پلئیر ہیں اور باقی سب Auto Controlled ہیں۔اگر اللہ کو ایسا مقصود ہوتا تو وہ آپکو  کسی ماں کا بیٹا یا کسی بیٹے کا باپ نہ بناتا ۔اگر بنایا گیا ہے تو اس میں ضرور کوئی نہ کوئی حکمت موجود ہے۔ناجانے ہم روز مرہ کی زندگی میں کتنے دلوں کو صرف اس لیے  تکلیف پہنچاتے ہیں کہ وہ  ہمیں اپنی خواہشات کے رستے میں ایک رکاوٹ محسوس ہوتے ہیں۔
یاد رکھیے یہ دنیا تو دینے ،بخش دینےاورلُٹا دینے  والوں کی ہے۔دوسری کی خوہشات کا ا حترام  کرنے والوں کی ہے۔
یہی تو وہ عشق ہے جسے میں نفس کے  متضاد سے تعبیر کرتا ہوں۔ اللہ کو راضی کرنے کا سب سے آسان اور ممکن Formula  اللہ کی مخلوق کو راضی کرنے میں پوشیدہ ہے۔تو زات کے خول کو توڑیے اور اس سے باہر موجود دنیا کو دیکھیے اور یہاں اس دنیا میں اپنی صحیح موجودگی کا ثبوت دیجیے وگرنہ اس زمین کے سینے میں بہت سے لوگ دفن ہیں جن کا نام ،تہذیب یہاں تک کہ قوم بھی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے۔
اللہ ہمیں اپنی اہمیت اور ذمہ داریوں کو سمجھنے اور با حسن و خوبی  ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین


تحریر
ملک انس اعوان حزبیؔ
malikanasawan11@gmail.com



سب ایک جیسے ہیں

0 comments
چہرے بدلتے ہیں
سب ایک جیسے ہیں
حرص و ہوس و کینہ
انتقام میں ہر کوئی نا بینا
نا زیبا ہے ہر کسی کو زیبا
گلے باندھتے پھرتے ہیں پازیبا
ظلم بدلتے ہیں
سب ایک جیسے ہیں






نائی کی دوکان یا بیوٹی سیلون؟

0 comments
ہمارے معاشرے میں طبقاتی تقسیم تو پہلے سے ہی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔جس کی ایک مثال  نائی کی دوکان یا بیوٹی سیلون ہے۔
اس حوالے سے میرے ایک دوست بہت دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ ایک روز وہ اپنے رہائشی علاقے کی سب سے مہنگی نائی کی دوکان۔۔۔او ہو سوری بیوٹی سیلون میں گئے اور اپنی بالوں کی تراش خراش کروانے لگے۔میرے دوست میری طرح نہایت سادہ اور گھریلو قسم کے تھے،چناچہ  اچھے بچے کی طرح کرسی پر  بیٹھ گئے اور سارا اختیار اُن صاحب کو دے دیا جو  اس   So Called بیوٹی سیلون کے Worker تھے۔اسی دوران ان صاحب کو گھر سے فون آ گیا ۔موبائل کان سے لگایا اور بولےکہ بعد میں کال کیجیے میں ابھی نائی کی دوکان میں ہوں۔
ان الفاظ کا منہ سے نکلنا تھا کہ اُس Beauty Specialist نے قینچی نیچے رکھتے ہوئے احتجاجی انداز میں  میرے دوست کو کہا کہ جناب میں نائی نہیں ہوں، نہیں ہوں بلکل بھی نہیں ہوں۔

حالات کی نذاکت کو سمجھتے ہوئے ہمارے دوست نے اپنی غلطی کا عتراف کیا اور معافی بھی مانگی۔اس کے بعد جیسے ہی وہ دوکان (بیوٹی سیلون) سے باہر آئے  فوراً روایتی پنجابی انداز میں 200 کے لگ بھگ گالیاں جھڑ دیں۔ میں آج بھی جب کسی Beauty Salonجاتا ہوں تو یہ واقعہ یاد آ جاتا ہے اور بے ساختہ مسکرانے لگتا ہوں۔

ہم خود ہی تو دہشت گرد پیدا کر رہے ہیں

0 comments
دنیا کےمہذب معاشروں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو تو مل جل کر اتفاق و اتحاد سے مشاورت کے بعد مسئلے  کے پائیدار حل کے لیے اُس کو جڑ سے پکڑ کر اکھاڑا جاتا ہے۔جب بھی کوئی گروہ یا افراد ریاست کے یا  ریاست کے کسی ادارے کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کر دیں تو اس کے پیچھے ایک لمبے عرصے تک کا طرز عمل اور رویہ کار فرما ہوتا ہے۔کئی بار بہت سے چھوٹے چھوٹے محرکات مل ایک بڑی تحریک کا باعث بن جاتے ہیں۔ہمارے ہاں پاکستانی عوام صرف اُن افرادکو سمجھا جاتا ہے جو لاہور،کراچی،اسلام آباد،پشاور،کوئٹہ اور بڑے شہروں میں رہائش پزیر ہیں۔کیونکہ یہاں ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے واقعے کو بھی چند لمحات میں لائیو کوریج کی سہولت دستیاب ہوتی ہے اور حکام بالا کی طرف سےازخود نوٹس  کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔معاملہ زرا سنگیں نوعیت کا ہو تو افسران کو ڈس مس بھی کر دیا جاتا ہے۔لیکن یہاں سے کچھ دور قبائلی علاقہ جات بھی موجود ہیں۔جہاں انسانی بنیادی ضروریات کا تصور سرے سے ہی موجود نہیں ہے۔ٹھوس تعلیمی نظام بھی موجودنہیں ہے۔اگر اس کے لیے ‘’تھرڈ ،ورلڈ’’ کی اصطلاح استعمال کی جائے تو بے جا نہ ہو گی۔اس تیسری دنیا کے حالات کا ایک عام  شہری ہر گز اندازہ نہیں کر سکتا۔
اگر ہمارے ہاں کسی بڑے شہر میں کوئی مجرم چھپ جائے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں سرچ آپریشن کے ذریعے اُس کو گرفتار یا قتل کر دیتے ہیں لیکن اِن قبائلی علاقہ جات میں صرف شبہے کی ہی بنیاد پر پورے گاؤں کو خاک و خون میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔اگر ہم ان لوگوں کو انسان نہیں سمجھیں گے تو رد عمل میں ہم کو بھی انسان نہیں سمجھا جائے گا۔
اور حیرت ہوتی ہے جب ائے سی کمرے میں موجود نام نہاد دانشور قبائلی عوام کو دہشتگرد کا خطاب دیتے ہوئے پھولے نہیں سماتے۔ظلم وہ واحد چیز ہے جو  عام عوام کو  بندوق تک اُٹھا لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ایک اچھے روز گار اور بہتر مستقبل والا انسان کیونکر اپنی جان خطرے میں ڈالے گا؟

ہم خود ہی تو دہشت گرد پیدا کر رہے ہیں۔۔۔۔

کچھ اپنی یونیورسٹی کے حوالے سے

2 comments
ہماری یونیورسٹی کی تعمیری ساخت مشرقی اور مغربی پاکستان سے مماثلت رکھتی ہے۔سڑک کے اوپر  تعمیر شدہ کیمپس کو اولڈ کیمپس کے نام سے جانا جاتا ہے جو مشرقی پاکستان کی مانند نیو کیمپس (مغربی پاکستان) سے  رقبے کے لحاظ سےچھوٹا ہے۔ دونوں کے درمیان  ایک عدد خشکی کا قطعہ موجود ہے جو آوارگانِ یونیورسٹی کے لیے راہگزر کا کام سرانجام دیتا ہے۔
شاید آپکو معلوم ہو کہ وہ طلبہ جو  نیو کیمپس کے سخت قوانین و ضوابط  سے گھبرا جاتے ہیں ،اپنے اہل خانہ سمیت اولڈ کیمپس کی جانب کوچ فرما جاتے ہیں ۔جہاں کی نرم و ملائم گھاس اور قدرے معطر ہوا انتہائی خوبصورتی سےمہما نوازی کا مکمل  حق ادا کرتی ہے۔جس کی بدولت بین الڈیپارٹ مینٹ ہم آہنگی اور(بیشتر اوقات) بھائی چارے کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔
اس کا ایک سبب اولڈکیمپس  کی بریانی بھی ہے جس سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہمارے نیو کیمپس کے نوجوان خصوصی طور پر تشریف لاتے ہیں۔بلکہ یہاں کی مقبولیت اس قدر پھیل چکی ہے کہ اگر کوئی طالب علم  اولڈ کیمپس کے کیفے میں پایا جائے تو  اِس کو باعث تشویش سمجھا جاتاہے اور اس حوالے سے ہنگامی کانفرنس بھی بُلالی جاتی ہےاور آئندہ حکمت عملی بھی فوراً ترتیب دے دی جاتی ہے۔
اسی کیمپس میں ایڈمن بلاک  بھی موجود ہے جہاں  مغربی جانب سکالر شپ پہ پڑھنے والے طلبہ کے منظور نظر خٹک صاحب کا دفتر موجود ہے جہاں وہ ہمیشہ کی طرح اپنی پوری آب و تاب  کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔ہاتھ میں 2 یا 3 انگوٹھیاں ڈالے،خوبصورت مونچھیں رکھےبارعب شخصیت کے حامل آدمی ہیں۔
مُلا کی دوڑ مسجد تک اور ہماری دوڑ سکالر شپ کے چیک تک (جسے عرف عام میں بونس کہا کرتا ہوں)
اسی چیک کی وصولی کے لیے جب   بھی خٹک صاحب کے دفتر جانا ہوا ،سب سے پہلے خوبصورتی کے ساتھ سلام لیتے اور اُس سے بھی زیادہ خوبصورتی کے ساتھ ہمیں اگلے ماہ تک  ٹال دیتے۔ہم بھی اپنا سا منہ لے کر واپس آ جاتے اور ایک ماہ تک دوبارہ زیارت کا انتظار فرماتے کیونکہ ہمیں خدشہ لاحق رہتا کہ
ہم بھی غالبؔ کی طرح کوچہ ِ جاناں سے محسنؔ
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے۔۔۔
تحریر:
ملک انس اعوان


خوابوں کے شاہ سوار(مزاحیہ تحریر)

0 comments
مجھے کسی پر تبصرہ کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں یہ تو ایک الگ بحث ہے لیکن جب کوئی بات دل سے زباں تک آ ہی جائے تو میرے لیے   اِسے قلمبند  کرنا لازمی ٹھہر جاتا ہے۔میرا مشاہدہ ہے کے وہ لوگ  جنھیں عام لوگ کتابی دنیا  یا تخیُّلاتی دنیا کے رہائشی گردانتے ہیں بلاشبہ عام لوگوں سے کئی لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں۔
بحیثیت انسان ہم چاہے  ناول،ڈائجسٹ،رسالہ یا کوئی مضمون پڑھ رہے ہوں تو الفاظ کے گھوڑے پر سوار ہو  کر خیال کی زمین پر بہت دور تک چلے جاتے ہیں۔وہاں تک جہاں چہارسو سبزہ ہی سبزہ  ہواور  خیر و سلامتی کا بول بالا ہو۔جب ایسے منظر  آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا  رہے ہوں تو  کس کا دل کرتا ہے تو  دوبارہ اُس کڑوی کسیلی  حقیقتوں کا سامنا کرے جس میں نہ تو ریڈر محترم کسی سلطنت کے شاہزادےہوتے ہیں اور نہ ہی کسی ملک کی حسین و جمیل شاہ زادی اُن کے عشق میں مبتلاء ہوتی ہے۔
جناب اچھے بھلے جذباتی موڈ میں ہوتے ہیں لیکن والدہ کی آواز  اس سارے منظر کو چشم زدن میں ملیا میٹ کر دیتی ہے اور چند لمحے پہلے کے بادشاہ سلامت ہاتھ میں 20 روپے پکڑے گلی کے کونے پر موجود کریانے کی دوکان  پر  سرف کا پیکٹ خرید رہے ہوتے ہیں۔
واپسی پر جناب یہی سوچ رہے ہوتے ہیں بس اگلی بار والدہ کے اُٹھانے سے پہلے دنیا فتح کر کےسکندر اعظم کا ریکارڈ توڑ ڈالنا ہے۔۔۔۔
انشاء اللہ۔۔۔۔۔۔۔!