سالِ تسلیم گزر گیا

0 comments
اب سے ٹھیک چند دن کیا بلکے گھنٹوں بعد دنیا میں رائج عیسوی کلنڈر اپنا آخری ہندسہ بدلے گا اور اس طرح دنیابھر میں سال 2017 کا آغاذ ہو جائے گا، کل ملا کر 366 دن جو 52 ہفتے اور 2 دن بنتے ہیں ماضی کے صفحات میں ضم کر دیے جائیں گے ۔سو اب  اگر بیٹھے بیٹھے اس سال کے اہم واقعات پہ نظر پڑے تو ہاتھ مسلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ، کیونکہ ہم بہر حال مخلوق ہیں ,تقدیر کے پابند ہیں ،ہمارا تخیل ہم سے بر عکس انتہائی آزاد ہے ۔ان دو انتہاؤں کے درمیان وقت جس تیزی سے انسان کو گھسیٹتا ہے یہ احساس رکھنے والے خوب جانتے ہیں ، جاننے کا یہ تجربہ بھی وقت کا پابند ہوتا ہے ،جوں جوں وقت کی سوئیاں زندگی کے مدار پہ چکر کاٹتی آگے بڑھتی جاتی ہیں ، چہرے ، منظر اور ان مناظر کے ترشے ہوئے خدوخال مزید واضح ہو تے چلے جاتے ہیں ، ایسا بہت کچھ جو لکھا ہوا کسی وقت میں  پڑھا جاتا  ہے درست ثابت ہوتا ہے اور اور کچھ ایسا بھی متن ہونا ہے جس کے مفہوم کو تجربات کی کسوٹی غلط ثابت کر دیتی ہے۔کچھ کو ہم  تسلیم کر لیتے ہیں اور کچھ حقیقتوں کو ذہن رد کر دیتا ہے ، مگر جب عقل کی نمی ضد میں نرمی لاتی ہے تو ذہن ان کو رفتہ رفتہ  تسلیم کرنے لگتا ہے ۔
یہ سال تسلیم کا سال رہا ،صبر اور مزید نرمی اختیار کرنے  کا سبق دے گیا۔ نقصانات اتنے کہ جنکا ازالہ ممکن نہیں مگر اللہ تعالی کے اتنے انعامات کہ جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے ۔ ایک اہم چیز جو کسی حد تک سیکھنے کو ملی وہ خود احتسابی رہی ، چاہے وہ معمولی نوعیت کی ہی ہو یا بڑھتی عمر کا ہی اثر ہو مگر بہرحال ایک حقیقی صورت میں اس سے شناسائی ممکن ہو پائی ہے ۔ خود سے دور کسی اور کی نظر سے خود کو دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش جاری رہی ہے ، اور ہمارے لیے اس کی کوشش کرنا اس کے حاصل کرنے کے زیادہ اہم ہے ۔
اپنی کمیاں  کوتیاہیاں  غلطیاں بار بار سامنے آ  نے کے باوجود ان کے حل اور ان کی جانب رجوع کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔مزاج کا ظاہری ٹھہراؤ اندرونی بے چینی سے میل نہ کھانے کے باعث  بے وجہ کی پرملال کیفیت سے دوچار رہا ہے ۔ ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کرنے کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔
اپنی زندگی کے بدرترین لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے الحمداللہ اس وقت کے بہترین  لوگوں کو اپنا منتظر پایا ہے ،ان کی موجودگی اور ان کا خلوص  میرے لیے سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ انکو دینے کے لیے میرے پاس دعاؤں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی حیات کی تلخیوں اور غلطیوں  سے سبق سیکھنے ، مستقبل کو  سنوارنے اور تعمیرکرنے ، اپنے رستے میں قبول کرنے ، مثبت توقعات پہ پورا اترنے ، جوانی کو بہترین جگہ کھپانے ،سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

تحریر:
 ملک انس اعوان
30 دسمبر2016 ،
اٹک ،پنجاب ،پاکستان



باد صبا یاد رہے

0 comments
یہاں سے دور
بہت دور 
وہاں کی بات ہے یہ 
جہاں پہ فاصلےدرحقیقت 
کچھ نہیں ہوتے 
زہن خاموش 
دل کی زباں ہوتی ہے 
اس گلستاں میں خزاں کا ڈر 
حشر سے بڑا ہوتا ہے 
اس قدر پاکیزہ کہ وہاں پر 
کوئی منظر نہیں ہوتا
ہو بھی تو  بن نہیں سکتا 
کہ نظر بھی حیا کرتی ہے
وہاں خدا کرے کہ  اک پھول
جس کی پیاس سدا  
شبنمی قطروں  سے بجھے 
رنگ  جس کے نہ پھیکے پڑیں 
اسکی ڈالی پہ روز رنگ نئے کھِلیں 
سب موسموں میں رُتوں میں 
گردشِ ماہ و سال میں 
ائے باد صبا
 یاد رہے۔۔۔!
اس کی تازگی برقرار رہے



------
ملک انس اعوان


جوتیوں کا سبق

0 comments

سرخ رنگ کی نئی گاڑی جو سیاہ سڑک کو روندتے ہوئے جھیل کے کنارے کنارے بھاگی جا رہی تھی، دور دور پھیلے ہوئے پانی پہ سفید شفاف دھند اپنے پر کھولے ہوئے آسمان کی نیلاہٹ کو ڈھک رہی تھی، پچھلی سیٹ پہ ٹیک لگائے میں شیشے سے باہر کے مناظر دیکھ رہا تھا ، اگلی سیٹوں پہ براجمان افراد بھی چپ تھے ، کچھ دیر میں ایک صاحب پیچھے مڑ کے میری جانب دیکھتے ہیں، حسب عادت نہ تو میرے زبان سے کچھ الفاظ بر آمد ہوئے اور نہ ہی میں نے چند لمحوں کے لیے گاڑی رکنے کا کہا بلکہ اشارہ کیا کہ چلتے رہیے.گاڑی کی رفتار مزید تیز ہو گئی اور آہستہ آہستہ جھیل کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے پہاڑوں کے درمیان بنی ہوئی اکلوتی سڑک پہ دوڑنے  لگی، سڑک کے ساتھ ہی  حد نگاہ بھی محدود ہونے لگی. اور مجھے قدرے آسانی اور  راحت محسوس ہونے لگی کیونکہ  اب بولنے والے منظر آنکھ سے اوجھل ہو چکے تھے،بس ایک ہی طرز کے، قریباً ایک ہی شکل کے پتھر تیزی  کے ساتھ آنکھوں کے سامنے سے گزر رہے تھے اس قدر تیز کے ان کو پہچاننا ممکن نہیں ہو پارہا تھا، بالکل زندگی کی رفتار کی طرح جہاں ہم وقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ٹھیک طریقےسے چہروں کو  دیکھ بھی نہیں پاتے ہیں،باتیں کہہ نہیں پاتے ہیں اور مواقع وقت کی رفتار میں بے طرح گنوا دیے جاتے ہیں . مگر جب مطلع صاف ہوتا ہے،  کھلے کھلے منظر نظر آتے ہیں، جب کچھ کہنے اور ٹھہرنے کے مواقع  وقت خود فراہم کرتا ہے تو وہاں سے بھاگ جانے اور کہیں دور چلے جانے کو دل چاہتا ہے .
زندگی کے بے ثبات پنجرے میں یوں جان اٹک جاتی ہے کہ کھلی فضا میں بھی دم گھٹنے لگتا ہے.
سوچتے سوچتے وقت کا اندازہ بھی نہیں ہو پاتا. لوگوں کی دنیا میں واپس آتا ہوں تو گاڑی ایک چھوٹی سے مسجد کے سامنے نماز کے لیے رک چکی تھی.بظاہر تو شام کی تاریکی پھیل چکی تھی مگر میرے اندر امید کا چاند  ایک بار پھر طلوع ہو چکا تھا.
وہ جو مالک کُل کائنات ہے، اس نے کچھ تو طے کر ہی رکھا ہو گا....... بس یہی سوچ کہ نماز ادا کی، اور مسجد کے صحن میں باقی صاحبان کا انتظار کرنے لگا .مسجد کی سیڑھیوں پہ کوئی ہمارے آنے سے پہلے ہی ہماری جوتیاں سیدھی کر کے جا چکا تھا. اور جاتے ہوئے ہم بھی وہاں بعد میں آنے والوں کی جوتیاں سیدھی کر کے وہاں سے اس امید پہ روانہ ہو گئے کہ یہ سلسلہ اب جاری رہے گا.
اس ایک مغرب کی نماز کے بعد کئی سوالات حل ہو چکے تھے.

ملک انس اعوان
11 دسمبر 2016
بمقام: سرحد صوبہ پنجاب و خیبر پختون خواہ،

مرتے ہوئے امکان

0 comments



نہ مروت نہ تعجب نہ تکلف نہ بیان
لحظہ لحظہ ابھرتے ہوئے مرتے ہوئے امکان 
روح و ہستی میں اترتے ہوئے خاریدہ گلفام 
گھبراتے ہوئے کتراتے ہوئے دشمن بدنام 
اب مجھے موج تبسم میں  رواں دیکھیں گے
حال و ماضی کے تصور سے نہاں دیکھیں گے



ملک انس اعوان 








ڈائری کا ایک ورق

3 comments
ایک عجب بے سکونی ہے ، فرصت سے نکلتے ہیں تو مصروفیت میں ڈوب جانے کو دل چاہتا ہے اور جب مصروفیت سے نکلتے ہیں تو فرصت کی تلاش شروع ہو جاتی ہے ۔ پہاڑ ، جنگل ،  ، ٹیلے ، سبزے ، جھیلوں اور  اونچی اونچی چھتوں والے بے ہنگم  شہروں سے اب جی اکتا گیا ہے ،یہ سب ایک ہی طرز کی  مختلف شکلیں ہیں ۔ کہیں بھی ذہن کو آسودگی حاصل نہیں ہے ۔کہیں قدرت کا شور بہت زیادہ ہے اور کہیں انسان کا ، ہر شے اپنی Body Language کے ساتھ   احساسات کا اظہار کرتی ہوئی نظر آتی ہے ، آنکھوں کے سامنے اور کانوں کے گرد احساسات کا ایک ایسا  مجمع لگا ہوا ہے کہ کسی کی با معنی آواز یا منظر ذہن تک پہنچنے سے قاصر ہے۔اور اگر ہے تو ذہن کے تنگ سے دریچے میں معانی و مفاہیم کا ایسا ہجوم ہے کہ  ، ان کے درمیان سے ہوا کا گزرنا بھی مشکل ہو جائے ۔ ایسے میں شہنشاہ (دل) چاہتا ہے کہ چیخ چیخ کر  تخلیہ! تخلیہ! کی آوازیں بلند کرے اور ذہن کے کواڑوں کو مقفل کر دے اور دربار دل کے کسی کونے میں جا بیٹھے اور    کسی راز داں کو طلب کر کے راز ونیاز کی قبر کھود کر اس کا سارا ملبہ  اس کے گوش گزار کر دے ۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔یہ خاموشی ؟  ۔۔۔یہ بھی تو کسی عذاب سے کم نہیں ۔۔۔۔سکون کہاں سے اور کیسے نصیب ہو کہ  "خاموشی" کا شور ،ہجوم کے شور سے بھی زیادہ ہیبت ناک اور دردناک ہے ، ایسی خاموشی جو روح میں اتر کر اس کو  بھی  کو گھائل کر دے اور سانس کے تاروں کو بے ہنگم طور سے چھیڑنے لگ جائے ۔ یہ ایک دو طرفہ عذاب ہے جس کے علاوہ کوئی تیسری  طرف سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ اس پیچیدہ تخلیق کے  پیچیدہ ذہن نے  خود کو  بھی ان پیچیدگیوں میں ڈھال لیا ہے  کہ اب کوئی آسان چیز بھی اس کے لیے آسان نہیں رہی ہے ، یعنی اب کچھ بھی سہل نہیں ہے ۔ اور" کچھ بھی" کا مطلب افسوس کے ساتھ  صرف" کچھ بھی" ہی ہو تا ہے۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں   بذات خود اپنی حیثیت میں  pre defined   ہیں ،اور یہ سب شہنشاہ(دل) کے حکم سے ہے۔ ستم یہ کہ ضدی نواب کی کسی بات کو ٹالا بھی نہیں جا سکتا ہے،اور اس کی ہر بات کو مانا بھی نہیں جا سکتا ہے ۔ جبکہ عذاب بہرحال پورے جسم کو نصیب  سمجھ کر  برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

تحریر
ملک انس اعوان  
27ستمبر 2016 
بوقت  فجر 


http://www.dailymail.co.uk/news/article-2230022/Horse-photos-Award-winning-images-Emily-Hancock.html

آپ بھاگ نہیں سکتے ہیں

0 comments
لکھنا محض اس لیے ضروری نہیں ہوتا کہ آپکے پاس الفاظ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے یا آپ نے ایک زندگی تجربات میں گزاری ہے ، بلکے یہ تو ذاتی حد تک خود کو ہی سنوارنے کا یک فن ہے ۔ کیونکہ فی الحال  ہم یا ہم سے پہلے معلوم اور میسر تاریخ   میں جو بھی انسان سوائے امام الانبیا ﷺ     مع انبیاء کے اس  جہان میں اترا ہے نا مکمل ہے  اور بد قسمتی سے جیسے جیسے  تاریخ کا ہندسہ بڑھتا جا رہا ہے ، انسانوں کی اندر کمیوں کا تناسب بھی بڑھتا جا رہا ہے ۔جذبات کی قدر گھٹتی جا رہی ہے اور بتدریج اخلاقی گراوٹ بھی زہر کی مانند معاشروں میں پھیلتی جا رہی ہے ۔افرادی سطح سے اجتماعی سطح تک معیارات گرتے چلے جا رہے ہیں ۔ صورتحال یہا ں تک آن پہنچی ہے کہ محض معاشرے کی بات کرنے والے کو معاشرے کی جانب سے ہی   تکلیف پہنچائی جا رہی ہے اور باز رہنے کا کہا جا رہا ہے ۔ آج کل کی صورتحال میں ہماری اپنی انفرادیت معدوم ہو چکی ہے ، اب تو ہر معاملہ اجتماعی سطح کا ہے ، کسی کے بھی عمل اور اس کی تشہیر کا کسی نہ کسی پہ اثر ضرور پڑتا ہے۔ ہم کسی بھی عمل کو کر تو  گزرتے ہیں اور پھر موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے آناً فاناً اس کی تشہیر بھی کیے دیتے ، لیکن ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے کہ اس کا اثر معاشرے پہ کیا پڑے گا ؟ کس کس کے ذہن میں تغیر برپا ہوگا ؟ کس کس سطح کے لوگ اس سے متاثر ہوں گے؟  اور بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔
یہاں انجام سے مراد محض  وہ نہیں جو لوگ اس سے اخز کرتے ہیں بلکے اس سے مراد وہ سب کچھ بھی ہے جو معاشرہ ایک مخصوص دورانیے کے بعد آپکو لوٹا  دیتا ہے۔چناچہ ان حالات میں بطور ایک ذمہ دار فرد ہماری ذمہ داری   پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے ۔ ہمارے لیے احتیاط کے پیمانے مزید  سخت اور آزمائش مزید کٹھن  کی جا چکی ہے ۔ ہاں اگر آپ ان سے فرار حاصل کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے ۔

کیونکہ یہ آپکا معاشرہ ہے ،آپ نے انہی میں رہنا اور ان کے اثر سے کسی نہ کسی طرح سے متاثر ہوتے ہی رہنا ہے ۔ اب دیکھیے ،سوچیے ،اور فیصلہ کیجیے کہ مثبت تعمیر کے لیے یا تو آپ خود کو تیار کیجیے ، کمر باندھیے اور اس قابل بنیے کہ لوگون پہ اپنا رنگ چڑھا سکیں ، یا  ریوڑ میں موجود ایک بھیڑ بکری جیسی انفرادی  زندگی گزار دیجیے ۔۔۔۔۔ اٹھیے ، کمایئے اور مر جائیے۔۔۔۔!
تحریر 
ملک انس اعوان 

وہ قیامت کے دن

0 comments
اسی سال گرمیوں کی تعطیلات میں جامعہ کے کھلنے میں محض چند دن رہ گئے تھے ، صبح سویرے  فجر کے بعد لاہور سے ایک دینی اور قریبی دوست کا فون موصول ہوا کہ وہ شام کو میرے غریب خانے کو عزت بخشیں گے، انکی آمد اور رات کے کھانے کے حوالے سے والدہ کو آگاہ کیا اور صبح سویرے  ایک دوست کی دادی محترمہ کی عیادت کے لیے  فیصل آباد روانہ ہو گیا ، عصر کے وقت واپس گھر پہنچا تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا ، تھکاوٹ کے باعث نیم دراز حالت میں مہمان خانے میں لیٹ گیا ، تھوڑی دیر میں والد صاحب آئے اور آہستگی سے کہا کہ "بیٹا اٹھ کر دوکان پہ چلے جانا وہاں یو پی ایس خراب ہے اسے دیکھ لینا اور ٹھیک کروا دینا "
( ہماری ایک عدد ملکیتی دوکان جو ایک صاحب کو کرائے پہ دی گئی ہے )
والد صاحب کی بات سن کر انہیں جواب دیا کہ "جی بہتر " اور پھر لیٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی کی آواز آئی جس کا مطلب تھا کہ والد صاحب کہیں باہر چلے گئے ہیں ۔چناچہ اٹھا اور باورچی خانے میں والدہ کا ہاتھ بٹانے لگا اور برتن لگانے لگا ۔
عین مغرب کے وقت لاہور سے دوست گھر کے باہر پہنچے حسب وعدہ ایک اور تحریکی ساتھی بھی پہنچ گئے ، باجماعت قریبی مسجد میں نماز ادا کی ، ہماری واپس گھر آمد تک بیٹھک کی میز پہ برتن لگ چکے تھے ۔  چناچہ جلد ہی کھانا شروع کر دیا گیا ۔ ابھی چند ہی لقمے حلق سے نیچے اترے ہوں گے کہ  موبائل بج اٹھا ، سکرین پہ ایک نمبر ابھرا ، کال اٹھائی تو ایک انکل کی زوجہ محترمہ کا فون تھا ، خاتون نے اطلاع  دی آپ جلد ہی سول ہسپتال پہنچیں ۔
میں نے فون رکھا اور مہمانوں کی حرمت میں بدستور کھانے میں شامل رہا ،مگر دل میں عجیب و غریب وسوسے آنے لگے ، ایک ایک کر کے ہر کسی کی تصویر دماغ میں گھومتی رہی ، لیکن پھر اچانک ہی خیال آیا کہ ابا جان تو ابھی ابھی  گھر سے باہر نکلے تھے ، بس یہ خیال آنے کہ دیر تھی حلق میں کانٹے چبھنے لگے اور دل ڈوبنے لگا۔
فوراً ایک قابل اعتماد "دوست کم اور بھائی زیادہ" کو فون کیا اور کہا کہ آپ فوراً ہسپتال پہنچیں اور میرے آنے تک وہیں رہیں ۔
آئے ہوئے مہمان بھی میری حالت دیکھ کر متفکر ہو گئے اور جب پوچھنے پر میں نے انکو آگاہ کیا تو فوراً سے گاڑی نکالی اور ہسپتال کی جانب روانہ ہو گئے ۔ رستے میں جیسے میں نڈھال سا ہو گیا تھا ، قریباً بھاگتے ہوئے ہسپتال کی سیڑٰھیاں چڑھیں تو  شعبہ حادثات کے ایک اسٹریچر پہ میرے والد محترم کا خون آلود چہرہ میرے سامنے آگیا ،جس سے ایک پھوار کی صورت میں خون نکل نکل کر والد محترم کی قمیض کو سرخ کر چکا تھا ان کی دونوں  آنکھیں بند تھیں لیکن وہ ہوش میں تھے ۔
یہ دیکھنے کی دیر تھی ، میں جیسے پگھل سا گیا تھا ، جسیے کسی نے میرے اندر سے میری روح کو کھینچ نکالا ہو ۔ بے اختیار والد محترم کے چہرے کو ہاتھوں سے تھاما تو والد محترم نے لب ہلائے کہ "انس بیٹا کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں ،اللہ کا فضل ہے "
ڈاکٹر جواب دے چکے تھے اورمیری ہمت بھی ،مگر میرے ذہن میں میری با ہمت والدہ کا چہرہ بار بار آئے جا رہا تھا ، ایک ایمبولینس کا انتطام کیا اور والد صاحب کو اس میں لٹایا اور رستے میں چھوٹے بھائی کے ذریعے پیسے اور ابا جان کے کپڑے منگوا کر لاہور کی جانب روانہ ہو گئے ۔
رستے میں والد صاحب کے چہرے اور آنکھ سے نکلنے والے خون کو اپنے ہاتھو ں سے صاف کرتا رہا ، والد محترم کبھی کبھی لب ہلاتے تو یہی کہتے کہ بیٹا اللہ کا فضل ہے سب خیر ہے آپ پریشان مت ہوں ۔
میں کسیے بتاتا کہ میرا سارا حوصلہ اور میری ساری ہمت تو آپ ہیں ۔۔۔۔میں کیسے سکون سے بیٹھ جاؤں ۔۔۔؟
میرا واحد حوصلہ اللہ کے بعد میرا وہ دوست تھا جو اس وقت بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں گیا تھا ،بلکہ میرے ساتھ استقامت کے ساتھ موجود  تھا۔ وہ 2 گھنٹے قیامت کے گھنٹے تھے ، لاہور اتفاق ہسپتال میں والد کو لے جایا گیا تو وہاں سے بھی جواب ملنے کے بعد ان کو ابتدائی طبی امداد دی اور اپنے جماعتی بھائیوں کو فون کیا اور  محض 15 منٹ میں ایک ڈاکٹر کو گھر سے بلوا کر اسکو ایک پرائویٹ ہسپتال میں آپریشن ٹھیٹر تیار کرنے کا کہا اور ،جلد از جلد والد کو وہاں منتقل کر دیا گیا ۔
ہمارے پہنچنے تک الحمداللہ سب انتظامات مکمل تھے ، والد صاحب کو اسٹریچر پہ ڈال کہ آپریشن تھیٹر لے جایا گیا اور قریباً رات 12 بجے کے قریب ڈاکٹر نے بتایا کہ الحمدللہ ان کا ناک شدید متاثر ہے البتہ چہرے اور ناک سے کون بہنا بند ہو گیا ہے لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ۔ فوراً کسی آئی سرجن کو انکی آنکھیں بھی دکھا دیجئے گا ۔
رات کے اس پہر کیونکہ کوئی آئی سرجن ملتا بہرحال ایک دو ساتھیوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایاکہ اگر آپ حکم کریں تو ڈاکٹر بھیج دیتے ہیں مگر آلات کے بغیر وہ کچھ بھی کرنے کے معذور ہیں ۔۔۔۔۔ دل دوبنے لگا ۔۔۔۔۔ پھر جماعتیوں کو بلا کر ساری صورتحال بتائی انہوں نے سروسز ہسپتال لاہور میں ایک ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور وہاں انتطامات مکمل کیے ۔
والد صاحب کے ہوش میں آتے ہی رات 1 بجے انکو سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، جہاں فوراً طبی معائنے کے بعد ایسی خبر ملی جو قہر بن کر ٹوٹ پڑی ، ڈاکٹر سے علیحدہ ہو کر بتایا کہ دھماکے کے باعث دونوں آنکھیں متاثر ہے جبکہ ایک شدید متاثر ہے اس کا فوراً آپریشن کرنا پڑے گا اور پوری آنکھ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی پڑے گی ، یہ خبر مین اپنے والد کو کیسے سناتا دل جیسے بیٹھ ہی گیا ، میرا دوست اٹھا اور میرے والد کے پاس بیٹھ کر انہیں حوصلہ دینے لگا ، کیونکہ یہ میرے بس کی بات نہیں تھی ، اور ابا جان اس سب سے لا علم تھے ۔ آپریشن کی تیاری اور انکے ٹیسٹ شروع کر دیے گئے لیکن سرکاری ہسپتال کے ماحول سے دل مطمئن نہ ہو پارہا تھا ۔
دوست سے مشورہ کیا ، امی  جان کو صورتحال بتائی اور دل پہ پتھر رکھ کے فیصلہ کیا کہ صبح تک انتظار کیا جائے ،کیونکہ میں انکی بیہوشی کے دوران انکی آنکھ کو اپنے ہاتھوں سے دیکھ چکا تھا ۔ دل تھا کہ سنبھلے نہیں سنبھلتا تھا ۔
دوست کی گود میں سر رکھ کے آنسؤں کو چہرے کی راہ دکھائی ،جب کچھ قرار آیا تو قیامت کی یہ رات اب صبح کے سویرے میں بدل رہی تھی، ابا جان کو وہاں سے دوبارہ اتفاق ہسپتال لے جایا گیا اور وہاں داخل  کر دیا گیا ، والد صاحب بار بار مجھ سے اپنی اآنکھ میں درد کا تذکرہ کرتے اور میں کچھ کہنے کے بجائے رو پڑتا لیکن وہ اس حالت کے باوجود مجھے حوصلہ دیتے اور بار بار اللہ کے احسانات گنواتے ۔
صبح 8 بجے دوبارہ سے انکی آنکھوں کا معائینہ کیا گیا اور ڈاکٹر نے والد صاحب کو ذہنی طور پر کسی دھجکے کے لیے تیار کرنے کے لیے کچھ کچھ حقائق بتا دیے ۔
دوپہر میں انکا آپریشن شروع ہوا جو رات گئے تک جاری رہا ،شام کو ڈاکٹر نے پوچھا کہ مریض کی جانب سے کون ہے میں آگے بڑھا تو انہوں نے بتا یا کہ انکی ایک آنکھ بالکل درست ہے جبکہ دوسری آنکھ  بالکل پھٹ چکی ہے اور اس کا جڑنا قریباً نا ممکن ہے اس  لیے اب آپکے فیصلے کا انتطار ہے کہ یا تو آنکھ پہ کوشش کی جائے یا اسکو نکال دیا جائے ؟ ۔میں نے ڈاکٹرز سے فیصلے کے  لیے وقت مانگا ، فوراً سے بیک وقت 5 ڈاکٹروں سے رابطہ کیا اور انکوں صورتحال سمجھائی ، سب کا یہی  موقف تھا کہ آنکھ کو نکال دیا جائے تاکہ مستقل میں مریض کو تکیلف سے بچایا جا سکے ، پاکستان میں کسی بھی جگہ اس کا علاج ممکن نہیں تھا ۔
میں نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا اور والدہ سے رابطہ کیا اور انکواپنے فیصلے سے آگاہ کیا ،میری ماں تو مجھ سے بھی بہادر نکلی ، باہمت ماں نے کہا بیٹا جو تمہارے والد کے حق میں بہتر ہے کر گزرو ہم اللہ کی جانب سے ہر آزمائش کے لیے تیار ہیں، میری والدہ وہ باہمت خاتون ہیں جنہوں نے میرے سامنے اپنا ایک بھی آنسو گرنے نہیں دیا اور کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے بیٹے کی قوت انکے اپنے اندر ہی کہیں موجود ہے ۔
میں نے آنکھ نکلوانے کا فیصلہ کیا ، رات قریباً 1 بجے مجھے والد صاحب کے پاس جانے کی اجازت ملی وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہے تھے۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ مجھسے پانی مانگتے اور میرا ہاتھ زور سے پکڑ لیتے ، لیکن دوسرے ہی لمحے دوا اپنا اثر دکھاتی اور وہ بیہوش ہو جاتے ، اس اذیت ناک مرحلے میں میری آنکھیں تر ہی رہیں، اور میں جلد از جلد ان کے ہوش میں آنے کی دعائیں کرنے لگا۔
ہوش میں آتے ہی مجھسے اپنی بائیں آنکھ کا پوچھا مگر میں چپ رہا ، ڈاکٹر کو بلوا کر ان کی بائیں آنکھ پہ پٹی کروا دی تاکہ وہ دیکھ کر پریشان نہ ہوں ۔
اگلے دن تمام گھر والے محض کچھ ہی دیر کے لیے میری اجازت سے ابا جان کو دیکھنے آئے اور چلے گئے ، اگلے کچھ دنوں میں انکے مزید آپریشن ہوئے اور دن رات دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا ۔پٹی اتاری گئی اور انکو حقیقت بتائی گئی ۔۔۔۔ سن کر انکے الفاظ یہی تھے کہ " اللہ نے ہی آنکھ دی تھی ، اس نے ہی واپس لے ہی شکوہ کیسا اور شکایت کیسی؟ "
یہ دعاؤں کا اثر ہی تھا کہ 2 گھنٹے خون بہنے کے باجود حادثے کے دو دن بعد ہی انکا خون جسم کے تناسب سے پورا ہو  رہا۔
بڑی عید بھی اسی کمشکش میں گزری ۔۔۔!
اب الحمداللہ ابا جان روبہ صحت ہیں ، اور حیرت انگیز طور پہ اب سے فیکٹری بھی جا رہے ہیں ، اور جلد ہی یونین سیاست میں بھی سر گرم ہوں گے ۔اور چہرے کو دیکھ کر کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا کہ یہ ہمت کا کہسار کس آزمائش سے گزرا ہے ، بے شک اللہ کار ساز ہے۔
ابتو وہ گاڑی بھی چلانے لگے ہیں ۔ صد شکر الحمداللہ
9 دن آئی سی یو میں اور 3 دن وارڈ میں  رہنے کے بعد جس دن گھر پہنچے اس سے اگلے دن ہی علاقے کے درس قرآن میں شرکت کی ،جسے دیکھ کر سارے احباب حیران و پریشان رہ گئے ۔ اللہ انکو لمبی سعادت بھری زندگی عطا فرمائے ۔
ان قیامت کے دنوں میں ہر جانب سے لوگوں کے ، جامعہ کےاساتزہ کے ،،سکول کے اساتزہ کے ، کالج کے اساتزہ کے دور اور قریب کےرشتہ داروں کے،دوستوں کے فون آتے رہے،اتنے کہ اب مجھے ان سے چڑح ہونے لگی تھی ۔
لیکن یہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے مجھے سہارا دیا ،ہر مرحلے پہ میری مدد کی اور میرا ساتھ نبھایا ۔
انما اشکو بثی و خزنی الی اللہ 

(یہ حادثہ یو پی ایس کے بیٹری ٹرمینل تبدیل کرتے ہوئے دھماکہ ہونے سے پیش آیا ، معجزانہ طور پہ والد محترم کا جسم کا یاک بال بھی آگ یا تیزاب  کی لپیٹ میں نہیں  آیا،جبکہ قریب پڑی ہر چیز تباہ ہو چکی تھی )

یادداشت
ملک انس اعوان 






پیچیدہ

0 comments
ایک انگریزی مقولہ ہے کہ
Sanity and happiness are impossible combinations. Mark Twain
بلا شبہ درست فرمایا ،مگر اس انسان سی مخلوق کا کیا کہنا جس میں بیک وقت لاکھوں Profiles جو کہ مختلف جزئیات پہ مشتمل ہوتی ہیں پہلے سے ہی محفوظ کر دی گئی ہیں یا اپنے فہم سے انسان نے انہیں خود ہی تخلیق ،ضائع اور اپنا سکتا ہے ، یہ بھی انسان کے حسن کا ایک پہلو ہے۔۔!
یہ سوچ کے کرشمے ہیں جو ایک ہی انسان میں مختلف کردار پیدا کرتی ہے وقت سے ساتھ ساتھ انہیں پروان چڑھاتی ہے اور حالات کے مطابقت نہ پیدا ہونے پہ اس کو تبدیل کر دیتی ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب کوئی باہر سے آنے والی چیز ہے ،بلکہ یہ سب پہلے سے ہی انسان کے اندر موجود ہیں ،بس موقع کی مناسبت سے کونسی Profile چلانی ہے اس کا انحصار انسان کی قوت فیصلہ پر ہے۔ بس یہیں کہیں امید وغیرہ بھی موجود ہوتی ہیں۔یہ پیجیدہ Combinaton ایک خودکار نظام کے تحت کب اور کیسے جنم لیتے ہیں ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔عجیب بات ہے ۔۔۔۔!
انسان ان کہکشاؤں سے بھی وسیع ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دلچسپ بھی ۔۔۔۔!!!



ملک انس اعوان

لوگ ہنستے ہیں آپ بھی ہنسیے

0 comments
لوگ ہنستے ہیں آپ بھی ہنسیے
تیر دل سے نکال کر ہنسیے
آپ بھی سب کی وحشت سے
اپنا حصہ نکال کر ہنسیے
 شہر بھر کے سیاہ بختوں میں
اپنا سکہ اچھال کر ہنسیے
 اب کہ ہر رخ ہی انتقامی ہے
اپنا دامن سنبھال کر ہنسیے
 اپنی آنکھیں جو ہو سکے ممکن
میری آنکھوں میں ڈال کر ہنسیے

ملک انس اعوان


سر شام شکست

0 comments

ابھی کل ہی کی تو ہے بات
میں سر شام چپ سا ہو گیا تھا
سامنے پیڑ قطار اندر قطار
ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے
ایک دوجے پہ بوجھ ڈالے ہوئے
جیسے گزرتے وقت کے نوحے پڑھ رہے ہوں
سیاہی چھانے لگی تھی
افق پہ ڈوبتے سورج کی جاں
کہ جیسے نیزے کی نوک پہ آ ٹکی تھی 
پنچھیوں کے شور سے دل ڈوب رہا تھا
عجب اک آزمائش تھی
سایہ دل میں دھوپ بھری تھی
خامشی تھی ساتھ میں تو بھی کھڑا تھا
اجنبیت لہجے میں کیوں آ جمی تھی
راستے تھے، مگر میرے نہیں تھے
ہمنشیں تھے، میرے نہیں تھے
سبھی کچھ داؤ پہ جو آ لگا تھا
اگر میں بولتا
بولتا بھی تو کیسے
میں تو جود سے لڑ کر گرا تھا
میں اپنے آپ سے تھک کر گرا تھا

ملک انس اعوان

پتہ بتا رہا ہے

0 comments

مجھے یقیں ہے کہ اب کی بار بارش میں
دور کہیں کلیاں بھی کھلتی جاتی ہیں
رنگ زمیں کا پتہ بتا رہا ہے
کہاں کہاں سے سبزہ کشید ہونا ہے
شاید تم  مجھے سن رہے ہو
یہ بھی اک پہلوئے زندگی ہے دوست

ملک انس اعوان

گرداب

0 comments
بانہیں دھر کہ آہنی جنگلے کے سینے پہ 
میں پانی کے دائروں سے بات کرتا ہوں
ادھر اُدھر پھوٹتے ہوئے  گرداب 
لمحہ لمحہ حجاب کرتے ہوئے 
لہر در لہر ابھرتے ہیں 
ڈوب جاتے ہیں 
جیسے کوئی نیا شاعر 
بانہوں میں غزل بھرتے ہوئے




ملک انس اعوان 
20 اگست 2016 
خانپور نہر

اکتاہٹ

0 comments

معلوم ہے مجھکو دروازہ میرا اور نہیں بس دستک ہوگی
اس کا لہجہ اسکی جلدی اور بہت اکتاہٹ ہوگی
ہوگی ساری دنیا داری اسکے لیے یہ ساز تو ہوگی
جو دنیا کا اہل نہیں ہے اسکو تو گھبراہٹ ہوگی

ملک انس اعوان

مانتا ہوں..

0 comments
ہاں مانتا ہوں کہ یہ پہاڑ یہ جھرنے یہ چشمے یہ بل کھاتی ندیاں، یہ سرگوشیاں کرتی ہوئی نرم سرد ہوا،  برف پوش کہسار بے انتہا خوبصورت ہیں. مگر یہ صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ عبرت کا نشان بھی ہیں،    صدیوں سے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ یہ متواتر موسموں اور آفات کو جھیلتے ہوئے اب تک کسی نہ کسی حد تک اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن کچھ ایسا بھی ہے جس کے بدلنے کی رفتار ان سب سے زیادہ ہے، وہ ہیں ہم انسان،  ہم جیسے کئی  سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ان پہاڑوں پہ آئے سستائے، لطف اندوز ہوئے اور بالآخر مجبوراً یا عادتاً یہاں سے چلتے بنے یا لیجا ئے گئے. پھر اور کئی جو ہم سے کئی گنا بہتر نظر اور زہن رکھنے والے یہاں سے گزرے اور شہر ہنگامہ میں نایاب ہو گئے. اس قدر نایاب کہ ان جیسا ڈھونڈ کر لانا بھی ناممکن ہو گیا. انکے نایاب ترین خیالات صفحے یا کلام کی صورت میں ڈھلنے سے پہلے ہی زیر زمین غرق ہو گئے. مگر یہ سر سبز پہاڑ یہ وادیاں پھر بھی صفحہ زمین پہ موجود رہے. ان پہ آنے والے فنا کے راہیوں نے بقا کی نظر سے انکو دیکھ کر بقا کی چاہت کو دل میں بسایا ہے.مگر یہ بقا اور فنا کے سارے قصے میں  سمجھنے کی اہم بات یہی ہے کہ اگر ان کی ہی مانند مردہ خوبصورت اور برقرار نظر آنا مقصود ہے تو اس کے لیے زیادہ ضروری چیز بے حسی ہے بالکل انہی پہاڑوں کی مانند جن پر سے کئی لوگ گزرتے اور مرتے ہیں مگر یہ ہاتھ آگے بڑھا کر نہ تو روکتے ہیں اور نہ ہی مرنے کی کوشش کرنے والے کو اپنے دامن میں سنبھالتے ہیں. بلکہ بے حسی کی تصویر بن کر حیات انسانی کا تماشا دیکھتے ہیں. پتہ نہیں انسان انسے کیوں متا ثر ہوتے ہیں حلانکہ ایک انسان کے اندر کی خوبصورتی کی ایک چھوٹی سی رمق بھی ہر لحاظ سے اعلی اور بالا ہے. اور اگر کوئی انسان اس حد تک گرنا چاہے تو چاہتے ہوئے بھی گر نہیں سکتا، کیونکہ یہ ندیا اور دریا تو کمی یا زیادتی کے ساتھ بہتے رہیں گے مگر اس وقت میری طرح یا مجھ سے بہتر یا مجھسے بدتر لوگ یہاں آ آ کر اپنا کردار ادا کر کے قرطاس سے غائب ہوتے جائیں گے، ان کی جگہ نئے چہرے سبزہ زاروں کی زینت بن جائیں گے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو گی. یہی افراد اور لوگ ہی تو قابل قدر اور قابل توجہ چیز ہے. ورنہ ان پہاڑوں کی قدر ہی کیا ہے..... قریباً نہ ہونے کے برابر..! 
ملک انس اعوان
کنہٹی گارڈن ، وادی سون ،خوشاب،پنجاب ،پاکستان

کتاب ازیت

0 comments

یادوں کی لائبریری میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب "کتاب اذیت" ہے، جس کی ایک سطر پڑھنے سے نظر دوسری سطر پہ پہنچ جاتی ہے، سطر در سطر، ورق در ورق، باب در باب، اور جلد سے جلد کھلتی چلی جاتی ہے اور احساس بھی نہیں ہوتا ہے کہ امید کا سورج کب اُگا اور کب کرب کی پستیوں میں غروب ہو چکا. ایسا  لطف انگیز کرب جو اندھے نشے کی طرح تن بدن میں زہر کی طرح پھیل جائے. جب آنکھوں اور حلق میں موجود لاوے کی طرح  ابلتا طوفان رستہ نہ پاکر دل کے  اندر بہنا شروع کر دے تو چہرے اس سکون سے روشناس ہوتے ہیں جو کتابوں، تجزیوں، تحریروں کا نچوڑ نہیں ہوتا بلکے آپ کے اپنے زاتی نفس کُش تجربات کا حاصل ہوتا ہے جو اپنے آپ میں کامل اور بے قیمت شے ہے.

ملک انس اعوان

دین کی راکٹ سائینس

1 comments
بالخصوص" دین "اسلام کوئی Super Natural چیز نہیں ہے کہ جس کو سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے آپکوکوئی مخصوص قسم کا چُغہ یا دستار پہننی پڑے گی(اس اعتبار سے کہ یہ فرض نہیں ہیں )،دور دور کا سفر کرنا پڑے،کہیں مجاور بن کر بیٹھنا پڑے گا یا کئی خفیہ راز ہیں جن کو حاصل کرنا پڑے گا، دین توچلتے پھرتے کاروبار دنیا کے بیچ رہتے ہوئے احکام الہی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوۃ کی پاسداری کا نام ہے۔دین میں کوئی بھی چیز خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس میں کوئی جادو منتر یا Spell نہیں ہے۔خطبہ حجۃ الوداع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
وقد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعده إن اعتصتم به: کتاب الله، وأنتم تُسألون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأدّیت ونصحت،فقال بإصبعه السبابة، یرفعها إلى السماء وینکتها إلى الناس: اللهم! اشهد، اللهم! اشهد ثلاث مرات
(صحیح مسلم :۲۹۴۱، صحیح سنن ابی داود للالبانی :۱۹۰۵، ابن ماجہ :۱۸۵۰، الفتح الربانی :۲۱؍۵۸۸)
اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچا دیا اور خیرخواہی کا حق ادا کردیا۔
یہ سن کر آپﷺ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔‘‘ (الرحیق المختوم: ص ۷۳۳)
قابل غور بات یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا کوئی پہلو بھی عمل سے خالی نہیں چھوڑا ہے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس گواہی کے بعد اور اس گواہی میں اللہ تعالی ذوالجلال کو شامل کر لینے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی "اسم اعظم" ایسا رہ گیا ہو جس کو عام مسلمانوں تک نہ پہنچا دیا گیا ہو ، شریعت کے مسائل اور تعلیمات میں تو کہیں شرم رکھی ہی نہیں گئی ، ناخن کاٹنے سے سے کر کفن تک کے تمام مراحل میں مفصل اور مدلل احکامات ہمارے پاس اسلاف کی محنت اور کوشش سے موجود ہیں اور وہ احکامات ہر صورت حال میں تا قیامت "قابل عمل " ہیں ۔ اس دوران جدید مجتہدین اور صوفیاء اکرام کی جانب سے جو بھی Rocket Science ایجاد ہو گی اس کا موازنہ اس صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کے Model سے کیا جائے گا یاد رہے اگر کوئی عمل حرام اور حلال کے درمیان قائم Gray Area میں موجود ہوا تو اس میں اس عمل کو فوقیت دی جائے گی جو بالترتیب حلال کی جانب زیادہ مائل ہوگا۔


تحریر
ملک انس اعوان


بڑھتی عمر اور شعور

6 comments
بڑھتی عمر اور شعور  رفتہ رفتہ دنیا کی  رنگینیت کو زائل کر دیتے ہیں ۔دلچسپیاں متواتر  بدلتی اور پھر اختتام کی جانب بڑھتی چلی جاتی ہیں ،بالخصوص وہ لوگ  جو وقت سے پہلے بوڑھےہو جائیں وہ  تو   پانی کے ایک منہ زور  اور بے لگام دھارے پہ سوار ہوتے  ہیں ،اتنا ہیبت ناک کہ  اس  کا شور کانوں کے پردے پھاڑ دے ، جس کی سفیدی آنکھوں سے انکا نور چھین لے اوراس قدر سفاک کہ پانی جیسی بے رنگ چیز کو بھی سفید کر دے   تو اس کے سامنے جسم میں بہتا لہو کیا شے ہے؟
اتنا سب کچھ چھین لینے کے بعد جب وہ جگہ پائے تو اٹھا کر پتھریلے ساحل کے فرش پہ پٹخ ڈالے اور  اس قدر ٹھہراؤ اختیار کر لے کہ گمان ٹھہرنے لگے کہ یہ پانی تو کبھی یہاں سےکہیں گیا ہی نہیں تھا۔تو ایسی اضطراب انگیز کیفیت میں ہمت جواب دے دیتی ہے،خود کو بچانے کا اوراپنی بقا کا  خیال ذہن سے کوچ کر جاتا ہے  اور بالآخر  حواس اس سکون اور ٹھہراؤ کے واقعی موجود ہونے سے انکار کر دیتے ہیں ۔وہی بے حس جسم جو ساحل کے پتھریلے  فرش پہ پڑا تھا ایک اور طوفان کی تلاش میں خود کو گھسیٹنے لگتا ہے ۔ایسا طوفان جو شدت میں گزشتہ طوفان سے بڑا اور ہیبت ناک ہو جو اس قدر طاقت رکھتا ہو کہ حواس کے باقی ماندہ اجزاء کو بھی کچل ڈالے۔جب انحصار انسانوں پر ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے جبکہ آپکا  اللہ آپکا منتظر ہوتا ہے، آپ چل کر آتے ہیں تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔۔۔۔۔! آخر ہم اسکی مخلوق جو ہیں، ایسی مخلوق جس سے وہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے ۔اسی لیے کہتے ہیں کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا اللہ ہوتا ہے اور بے شک ہوتا ہے۔

ملک انس اعوان

پھر کوئی موم سا پگھل لیجیے

0 comments

پھر کوئی موم سا پگھل لیجیے
جدھر سے آئے ادھر کو چل لیجیے
بات کیوں حالت دل کی کیجیئے
آپ یہ موضوع ہی بدل لیجیے
ایک باقی ہیں آپ ہی صاف گو گویا
آپ بھی کوئی بات بدل لیجیے
ائے فتنہ پرور ائے فتنہ طراز
خموش... گفتگو میں خلل کیجیئے

ملک انس اعوان

میں پہلے اپنی اصلاح کروں گا

0 comments

پہلی وحی اترتی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  غار حرا سے اتر کر  معاشرے میں آ کر اسلام کی دعوت دیتے ہیں، یہ بھی الله کی حکمت تھی کہ قرآن مجید کا نزول بھی میدان عمل میں مکمل ہوا، حضور اکرم ص نے قرآن مجید کے مکمل نازل ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا بلکہ دعوت دنیا کے آگے پیش کر دی، یہاں تک کہ غزہ بدر میں حضور خود ان جگہوں کی نشاندہی فرماتے رہے اور بتاتے رہے کہ کس جگہ کس کافر کو موت آئے گی ، اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے جب اقامت دین کی جدوجہد صرف اس بنیاد پہ چھوڑتے ہیں کہ ابھی ہم اپنی اصلاح کر لیں باقی بعد میں دیکھیں گے، تو میں حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہوں. حلانکہ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ادھر اسلام قبول کیا اور اگلے ہی دن اپنی  اصلاح کا بہانہ بنانے کی بجائے  اور نماز روزہ  سیکھے بغیر خود کو میدان کارزار میں رب کے حضور پیش کر دیا.... یہی معیار صحابہ رض ہے یہی طریق طریق صحابہ رض ہے.......!
ملک انس اعوان

انسانیت.. ایک یتیم نظریہ

0 comments

ہیومن ازم سے متاثرہ افراد کا مجموعی طرز عمل اس طرح سے ہے کہ اگر وہ مجبوراً مسلمان ہیں تو انہیں اس کے مذہبی طبقے سے اختلاف ، اگر مجبوراً عیسائی ہیں تو عیسائیت کے مزہبی طبقے سے اختلاف، اگر مجبوراً یہودی ہیں تو مزہبی یہودی طبقے سے اختلاف، الغرض ہر مزہب کو اپنے نفس کے مطابق تبدیل کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث اس مزہب کے محافظین سے عداوت انکا شیوہ ہے،  مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تمام الہامی مذاہب میں سے عیسائیت ہی میں اتنی گنجائش ہے جہاں یہ نظریہ پھل پھول سکے اسی باعث عیسائی ممالک میں ہیومن ازم کے پیرو کار زیادہ ہیں  اور مجموعی طور پر انہی عیسائیت زدہ  انسانیت پرستوں کی بہتات ہے. جبکہ یہودیت اور اسلام میں اس کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے اور دین کو سمجھنے اور سمجھانے والا طبقہ زیادہ  اور مؤثر ہے اسی لیے ان مذاہب کے ماننے والوں میں انسانیت نامی نظریے کے پیرو کار بہت کم ہیں.
اب آجائیے دوسری جانب کسی بھی ہیومنیسٹ 
 کو پکڑ کر بٹھا لیں اور اس سے پوچھ لیں کہ جناب یہ آپکے مذہب کا مصدر کیا ہے تو  ان سے جواب نہ بن پڑے گا کیونکہ مزہب اتنا ہی پرانا ہے جتنی یہ دنیا،انسانیت بذات خود مذہب کی ہی اختراع ہے کیونکہ دنیا کے کسی بھی کونے کی معلوم تاریخ مزہب کے باعث ہی معلوم بن پڑی ہے ، آپ ایک لمحے کے لیے تمام مذاہب کو دنیا سے مٹا دیجئے اور دیکھیے کہ پیچھے "انسانیت" نام کی کیا چیز باقی بچتی ہے. کونسا سا قانون، کونسا ضابطہ کونسا انصاف، کونسا اخلاق، کونسا احترام دنیا میں باقی رہتا ہے. 
رہی بات ہم جیسے مسلمانوں کی تو ہمارے نزدیک معیار، ہم سے پہلے آنے والے تمام مذاہب کا احترام کے ساتھ  ہمارا اپنا مذہب جو کہ پچھلے تمام الہامی مذاہب کا سردار ہے. اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت، رحمت اللعالمین ہیں، لہذا ان کی تعلیمات سے متصادم ہر نظریہ چاہے وہ کسی مخصوص وقت یا دور میں کتنا ہی پر اثر اور فائدہ مند کیوں نہ ہو ہمارے نزدیک نا قابل قبول تھا، ہے اور رہے گا.
تحریر
ملک انس اعوان

کراماتِ فرنگی نان

0 comments
29 رمضان 1437 ہجری کی رات ہے آسمان ستاروں سے بھرا پڑا ہے صباشب درختوں سے اٹھکھیلیاں کر رہی ہے اور ایک وسیع سبزہ زار کے سامنے دو منزلہ خوبصورت قلعہ نما مسجد کے برقی قمقموں سے مزین صحن کے اندر امت مسلمہ کا با شرح جوان سر جھکائے، سراپا فکر و تدبر قرآن مجید کی آیات مبارکہ کی دھیمی مگر پرسوز آواز میں تلاوت کر رہا ہے. 
کچھ ہی دیر میں ایک صاحب ہاتھ میں  سبزیوں اور مرغ کے ٹکڑوں سے مزین فرنگی نان جسے اہل شہر پیزا کہتے ہیں تھامے ہوئے اس جوان کے قریب سے گزرتا ہے اور بغیر دعوت طعام دیے وہیں پہلو میں بیٹھ کر عین فرنگی ناز و انداز سے اس پکوان کی تمام لسانی و زہنی لذتوں سے شناسائی کی ابتدا کر دیتا ہے.....اب دوسری جانب کا منظر ملاحظہ 
فرمائیے...!
(تخیلِ اضافی) 
تلاوت کرتے ہوئے جوان کے لب سل جاتے ہیں، آنکھیں پھیل جاتیں ہیں اور آنکھوں کے ساحلوں پہ آنسوؤں کی لہریں آ دھمکتی ہیں، دل درد مند میں آہوں اور سسکیوں کی جھڑی لگ جاتی ہے. دل کے نہاں خانوں سے پیزا.... پیزا کی پر سوز صدائیں بلند ہوتی ہیں. 
مگر..... انسانیت تو شاید کب کی دم توڑ چکی اور خون سفید ہو چکے.....! 
اس پیزا کھاتے ہوئے آدمی کو رتی برابر بھی ترس نہیں آتا مگر اس جوان کو کیا معلوم تھا کہ یہی تو قبولیت کا وقت تھا اور اس کی دعا آسمانوں سے ہوتے ہوئے عرش تلک پہنچ چکی تھی. 
وہ جوان "ان الله مع الصابرین"  کا ورد کرتے ہوئے اور اپنے آنسو پونجھتے ہوئے دو نفل قضائے حاجت ادا کرتا ہے اور شدت غم سے نڈھال ہو کر مسجد کے ایے سی زدہ سرد  ہال میں لگے ہوئے اپنے بستر پہ لیٹ جاتا ہے مگر اس کی نگاہیں مسلسل کسی چیز کی جستجو میں مگن تھیں. 
(چند گھنٹے بعد) 
ایک نور کا ہالہ مسجد کے داخلی دروازے پہ نمودار ہوتا ہے، جوان کی بانچھین کھِل اٹھتیں ہیں، روں روں میں سرشاری پھیل جاتی ہے، چہرہ خوشی سے دمکتے لگتا ہے وہ بستر کو تیزی سے چھوڑتے ہوئے دیوانہ وار مسجد کے دروازے کی جانب دوڑتا ہے اور فرط جذبات میں اس فرشتہ صفت انسان سے بغل گیر ہو جاتا ہے جن کا نام باسط ہے اور وہ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے سابق ناظم مقام رہے ہیں. 
یہ دیوانگی، یہ سرشاری، یہ محبت، یہ الفت، یہ خلوص اس لیے ہے کہ ان کے دست مبارک میں کچھ اور نہیں بلکہ ایک عدد لارج سائز "پیزا" ہے......! 
احباب خاص کو بلایا جاتا ہے راقم الحروف کو بھی دوران استراحت اطلاع دی جاتی ہے  اور دعوت دی جاتی ہے جسے وہ خندہ پیشانی سے قبول فرماتے ہیں اور عین موقع پہ اس جوان کی کرامات کا اعتراف کرتے ہیں، یاد رہے ان کرامات کا سلسلہ صبح سحری تک جاری رہا اور سنت اعتکاف 2016 کے دوران پہلی بار اسی جوان کی دعا کی بدولت بوقت سحری  لسی شریف کا دیدار نصیب ہوا. 
یہ جوان بلکہ عظیم جوان کوئی اور نہیں فیصل اقبال گوپے راء تھے. یہ سارا واقعہ اس بطل عظیم کی کرامات تھیں یا اس مکمل روحانی ماحول کا اثر بہر حال جو بھی تھا انتہائی غیر معمولی تھا.
تحریر 
ملک انس اعوان

روشنی ابھرتی ہے

0 comments

روشنی ابھرتی ہے
روشنی لپکتی ہے
صبح کے ستاروں میں
علم و فکر کے دھاروں میں
روشنی مچلتی ہے
روشنی کا مسکن تو
روشنی ہی ہوتی ہے
روشنی کی راہوں میں
جو جسم و جاں جلاتے ہیں
دست و قلم چلاتے ہیں
اہل ہوس کے تیروں سے
جسم و بدن کے زخموں سے
روشنی ہی پاتے ہیں
کہ روشنی کی راہوں میں
روشنی ہی بکتی ہے
روشنی ہی ملتی ہے
روشنی ہی ڈھلتی ہے
آبلہ پا سے مسلسل
روشنی پگھلتی ہے
روشنی کی راہوں میں
روشنی ہی مرکز ہے
روشنی ہی محور ہے
روشنی ہی حاصل ہے
روشنی ہی مقدر ہے

ملک انس اعوان

(مصر کے اس بطل عظیم اور روشنی کے مسافر کے نام کہ جن کا دیا ہوا نظریہ اسلام عرب و عجم کے نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بن چکا ہے
امام حسن البناء شہید رح )

تمہیں حق ہے

0 comments

تمہیں حق ہے
کہ مجھکو خاک زاروں میں گھسیٹو تم
میری داڑھی کے ہر اک بال کو جڑ سے اکھیڑو تم
میرے بازو جسم کی قید سے آزاد کردو تم
تمہیں حق ہے
کہ میرے ناخن اکھیڑ ڈالو تم
جو چاہو کرو پابند کرو آہنی فصیلوں میں
کہ میری آہ کو بھی قید کرلو تم
تمہیں حق ہے
مجھے ذلت کے ٹکوں کے بدلے بیچ ڈالو تم
میرے بچے اٹھا کر قید خانے بھیج ڈالو تم
سارے ضبط کے امتحاں بھیج ڈالو تم
تمہیں حق ہے
کہ میں ہوں توحید کا فرزند
مجھے یقیں ہے کہ حق بیاں ہے میرا
سو زباں میری گدی سے کھینچ ڈالو تم
تمہیں حق ہے
کہ تم ہی ر یاست ہو
مجھے دہشت گرد کہہ کر مار ڈالو تم
کسی خاموش سی اک رات میں مجھے
انکاؤنٹر میں مار ڈالوں تم
تمہیں حق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ملک انس اعوان

یادداشتیں

0 comments

نانا جان بوجہ علالت بستر پہ لیٹے ہوئے تھے انکا دیہان بٹانے کے لیے ان کے پاؤں کی قریب بیٹھ گیا اور پوچھا کہ ناناجان آپ جماعت اسلامی سے کب متعارف ہوئے؟
ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے کہ آپ کے جب میں جوان ہوتا تھا تو آپ کے دادا ابو اور ان کے چند دوست جن کا مختلف چکوں سے تعلق تھا اکٹھے رہا کرتے تھے، آہستہ آہستہ میری انسے شناسائی بڑھی اور یہ شناسائی جلد ہی دوستی میں بدل گئی،  یوں چند جماعتیوں کے اندر ایک اور جماعتی کا اضافہ ہو گیا. وہ دن اور آج کا دن کہ برادری اور گاؤں مختلف ہونے کے باوجود یہ شناسائی دوستی اور پھر تیزی سے دوستی سے رشتہ داری میں بدل گئی.
میں سوچنے لگا کہ
یہاں قابل غور بات تحریک اسلامی کے کارکنان کی وہ متاثر کرنے کی صلاحیت ہے جو کہ سید ابوالاعلی مودودی رح کے بقول ایک ایک کارکن میں بدرجہ اتم مطلوب ہے. اور یہی خاصیت تحریک اسلامی کی اندرونی اور بیرونی طاقت اور تعداد کو جِلا بخشتی ہے.
16 /6/2016
چیمہ ہارٹ کمپلیکس گجرانوالہ