جوتیوں کا سبق

0 comments

سرخ رنگ کی نئی گاڑی جو سیاہ سڑک کو روندتے ہوئے جھیل کے کنارے کنارے بھاگی جا رہی تھی، دور دور پھیلے ہوئے پانی پہ سفید شفاف دھند اپنے پر کھولے ہوئے آسمان کی نیلاہٹ کو ڈھک رہی تھی، پچھلی سیٹ پہ ٹیک لگائے میں شیشے سے باہر کے مناظر دیکھ رہا تھا ، اگلی سیٹوں پہ براجمان افراد بھی چپ تھے ، کچھ دیر میں ایک صاحب پیچھے مڑ کے میری جانب دیکھتے ہیں، حسب عادت نہ تو میرے زبان سے کچھ الفاظ بر آمد ہوئے اور نہ ہی میں نے چند لمحوں کے لیے گاڑی رکنے کا کہا بلکہ اشارہ کیا کہ چلتے رہیے.گاڑی کی رفتار مزید تیز ہو گئی اور آہستہ آہستہ جھیل کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے پہاڑوں کے درمیان بنی ہوئی اکلوتی سڑک پہ دوڑنے  لگی، سڑک کے ساتھ ہی  حد نگاہ بھی محدود ہونے لگی. اور مجھے قدرے آسانی اور  راحت محسوس ہونے لگی کیونکہ  اب بولنے والے منظر آنکھ سے اوجھل ہو چکے تھے،بس ایک ہی طرز کے، قریباً ایک ہی شکل کے پتھر تیزی  کے ساتھ آنکھوں کے سامنے سے گزر رہے تھے اس قدر تیز کے ان کو پہچاننا ممکن نہیں ہو پارہا تھا، بالکل زندگی کی رفتار کی طرح جہاں ہم وقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ٹھیک طریقےسے چہروں کو  دیکھ بھی نہیں پاتے ہیں،باتیں کہہ نہیں پاتے ہیں اور مواقع وقت کی رفتار میں بے طرح گنوا دیے جاتے ہیں . مگر جب مطلع صاف ہوتا ہے،  کھلے کھلے منظر نظر آتے ہیں، جب کچھ کہنے اور ٹھہرنے کے مواقع  وقت خود فراہم کرتا ہے تو وہاں سے بھاگ جانے اور کہیں دور چلے جانے کو دل چاہتا ہے .
زندگی کے بے ثبات پنجرے میں یوں جان اٹک جاتی ہے کہ کھلی فضا میں بھی دم گھٹنے لگتا ہے.
سوچتے سوچتے وقت کا اندازہ بھی نہیں ہو پاتا. لوگوں کی دنیا میں واپس آتا ہوں تو گاڑی ایک چھوٹی سے مسجد کے سامنے نماز کے لیے رک چکی تھی.بظاہر تو شام کی تاریکی پھیل چکی تھی مگر میرے اندر امید کا چاند  ایک بار پھر طلوع ہو چکا تھا.
وہ جو مالک کُل کائنات ہے، اس نے کچھ تو طے کر ہی رکھا ہو گا....... بس یہی سوچ کہ نماز ادا کی، اور مسجد کے صحن میں باقی صاحبان کا انتظار کرنے لگا .مسجد کی سیڑھیوں پہ کوئی ہمارے آنے سے پہلے ہی ہماری جوتیاں سیدھی کر کے جا چکا تھا. اور جاتے ہوئے ہم بھی وہاں بعد میں آنے والوں کی جوتیاں سیدھی کر کے وہاں سے اس امید پہ روانہ ہو گئے کہ یہ سلسلہ اب جاری رہے گا.
اس ایک مغرب کی نماز کے بعد کئی سوالات حل ہو چکے تھے.

ملک انس اعوان
11 دسمبر 2016
بمقام: سرحد صوبہ پنجاب و خیبر پختون خواہ،

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔