یہاں سے دور
بہت دور
وہاں کی بات ہے یہ
جہاں پہ فاصلےدرحقیقت
کچھ نہیں ہوتے
زہن خاموش
دل کی زباں ہوتی ہے
اس گلستاں میں خزاں کا ڈر
حشر سے بڑا ہوتا ہے
اس قدر پاکیزہ کہ وہاں پر
کوئی منظر نہیں ہوتا
ہو بھی تو بن نہیں سکتا
کہ نظر بھی حیا کرتی ہے
وہاں خدا کرے کہ اک پھول
جس کی پیاس سدا
شبنمی قطروں سے بجھے
رنگ جس کے نہ پھیکے پڑیں
اسکی ڈالی پہ روز رنگ نئے کھِلیں
سب موسموں میں رُتوں میں
گردشِ ماہ و سال میں
ائے باد صبا
یاد رہے۔۔۔!
اس کی تازگی برقرار رہے
------
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔