باباجی کی بات۔۔پتے کی بات

0 comments

آج شام اولڈ کیمپس کے گراؤنڈ میں والی بال کھیلتے ہوئے ہماری واحد عینک نے جام شہادت نوش کیا۔نئی عینک کے حصول کے لیے ہم بازار گئے اور عینک پسند کی اسی دوران ہمارے دائیں جانب ایک بابا جی بھی عینک بنوا رہے تھے جو وقتً بوقتً نظر کی افادیت اور حفاظت پر روشنی ڈال رہے تھے۔وقت گزارنے کے لیے ہم بھی انکے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو گئے ۔چلتے چلتے بات مولویوں تک جا پہنچی ،،با با جی نے ایسی بات کی جو میرے دل پر نقش ہو گئی وہ کچھ اس طرح سے تھی کہ
" بیٹا صدقہ دیا کرو یہ تمام بلاؤں کو کھا جاتا ہے،اور مولوی ایسی بلا ہے جو صدقے کو بھی کھا جاتا ہے"
میں بے ساختہ ہنسنے لگا ۔۔۔اور تا دم تحریر مسکرا رہا ہوں۔۔۔۔۔
(ملک انس اعوان)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔