یہ جامعہ مسجد و مدرسہ احیائے اسلام شیخوپورہ کا دروازہ ہے،مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے،اندر تل دھرنے کو بھی جگہ موجود نہیں ہے۔سب کی آنکھیں دروازے پر لگی ہوئی ہیں اور کسی شخصیت کا بے تابی سے انتظار ہو رہا ہے۔۔زرا سا شور اٹھتا ہے ۔میں اپنے والد سے ہاتھ چھڑا کر دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہوں ۔دور سے ایک گاڑی مسجد والی تنگ گلی میں داخل ہوتی ہے۔دروازہ کھلتا ہے اور قاضی حسین احمد آہستہ آہستہ چلتے ہوئے مسجد کی طرف آ رہے ہیں۔میں آگے بھیڑ میں سے آگے بڑھتا ہوں قاضی صاحب کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہوں ۔آگے بڑھ کرہاتھ ملا لیتا ہوں۔قاضی صاحب کے ہاتھوں کا لمس ، چہرے پر نہایت ہی خوبصورت سی مسکراہٹ ،اور وہ مخصوص آواز میں پوچھنا
"اسلام علیکم ! بیٹا کیسی طبعیت ہے؟"
میرے حافظے میں بلکل اسی آب و تاب کے ساتھ تازہ ہے۔جب بھی ان کی کوئی تصویر دیکھتا ہوں تو میری اس پہلی ملاقات کا احوال سامنے آ جاتا ہے۔بچپن مین انکی سب تصاویر جہاں سے بھی ملتیں اکٹھی کر لیا کرتا۔جب بھی ٹی وی پر دکھائی دیتے والد صاحب اور سب گھر والوں کو بھاگ کر بلاتا کہ دیکھو قاضی صاحب ٹی وی پر آئے ہیں۔لیکن اب وہ آواز جس پر فلسطین سے لے کر کشمیر تک کے مسلمان لبیک کہتے تھے، اپنے پرائے جس کی عظمت کے معترف تھے اب ہم میں موجود نہیں ہے لیکن میرے سینے میں وہ نعرے نقش ہیں جو میں بچپن میں لگایا کرتا تھا اور اپنے بڑے ناظمین سے سُنا کرتا تھا۔
"ہم بیٹے کس کے؟ "
"قاضی کے"
"ہم جئیں گے"
"قاضی کے"
"ہم ساتھ لڑیں گے"
"قاضی کے"
اپنے امیر سے ایسی محبت کا شاید غیر تحریکی لوگ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔اور میری خوشقسمتی کہ میں بھی قاضی کے
لشکر کا ایک عدنی سا کارکن ہوں ،اور اس عہد کو تا دم آخر نبھاؤں گا۔۔۔انشاءاللہ
تحریر











v nice
شکریہ