کہاں ہیں ناز ماضی کے
کہاں ہیں مان یاروں کے
طلب کیجے نا اب صاحب
کہاں ہیں یار یاروں کے
فقت یوں ہی کبھی گویا
خیالوں کی وسیع دنیا
کناروں تک چڑھا پانی
اُمڈتے شام کے سائے
لپک کر چھین لیتے ہیں
مجھ سے دنیا کی رعنائی
سنو! کس پر ہے حق میرا
کسے پرواہ میری تھی
فقط ایسی ضرورت تھی
جو مجھ بن ممکن نہیں ہوتی
تو یوں ہی سلسلہ جوڑو
ضرورت مدِ نظر رکھو
چلو ممکن کرو یوں ہی
کہ سب کچھ طے شدہ رکھو
کہ پھر سے ٹوٹ جانا ہے
مجھے مجھ سے پرے رکھو
حقیقت سے پرے ہو کر
اب اپنے یار گنتا ہوں
سبھی بے کار گنتا ہوں
سنو! وہ اتنے زیادہ ہیں
کہ گنتی میں نہیں آتے۔۔۔۔
(ملک انس اعوان)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔