وقت ہے کہ تھمتا ہی نہیں ہے۔ہاتھ میں جکڑے ریت کے زرات کی مانند پھسلتا جا رہا ہے۔ہم کسی بے جان ،پیلاہٹ زدہ ،خشک پتے کی طرح وقت کے دھارے پر بہے جا رہے ہیں۔کچھ خبر نہیں کہ کہاں ہم آخری بار روئے زمین کا نظارہ کریں گے اور گہرائی کی تاریک پستیوں کی جانب دھکیل دیےجائیں گے۔کب صبح کے نکلے پنچھی دن بھر کی اُڑان کے بعد سر شام اپنے شکستہ آشیانوں کو لوٹ جائیں ۔وہ سنھری کرن جس نے مشرق سے اپنا سفر شروع کیا اورگلیوں، کھلیانوں، پختہ نیم پختہ مکانوں،بلند و بالا عمارتوں،تنگ گھروندوں سے ہوتے ہوئے مغرب کی آغوش میں دم توڑ دیتی ہے۔کہیں درد و غم سے پتھرائی ہوئی ضعیف آنکھیں ریلوے سٹیشن کےجنگلے کے اُس پار شہر کی پُر رونق زندگی کو سمیٹے کی کوشش میں تھک کر واپس لوٹ آتی ہیں۔ایک ہی نسل کے انسان ایک ہی دنیا میں ایک ہی جگہ پر شاید اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ان سب احساسات کا تعلق تو محسوس کرنے سے ہے۔کبھی کبھی یہ احساسات اس قدر قوی ہو جاتے ہیں کہ زبان و بیان کی ضرورت دم توڑ دیتی ہے۔اور یہ خودبخود روح کی مانند آپ کی ذات میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔آپ موسموں اور رویوں کو سمجھنے لگتے ہیں۔ہر چیز اپنا مطلب واضح کرنے لگتی ہے۔ہر رنگ اپنا آپ اور اپنے مزاج کو دکھلاتا دکھائی دیتا ہے۔بلندیوں سے آتا پانی اونچائی کی کہانیاں اور قصے سناتا محسوس ہوتا ہے۔ہر قدم پر ایک نیا منظر روبرو ہوتا ہے۔سمجھ نہیں آتا کہ واقعی یہ حقیقت میں موجود ہے؟ یا صرف زہن کے فضول و فرسودہ خیالات ہیں؟
شہر خالی جادہ خالی کوچہ خالی خانہ خالی
جام خالی سفرہ خالی ساغر وپیمانہ خالی
تحریر











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔