حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر اپنے اندر کئی سمندروں کی وسعت سمیٹے ہوئے ہے۔اسی ایک شعر میں ہمارے ماضی کی تلخ حقیقتیں اور مستقبل کا لائحہ عمل چھُپا ہوا ہے۔ہماری تاریخ میں بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے بہت سے عبرت کے مقام ہیں ۔لیکن ہم اکثر مر وجہ دستور کے تابع ہو کر اس اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یاد رکھیےکہ ایک مسلمان سب سے پہلے اپنے رب کا بندہ ، محمد عربی ﷺ کا غلام اور امت مسلمہ کا یاک فرد ہے۔
ابو الیمان، شعیب، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگ دوسری امتوں سے باعتبار زمانہ اگرچہ اخیر کے ہیں لیکن مرتبہ میں بہت آگے اور بلند ہیں۔
(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 223 حدیث مرفوع مکررات 9 متفق علیہ 8)
حبان عبداللہ یونس زہری حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت معاویہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ بوجھ عنایت فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اور یہ امت ہمیشہ مخالفین پر غالب رہے گی اور قیامت آنے تک غالب رہے گی۔
(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 380 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8)
آپ قرآن مجید سے لے کر احادیث مبارکہ پرح لیجے ہر جگہ جس کی بڑائی اور طاقت کو بیان کیا گیا ہے وہ ہے امت مسلمہ ۔کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ فلاں قوم کو فلاں قوم پر برتری یا امتیاز حاصل ہے۔ہر جگہ امت کا تصور موجود ہے۔ ایک لمحے کے لیے اپنے آپ کو قوم کی زنجیر کی آزاد کروا کر دیکھیے کہ آپ اس وقت کہاں کھڑے ہیں ۔کہیں ہم ،پاکستانی ہیں ، کہیں بھارتی ، کہیں بنگالی ، کہیں ایرانی ، کہیں افغانی لیکن تلاش کے باوجود آپ کو مسلمان اور امت مسلمہ نظر نہیں آئے گی۔
یہی تو وہ بنیادی فرق ہے جو ہم اور غیر مسلموں مین موجود ہے کہ ہم چاہے کسی بھی قوم ، زبان ، رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں لیکن ہمارا سب سے بلند اور عظیم رشتہ
لا إله إلا الله محمد رسول اللہ
کا ہے جس کو پڑھ لینے کے بعد ہم تمام نسبتوں سے آزاد ہو کر اللہ تعالی کے لشکر میں شامل ہو جاتے ہیں۔
ہماری بد قسمتی رہی ہے کہ مغلیہ دور سے لے کر برطانیہ راج تک ہم مسلمان اس خطعہ زمین پر اسلامی نظام نا فذ کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔
1944 سے 1923 تک خلاٖفت عثمانیہ کا دور رہا ۔جس کے ٹوٹتے ہی امت کا تصور مزید پستی
کا شکار ہو گیا۔مسلمانوں میں رہی صحیح امید بھی جاتی رہی۔1947 کو برصغیر مزید 2
حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔یعنی ایک پر ایک تقسیم ہوئی اور اس دوران مسلمانوں کی
کتنی ہی نسلوں نے غلامی کے دن کاٹے، اس غلامی میں
نہ تو پہلے کی طرح تعلیم و تربیت کا کوئی معقول انتظام موجود تھا۔اور اگر
تھا بھی تو سر سید احمد خان کے نظریات پر مبنی جن سے صرف تاج برطانیہ کے وفاداروں
کی ہی تیاری مقصود تھی۔ اسی نسل نے چل کر
آگے پاکستان کے انتظام کو اپنے ھاتھ میں لے لیا۔ چناچہ بنیادی تعلیم و تربیت نہ
ہونے کے وجہ سے اس اشرافیہ نے دنیا میں جاری و ساری مختلف نظاموں اور نظریات سے
متاثر ہو کر پاکستان کو اس کے لیے تجربہ گاہ بنا دیا ۔کیوںکہ مسلسل غلامی نے جو
احساس کمتری اس قوم میں پیدا کر دیا تھا اب اس کا شکار پوری طرح سے قوم کو بنایا
جا رہا تھا۔
پھر دنیا میں کمیونزم کا چرچا ہوا پاکستان میں
ایک بڑی تعداد ان نظریات سے متاثر ہوئے بِنا نہ رہ سکی۔مسلمانوں کو توڑنے کے لیے
سب سے آسان حربہ قومیت پسندی ہے۔یہ نفرتوں کے بیج جس کا پھل پاکستان نے 1971 میں
حاصل کیا تھا اس کو ایک عرصہ پہلے ایک خاص مقصد کے تحط بویا گیا تھا۔ مغربی
پاکستان میں موجود سیاسی منظر نامے پر جو لوگ نمایاں تھے ان کا ووٹ بنک صرف اسی
صورت میں بن سکتا تھا کہ اگر وہ ملک کی خستہ حالی کا تمام تر ذمہ دار مشرقی
پاکستان کو ٹھرائیں ۔پہلے اس کو تربیتی مراحل سے گزارا گیا تو یہ حربہ امید سے
زیادہ کامیاب نکلا۔
جبکہ مشرقی پاکستان میں 1947 سے ہی بھارتی
تنظیمیں بنگال کی علیحدگی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھی۔باربار بنگالی
عوام کو مغربی پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسایا جاتا رہا۔
بنگال کی علیحدی میں سب سے بڑا کردار اُن ہندو
اساتذہ کا تھا جو کہ اُس دور میں اعلی تعلیم یافتہ تھے اور سکولوں اور کالجوں مین
نئی نسل کی ایک خاص طریقے سے ذہن سازی مین مشغول تھے جن کے بنیادی پوائنٹس لسانی
اور نسلی اختلافات تھے۔مثلاً
مغربی پاکستان میں بنگال کا پیسہ استعمال کیا جا
رہا ہے۔
پاکستان کے لوگ بنگالیوں سے نفرت رکھتے ہیں اور
اعلی عہدوں پر نوکریاں دینے سے گریزاں ہیں۔
اس تمام تر پراپیگنڈہ کا سامنا جماعت اسلامی
متحدہ پاکستان کرتی رہی ۔سکولوں اور کالجوں میں اسلامی جمعیت طلبہ نے اس نظریے کا
سامنا کیا اور امت کو کلمے کی بنیاد پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران جب بنگلہ
دیش کے حالات قابو سے باہر ہوئے تو مغربی پاکستان نے بنگال کے اندر ایک ملٹری
آپریشن کا آ غاز کیا ۔جس کے باعث بنگالی عوام میں مغربی پاکستان کے لیے مزید نفرت
پیدا ہو گئی۔نفرت کی یہ دراڑیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہری ہوتی چلی گئیں۔دوسری
طرف مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو
نے " اِدھر ہم اُدھر تم" کا
نعرہ بلند کر دیا۔دونوں اطراف سے نفرت کا سبق پڑھا جانے لگا ۔یہ وہ وقت تھا جب
بھارت بنگال میں متحدہ پاکستان کے باغیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے میں کوئی
کسر باقی نہیں چھوڑ رہا تھا۔
25مارچ 1971 مین پاک فوج کے آپریشن کو روکنے کے لیے بھارت نواز مُکتی باہنی کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس کا مقصد پاکستان کے خلاف مسلحہ جدو جہد کو عام بنگالی عوام میں مقبول کروانا تھا۔جبکہ ان کے مقابلے مین پاک فوج کے ہمراہ رضاکار، الشمس ،البدر اور جماعت اسلامی پاکستان شانہ بشانہ موجود رہی۔
رضاکار فورس میجر جنرل محمد جمشید کی سربراہی میں تشکیل دی گئی۔یہ نیم مسلحہ قوت کے طور پر پاک فوج کے ہمراہ تھی۔اس میں زیادہ تعداد اردو بولنے والے بنگالیوں کی تھی۔
15 مئی 1971 کو جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوری نے بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے میجر ریاض حسین ملک کی سربراہی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا نام البدر فورس رکھا گیا۔اس کا رضا کار فورس سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اس کا مقصد گوریلا طریقے سے مُکتی باہنی کے مکروہ عزائم کو ناکام بنانا تھا۔
ایک واقعہ:
البدر کے شہداء کی لازوال قربانیاں سُن کر آ نکھوں مین آنسو بھر آتے ہیں ۔ایک بار ایک عبدالرحمن نامی جمعیت کا نوجوان البدر کے کمانڈر کے پاس آیا اور کہا کہ میرا بھائی مکتی باہنی کی مدد میں ملوث ہے اگر آپکا حکم ہو تو میں اسکو گرفتار کر کے لے آؤں؟۔ دوسرے روز وہ نوجون اپنے سگے بھائی کو گرفتار کر کے لے آیا۔کمانڈر نے تفتیش شروع کی تو پتہ چلا کہ یہ پہلے ہی البدر کے ٹھکانے کا مُکتی باہنی کو بتا چکا ہے ۔یہ سنتے ہی عبدالرحمن بندوق اُٹھاتا ہے اور اپنے سگے بھائی کے سینے میں گولی اُتار دیتا ہے۔یہ تھی اسلامی جمعیت طلبہ کے محب وطن نوجوانوں کی تربیت کا اثر۔
بنگال میں حالات بدتریج بگڑنے لگے اور پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن 16 دسمبر 1971 آن پہنچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے جنرل نیازی نے 93000 پاکستانی فوجیوں سمیت بھارتی افواج جے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کی سب سے بڑے ہار تھی۔یہاں میرے قلم نے مزید کچھ لکھنے انکار کر دیا ہے۔۔آج میرا سر شرم سے جھک گیا کیونکہ میں نے سُن رکھا تھا کہ مسلمان یا غازی ہوتا ہے یا شہید لیکن 1971 میں اس کے علاوہ ہم تیسری اصطلاح سے بھی مانوس ہوئے جو تھی نہ غازی نہ شہید صرف "فوجی"۔۔۔۔۔
آج بھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش ،پاکستان کے ساتھ کیے ہوئے اپنے وعداِ وفا کی قیمت خون دے کر چکا رہی ہے۔۔۔
ہمیں اپنے کیے کا آج بھی فخر ہے ہم یا غازی ہوئے تھے یا شہید ۔۔۔۔۔پاکستانیوں البدر کی 10000 سے زائد قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کرنا۔۔۔۔۔کیوںکہ جو قومین اپنا ماضی بھول جاتیں ہیں۔۔۔ان کا نام صحفہ ہستی میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔۔۔اور انشاءاللہ ہم بنگہ دیش کا بدلہ ضرور لیں گے ۔۔۔۔۔
آخر میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کی کچھ تصاویر جو آ پکی محبت میں اپنی جان آ فرین کے سپرد کرتے رہے۔۔۔
تحریر
ملک انس اعوان
















Insha Allah hum zror bdla lyn ge Un shadon k khoon ka
Bhut khob....