خاص لوگوں کے خاص مسائل

0 comments
دنیا میں انسانوں کی 2 اقسام ہوتی ہیں،ایک وہ جو چلتے ہیں اور  دوم وہ جو ان انسانوں کو چلا تے ہیں۔بے شک چلانے والے انسان کم ہوتے ہیں اور خاص صفات کے مالک ہوتے ہیں۔یہی صفات تو ہیں جن کی بدولت وہ باقی انسانوں سے جدا اور قدرے منفرد نظر آتے ہیں۔دھیما پن، ٹھہراؤ،مستقل مزاجی،صبر،،بیک وقت کئی زاویوں سے صورت حال کا ادراک،بدلتے ہوئے مزاجوں اور رویوں پر نظر  اور اس تبدیلی کے نتیجے میں پیش آنے والے حالات کا اندازہ، یہ سبھی وہ چیزیں ہیں جو ایک خاص آدمی میں موجود ہونی چاہییں۔میرا ذاتی خیال کچھ یوں ہے کہ یہ تمام خصوصیات اگر پیدائشی ہوں تو کیا کہنے،ورنہ انہیں تجربے کے ساتھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ایک بات ہمیشہ ذہن نشین رکھیے کہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں  ہر چیز کوشش سے ملتی ہے۔اور کوشش کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔اس سیڑھی کا پہلا اصول یہ ہے کہ  جب بھی کوئی فیصلہ کیجے تو اس پر قائم رہیے لیکن تب تک جب تک اس کا فائدہ آپ کو مستقبل قریب یا بعید میں نظر  آتا رہے۔جیسے ہی آپ سمجھیں کہ اب اس فیصلے کی افادیت ختم ہو گئی ہے تو پیچھے ہٹ جائیں۔اس طرح پیچھے ہٹنے سے آپ آپنے مؤقف میں مزید پختگی لا  سکتے ہیں۔صحیح اور غلط کا میعار وہی ہے جو کہ حقیقت میں موجود ہے لیکن اس میں فی زمانہ کچھ ردو بدل بھی ضروری ہے جیسے آپ لوگوں کے سامنے وہ آپشنز رکھیں جو ان کے لیے سب سے قابل عمل بھی ہو آپ کا بھی کام نکلتا ہو۔یہ اسی طرح ہے  کہ جیسے آپ ایک بھینس کے طلب گار کو صرف دودھ کے چند سیر پر ٹرخا رہے ہوں۔

کُل کیونکہ جز  پر مشتمل ہوتا ہے اور انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر جُز ایک دوسر سے جدا اور منفرد ہے۔لہذا جب بھی عوام کا سامنا ہو تو ہمیشہ مشترکات پر گفتگو کیجیے اور انہی مشترکات پر ان لوگوں میں اتفاق پیدا کیجیے۔لوگوں میں سے مزید ایسے لوگ تلاش کریں جو عام آدمی کے میعار سے زرا اوپر ہوں اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو سب سے کار آمد ہوتے ہیں اور ان کا اثر بالکل ذیلی حلقوں  تک ہوتا ہے۔یہاں سے آپکو ایسے افراد مل سکتے ہیں جو آپکے بعد آپکی جگہ ذمہ داریاں سر انجام دے سکتے ہیں۔
خاص بننے کے بعد کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں جو بہر حال ہونے ہی ہوتے ہیں ۔کیونکہ آپ اِس وقت اپنی ذاتی حیثیت سے نکل کر  اجتماعی حیثیت میں آ جاتے ہیں ۔یہاں آپ خود سے زیادہ ان لوگوں کی جاگیر تسلیم کیے جاتے ہیں جن کے ساتھ آپ کو واسطہ ہوتا ہے۔لیکن اس دوران آپ کے انتہائی قریبی وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جن کو آپ عام حالات میں سب سے زیادہ وقت دیتے ہیں ۔اپنی ذات میں منفرد چیزوں کو جمع رکھیے تاکہ لوگوں کا آپ کے اندر تجسس برقرار رہے۔آپ جتنا اپنے آپ کو بند اور چھُپا کر رکھیں گے لوگ اتنا آپ کے قریب آنے کی کوشش کریں گے۔کیونکہ انسان کی فطرت سے کہ وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ جاننے کی لگن میں لگا رہتا ہے۔اس لیے لوگوں کو مناسب مقدار میں معلومات فراہم  کرتے رہیے۔ہر انسان  ایک الگ سوچ  اور خیال کا مالک ہوتا ہے۔اور ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ حالات کو وہ اپنے مطابق ڈھال لے۔اس لیے جب بھی کسی اجتماع سے کسی حوالے سے مشورہ لینا ہو تو سب سے پہلے اپنی ترجیحات مرتب کیجیے،ان ترجیحات  کالوگوں کی اکثریت سے موازنہ کیجیے اور ایسی صورت حال پیش کیجیے کہ لوگ آپکے نقطہ نظر پر متفق  ہو سکیں۔اگر مکمل متفق نہیں ہو سکتے تو کسی خاص حصے میں اتفاق کر لیجیے۔ اکثر اوقات اپنی بات منوا لینے سے ایک انتہائی برا اثر پڑتا ہے چناچہ ہمیشہ درمیانی رستہ اختیار کیجیے۔

لوگ ہمیشہ طعنے کسنے اور آپ کا مورال گرانے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ایسی صورت حال میں ہم شور اور آواز کے درمیان فرق کو سمجھ لیں۔شور کو نظر انداز کرتے جائیں اور  آوازوں پر دیہان دیتے جائیے۔انہی آوازوں سے اپنے رستے کھوجیں اورراہنمائی حاصل کریں۔یاد رہے کہ یہ آوازیں ہمیشہ بڑوں اور آپ کے مخلص دوستوں کی ہوا کرتیں ہیں۔اور ایسی آوازوں کو کسی صورت نظر انداز مت کیجیے۔
تحریر 
انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔