محسوسات سے معنی کی دنیا تک
منصورہ ڈگری کالج لاہور کی جامع مسجد ہے۔رات کے پچھلے پہر باہر
شدید دھند اور سردی ہے،نیند نہ آنے کے باعث
مسجد کے باہر ٹہلنے لگتا ہوں جب سردی برداشت سے باہر ہوتی ہے تومیں مجبوراً صحن میں آ جاتا ہوں ۔ صحن میں ایک طرف مدرسے کے
بچوں کے قرآن مجید ،سپارے اور دینی لٹریچر پڑا ہوا ہے۔الماری
کے اوپر نوابشاہ ( سندھ)سے تعلق رکھنے
والے کسی ساتھی کی ڈائری اور اس کے نیچے
ایک کتاب پڑی ہوئی ہے۔بغیر سرورق دیکھے کتاب کھولتا ہوں اور پڑھنے لگ جاتا ہوں۔کتاب کے پہلےدو تین صفحات پڑھنے کے
بعد ایک جملے پر نظر رک جاتی ہے اور وہ جملہ کچھ یوں تھا کہ ''اصل کام تو محسوسات کی دنیا سے سے نکل کر
معانی کی دنیا میں انقلاب برپا کرنا ہے''۔
ہم
اکثر بہت سی چیزوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، محسوس کر رہے ہوتے ہیں اور ایک حد تک
انکا اثر بھی قبول کر رہے ہیں لیکن ہم انکو اکثر و بیشتر بیان کرنے سے قاصر ہوتے
ہیں۔یہی معاملہ میرے اور اس چھوٹے سے جملے
کے ساتھ تھا۔مجھ جیسے زرا تھوڑا مختلف سوچنے والے لوگ (عرف عام میں دماغ سےہلے
ہوئے)زیادہ تر اسی محسوسات کی دنیا کے شاہسوار ہوتے ہیں اور اسی میں زندہ رہتے ہیں
اور اکثر اپنی ہی قائم کی ہوئی دنیا کے خواہشات کے محل
میں دم گھٹنے کے باعث دم توڑ دیتے ہیں ۔اس کی بڑی وجہ معانی کی دنیا سے خوف ہوتا
ہے۔یا س کی مثال کچھ یوں ہے کہ جیسے ایک کبوتر اپنی موت کے کامل یقین ہونے کے
باوجود بھی بلی کے سامنے آنے پر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور یہی گمان کرتا ہے
کہ بلی اب غائب ہو چکی ہے اب وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
محسوسات
کی دنیا معانی کی دنیا سے بہت مختلف اور بے جوڑ ہے۔یہاں زمین سے لے کر آسمان اور
ان کے درمیاں سب کچھ آپ خود اپنی مرضی اور منشا سے ترتیب دیتے ہیں۔اور یہاں ردو
بدل کی بھی کوئی قید موجود نہیں ہوتی۔اور یہاں ہم جن چیزوں کو رکھتے ہیں وہ زیادہ
تر وہی ہوتی ہیں جن سے وہ محروم ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ایک قیدی کی محسوسات کی
دنیا کا زیادہ ترحصہ آزادی اور ان تمام چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے جس سے وہ دوران قید
دور ہوتا ہے۔دوسرے معنوں میں محسوسات کی دنیا آپ کی محرومیوں کی دنیا ہوتی ہے۔یہ
دنیا اس قدر رنگین ،خوبصورت اور دل سوز ہوتی ہے کہ اس سے باہر نکلنے پر حقیقی زخم
مزید گہرے اور تکلیف دہ محسوس ہوتے ہیں۔
اور
ان سب سے زیادہ تکلیف دہ لہجے ہوتے ہیں
۔جیسا کہ انگلش کا ایک محاورہ ہے
“Rome was not
built in a day”
بالکل
اسی طرح لہجے اگر بدلے ہوئے ہوں تو ان کے پیچھے بھی بہت سے محرکات ہوتے ہیں۔اور جب
لہجوں کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی تلخ ہو جائیں تو حساس لوگو ں کے لیے یہ بہت بڑی
پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔لہجے اور الفاظ بالکل خام ہوا کی طرح ہوتے ہیں جن کی
نہ تو کوئی شکل ہوتی ہے اور نہ تاثیر مگر یہ جذب کرنے کی لازوال طاقت رکھتے ہیں۔ جب
ہوا چمن سے گزرتی ہے تو خوشبودار ہو جاتی ہے۔سمندر سے گزرتی ہے تو ٹھنڈی ،آتش فشاں
سے گزرتی ہے تو گرم اور جب کوڑے کرکٹ سے گزرتی ہے تو تعفن زدہ ہو جاتی ہے۔اسی طرح
ہمارے بولے ہوئے الفاظ اور ان بیان کردہ الفاظ کے لہجے دراصل بولنے والے کے اندر کے حالات کو واضح کر رہے
ہوتے ہیں۔جب دل میں نفرت یا چِڑھ پیدا ہو جائے تو الفاظ اور لہجے بھی دل کا اثر پکڑتے ہیں اور
سننے والے پراپنا ایک گہرا اثر چھوڑ جاتےہیں۔محسوسات کی دنیا ایک دلدل ک طرح ہے جہاں آپ جتنا سوچنے لگتے ہیں اتنا ہی اس دلدل میں
دھنستے چلے جاتے ہیں۔اگر آپ مخلص ہیں تو دل بڑا رکھیے، امتحانات کے لیے تیار رہیے
کچھ بھی کھونے اور توڑ دینے کے لیے تیار رہیے۔انسان کی فطرت ایسی ہے کہ جیسا خود
ہوتا ہے ویسا ہی سوچتا ہے،ویسے ہی خیالات اس کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں اور بالکل
ویسے ہی کی وہ دوسرو ں سے توقعات رکھتا ہے۔تو جب مخلص کو خلوص کے بدلے میں خلوص کی
بجائے نفرت ہی ملے تو یہ سوچنے کا مقام ہے۔اپنے کیے اور اپنے ساتھ ہوئے کو بغور
پرکھنے کا مقام ہے۔یہاں اس موقع پرمحسوسات کو آپکے حوصلے کا کڑا امتحان مقصود ہوتا
ہے۔آپ کو اپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے
ہوئے بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔
محسوسات
کا عروج اس مقام پر ہوتا ہے جہاں آ پکی مرضی کسی اور کی مرضی میں داخل ہو جاتی
ہے۔آپکی پسند کسی اور کی پسند میں ڈھل جاتی ہے۔آپکا خیال کیس اور کے خیال سے میل
کھانے لگتا ہے۔وہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جن کی پسندکسی اور کی پسند بن جائے یا جن
کی خواہشات کو کوئی اور اپنی خواہشات بنا
لے۔بصورت دیگرے اپنے اوپر ظلم لازم ٹھہر جاتا ہے۔یا یوں کہئے کہ عذاب در عذاب کسی دوسرے کی طبیعت کو سہنا پڑتا ہے۔
رہی
بات معانی کی دنیا کی تو یادرکھیے کہ محسوسات کی دنیا ہی آپکی معانی کی
دنیا کی اساس ہے۔محسوسات آپکی حقیقی زندگی میں بنیاد کی سی حیثیت رکھتے ہیں
۔کیونکہ خواب ،خواہش اور ارمان کا تعلق محسوسات سے ہے۔اور عمل محسوسات کےمحتاج
ہوتےہیں۔آپ جو کچھ سوچتے ہیں،جس چیز کی خواہش کرتے ہیں اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے
حقیقی دنیا میں کام سرانجام دیتے ہیں۔
قابل تحسین ہیں وہ لوگ جن کے کوئی خواب نہیں ہوتے،جن کی کوئی آرزو نہیں ہوتی،جن کا
کوئی ارمان انکا ذاتی نہیں ہوتا۔جن کی ہر خواہش کسی دوسرے کی پیدا کردہ ہوتی ہے۔ان کا خیال کسی اور کے
ذہن کا خیال ہوتا ہے۔یہی تو وہ سپردگی ہے جو خدا ئے بزرگ و برتر کو اپنی مخلوق سے
مطلوب ہے۔وہ ذات باری بھی تو یہی چاہتی ہے
کہ ائے بندے تو میری رضا میں راضی ہو جا
۔پھر دیکھ میں کس طرح تیری رضا میں راضی ہو جاتا ہوں۔لیکن اگر یہی صفت آپ خدا کے
علاوہ مخلوق میں سے کسی سے چاہ رہے ہیں تو اپنی سمت درست فرما لیجیے۔ورنہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند
کر لیجیے اورمستقل آنکھیں بند ہونے تک یہی گمان رکھیے کہ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔
تحریر
ملک
انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔