دو بزرگ خواتین علیحدہ علیحدہ اسٹریچر پہ لیٹی ہوئی تھیں، جبکہ ہم اتفاقاً سر والی جانب کھڑے ہوئے تھے، اسی اثنا میں پاس سے ایک لیڈی ڈاکٹر گزریں، جن کے گزرنے کے بعد درد سے کراہ رہی ایک خاتون دوسری خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگیں
"نیں بھینڑیں ڈاکٹرنی دا سوٹ تے ویکھ "
(بہنا زرا اسی ڈاکٹرنی کے کپڑے تو دیکھنا)
بس اس کے بعد دونوں خواتین نے درد تکلیف بھلاتے ہوئے باہمی دلچسپی کے امور پہ سیر حاصل گفتگو شروع کر دی.
کچھ دیر بعد ہم ہمت جمع کر کے بولے، خالہ جان اللہ توبہ کریں یہ کوئ جگہ ہے ایسی باتیں کرنے والی؟
آگے سے جواب یہ آیا..
"ویکھ ہاں وڈا آیا مولوی"
😂😂
ملک انس اعوان
بمقام :میو ہسپتال لاہور
Ad
موضوعات
آمدو رفت
ڈاکٹرنی
0
comments
جنت سے جنت الفردوس
0
comments
ہم منصورہ کی جامعہ مسجد کے باہر کھڑے ہوے تھے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے آئے ہوئے ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، محض جماعت اسلامی پاکستان کا مرکز دیکھنے بھارتی پاسپورٹ پہ پاکستان تشریف لائے ہوئے تھے.
ہم نے جب یہ کہا کہ آپ تو جنت سے تشریف لائے ہیں تو وہ بولے کہ "اس طرح کہیے کہ جنت سے جنت الفردوس میں آیا ہوں "
مختصر سی گفتگو کے بعد بولے کہ "بزرگ"(امیر جماعت) کہاں ملیں گے.
ساتھ ہی موجود ایک اور ساتھی نے بتایا کہ مسجد کے اندر ایک بھائی کا نکاح ہو رہا ہے وہیں موجود ہیں. وہ تو چلے گئے لیکن ہم حیرت سے وہیں کھڑے رہے کہ کہاں مقبوضہ کشمیر اور کہاں لاہور... واہ سید مودودی...! ❤️
ملک انس اعوان
جنت اور چائے
0
comments
بازار میں خوب گہما گہمی تھی، جٹ صاحب میز پہ رکھی ہوئی چائے کی پیالی کی دونوں اطراف ہاتھ دھرے گہری سوچ میں غرق تھے...
ادھر ہماری چائے نصف رہ چکی تھی،جیسے جیسے چائے ختم ہو رہی تھی ہمارا تجسس بھی بڑھ رہا تھا.....
ایسے میں ہم نے تمہیدی طور پہ گلہ صاف کر کے، پوچھا
"جٹ صاحب کیڑیھیاں سوچاں وچ او ؟"
جٹ صاحب نے ایک گہری سانس لی اور کہنے لگے...
"یار انس ویکھ جے دنیا وچ چا دا ایے ذائقہ ایے تے جنت وچ کی عالم ہووے گا....!"
(یار انس اگر دنیا میں چائے کا اتنا اچھا ذائقہ ہے تو جنت کی چائے کیسی ہو گی)
ہم بھی فرطِ جزبات میں آ کر میز پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولے....
"یارا ایہ گل تے میں کدی سوچی وی نئیں سی "
ملک انس اعوان
رئیس ٹینکی اور جمعیت
0
comments
رئیس ٹینکی اور جمعیت
جن دنوں والد محترم پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کی جمعیت کا حصہ تھے ان دنوں اسلام پورہ کے ریہائشی" رئیس ٹینکی" نامی بلند قامت نوجوان کی غنڈہ گردی عروج پر تھی، موصوف ہر دوسرے دن جمعیت کے پرچم پھاڑ دیا کرتے تھے. ایک روز والد محترم اور انکے چند دوستوں کی اسی غنڈے سے جامعہ کے اندر حادثاتی ملاقات ہو گئی.
ابا جان اور انکے ساتھ موجود لڑکے تعداد میں کم تھے لیکن پھر بھی انہوں نے رئیس ٹینکی کو روکا اور پرچموں کے حوالے سے بات کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ
ہمیں معلوم ہے کہ آپ ایک دو سالہ بچے کے والد اور والدین کے لاڈلے بیٹے ہیں، جمعیت کے پرچم پھاڑنے سے آپکو کیا ملے گا، آپ پھاڑتے رہیں گے اور ہم لگاتے رہیں گے، لیکن جن لوگوں کے ایما پہ آپ یہ سب کر رہے ہیں ایک دن انہی کے ہاتھوں آپ کا انجام ہوگا، آپ سے پہلے بھی لوگوں کا یہی انجام ہوا ہے، اپنا نہیں تو اپنے والدین اور بچے کا ہی خیال کیجیے "
صورتحال کشیدہ ہونے کہ بجائے دونوں اطراف کے لوگ منتشر ہو گئے.
اس واقعے کے کم و بیش 28 دن کے بعد رئیس ٹینکی کو انکے اپنے ساتھیوں نے کسی تنازعہ پہ حمام میں دوران غسم برسٹ مار کر سینے کے دو حصے کر دیے تھے.
اسی رئیس ٹینکی کا ایک دوست ہسپتال میں والد صاحب کے ساتھ والے بیڈ پہ لیٹا ہوا ہے، اور اس کے چند اور دوستوں کے علاوہ رئیس کو کوئی بھی نہیں جانتا ......!
جمعیت کو مٹانے والے کئی آئے اور چلے گئے....
لیکن جامعہ پنجاب میں آج بھی جمعیت کا بول بالا ہے.
میرے والد یعنی ملک مسعود احمد کو کل بھی اپنے انتخاب (جمعیت) پہ ناز تھا اور آج بھی انہیں اس پہ فخر ہے. اسی جمعیت سے انکا بیٹا یعنی کہ میں بھی سابق ہو چکا ہوں ... اور ان شاءاللہ(آمین بالجہر) اگلی نسل بھی اس تحریک کا ایندھن ثابت ہو گی.
جئے ہزاروں سال..... جمعیت ❤️
ملک انس اعوان
12 فروری 2018