عالمی طاقت اور ریاستیں

0 comments

عالمی سطح پر عالمی طاقتوں نے اپنے مقاصد کو جن کو کوئی بھی کوئی بھی نام دے دیا جائے، گزشتہ کچھ عرصے میں دوسری ریاستوں کو اس طرح استعمال کیا کہ استعمال ہونے والی ریاستوں نے اسے اپنی بقا سمجھا ہے، اور اس so called بقا میں عزت و جان تک کو بے دریغ صَرف کیا ہے. آج  تمام شراکت دار اپنے اپنے حصے کی کارکردگی اور نتائج کو سمیٹ رہے ہیں. یہاں بالکل غیر جانبدار ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس ہاہوکار کے درمیان اتنے بڑے ، منظم اور جدید فوجی structures  اور Think tanks کی موجودگی کے باوجود چند non state actors (چاہے وہ کسی مخصوص وقت میں کسی سے بھی مدد وصول کرتے رہے ہوں) کے آگے بے بس اور مجبور نظر آ رہے ہیں. شاید قومی ترانے اور قومی اداروں کی ذہن سازی آپکو یہ تسلیم کرنے سے روکے مگر حقیقت یہی ہے کہ طاقت کے گزشتہ نظریات اس وقت مادی و مالی وسائل کی بھر پور مدد کے باوجود اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں تاحال ناکام رہے ہیں.
کیونکہ ہم بھی ایک قوم کا حصہ ہیں اس لیے ہم شاید یہ سوچتے ہیں کہ آج امریکہ کے مقابلے میں چین آ جائے گا، مگر کینوس کا یہ منظر بھول جاتے ہیں کہ وہی طاقت جو آج ہمارے لیے زیر بحث ہے چند غیر ریاستی قوتوں کے آگے بے بس ہے. ہم ابھی تک ایسی قوتوں کو عالمی طاقت کا stakeholder نہیں سمجھتے ہیں ،ان کو stakeholder نہ سمجھنے کا سب سے زیادہ نقصان شاید ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے. اس کے علاوہ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ طاقت کا یہ non state نظریہ اگر عالمی سطح پہ prevail کرتا ہے تودنیا کے نقشے پہ جدید منظر نامہ کیا بنتا ہے ؟...... یہ وہ نقطہ ہے جس پہ دنیا بھر کی ریاستیں وسائل صَرف کر رہی ہیں.
انس

باعزت بَری

0 comments

گنگا رام ہسپتال کے مرکزی دروازے پہ فیملی کے ساتھ کھڑے ہوئے موٹر سائیکل سوار نے جیسے ہی ہیلمٹ سر سے اتارا، ٹریفک وارڈن چالان کی بدنام زمانہ کاپی لیے موٹر سائیکل کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے . اس کے بعد موصوف کے آدھ درجن اہل خانہ نے روایتی جوش و خروش میں آ کر وارڈن محترم کا خوب گھر پورا کیا. ایسے ایسے پنجابی جملوں کا تبادلہ کیا گیا کہ خدا کی پناہ، قصہ مختصر وارڈن صاحب کو ہسپتال کے گارڈز نے آ کر بے عزت بری کروایا ......!

ملک انس اعوان

مگروں لایاہ

0 comments

بہت ہی تنگ گلی میں آمنے سامنے کثیر المنزلہ شادی ہال بنے ہوئے تھے، ایک ہی شادی ہال میں بیک وقت اوپر اور نیچے نیز بیسمٹ میں بھی شادی کی تقاریب چل رہی تھیں ...... ہوا یوں کہ گلی نما سڑک پہ ٹریفک جام ہوگیا، اب نئے نویلے شادی شدہ جوڑے شادی ہال کے دروازوں پہ کھڑے اپنی اپنی سجی ہوئی گاڑیوں کا انتظار کر رہے تھے.... جہاں سائیکل نہیں گزر پا رہی تھی وہاں گاڑی کیا گزرتی بالآخر شدید گرمی میں شیروانیاں پہنے دلہہ برادران نے اپنا وزن اپنے یاروں کے کندھے پر ڈال دیا اور دلہنوں کو انکے والدین نے بیس کلو کی بوری کی طرح اٹھا کر دور کھڑی گاڑیوں میں پہنچایا......بلکہ یوں کہیے "مگروں لایاہ " 😂

ملک انس اعوان

خط بنام عادل فیاض 2

0 comments

ریہائش گاہ ،اسامہ طاہر غیر شادی آبادی ،لائل پور
18 اگست 2018
محترم عادل فیاض بھائی
السلام علیکم! امید ہے کہ آپ صحت و ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے، تحریک اسلامی کے لیے آپ جو محنت کر رہے ہیں وہ جدید ابلاغی وسائل کے توسط سے ہمیں وقتاً فوقتاً معلوم پڑ رہا ہے(معنی خیز مسکراہٹ) . قصہ مختصر گزشتہ خط میں آپنے جس پوٹھوہاری جگت بازی سے کام لیا تھا وہ اپنے آپ میں ایک عجوبہِ انداز تحریر ہے، نیز املا کی عام غلطیوں نے خط کو چاند تاروں سے بھری ایک کہکشاں بنا دیا تھا. یقیناً جگت بازی سمیت ایسے بہت سے میدان ہیں جہاں راقم الحروف قبل از تقابل شکست تسلیم کرتا ہے، ان الفاظ کو محفوظ رکھیے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے.
ارے ہاں نامہ بر کے بقول آپ اسامہ غیر شادی آبادی کے ہاں آئے ہوئے تھے چناچہ انکو ہماری جانب سے ترس بھرا سلام پیش کیجیئے، سید عاشر عرفان کاظمی کی خدمت میں بھی سلام پیش کیجیئے گا. برادران کے ذکر سے یاد آیا کہ عثمان جکھڑ بھائی حادثے میں اپنے چہرے کی ہڈی تڑوا بیٹھے ہیں، یہ سنتے ہی دل ڈوب گیا مگر چند اسباب کی بنا پر موصوف کی غیر مرئی عیادت بھی نہیں کر سکا، ممکن ہو سکے تو ہمارا حالِ دل ان تک پہنچا کر شکریے کا موقع عطا کیجیئے . ممکن ہو سکے تو کل غریب خانہ تشریف لے آئیں کیونکہ بروز پیر بندہ ناچیز رزق حلال کمانے کی جدوجہد میں مصروف ہو گا ،اگر آپ آتے ہیں تو آپ کو پچھلی بار کی طرح بابا وارث شاہ رح کے دربار کے" مخانے" کھلاؤں گا. دربار پہ گزشتہ حاضری کے دوران آپ نے اپنی شادی کی جو دعا کی تھی شاید وہ ایک اور حاضری کا تقاضہ کر رہی ہے. اس بار ایک کی بجائے دو دیے جلا کر دیکھتے ہیں. آخر کوشش کرنے میں حرج ہی کیا ہے.آپ کے جوابی شاہکار کا بے چینی سے منتظر ہوں.
آپ کا بھائی
عاجز ناچیز خاکسار احقر ادنی پست نمانا محمد انس اعوان
آستانہ عالیہ گھریلویہ مستقلیہ شیخوپورہ شریف

خط بنام عادل فیاض 1

0 comments
اقامت خانہ برائے طلبا، عالمی اسلامی مدرسہ اسلام آباد
17 اگست 2018
محترم عادل فیاض بھائی
السلام علیکم! امید ہے کہ آپ صحت و ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے . اور تحریک اسلامی کی سماجی میڈیا پہ جدو جہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہوں گے. آپکا برقی خط فیس بک میسنجر پہ موصول ہوا جس میں آئی فون توڑنے کے حوالے سے مشورہ دیا گیا تھا.آپ کے ترک النسل ہونے کا گمان اپنی جگہ، عالمی بین الاقوامی حالات اپنی جگہ مگر مجھے آپ کی اس بات پہ شدید حیرت ہوئی کیا آپ جانتے نہیں کہ گزشتہ 2 سال سے ایک مقامی کمپنی کا تیار کردہ "کیو موبائل ایل ٹی سیون ہنڈرڈ پرو شریف" ہمارے زیر استعمال ہے. چنانچہ اس کو توڑنے کا نہ تو امریکہ کو نقصان ہوگا اور نہ ترکی کو فائدہ البتہ ایک غریب اور معقول شخص اپنے دکھ درد کے ساتھی سے محروم ہو جائے گا.
علاوہ ازیں آپ کی خیریت مطلوب ہے، جلدی خط لکھ کر آگاہ کیجیئے گا. شادی آپ نے کی نہیں وگرنہ لگتے خط بھابھی کو سلام بھیج دیتے اور بچوں کو پیار. دعاؤں میں یاد رکھیے.
آپکا بھائی
محمد انس اعوان
حامل اکاؤنٹ ہذا، آستانہ عالیہ مستقلیہ گھریلویہ شیخوپورہ شریف

چائے اور رنگت

0 comments

ہماری ذاتی کوشش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ من میں آئی لہر کے ہوتے سمے "چائے" کی تمام تر فیوض و برکات نیز جملہ خصوصیات سے سناشائی حاصل کر سکیں. بذبان اصحاب معلوم ہوا ہے کہ چائے نوشی کے سبب رنگت میں سیاہی اتر آتی ہے..... دیکھیے  بات تو یہ ہے کہ اگر آپ بحیثیت پنجابی رنگت کے حوالے سے پریشان ہیں تو بھلے پریشان رہیے کیونکہ manufacturing fault کو تو کسی صورت بھی درست نہیں کیا سکتا ہے.😂 اس سلسلے میں رنگت سے زیادہ اعمال کی فکر زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چہرے پہ عین فطری "نور" اعمال صالح سے مشروط ہے. اللہ کا شکر ادا کیجیئے اور شکرانے کی چائے پیجیے. بندہ عاجز ناچیز خاکسار عدنی پست نمانا کو دعاؤں میں یاد رکھئے.
آداب عرض ہے.... والسلام

ملک انس اعوان

خدیجہ کو انصاف دیجیے..!

0 comments

کئی ماہ پہلے  لاہور میں "Herself " نامی ایک ادارے کا "Fireside Chat with Khadija" کے عنوان سے پروگرام تھا, کافی دن سے میں اس کیس کے حوالے سے بہت کچھ سن چکا تھا،
ہال میں بیٹھے بیٹھے پروگرام کے آغاز سے پہلے  مختلف سائٹس پہ اس کیس کے حوالے سے پڑھتا رہا، بالآخر پروگرام کا آغاز ہوا اور گفتگو چلتی رہی، عموماً ایسی جگہوں پہ بات fundamentalism،مولوی حضرات پہ طعنہ زنی، جہالت وغیرہ سے شروع ہو کر معاشرے کی بے حسی پہ آ کر ختم ہو جاتی ہے. مگر مزکورہ خاتون خدیجہ کی گفتگو اللہ کے نام سے شروع اور بار بار اللہ سے امید اور یقین پہ ختم ہو رہی تھی، ہر سوال کے جواب میں یہی فارمیٹ چلتا رہا جس سے وہاں بیٹھے بائیں بازو کے عناصر کی حالت  غیر ہو رہی تھی.
میں کچھ اور سوچ کر آیا تھا لیکن جیسے جیسے گفتگو اختتام کی جانب جا رہی تھی میں مزید حیرت میں پڑتا جا رہا تھا.
سیشن کے اختتام پہ کسی دل جلے سرخے نے تمام مسائل کا حل سیکولر state بتایا تو میرے بولنے سے پہلے ہی حاضرین میں موجود ایک جدید تراش خراش والے صاحب نے موصوف کی وہ دھلائی کی جو شاید میں بھی نہ کر پاتا.
قصہ مختصر سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک جانب تو ہم لوگ ہیں جو اپنے علاقے کے چوہدری کے آگے بھی بات کرنے سے ڈرتے ہیں اور اکثر اسے حکمت کا نام دے کر کان لپیٹ کر سو جاتے ہیں،لیکن یہ ہمارا ہی معاشرہ ہے جس میں ہمارے علاوہ "خدیجہ" اور ایسے ہی دیگر لوگ بھی رہتے ہیں جو باقاعدہ ظلم کے خلاف اور ظالم نظام کے خلاف نکلتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں کوشش کرتے ہیں.  کہیں یہ کوشش سیاسی بھی ہوتی ہے، اجتماعی بھی اور  انفرادی بھی، لیکن ان سب کوششوں کو کرنے والے ہاتھوں کی مدد کرنے کے لیے کتنے ہاتھ آگے بڑھتے ہیں؟
یہ تعداد  افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرے کے اجتماعی شعور کی عکاس ہے. ہر قسم کے مظلوم بھلے وہ مسنگ پرسن ہوں یا  سسٹم کی کمزوریوں کا نشانہ بننے والی خدیجہ جیسے دیگر کردار، ان سب کی آنکھیں ہماری جانب اٹھی ہوئی ہیں. ہر ظلم پہ آواز اٹھائیے، بلا تفریق ان کو اپنے ہاں جگہ دیجیے ...یہ ادارے خدا نہیں ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں، ان میں سینکڑوں loopholes تاحال موجود ہیں جو موجودہ نظام حکومت میں صرف اجتماعی شعور کی بیداری سے ہی حل ہو سکتے ہیں.
یہی سوشل میڈیا یہی زرائع تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں، انکو مثبت تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے. کیونکہ ہم سب اس کے استعمال کے حوالے سے بھی جواب دہ ہیں.

#JusticeForKhadija

توم گرمائی

0 comments

دوران رمضان پوری امت بالعموم" توم گرمائی" میں مبتلا ہو جاتی ہے ایسے میں گرم تر تھپیڑوں اور دھوپ میں گر آپکو ہماری طرح ہفتے میں متعدد بار  سیونٹی سی سی پہ سوار ہو کر شیخوپورہ سے لاہور کا سفر کرنا پڑے تو زہن تشکیک کے کن کن مراحل سے گزرتا ہے.... خدا کی پناہ.....!
تمام سائے سمٹ کر موٹر سائیکل کے آگے آتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، اور موٹر سائیکل ایک عجیب کشش کے زیر سایہ ٹرک  وغیرہ سے بغل گیر ہونے کی کوشش میں سرگرداں رہتی ہے، جسے بار بار بذریعہ ہینڈل راہ راست پہ ڈالنا پڑتا ہے.
ارے ہاں اس کے علاوہ اگر  ذہن کوئی سوچ، سوچنے کی کوشش بھی کرے تو ذہن کو قسطنطنیہ اور غرناطہ کے باغات سے سول ہسپتال کے در و دیوار کا واسطہ دے کر کان پکڑ کر واپس لانا پڑتا  ہے.کیونکہ بقول شخصے سر میں لگی ایک چھوٹی سی چوٹ بھی اچھے بھلے انسان کو "یوتھیا" بنا سکتی ہے. توبہ توبہ.....!
اس سے بچنے واسطے ہم نے ایک عدد ہیلمیٹ خرید رکھا ہے، جس کا سہرا  لبرٹی چوک میں کھڑے اس طویل قابل بے رحم  اور سفاک ٹریفک وارڈن کے سر جاتا ہے جس نے اوائل میں ہی چالان کاٹ کر ہمارے "وہابی" ذہن کو غلطی تسلیم کرنے پہ مجبور کیا تھا.
عموماً ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سفر کے ضمن میں پیشگی ہی کوئی "موٹیویشن" گھڑ لی جائے، مگر آج صبح یہ نوبت ہی نہ آ سکی، کیونکہ آج فجر کے بعد کا درس ملی مسلم لیگ کے مذہبی ونگ سے تعلق رکھنے والے مدرس نے دیا تھا. اس لیے آج کے لیے اچھی خاصی موٹیویشن جمع ہو گئی ہے..... ایمان سے.... 😂
ارے ہاں یاد آیا کہ یہ اپنے وہی بھائی ہیں جو دعاؤں اور کارگزاریوں میں  کشمیر کے بعد سیدھا فلسطین کا ذکر کرتے ہیں اور درمیان والے ہمسایہ خطے کو دانستہ طور پہ "حزف" کر جاتے ہیں...!
وہ کسی شاعر کیا خوب کہا ہے...

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
"عقل" ہے محو تماشائے لب بام ابھی

لیجیے بات شروع کہاں سے ہوئی تھی اور پہنچی کہاں تک.... کیونکہ دل کی بات تھی، جہاں چاہے لے جائے اور جہاں چاہے پہنچا دے. شاد رہیے آباد رہیے... اور دعاؤں میں یاد رکھیے.

حامل اکاؤنٹ ہذا :

محمد انس اعوان
بشکریہ:
سوفٹ Swift کی بورڈ، کیو موبائل ایل ٹی سیون ہنڈرڈ پرو شریف

خدائے لم یزل

0 comments

خدائے لم یزل
تیری  ہی قدرت میں تو سب کچھ ہے
سمندر ہر طرف سے ہر زمیں پر بے کنارہ ہے
خدائے باری تعالی
یہ تیری رحمتوں کا استعارہ ہے
نظم ، تحریر، نثر شاعری میں کیا چھپایا ہے
یہ استعارے، معنی کے جو لبادے ہیں
اور ان کے درمیاں کیا ہے
سبھی کچھ جانتا تُو ہے
یہ ممکن ہے؟
مقام شرمندگی پہ کھڑا تیرا کوئی بندہ؟
پیاسا رحمت باری کی  بوندوں کو ترس جائے؟ ؟؟

ملک انس اعوان
14 - 4 -2018

سیال ہوا

0 comments

ہمیں افسوس ہے کہ شیخوپورہ آ کر ہوا اور بادلوں سے اپنی دوستی کو برقرار نہیں رکھ پائے ، اس میں قصور صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ اوروں کا بھی ہے. اول تو اب اہتمام سے ہوا کے انتظار میں بیٹھنا لاحاصل ہو چکا ہے کیونکہ سرسبز میدانی کھیتوں کو چھو کر آنے والی ہوا جب سڑک کے دونوں اطراف بھانت بھانت کے ان گنت کارخانوں کے سیاہی اگلتے بلند قامت دہانوں سے گزرتی ہے تو ان کی سیاہی اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کی پریشانیاں اپنے تن بدن میں بھر لیتی ہے. اب یہ بےزار ہوا اگر کارخانوں کے صحن پھاند پھاند کر ہمارے تک پہنچی بھی تو کیا پہنچی؟
ارے ہاں بادلوں کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے مگر میدانی علاقوں کے بادل زرا مختلف مزاج کے ہوتے ہیں، یہ اہل پنجاب کی طرح سادہ ہی ہوتے ہیں اور انکے بارے میں ہر اندازہ درست ثابت ہوتا ہے. یہ آجائیں تو برستے ضرور ہیں، اس لیے ان میں تجسس کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے. اس طرح انتظار کا لطف جاتا رہتا ہے. اور رہی بات بارش کی تو اس سے پہلے ہی نفرت کا رشتہ ہے، بھلے نفرت کا ہی صحیح مگر ایک تعلق تو ہے جو غیر مشروط طور  پر ایک طویل عرصے سے نبھایا جا رہا ہے ....!

ملک انس اعوان

ناکارہ

0 comments

خوش ہیں بہت کہ میں بھی تہِ دام آ گیا
ناکارہ تھا بلا کا کسی کام آ گیا

ساقی سے لڑ رہا ہوں مگر احتیاط سے
یہ دیکھیے کہ ہاتھ میں پھر جام آ گیا

دربار شاہ میں سبھی خاموش تھے مگر
مرشد وہی ہے جس کے سر الزام آ گیا

ملک انس اعوان

مفکر امردو

0 comments

ہمارے ایک مفکر دوست جن کو حلقہ احباب نے سنجیدگی سے پڑھنا شروع کر دیا تھا، یونیورسٹی میں چھٹیاں ہونے پہ اپنے آبائی گاؤں چلے گئے. کچھ دنوں بعد انکا میسج ملا کہ ہم اور ایک اور ساتھی فلاں تاریخ کو گاؤں آ جائیں ،امرودوں کا سیزن چل رہا تھا لہذا ہم طے شدہ تاریخ پہ انکے گاؤں چلے گئے، صبح 10 بجے کا وقت تھا اس وقت عموماً زمیندار طبقہ ڈیروں پہ ہی پایا جاتا ہے اس لیے ہم سیدھا انکے ڈیرے پہ جا پہنچے. بوہڑ کے درخت کے نیچے موٹر سائیکل کھڑی کر کے دیکھا تو شٹالے (چارے کی ایک قسم) کے کھیت کو چیرتے ہوئے مفکرِ امت ہماری ہی جانب آ رہے تھے.
سلام دعا کے بعد ہم وہیں پی چارپائی پہ بیٹھ گئے اور مفکرِ امت نے ملازم کو امرود لانے کے لیے بھیج دیا. کچھ ہی دیر میں ملازم امرودوں کے ساتھ واپس آ گیا. اب صورتحال یہ تھی کہ ایک جانب مفکر صاحب امت کے درد پھرول (ٹٹولنا) رہے تو دوسری جانب نہایت توجہ سے درانتی کی مدد سے امرودوں کے سینے کھول رہے تھے. اسی اثنا میں مغربی جانب کی پگڈنڈی سے انکے والد محترم جو ایک سخت لیکن دل کے کھرے آدمی ہیں، بھی ہماری طرف آتے ہوئے دکھائی دیے. انکے والد صاحب سلام دعا کے بعد پاس لگےدستی نکلے پہ اپنے چیکڑ والے جوتے دھونے لگے.
پہلے والا منظر تو آپ کو یاد ہی ہوگا. والد صاحب کی آمد کے بعد مفکر صاحب کی آواز تو دھیمی پڑ چکی تھی مگر سلسلہ کلام جاری تھا، بات پاکستان سے ہوتے ہوئے مشرق وسطی میں پہنچ چکی تھی.
انکے والد صاحب نے گیلے جوتے جھاڑتے ہوئے اونچی آواز میں بیان جاری کیا
"مفکر پتر جے اج اک وی مجھ بھکی رہ گئی ناں تے تیریاں چباریاں میں بھن دیاں گا"
یہ بات سنتے ہی مفکر امت نے درانتی سنبھالی اور قدرے خفگی کے تاثر کے ساتھ کہنے لگے
"یہ تو ہمارے معاشرے کا طرز عمل ہے!"
یہ سنتے ہی انکے والد محترم نے فرمایا
"معاشرے دی وی.... آہو"
در اصل انہوں یہاں آہو نہیں بولا تھا، یہ ہم نے لکھا ہے تاکہ آپ پنجابی زبان کی فصاحت و بلاغت کا ادراک کر سکیں 😂😂
اس کے بعد انکے ابا جان سے تو باہمی دلچسپی کے امور پہ ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے..... اس دوران کبھی کبھار شٹالے کے کھیت میں سے دانشور محترم کا سر برآمد ہوتا جو اپنے ابا جان کے متوجہ ہوتے ہی دوبارہ سبزے میں گم ہو جاتا 😂😂😂

ملک انس اعوان

عزیز دوست

0 comments

خیالات کے گھوڑے بھاگ بھاگ کر تھک چکے تھے. سر میں درد کی باریک ٹیسیں معلوم ہو کر معدوم ہوئی جا رہی تھیں. ہم سگریٹ نہیں پیتے تھے کہ جلا لیتے اور غبار دھوئیں میں اڑا دیتے لیکن  ہم نے انگوٹھی ضرور پہن رکھی تھی جسے ہم  دو سے تین بار اتار کر پہن چکے تھے.
خلا میں بھی دیکھ چکے تھے وہاں بھی ہمارے لیے کچھ نہیں تھا،کچھ بھی ایسا نہیں تھا کہ جس کو دیکھ کر ہم کچھ لمحات کے لیے اس میں محو ہو سکیں .
ریت کا وہ پہاڑ جو یہاں آنے سے پہلے ہم نے سوچ رکھا تھا ہاتھ میں پکڑی ریت کی مانند پھسلتا جا رہا تھا. اور اب اس پہاڑ کی جگہ ایک چٹیل میدان تھا جو ایک میز کا روپ دھارے ہماری نظروں کے سامنے پڑا ہوا تھا جس کی ایک جانب ہم دوسری جانب وہ بیٹھے ہوئے تھے.
ہم بات شروع نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس رسمی گفتگو میں کون کون سے جملے کس کس ترتیب سے ادا کیے جائیں گے اور اس کے بعد سکوت کا دور شروع ہو جائے گا ......... لیکن یہی قیامت کی خامشی ان رسمی جملوں کے تبادلے کے بغیر ہی اب تک قائم تھی.
ہم کس طرح اسے بتاتے کہ اس کے ایک ایک facial expression اور اس کے پیچھے کی کہانی کو ہم جانتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ یہ ٹھہر ٹھہر کر ادا ہونے والے مختص جملے کہاں پیدا اور کیسے پیدا ہوتے ہیں اور کیونکر ہم تک پہنچائے جاتے ہیں.
ہم کیسے بتاتے کہ ہم اسکی سوچ کو سطحی سوچ گردانتے ہیں اور اس کو بدلنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں. ایسی کوشش جو اس کے خالی پن کو تو بھر دے لیکن اس کے زہن کے فطری سانچے کو تبدیل نہ کرے. وہ جیسے ہیں وہ ویسے ہی رہیں لیکن بدل بھی جائیں. یہاں الفاظ کی تسبیح بکھرنے لگتی ہے.
کیونکہ ہمارا مطلوبہ "معنی"تمام جزئیات کے ساتھ اس کے ہاں defined نہیں ہے. لیکن یہ ہمارے بیان کی کمزوری ہے معنی کی نہیں. ہم نہیں چاہتے کہ کسی معنی کو  بیان کرنے کے کے لیے ہم استعاروں سے مدد لینے کی ناکام کوشش کریں مبادا وہ کچھ ایسا معنی نہ سوچ لیں جو ہمارا مقصود ہی نہیں...!
ہم کانچ سے بنے ہوئے معنی کے اس عالیشان محل کو ایک  استعارے کی  زد پہ نہیں رکھ سکتے.....!
خلوص کی حدود کو چھوتی ہوئی اس لطیف احتیاط کو کوئی نام دینے سے  پہلے ہی ہم واپس اسی کرسی پہ واپس آ چکے ہوتے ہیں اور اسی اثنا میں آہستہ آہستہ دور دور سے آنے والی باریک باریک آوازیں سکوت کا شیرازہ بکھیر کر شور کا طوفان برپا کر چکی ہوتی ہیں، جس میں محض طے شدہ رسمی جملوں کے   تبادلے ہی ممکن ہو پاتے ہیں.
لیکن...... ائے عزیز دوست اتنے سالوں کی ڈھیروں ملاقاتوں اور ملاقاتوں کے لاکھوں جملوں کے بعد بھی ایسا بہت کچھ باقی ہے جو نہ تو سنا جا سکا ہے اور نہ کہا جا سکا ہے.

ملک انس اعوان


زندہ لاش

0 comments

ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں ، سننے کے لیے کان ، بولنےکے لیے زبان،چلنے کے لیے ٹانگیں ،کام کاج کے لیے ہاتھ ،سوچنے کے لیے دماغ ، الغرض اپنے وجود کے ثبوت کے لیے آپ کے پاس ایک عدد جسم ہے ، اسی جسم کہ جس پہ آپ نے دور جدید سے مطابقت رکھنے واالا لباس زیت تن کر رکھا ہے ۔اس کے علاوہ آپ کے پاس ایک منفرد سی شخصیت ،حلقہ احباب ، یار ،دوست ،دشمن سب موجود ہیں ۔۔۔لیکن ٹھہریے !!!
آپ میں "احساس" نہیں ہے ۔۔۔۔معذرت کے ساتھ۔۔۔۔۔ انتہائی معزرت کے ساتھ میں آپکو کم از کم انسان نہیں کہہ سکتا، میں بول نہیں سکتا ، نہ ہی لکھ سکتا ہوں ۔ میرے نزدیک آپ ایک لاش ہیں ۔۔۔ایک خوبصورت ، زندہ ۔۔۔۔۔لاش۔۔۔۔۔۔۔!

ملک انس اعوان

ڈاکٹرنی

0 comments

دو بزرگ خواتین علیحدہ علیحدہ اسٹریچر پہ لیٹی ہوئی تھیں، جبکہ ہم اتفاقاً  سر والی جانب کھڑے ہوئے تھے، اسی اثنا میں پاس سے ایک لیڈی ڈاکٹر گزریں، جن کے گزرنے کے بعد درد سے کراہ رہی ایک خاتون   دوسری خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگیں
"نیں بھینڑیں ڈاکٹرنی دا سوٹ تے ویکھ "
(بہنا زرا اسی ڈاکٹرنی کے کپڑے تو دیکھنا)
بس اس کے بعد دونوں خواتین نے درد تکلیف بھلاتے ہوئے باہمی دلچسپی کے امور پہ سیر حاصل گفتگو شروع کر دی.
کچھ دیر بعد ہم  ہمت جمع کر کے بولے، خالہ جان اللہ توبہ کریں یہ کوئ جگہ ہے ایسی باتیں کرنے والی؟
آگے سے جواب یہ آیا..
"ویکھ ہاں وڈا آیا مولوی"
😂😂
ملک انس اعوان
بمقام :میو ہسپتال لاہور

جنت سے جنت الفردوس

0 comments

ہم منصورہ کی جامعہ مسجد کے باہر کھڑے ہوے تھے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے آئے ہوئے ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، محض جماعت اسلامی پاکستان کا مرکز دیکھنے بھارتی پاسپورٹ پہ  پاکستان تشریف لائے ہوئے تھے.
ہم نے جب یہ کہا کہ آپ تو جنت سے تشریف لائے ہیں تو وہ بولے کہ "اس طرح کہیے کہ جنت سے جنت الفردوس میں آیا ہوں "
مختصر سی گفتگو کے بعد بولے کہ "بزرگ"(امیر جماعت) کہاں ملیں گے.
ساتھ ہی موجود ایک اور ساتھی نے بتایا کہ مسجد کے اندر ایک بھائی کا نکاح ہو رہا ہے وہیں موجود ہیں. وہ تو چلے گئے لیکن ہم حیرت سے وہیں کھڑے رہے کہ کہاں  مقبوضہ کشمیر  اور کہاں لاہور... واہ سید مودودی...! ❤️

ملک انس اعوان

جنت اور چائے

0 comments

بازار میں خوب گہما گہمی تھی، جٹ صاحب میز پہ رکھی ہوئی چائے کی پیالی کی دونوں اطراف ہاتھ دھرے گہری سوچ میں غرق تھے...
ادھر ہماری چائے نصف رہ چکی تھی،جیسے جیسے چائے ختم ہو رہی تھی ہمارا تجسس بھی بڑھ رہا تھا.....
ایسے میں ہم نے تمہیدی طور پہ گلہ صاف کر کے، پوچھا
"جٹ صاحب کیڑیھیاں سوچاں وچ او ؟"
جٹ صاحب نے ایک گہری سانس لی اور کہنے لگے...
"یار انس ویکھ جے دنیا وچ چا دا ایے ذائقہ ایے تے جنت وچ کی عالم ہووے گا....!"
(یار انس اگر دنیا میں چائے کا اتنا اچھا ذائقہ ہے تو جنت کی چائے کیسی ہو گی)
ہم  بھی فرطِ جزبات میں آ کر میز پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولے....
"یارا ایہ گل تے میں کدی سوچی وی نئیں سی "

ملک انس اعوان

رئیس ٹینکی اور جمعیت

0 comments

رئیس ٹینکی اور جمعیت

جن دنوں والد محترم پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کی جمعیت کا حصہ تھے ان دنوں اسلام پورہ کے ریہائشی" رئیس ٹینکی" نامی بلند قامت نوجوان کی غنڈہ گردی عروج پر تھی، موصوف ہر دوسرے دن جمعیت کے پرچم پھاڑ دیا کرتے تھے. ایک روز والد محترم اور انکے چند دوستوں کی اسی غنڈے سے جامعہ کے اندر حادثاتی ملاقات ہو گئی.
ابا جان اور انکے ساتھ موجود لڑکے تعداد میں کم تھے لیکن پھر بھی انہوں نے رئیس ٹینکی کو روکا اور پرچموں کے حوالے سے بات کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ
ہمیں معلوم ہے کہ آپ ایک دو سالہ بچے کے والد اور والدین کے لاڈلے بیٹے ہیں، جمعیت کے پرچم پھاڑنے سے آپکو کیا ملے گا، آپ پھاڑتے رہیں گے اور ہم لگاتے رہیں گے، لیکن جن لوگوں کے ایما پہ آپ یہ سب کر رہے ہیں ایک دن انہی کے ہاتھوں آپ کا انجام ہوگا، آپ سے پہلے بھی لوگوں کا یہی انجام ہوا ہے، اپنا نہیں تو اپنے والدین اور بچے کا ہی خیال کیجیے "
صورتحال کشیدہ ہونے کہ بجائے دونوں اطراف کے لوگ منتشر ہو گئے.
اس واقعے کے کم و بیش 28 دن کے بعد رئیس ٹینکی کو انکے اپنے ساتھیوں نے کسی تنازعہ پہ  حمام میں دوران غسم برسٹ مار کر سینے کے دو حصے کر دیے تھے.
اسی رئیس  ٹینکی کا ایک دوست ہسپتال میں  والد صاحب کے ساتھ والے بیڈ  پہ لیٹا ہوا ہے، اور اس کے چند اور دوستوں کے علاوہ رئیس کو کوئی بھی نہیں جانتا ......!
جمعیت کو مٹانے والے کئی آئے اور چلے گئے....
لیکن جامعہ پنجاب میں آج بھی  جمعیت کا بول بالا ہے.
میرے والد یعنی ملک مسعود احمد کو کل بھی اپنے انتخاب (جمعیت) پہ ناز تھا اور آج بھی انہیں اس پہ فخر ہے. اسی جمعیت سے انکا بیٹا  یعنی کہ میں بھی سابق ہو چکا ہوں ... اور ان شاءاللہ(آمین بالجہر) اگلی نسل بھی اس تحریک کا ایندھن ثابت ہو گی.

جئے ہزاروں سال..... جمعیت ❤️

ملک انس اعوان
12 فروری 2018

پنجابی کیفیت

0 comments

آج صبح کچھ کاغذات کی وصولی کے سلسلے میں سرگودھا جانا پڑا، لوکل ٹرانسپورٹ میں شیخوپورہ سے سرگودھا کے لیے بندیال کوچ بہترین رہتی ہے. صبح تو سفر اللہ کے فضل و کرم سے اچھا گزرا مگر واپسی پہ جس گھٹنا نے ہمارا دل گھٹائے رکھا وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلے تو ہم دو سیٹوں والی رو میں بیٹھے، جہاں ہمارے ساتھ، ہم سے بھی دوگنی صحت کے صاحب تشریف فرما تھے مگر اور کوئی جگہ تھی نہیں سو بیٹھ گئے. الحمداللہ اللہ نے ٹانگیں ہی اتنی لمبی دیں ہیں کہ لوکل ٹرانسپورٹ میں کبھی کبھار ہی ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھنے کا موقع ملتا ہے، بشرطیکہ سیٹوں کے درمیان اتنی گنجائش موجود ہو.
بہرحال جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اسی طرح دو سیٹوں  پہ ہم جیسے دو افراد بشمول ہماری ٹانگیں نہیں رہ سکتے تھے ، چنانچہ اپنی سہولت کے لیے ہم نے امخالف رو(جس میں تین سیٹیں نصب ہوتی ہیں) نقل سیٹی (نکل مکانی کے اصول پہ) کر لی.
اب کچھ دیر بعد ساتھ والے صاحب کے سر میں درد ہونا شروع ہو گیا اور چند ہی لمحے بعد انہوں نے الٹیاں کرنا شروع کر دیں. میں نے ایک عدد مومی شاپر انکے حوالے کیا مگر اخلاق سے نابلد و غیر تہزیب یافتہ بندے نے اس تردد میں پڑنا پسند ہی نہیں کیا . وہ الٹی پہ الٹی کیے جا رہے تھے. گویا وہ پچھلے 1گھنٹے سے میرے ہی انتظار میں بیٹھے تھے کہ یہ آئیں گے تو ہی میں الٹیاں شروع کروں گا، خدا جانتا ہے، اور خدا معاف بھی کرے کہ ایک پنجابی ہونے کے ناطے ہم پہ وہ فطری کیفیت طاری ہو گئی جس میں ایک پنجابی اپنے حافظے کے زور پہ تمام ممنوعہ الفظ اور انکی تراکیب کو ایک آبشار کی طرح دل و دماغ سے زباں کی جانب روانہ کر دیتا ہے.
لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ایسے موقعوں پہ ہمیشہ کی طرح اندر کا جماعتی جاگ جاتا ہے اور زبان کے آگے بند باندھ دیتا ہے......!
اس وقت راقم الحروف اسی بس میں کھڑے ہو کر سفر کر رہے ہیں اور ایسی بے تکی تحریر لکھ کر اندر کے آتش فشاں کو دبا رہے ہیں.

صابر :انس اعوان
30 فروری 2018