کئی ماہ پہلے لاہور میں "Herself " نامی ایک ادارے کا "Fireside Chat with Khadija" کے عنوان سے پروگرام تھا, کافی دن سے میں اس کیس کے حوالے سے بہت کچھ سن چکا تھا،
ہال میں بیٹھے بیٹھے پروگرام کے آغاز سے پہلے مختلف سائٹس پہ اس کیس کے حوالے سے پڑھتا رہا، بالآخر پروگرام کا آغاز ہوا اور گفتگو چلتی رہی، عموماً ایسی جگہوں پہ بات fundamentalism،مولوی حضرات پہ طعنہ زنی، جہالت وغیرہ سے شروع ہو کر معاشرے کی بے حسی پہ آ کر ختم ہو جاتی ہے. مگر مزکورہ خاتون خدیجہ کی گفتگو اللہ کے نام سے شروع اور بار بار اللہ سے امید اور یقین پہ ختم ہو رہی تھی، ہر سوال کے جواب میں یہی فارمیٹ چلتا رہا جس سے وہاں بیٹھے بائیں بازو کے عناصر کی حالت غیر ہو رہی تھی.
میں کچھ اور سوچ کر آیا تھا لیکن جیسے جیسے گفتگو اختتام کی جانب جا رہی تھی میں مزید حیرت میں پڑتا جا رہا تھا.
سیشن کے اختتام پہ کسی دل جلے سرخے نے تمام مسائل کا حل سیکولر state بتایا تو میرے بولنے سے پہلے ہی حاضرین میں موجود ایک جدید تراش خراش والے صاحب نے موصوف کی وہ دھلائی کی جو شاید میں بھی نہ کر پاتا.
قصہ مختصر سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک جانب تو ہم لوگ ہیں جو اپنے علاقے کے چوہدری کے آگے بھی بات کرنے سے ڈرتے ہیں اور اکثر اسے حکمت کا نام دے کر کان لپیٹ کر سو جاتے ہیں،لیکن یہ ہمارا ہی معاشرہ ہے جس میں ہمارے علاوہ "خدیجہ" اور ایسے ہی دیگر لوگ بھی رہتے ہیں جو باقاعدہ ظلم کے خلاف اور ظالم نظام کے خلاف نکلتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں کوشش کرتے ہیں. کہیں یہ کوشش سیاسی بھی ہوتی ہے، اجتماعی بھی اور انفرادی بھی، لیکن ان سب کوششوں کو کرنے والے ہاتھوں کی مدد کرنے کے لیے کتنے ہاتھ آگے بڑھتے ہیں؟
یہ تعداد افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرے کے اجتماعی شعور کی عکاس ہے. ہر قسم کے مظلوم بھلے وہ مسنگ پرسن ہوں یا سسٹم کی کمزوریوں کا نشانہ بننے والی خدیجہ جیسے دیگر کردار، ان سب کی آنکھیں ہماری جانب اٹھی ہوئی ہیں. ہر ظلم پہ آواز اٹھائیے، بلا تفریق ان کو اپنے ہاں جگہ دیجیے ...یہ ادارے خدا نہیں ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں، ان میں سینکڑوں loopholes تاحال موجود ہیں جو موجودہ نظام حکومت میں صرف اجتماعی شعور کی بیداری سے ہی حل ہو سکتے ہیں.
یہی سوشل میڈیا یہی زرائع تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں، انکو مثبت تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے. کیونکہ ہم سب اس کے استعمال کے حوالے سے بھی جواب دہ ہیں.
#JusticeForKhadija










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔