Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
محبت کی اک لازوال داستان
Muhammad Anas Awan
1 comments
1 comments
محمد كمال الدين السنانيري اور آمنہ قطب
كمال الدين اخوان المسلیمون مصر کے 1941 میں سرکردہ کارکن تھے۔آپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اثر رسوخ کو دیکھتے ہوئے 1954 میں حکومت مصر نے آپکو عمر قید کی سزا سنائی ، جس کو بعد میں 25 سال کی سزا میں بدل دیا گیا ،پہلے 5 سال میں آپ پہ ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ آپ کی ظاہری شناخت بدل کر رہ گئی اور آپ عدالت میں دوران سماعت عام انسان کی طرح بولنے سے بھی قاصر ہو گئے ۔قرب مرگ چھانے لگا تو آپکو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں آپ کی ملاقات اکسیوی صدی کے عظیم اسلامی مفکر سید قطب شہید رح سے ہوئی ،جن سے آپ نے انکی بہن کے رشتے کی بات کی، سید قطب شہید رح نے یہ بات آمنہ قطب کے سامنے رکھی، آمنہ قطب نے کمال الدین کے علم تقوی اور جدوجہد کو دیکھتے ہوئے اور ان تمام عوامل کو سمجھتے ہوئے کہ انکی زندگی کن مشکلات میں ہے اور ابھی انکی سزا کو ختم ہونے میں 20 سال پڑے ہوئے ہیں ، اللہ پہ ایمان رکھتے ہوئے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور کچھ ہی عرصے میں آپ کا نکاح کر دیا گیا ۔
کمال الدیں کی قید کے دوران آمنہ قطب بار بار انسے ملنے قاہرہ سے بذریعہ ٹرین جیل جاتی رہیں اور کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی ۔ دونوں کے مابین اللہ کے کے لیے محبت کا پُر خلوص جزبہ پروان چڑھتا رہا ۔
کچھ سال بعد کمال الدین نے طویل انتظار کو مد نظر رکھتے ہوئے آمنہ قطب سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپکو اپنے نکاح سے آزاد کر سکتا ہوں ،لیکن آمنہ قطب نے انکار کیا اور کمال الدیں کو ایک نظم کی صورت میں جواب دیا کہ اگر میرے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں تو میں نہ جھکوں گی نہ آپ کو جھکنے دوں گی ،جنت تک آپ کا ساتھ دوں گی ۔
کمال الدین نے 17 سال مزید قید کاٹی اور 1973 میں رہائی حاصل کی اور آمنہ قطب کے ساتھ ایمان، محبت ، خلوص اور نیکیوں والی زندگی کے چند پرمسرت سال گزارے۔
اسی دوران سمبر 1981 میں مصر کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرتی ہے اور مخالفت کے خوف سے کمال الدین کو دوبارہ گرفتار کرتی ہے اور مہنے بعد انکی کٹی پھٹی تشدد زدہ لاش آمنہ قطب کو لوٹا دی جاتی ہے ۔آمنہ قطب اس صدمے کو اللہ کی رضا مجھ کر سہہ جاتی ہیں اور اس کے بعد آخری سانس تک شادی نہیں کرتی ہیں ،اور کمال دین کی شہادت پہ اپنی روح اور ذہن کو قلم کے دوش پہ رکھ ایک نظم لکھتی ہیں ۔
هل ترانا نلتقي ام انها … كانت اللقيا على أرض السرابِ
“Do you envisage us meeting again, or has it already…Taken place in the land of mirages;
ثم ولت و تلاشى ظلها … و استحالت ذكريات للعذاب
Then it withdrew and its shadow vanished…And turned into torturous memories;
هكذا يسأل قلبي كلما … طالت الايام من بعد غيابِ
This is what I ask my heart whenever…The days grow longer from the day of your departure;
فإذا طيفك يرنو بلسمـًا… و كأني في استماع للجوابِ
But then your memory stares at me, cheerfully…And so it is as if I am listening to the response;
أولم نمضي على الحقِ معـًا … كي يعود الخير للأرض اليبابِ
Did we not tread the path of truth together?…So that good can return to the barren land;
فمضينا في طريق شائك … نتخلى فيه عن كل الرغابِ
So we walked along a thorny path…Abandoning all of our other ambitions;
و دفنا الشوق في اعماقنا … و مضينا في رضاء و احتسابِ
We buried our love deep within ourselves…And we strove on in contentment, hoping in the reward of Allah;
قد تعاهدنا على السيرِ معـًـا … ثم اعجلتَ مجيبـًا للذهابِ
We had made an agreement to walk together…Then you hurried, responding to the call of departure;
حين ناداني رب منعم … لحياة في جنان ورحاب
When the generous Lord called me…Inviting me to a life amidst gardens and vastness;
و لقاء في نعيم دائم … بجنود الله مرحب الصحاب
To a sublime meeting in perpetual happiness…With the Soldiers of Allah, joyful in their companionship;
قدموا الأرواح و العمر فدا … مستجيبين على غير ارتياب
They presented their souls and lives, as sacrifice…Having responded without the slightest hesitation;
فليعد قلبك من غفلاته … فلقاء الخلد في تلك الرحاب
So let your heart awaken from its sleep…For the ever-lasting meeting is in such a land;
أيها الراحل عُذرًا في شِكاتي … فإلى طيفِك أنات عتابِ
Oh you who has left, pardon me for my complaining…For my heart aches at your remembrance;
قد تركت القلب يـدمي مثقلاا … تائها في الليل في عمق الضباب
You have left my heart to bleed heavily…Lost in the night, in the depths of fog;
و اذا اطوي وحيدا حائرا … اقطع الدرب طويلاً في اكتئابِ
My evenings have become ones of confusion and loneliness…As I tread the long path of life in anguish;
و اذا الليل خضم موحش … تتلاقى فيه امواج العذاب
My night has become a gloomy sea…Encountering within it waves of pain;
لم يعد يبَرق في ليلي سَنااهُ … قد توارت كل انوار الشهاب
No longer does light radiate from my nights…The brightness of stars have disappeared;
غير اني سوف امضي مثلما … كنت تلقاني في وجه الصعاب
Despite this, I shall march on just as…You used to find me, in the face of adversity;
سوف يمضي الرأس مرفوعا فلاا … يرتضى ضعفـًا بقولِ او جوابِ
My head shall remain raised, and never…Will it accept weakness in speech, nor in my replies;
سوف تحدوني دمااء عابقات … قد انارت كل فج للذهاب
I shall be spurred on by the sweet-scented blood…Blood that has illuminated the roads of ahead.”
نظم کا لنک : https://www.youtube.com/watch?v=hzjHgfSVP_g
بھڑ
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
آج نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد جوں ہی اپنے غریب خانے کے آہنی دروازے پہ دستک دی، پاس ہی لگے برقی بورڈ کے اندر موجود بھڑوں کے چھتے کے ایک متحرک کارکن نے فرط جذبات میں آگے بڑھ کر لب بوسی کرنے کی کوشش کی جس سے بچنے کے لیے کی گئی دفاعی کاروائی بھی بے سود ثابت ہوئی اور دشمن جاں کی جانب سے نچلے ہونٹ کی اندرونی جانب ڈنگ شریف ثبت کر دیا گیا.
اب پچھتائے کا ہوت... البتہ فوراً جوابی کارروائی اس طرح سے کی گئی کہ پہلے دشمن کا محاصرہ کیا گیا پھر ایک عدد اعلی کوالٹی کے insecticide سپرے کی آدھی مقدار دشمن کے علاقے میں اتار دی گئی. لاشیں عبرت کے لیے چھوڑ دی گئیں ہیں...!
تاہم مستقبل قریب کی ساری ملاقاتیں کینسل کر دی گئی ہیں...... 😜
ملک انس اعوان
