بند کھڑکی کے ادھ کھلے پٹ کی داستاں یا تو ہوا کے جھونکے جانتے ہیں یا اس سے متصل بھاری بھر کم در و دیوار جو سالوں سے اپنے وجود کی ضد کو لیے زمین کے سینے پہ تنے رہتے ہیں .اس کھڑکی کے پیچھے محض اندھیرا ہی نہیں ایک تجسس بھی ہے جو اس کے اندھیرے سے کہیں زیادہ تاریک ہے اور مکمل ہے.... ناجانے اس کے پیچھے کون ہے، کیوں ہے اور کب سے ہے.
کوئی ہے، تو کیوں ہے
کوئی تھا، تو کیوں تھا
کوئی ہوگا، تو کیوں ہوگا
یقین اور گمان آپس میں الجھتے رہتے ہیں لیکن کھڑکی کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہو پاتی مبادا....... اس سے کہیں اپنا یقین نہ ٹوٹ جائے.اور وہاں صرف اندھیرا ہی موجود ہو.................!
ملک انس اعوان