یہ تمنائے بیتاب جو جو میرے اندر جل جل کر اور گھٹ گھٹ کر آتشیں سیال مادے کا روپ دھار چکی ہے اور ایک نامعلوم آتش فشاں سے میری جانب دوڑتی چلی آ رہی ہے. میرا بکھرا وجود اس کی زد میں ہے اور میں بے بس، بے بس اس طرح سے کہ اپنے کرچی کرچی وجود کے کس حصے کو بچاؤں اور کس کو چھوڑ دوں، میرا قوت فیصلہ، میرا قوت ارادی وہ بھی تو انہیں کرچیوں میں ہی کہیں کھو گیا ہے. ہر کرچی منفرد اور ہر کرچی میں میرا عکس ہے، وہ سیال گرم مادہ میری کرچیوں کو نگلتا جا رہا ہے، آہستہ آہستہ میرے رنگ، میرا تخیل، میری سوچ، میرے جزبے، میرے احساسات سب کچھ نگلتا جا رہا ہے. میں ختم ہو رہا ہوں. میرے وجود کی آخری رمق اس دھویں میں ہیں جو بے اختیار ہوا میں مدغم ہوتا چلا جا رہا ہے....... گاڑی موٹر وے کے کنارے رک چکی ہے، میں گویا گمان سے بیدار ہوا اور بونٹ کی جانب دیکھا جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا،ہاں یہ وہی سیال مادہ ہو گا جو گمان سے حقیقت میں آ چکا ہے اور سب کچھ جلائے جا رہا ہے.
ملک انس اعوان
یکم اگست 2017
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
سیال
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔