ایک مستقل خاموشی کے بعد ایک آواز فضا میں بلندہوتی ہے خاموشی کا بند ٹوٹتا ہے اور اس آواز کی حمایت میں ہزاروں آوازیں یک جان ہو کر لبیک کی صدا بلند کرتے ہوئے میدان میں سنائی دیتی ہے ،چاروں جانب شور اٹھتا ہے، گرد اڑتی ہے اور سرخ خونی آندھیاں چلنے لگتی ہے ۔ کچھ دیر بعد اندھیرے میں روشنی کی ایک ننھی سی کرن پھوٹتی ہے غلامی کا طوق گلے سے ٹوٹ کر قدموں میں آ گرتا ہے ۔لٹی عصمتیوں اور کٹے جسموں کی یادیں دل میں لئے سینکڑوں قافلے ایک ایسی منزل کی جانب چل دیتے ہیں جہاں سے امید اور خوشی کی خوشبو پھوٹ رہی ہوتی ہے۔وہ کوشش وہ جستجو وہ لگن جنت کو پا لینے کی تھی کہ جس میں سکون اور اطمنان ہو،امن و آشتی ہو،بھائی چارہ ہو،اخوات ہو،محبت ہو اور سب سے بڑھ کر اسلام ہو۔ سو پتا چلا کہ وہ پہلی آواز جو میدان میں بلند کی گئی جس کے گرد لاکھوں پروانے اکٹھتے ہوتے چلے گئے وہ دل سوز اور دلگیر آواز "لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ" کی آواز تھی۔وہی آواز جسے فرزندان توحید اپنا عقیدہ مانتے ہیں میدان میں اتر تی ہے تو اپنی کوکھ سے "نظریہ پاکستان" کو جنم دیتی ہے۔عصمتوں اور جسموں کے مینار بنائے جاتے ہیں مگر اس عقیدے کے ماننے والے اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹتے اور زمین کے درمیاں ایک حد قائم کر دی جاتی ہے ، یہ تقسیم کوئی زمینی تقسیم نہ تھی بلکے حق اور باطل کی تقسیم تھی۔طے ہوا کہ حق اس جانب رہے گا اور باطل دوسری جانب۔اسی عقیدے کے نوزائیدہ نظریے کی بنیاد پر قائم اس خطہ ارضی کو پاکستان کا نام دیا گیا یعنی پاک جگہ۔ وقت گزرتا گیا آج 23 مارچ 2016 کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔باہر سورج کی روشنی پھیل چکی ہے اور لوگ یوم دفاع پاکستان منا رہے ہیں ۔ میں ٹی وی سکرین آن کرتا ہوں ۔ پہلے پاکستان کا ایک نیوز چینل لگاتا ہوں اور پھر کچھ دیر بعد بھارت کا ایک چینل لگا لیتا ہوں دونوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ، میں ٹی وی بند کر کے باہر گلی میں کھیلتے بچوں کو دیکھنے لگتا ہوں جن کے بالوں کے سنوارنے اور انکے پہنے ہوئے لباس پر بھی بھارت کی چھاپ دکھائی دیتی ہے ، میں وہاں سے سڑک پہنچتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ چند مرد و خواتین بیچ سڑک ہاتھوں میں بینر پکڑے نظر آتے ہیں جس پر سیکولر پاکستان کا مطالبہ درج ہوتا ہے ، میں وہاں سے چلتا چلتا جابجا عبرت کے مناظر دیکھتے ہوئے اپنے گھر میں آ بیٹھتا ہوں اور سوچنے لگتا ہوں کہ کیا ہم آج بھی متحدہ برصغیر میں رہ رہے ہیں ؟ وہی طور اطوار ، وہی انداز وہی ثقافت کچھ بھی تو نہیں بدلا ہے مگر کچھ تو بدلا ہے! کچھ ایسا کہ جس نے اس مملکت خداداد کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہےاور چاروں جانب سے جکڑ رکھا ہے ۔ اس کی پکڑ اس قدر مضبوط ہے کہ اسلام کا دم بھی ایک ایسی ریاست کے اندر گھٹ رہا ہے جس کے حصول کا مقصد ہی اسلام کا نفاذ رہا ہے ، جس کا مقصد جس کا منہج جس کا معیار فقط وہ نظام ہے جس نے آج سے 1400 سال پہلے مکہ کی گلیوں سے نکل کر ایک عالَم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔میری چشم تصور کے سامنے وہ ہزاروں خون آلود لاشیں اپنی جانب اشارہ کرتی ہوئی محسوس ہوئیں جو مجھ سے اپنی قربانیوں کا صلہ مانگ رہی تھیں ۔وہ پوچھ رہیں تھیں کہ ائے فرد ملت اسلامیہ بتا کہ کیا ایسے پاکستان کے لئے ہم نے اپنی لاشوں کے ٹکڑے کروائے ؟ انکے سوالات تو شاید اگر محسوس کیے جائیں تو ہمارے کلیجے چیر کر رکھ دیں ۔مگر دیر کہاں ہوئی ہے ابھی کونسا وقت گزرا ہے! ابھی تو ہماری رگوں میں خون باقی ہے اور گردن پہ سر سلامت ہیں۔ آئیں اور میدان عمل میں کود جائیں نظریہ پاکستان کے مقدمے کے مدعی بن جائیں اور اس مقدمے کو اپنی اپنی حیثیت میں جہاں جہاں اور جیسے بھی ممکن ہو پیش کریں ، لوگوں کی ذہنوں کی عدالت میں یہ مقدمہ پیش کریں اور وہاں مکالمے کو فروغ دیں۔ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اس ملک کا ایک ایک بچہ ،بوڑھا اور جوان اس مقدمے میں پاکستان کا مدعی بن جائے گا۔پھر مدینہ کی ریا ست کا وہ نقشہ کہ جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا تکمیل کو مراحل کو چھونے لگے گا ۔ اوراس دن واقعی ہم فخر اور دینی حمیت کے ساتھ یوم دفاع پاکستان منا سکیں گے۔ ایسا پاکستان جس جس کی نظریاتی سرحدیں اس کی زمینی سرحدوں سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہوں گی اور وہ وقت ہمارا مقدر ہے ۔انشاءاللہ
تحریر
انس اعوان
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
23 مارچ یوم عزم
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
اس تحریر کو
سیاست
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔