انتہائے شوق بھی ہے انتہائے ذوق کو
انتہائے شوق سے دل کو بیگانہ کیجیئے
دیکھتے ہیں کس طرح کچھ اس ادا پہ غور ہو
مجرم کہے گئے ہیں ہم عائد جرمانہ کیجیئے
عجب سا ہمسفر ملا کہ منزلیں بھی کھو گئیں
اپنی تلاش کے لیے ہم کو روانہ کیجیئے
ہم پہ بے اثر زہر دوائیں تمام ہو گئیں
اک نئے درد کے واسطے دل کو توانا کیجیئے
اہل شہر عرصہ ہوا حلقہ بدوش ہوگئے
نوواردانِ شہر سے کوئی دیوانہ کیجیئے
ملک انس اعوان
![]() |
| https://images2.alphacoders.com/278/278090.jpg |











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔