مجھے ہے حکم اذاں

0 comments
آدھی رات کا وقت ہے. راولپنڈی کے معروف ہسپتال کے احاطے میں جدید تراش خراش کا حامل ایک معقول آدمی قدرے پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا ہے. اور چاروں جانب کسی چیز کو تلاش کر رہا ہے . کچھ دیر بعد ہلکی ہلکی داڑھی والا ایک نوجوان ہسپتال سے بر آمد ہوتا ہے اور مرکزی دروازے کی جانب بڑھنے لگتا ہے ،  اتنے میں وہی آدمی ہاتھ کے اشارے سے اس نوجوان کو روکتا ہے اور کہتا ہے کہ
Excuse me!  Can you give me a favour?
نوجوان رکتا ہے اور اثبات میں سر ہلا دیتا ہے. وہ آدمی اپنی بات کو بڑھاتے ہوئے آنکھیں جھکا کر کہتا ہے کہ
I have just become father of newly born baby but....
گفتگو ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوتی ہے، آدمی ایک لمبی سانس بھرتا ہے اور مری ہوئی آواز میں کہتا ہے کہ
If you don't mind!
چل کر میرے بچے کے کان میں اذان دے دیجیے مجھے آزان نہیں آتی...........!
تحریر
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔