اختیار حیات

0 comments
فجر کے وقت اپنے ہاسٹل کے کمرے میں نیم دراز حالت میں لیٹے لیٹے اپنے بازو سر کے نیچے رکھ کر آنکھیں موند لیں،  خاموشی اور اکیلے پن نے گویا نیند کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی مگر آنکھ بند ہوتے ہی ماضی کے منظر آنکھوں کے سامنے برق رفتاری سے گزرنے لگے. کئی شناسا اور انجان چہرے،  رویے،  واقعات اور مقامات زہن کے چوبارے سے پھسل کر دل کی گلی میں گرنے لگے اور چشم زدن میں دل محلے کی رونق کو چار چاند لگ گئے، چہل پہل اور روشنی دکھائی دینے لگی. اسی گلی کے عین درمیان میں میں نے خود کو کھڑا پایا.  جس کو آنے جانے والوں کے کندھے آ آ کر لگ رہے ہیں اور میں ہر ضرب پر خود کو سنبھالنے اور قائم رہنے کی کوشش کر رہا ہوں.میں وہاں سے بچ نکلنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں مگر ہر بار میرے "اپنے "  میرا رستہ روک لیتے ہیں.
اسی دوران ساتھ والے کمرے میں موجود طالب علم کا الارم بج اٹھتا ہے اور میرے دل محلے کی ساری رونق غائب ہو جاتی ہے اور میں اپنے آپ کو واپس اپنے کمرے میں موجود پاتا ہوں ، مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا جسم سے روح کھینچ کر نکال لی گئی ہے.میرے سر کے نیچے رکھے ہوئے ہاتھ ہلنے سے قاصر محسوس ہوتے ہیں. آہستہ آہستہ مجھے زندگی کا احساس ہوتا ہے اٹھتا ہوں اور بیٹھ کر الله کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے زندگی اور موت کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے وگرنہ مجھے روز ناجانے کتنی بار زندگی کو جھیلنا پڑتا اور موت کا زائقہ چکھنا پڑتا.
تحریر
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔