اب سکوں ہے
یوں ہے
مشکلوں میں ہوں
مگر حقیقت ہے
خوش ہوں میں
نہیں امید میں
اب کسی کی
اپنے انداز میں
اختیار ہوں میں
ائے ہم عصر
ہمسفر نہیں ہوں میں
مگر باوجود
خوش ہوں میں
جو تم نے دیکھا ہے
پرکھا ہے جسے
جسے سنا ہے
جس کے نشاں دیکھے ہیں
وہ تو در حقیقت
کہیں ہوا ہی نہیں
کہیں گیا ہی ہے
اس کا رشتہ
کسی سے کبھی
بنا ہی نہیں
اک واقع جو ہوا
سب کو یاد
سب کو ہوا
مجھکو ہوا ہی نہیں
اور کچھ جو مسکراہٹ
تم نے سجی دیکھی ہے
اس کے پیچھے
اب تک...
کوئی ہنسا ہی نہیں
یعنی اب تک
اپنے حصے کا
کوئی شخص
جیا ہی نہیں
لیکن سن رہا ہوں میں
سب کچھ
جو کہا ہی نہیں
جو ہوا ہی نہیں
اب میرے فسانے میں
میرا کردار
یعنی بہت کم
بالکل رہا ہی نہیں
مت اٹھائیے
جا رہا ہوں
مان لیجئے
میں نے جیسے
کچھ کہا ہی نہیں
آپ نے جیسے
کچھ سنا ہی نہیں
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔