آزاد نظم

0 comments

زندہ لوگوں کے مرثیے پڑھو
مردہ لوگوں کی قبر کو چاٹو
ہلا کہ رکھ دو شہر کے بام و در
کھڑکیاں آگ کی نذر کر دو
گلی میں چند جو نظر آئیں
سب  کلیاں مسل کر رکھ دو
اڑا دوں دھوپ کے سبھی جزیروں کو
توڑ دو سب آہنی فصیلوں کو
لگا دو آگ کے درشن سر بازار
جلا دو  عافیت کے  سب سبزہ زار
کیا یہ بھی کوئی طریقہ ہے؟
کیا یہ ضبط کی کوئی صورت ہے؟
درد پھیلانے سے گھٹ نہیں جاتا
سینہ رونے سے پھٹ نہیں جاتا
سوچ رکھتی ہے اثر دیر تک جاناں
انسان مرنے سے مر نہیں جاتا
سچ تو سچ ہے نہیں نہاں ہوگا
یہاں نہیں ہے تو کہاں ہوگا
تم سمجھو گےنہیں تو کون سمجھے گا
میرے ہمراز   میرے ہم زاد
تمہیں دشمنوں نے مار ڈالا تھا
تم  نے مجھکو بھی مار ڈالا  ہے!!!!

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔