کون دیکھے گا

0 comments

ادھر  دل گرفتہ کے ارادے کون دیکھے گا
ہمارے بعد یہ منظر نظارے کون دیکھے گا
اس امید پہ جاگا  ہوں کہ پھر سو سکوں نہ میں
ہمارے بعد صبح کے ستارے کون دیکھے گا
ہوا کے دوش پہ میں بادلوں سے بات کرتا ہوں
ہمارے بعد یادوں کے اشارے کون دیکھے گا
اک صحرا پہ رہا ہم کو ہی دریا کا گماں برسوں
ہمارے بعد دریا کے کنارے کون دیکھے گا

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔