بوٹ اور پالش

0 comments


ہم نے بچپن سے لے کر اب تک اپنی چھوٹی ٹی سی زندگی میں طرح طرح کے مختلف انداز کے حامل جوتے پہنے ہیں جن میں پشاوری چپل،  سینڈل، کھیڑی، چمڑے کے جوتے وغیرہ وغیرہ  مگر ان سب کے ساتھ جو جو حالات و واقعات پیش آئے آگر ان کو ہندسوں میں تبدیل کروں اور انکا موازنہ کروں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے زیادہ محفوظ، مضبوط اور پائیدار ہمیشہ کی طرح بوٹ ہی نکلتے ہیں.  اس کی خاص وجہ اس کی تیاری کا عمل ہے،  جب اس کو بنایا جاتا ہے تو اس کو سینے کے بعد تربیت کے سخت مراحل سے گزارا جاتا ہے  اس کے اندر ایک لکڑی کا خاکہ ڈال دیا جاتا ہے جو اس کو کاٹ دار،  رعب دار  شکل اورت اٹھان دیتا ہے  اس کے بعد ان کی سب سے بڑی خاصیت ان کا اوپر سے ڈھکا ہوا ہونا ہے،  اس طرح آپ کے پاؤں چاہے کیسے ہی بھدے اور بدصورت ہوں اس کے پہننے کے بعد چھپ جاتے ہیں اور دیکھنے والے کو بس اس کی اوپر والی  چمکدار کھال ہی نظر آتی ہے. اس طرح نیچے چاہے جو کچھ بھی ہو سامنے والے پر دھاک بیٹھ جاتی ہے. دوم اس کا نچلا حصہ انتہائی مضبوط مواد سے تیار کیا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کی نوکیلی چیز (تنقید) اس کے تلوے کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے موجود پاؤں تک نہ پہنچ سکے.اس کے چاروں جانب انتہائی نفاست سے سلائی کی جاتی ہے تاکہ یہ کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کی اہلیت کو قائم رکھ سکتا کے بعد بات کرتے ہیں پالش کی،  ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ پالش اگر کوئی اچھی اور معیاری ہے تو وہ صرف پاکستانی ہی ہے،  اس کے علاوہ بہترین چمک بھی صرف پاکستانی ہاتھوں سے ہی ممکن ہے. حلانکہ اگر آپ کسی موچی کے پاس بھی جائیں تو وہ بیس روپے (شہر) یا دس روپے (دیہات) کے لیے کم و بیش 10 منٹ ایک جوڑے پہ صرف کرتا ہے،  نچلے حصے سے لے کر اوپر والی تہہ تک ایک ایک چیز کو چمکا دیتا ہے.
پھر جب آپ اس پاکستانی پالش سے پالش شدہ جوتے پہن کر عوام الناس میں جاتے ہیں تو لوگوں کی نظر آپ پرسے پھسلتے ہوئے آپ کے جوتوں کی چمک تک جا پہنچتی ہے اور وہیں گم ہو جاتی ہے،  اس کے علاوہ ان کو اس کے اندر کچھ نظر نہیں آتا....!
لیکن بہر حال وہ بوٹ  جوتے کی ہی ایک قسم ہوتا ہے.
تحریر
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔