بے خوابی

0 comments
لذت ہجر میں ہے ساعت جاں بے خوابی
خواہش وصل حقیقت میں گماں بے خوابی
ائےاجل رک تو سہی ہم بھی تھے مکین بہشت
میرےواسطے وسعت ارض وسماں بے خوابی
طلبِ لامکاں ہے تجھے اور فکر مکاں بھی ساتھ 
کاٹ کر پھینک دے کافر زباں بے خوابی
یقین کامل ہو کمال دست دوستاں پہ مگر
یقیں شکن ہے مزاج جہان بے خوابی


----
ملک انس اعوان



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔