لذت ہجر میں ہے ساعت جاں بے خوابی
خواہش وصل حقیقت میں گماں بے خوابی
ائےاجل رک تو سہی ہم بھی تھے مکین بہشت
میرےواسطے وسعت ارض وسماں بے خوابی
طلبِ لامکاں ہے تجھے اور فکر مکاں بھی ساتھ
کاٹ کر پھینک دے کافر زباں بے خوابی
یقین کامل ہو کمال دست دوستاں پہ مگر
یقیں شکن ہے مزاج جہان بے خوابی
----











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔