اسی سال گرمیوں کی تعطیلات میں جامعہ کے کھلنے
میں محض چند دن رہ گئے تھے ، صبح سویرے فجر کے بعد لاہور سے ایک دینی اور قریبی دوست کا
فون موصول ہوا کہ وہ شام کو میرے غریب خانے کو عزت بخشیں گے، انکی آمد اور رات کے
کھانے کے حوالے سے والدہ کو آگاہ کیا اور صبح سویرے ایک دوست کی دادی محترمہ کی عیادت کے لیے فیصل
آباد روانہ ہو گیا ، عصر کے وقت واپس گھر پہنچا تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا ،
تھکاوٹ کے باعث نیم دراز حالت میں مہمان خانے میں لیٹ گیا ، تھوڑی دیر میں والد
صاحب آئے اور آہستگی سے کہا کہ "بیٹا اٹھ کر دوکان پہ چلے جانا وہاں یو پی
ایس خراب ہے اسے دیکھ لینا اور ٹھیک کروا دینا "
( ہماری ایک عدد ملکیتی دوکان جو ایک صاحب کو
کرائے پہ دی گئی ہے )
والد صاحب کی بات سن کر انہیں جواب دیا کہ
"جی بہتر " اور پھر لیٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی کی آواز آئی جس کا
مطلب تھا کہ والد صاحب کہیں باہر چلے گئے ہیں ۔چناچہ اٹھا اور باورچی خانے میں
والدہ کا ہاتھ بٹانے لگا اور برتن لگانے لگا ۔
عین مغرب کے وقت لاہور سے دوست گھر کے باہر
پہنچے حسب وعدہ ایک اور تحریکی ساتھی بھی پہنچ گئے ، باجماعت قریبی مسجد میں نماز
ادا کی ، ہماری واپس گھر آمد تک بیٹھک کی میز پہ برتن لگ چکے تھے ۔ چناچہ جلد ہی کھانا شروع کر دیا گیا ۔ ابھی چند
ہی لقمے حلق سے نیچے اترے ہوں گے کہ
موبائل بج اٹھا ، سکرین پہ ایک نمبر ابھرا ، کال اٹھائی تو ایک انکل کی
زوجہ محترمہ کا فون تھا ، خاتون نے اطلاع
دی آپ جلد ہی سول ہسپتال پہنچیں ۔
میں نے فون رکھا اور مہمانوں کی حرمت میں بدستور
کھانے میں شامل رہا ،مگر دل میں عجیب و غریب وسوسے آنے لگے ، ایک ایک کر کے ہر کسی
کی تصویر دماغ میں گھومتی رہی ، لیکن پھر اچانک ہی خیال آیا کہ ابا جان تو ابھی
ابھی گھر سے باہر نکلے تھے ، بس یہ خیال
آنے کہ دیر تھی حلق میں کانٹے چبھنے لگے اور دل ڈوبنے لگا۔
فوراً ایک قابل اعتماد "دوست کم اور بھائی
زیادہ" کو فون کیا اور کہا کہ آپ فوراً ہسپتال پہنچیں اور میرے آنے تک وہیں
رہیں ۔
آئے ہوئے مہمان بھی میری حالت دیکھ کر متفکر ہو
گئے اور جب پوچھنے پر میں نے انکو آگاہ کیا تو فوراً سے گاڑی نکالی اور ہسپتال کی
جانب روانہ ہو گئے ۔ رستے میں جیسے میں نڈھال سا ہو گیا تھا ، قریباً بھاگتے ہوئے
ہسپتال کی سیڑٰھیاں چڑھیں تو شعبہ حادثات
کے ایک اسٹریچر پہ میرے والد محترم کا خون آلود چہرہ میرے سامنے آگیا ،جس سے ایک
پھوار کی صورت میں خون نکل نکل کر والد محترم کی قمیض کو سرخ کر چکا تھا ان کی
دونوں آنکھیں بند تھیں لیکن وہ ہوش میں
تھے ۔
یہ دیکھنے کی دیر تھی ، میں جیسے پگھل سا گیا
تھا ، جسیے کسی نے میرے اندر سے میری روح کو کھینچ نکالا ہو ۔ بے اختیار والد
محترم کے چہرے کو ہاتھوں سے تھاما تو والد محترم نے لب ہلائے کہ "انس بیٹا
کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں ،اللہ کا فضل ہے "
ڈاکٹر جواب دے چکے تھے اورمیری ہمت بھی ،مگر
میرے ذہن میں میری با ہمت والدہ کا چہرہ بار بار آئے جا رہا تھا ، ایک ایمبولینس
کا انتطام کیا اور والد صاحب کو اس میں لٹایا اور رستے میں چھوٹے بھائی کے ذریعے
پیسے اور ابا جان کے کپڑے منگوا کر لاہور کی جانب روانہ ہو گئے ۔
رستے میں والد صاحب کے چہرے اور آنکھ سے نکلنے
والے خون کو اپنے ہاتھو ں سے صاف کرتا رہا ، والد محترم کبھی کبھی لب ہلاتے تو یہی
کہتے کہ بیٹا اللہ کا فضل ہے سب خیر ہے آپ پریشان مت ہوں ۔
میں کسیے بتاتا کہ میرا سارا حوصلہ اور میری
ساری ہمت تو آپ ہیں ۔۔۔۔میں کیسے سکون سے بیٹھ جاؤں ۔۔۔؟
میرا واحد حوصلہ اللہ کے بعد میرا وہ دوست تھا
جو اس وقت بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں گیا تھا ،بلکہ میرے ساتھ استقامت کے ساتھ
موجود تھا۔ وہ 2 گھنٹے قیامت کے گھنٹے تھے
، لاہور اتفاق ہسپتال میں والد کو لے جایا گیا تو وہاں سے بھی جواب ملنے کے بعد ان
کو ابتدائی طبی امداد دی اور اپنے جماعتی بھائیوں کو فون کیا اور محض 15 منٹ میں ایک ڈاکٹر کو گھر سے بلوا کر
اسکو ایک پرائویٹ ہسپتال میں آپریشن ٹھیٹر تیار کرنے کا کہا اور ،جلد از جلد والد
کو وہاں منتقل کر دیا گیا ۔
ہمارے پہنچنے تک الحمداللہ سب انتظامات مکمل تھے
، والد صاحب کو اسٹریچر پہ ڈال کہ آپریشن تھیٹر لے جایا گیا اور قریباً رات 12 بجے
کے قریب ڈاکٹر نے بتایا کہ الحمدللہ ان کا ناک شدید متاثر ہے البتہ چہرے اور ناک
سے کون بہنا بند ہو گیا ہے لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ۔ فوراً کسی آئی سرجن کو
انکی آنکھیں بھی دکھا دیجئے گا ۔
رات کے اس پہر کیونکہ کوئی آئی سرجن ملتا بہرحال
ایک دو ساتھیوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایاکہ اگر آپ حکم کریں تو ڈاکٹر بھیج
دیتے ہیں مگر آلات کے بغیر وہ کچھ بھی کرنے کے معذور ہیں ۔۔۔۔۔ دل دوبنے لگا ۔۔۔۔۔
پھر جماعتیوں کو بلا کر ساری صورتحال بتائی انہوں نے سروسز ہسپتال لاہور میں ایک
ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور وہاں انتطامات مکمل کیے ۔
والد صاحب کے ہوش میں آتے ہی رات 1 بجے انکو
سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، جہاں فوراً طبی معائنے کے بعد ایسی خبر ملی جو
قہر بن کر ٹوٹ پڑی ، ڈاکٹر سے علیحدہ ہو کر بتایا کہ دھماکے کے باعث دونوں آنکھیں
متاثر ہے جبکہ ایک شدید متاثر ہے اس کا فوراً آپریشن کرنا پڑے گا اور پوری آنکھ کو
بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی پڑے گی ، یہ خبر مین اپنے والد کو کیسے سناتا دل جیسے
بیٹھ ہی گیا ، میرا دوست اٹھا اور میرے والد کے پاس بیٹھ کر انہیں حوصلہ دینے لگا
، کیونکہ یہ میرے بس کی بات نہیں تھی ، اور ابا جان اس سب سے لا علم تھے ۔ آپریشن
کی تیاری اور انکے ٹیسٹ شروع کر دیے گئے لیکن سرکاری ہسپتال کے ماحول سے دل مطمئن
نہ ہو پارہا تھا ۔
دوست سے مشورہ کیا ، امی جان کو صورتحال بتائی اور دل پہ پتھر رکھ کے
فیصلہ کیا کہ صبح تک انتظار کیا جائے ،کیونکہ میں انکی بیہوشی کے دوران انکی آنکھ
کو اپنے ہاتھوں سے دیکھ چکا تھا ۔ دل تھا کہ سنبھلے نہیں سنبھلتا تھا ۔
دوست کی گود میں سر رکھ کے آنسؤں کو چہرے کی راہ
دکھائی ،جب کچھ قرار آیا تو قیامت کی یہ رات اب صبح کے سویرے میں بدل رہی تھی، ابا
جان کو وہاں سے دوبارہ اتفاق ہسپتال لے جایا گیا اور وہاں داخل کر دیا گیا ، والد صاحب بار بار مجھ سے اپنی
اآنکھ میں درد کا تذکرہ کرتے اور میں کچھ کہنے کے بجائے رو پڑتا لیکن وہ اس حالت
کے باوجود مجھے حوصلہ دیتے اور بار بار اللہ کے احسانات گنواتے ۔
صبح 8 بجے دوبارہ سے انکی آنکھوں کا معائینہ کیا
گیا اور ڈاکٹر نے والد صاحب کو ذہنی طور پر کسی دھجکے کے لیے تیار کرنے کے لیے کچھ
کچھ حقائق بتا دیے ۔
دوپہر میں انکا آپریشن شروع ہوا جو رات گئے تک
جاری رہا ،شام کو ڈاکٹر نے پوچھا کہ مریض کی جانب سے کون ہے میں آگے بڑھا تو انہوں
نے بتا یا کہ انکی ایک آنکھ بالکل درست ہے جبکہ دوسری آنکھ بالکل پھٹ چکی ہے اور اس کا جڑنا قریباً نا
ممکن ہے اس لیے اب آپکے فیصلے کا انتطار
ہے کہ یا تو آنکھ پہ کوشش کی جائے یا اسکو نکال دیا جائے ؟ ۔میں نے ڈاکٹرز سے
فیصلے کے لیے وقت مانگا ، فوراً سے بیک
وقت 5 ڈاکٹروں سے رابطہ کیا اور انکوں صورتحال سمجھائی ، سب کا یہی موقف تھا کہ آنکھ کو نکال دیا جائے تاکہ مستقل
میں مریض کو تکیلف سے بچایا جا سکے ، پاکستان میں کسی بھی جگہ اس کا علاج ممکن
نہیں تھا ۔
میں نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا اور والدہ سے رابطہ
کیا اور انکواپنے فیصلے سے آگاہ کیا ،میری ماں تو مجھ سے بھی بہادر نکلی ، باہمت
ماں نے کہا بیٹا جو تمہارے والد کے حق میں بہتر ہے کر گزرو ہم اللہ کی جانب سے ہر
آزمائش کے لیے تیار ہیں، میری والدہ وہ باہمت خاتون ہیں جنہوں نے میرے سامنے اپنا
ایک بھی آنسو گرنے نہیں دیا اور کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے بیٹے کی قوت انکے
اپنے اندر ہی کہیں موجود ہے ۔
میں نے آنکھ نکلوانے کا فیصلہ کیا ، رات قریباً
1 بجے مجھے والد صاحب کے پاس جانے کی اجازت ملی وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہے تھے۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ مجھسے پانی مانگتے اور
میرا ہاتھ زور سے پکڑ لیتے ، لیکن دوسرے ہی لمحے دوا اپنا اثر دکھاتی اور وہ بیہوش
ہو جاتے ، اس اذیت ناک مرحلے میں میری آنکھیں تر ہی رہیں، اور میں جلد از جلد ان
کے ہوش میں آنے کی دعائیں کرنے لگا۔
ہوش میں آتے ہی مجھسے اپنی بائیں آنکھ کا پوچھا
مگر میں چپ رہا ، ڈاکٹر کو بلوا کر ان کی بائیں آنکھ پہ پٹی کروا دی تاکہ وہ دیکھ
کر پریشان نہ ہوں ۔
اگلے دن تمام گھر والے محض کچھ ہی دیر کے لیے
میری اجازت سے ابا جان کو دیکھنے آئے اور چلے گئے ، اگلے کچھ دنوں میں انکے مزید
آپریشن ہوئے اور دن رات دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا ۔پٹی اتاری گئی اور انکو حقیقت
بتائی گئی ۔۔۔۔ سن کر انکے الفاظ یہی تھے کہ " اللہ نے ہی آنکھ دی تھی ، اس
نے ہی واپس لے ہی شکوہ کیسا اور شکایت کیسی؟ "
یہ دعاؤں کا اثر ہی تھا کہ 2 گھنٹے خون بہنے کے
باجود حادثے کے دو دن بعد ہی انکا خون جسم کے تناسب سے پورا ہو رہا۔
بڑی عید بھی اسی کمشکش میں گزری ۔۔۔!
اب الحمداللہ ابا جان روبہ صحت ہیں ، اور حیرت
انگیز طور پہ اب سے فیکٹری بھی جا رہے ہیں ، اور جلد ہی یونین سیاست میں بھی سر
گرم ہوں گے ۔اور چہرے کو دیکھ کر کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا کہ یہ ہمت کا
کہسار کس آزمائش سے گزرا ہے ، بے شک اللہ کار ساز ہے۔
ابتو وہ گاڑی بھی چلانے لگے ہیں ۔ صد شکر
الحمداللہ
9 دن آئی سی یو میں اور 3 دن وارڈ میں رہنے کے بعد جس دن گھر پہنچے اس سے اگلے دن ہی علاقے کے درس قرآن میں شرکت کی ،جسے دیکھ کر سارے احباب حیران و پریشان رہ گئے ۔ اللہ انکو لمبی سعادت بھری زندگی عطا فرمائے ۔
ان قیامت کے دنوں میں ہر جانب سے لوگوں کے ،
جامعہ کےاساتزہ کے ،،سکول کے اساتزہ کے ، کالج کے اساتزہ کے دور اور قریب کےرشتہ
داروں کے،دوستوں کے فون آتے رہے،اتنے کہ اب مجھے ان سے چڑح ہونے لگی تھی ۔
لیکن یہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے مجھے سہارا دیا
،ہر مرحلے پہ میری مدد کی اور میرا ساتھ نبھایا ۔
انما اشکو بثی و خزنی الی اللہ
(یہ حادثہ یو پی ایس کے بیٹری ٹرمینل تبدیل کرتے
ہوئے دھماکہ ہونے سے پیش آیا ، معجزانہ طور پہ والد محترم کا جسم کا یاک بال بھی
آگ یا تیزاب کی لپیٹ میں نہیں آیا،جبکہ قریب پڑی ہر چیز تباہ ہو چکی تھی )
یادداشت
ملک انس اعوان