ایک عجب بے سکونی ہے ، فرصت سے نکلتے ہیں تو مصروفیت میں
ڈوب جانے کو دل چاہتا ہے اور جب مصروفیت سے نکلتے ہیں تو فرصت کی تلاش شروع ہو جاتی
ہے ۔ پہاڑ ، جنگل ، ، ٹیلے ، سبزے ،
جھیلوں اور اونچی اونچی چھتوں والے بے
ہنگم شہروں سے اب جی اکتا گیا ہے ،یہ سب
ایک ہی طرز کی مختلف شکلیں ہیں ۔ کہیں بھی
ذہن کو آسودگی حاصل نہیں ہے ۔کہیں قدرت کا شور بہت زیادہ ہے اور کہیں انسان کا ،
ہر شے اپنی Body Language کے ساتھ احساسات
کا اظہار کرتی ہوئی نظر آتی ہے ، آنکھوں کے سامنے اور کانوں کے گرد احساسات کا ایک
ایسا مجمع لگا ہوا ہے کہ کسی کی با معنی
آواز یا منظر ذہن تک پہنچنے سے قاصر ہے۔اور اگر ہے تو ذہن کے تنگ سے دریچے میں
معانی و مفاہیم کا ایسا ہجوم ہے کہ ، ان
کے درمیان سے ہوا کا گزرنا بھی مشکل ہو جائے ۔ ایسے میں شہنشاہ (دل) چاہتا ہے کہ
چیخ چیخ کر تخلیہ! تخلیہ! کی آوازیں بلند
کرے اور ذہن کے کواڑوں کو مقفل کر دے اور
دربار دل کے کسی کونے میں جا بیٹھے اور کسی راز داں کو طلب کر کے راز ونیاز کی قبر کھود
کر اس کا سارا ملبہ اس کے گوش گزار کر دے
۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔یہ خاموشی ؟ ۔۔۔یہ بھی تو
کسی عذاب سے کم نہیں ۔۔۔۔سکون کہاں سے اور کیسے نصیب ہو کہ "خاموشی" کا شور ،ہجوم کے شور سے بھی
زیادہ ہیبت ناک اور دردناک ہے ، ایسی خاموشی جو روح میں اتر کر اس کو بھی کو
گھائل کر دے اور سانس کے تاروں کو بے ہنگم طور سے چھیڑنے لگ جائے ۔ یہ ایک دو طرفہ
عذاب ہے جس کے علاوہ کوئی تیسری طرف سرے
سے موجود ہی نہیں ہے ۔ اس پیچیدہ تخلیق کے پیچیدہ ذہن نے
خود کو بھی ان پیچیدگیوں میں ڈھال
لیا ہے کہ اب کوئی آسان چیز بھی اس کے لیے
آسان نہیں رہی ہے ، یعنی اب کچھ بھی سہل نہیں ہے ۔ اور" کچھ بھی" کا
مطلب افسوس کے ساتھ صرف" کچھ بھی"
ہی ہو تا ہے۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں بذات
خود اپنی حیثیت میں pre defined ہیں ،اور یہ سب شہنشاہ(دل) کے حکم سے ہے۔ ستم
یہ کہ ضدی نواب کی کسی بات کو ٹالا بھی نہیں جا سکتا ہے،اور اس کی ہر بات کو مانا
بھی نہیں جا سکتا ہے ۔ جبکہ عذاب بہرحال پورے جسم کو نصیب سمجھ کر برداشت کرنا پڑتا ہے ۔
تحریر
ملک انس اعوان
27ستمبر 2016
بوقت فجر
![]() |
| http://www.dailymail.co.uk/news/article-2230022/Horse-photos-Award-winning-images-Emily-Hancock.html |











بہت عمدہ
طلحہ بھائی آپنے اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر دیکھا اور اپنی رائے کا اظہار کیا ، یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے ، اللہ دین کی خدمت میں مصروف سب بھائیوں کو اپنے حفظ و آمان میں رکھے ۔
عمدہ جناب شہنشاہ تو آج کل طاہرالقادری بنا ہوا ہے کسی طور بھی قابو میں نہیں ۔
ماشاءاللہ اچھی تحریر ہے ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔