اچھا لگتا تھا

0 comments
پہلے پہل  دریا کی موجیں
لہریں وہریں اور ساحل سب
بانکپن کی نوخیز نظر کو
سب کچھ اچھا لگتا تھا
سو شام ڈھلے سورج کی کرنیں
جب تھک کر پانی میں جاتیں
سو بیچ افق پھیلی ہوئی سرخی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب زرد خزاں کے آنگن میں
سب پتے پیلے پڑتے تھے
سو انکا پانی میں گرنا
سب کچھ اچھا لگتا تھا
تب کاغذ کی کشتی پر
ارمان بہائے جاتے تھے
سو ہم بہلائے جاتے تھے
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب صبح پراٹھوں کی جوشبو
آتی تھی ماں کے ہاتھوں سے
جو بستر تلک آجاتی تھی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب نصف شب کے آنگن میں 
وہ چندا بادل کے پیچھے سے
ہنس کر باتیں کرتا تھا
سب کچھاچھا لگتا تھا

انس اعوان

نصیحت

0 comments
نصیحت


نصیحت جھاڑنے والے یہ عادت چھوڑ کر آجا
کہیں نہ دیر ہو جائے سعادت چھوڑ کر آجا
ارےرکتا نہیں میں بھی زمانہ بھی تو شاہد ہے
میرے جو ساتھ چلنا ہے تکلف چھوڑ کر آجا
وہیں چل پھر جہاں تو بھی مقدر  کے سہارے ہو
یہ رستے کِس نے دیکھے ہیں تردد چھوڑ کر آجا
مریض دل گرفتہ کو جو دیکھو راستہ بدلو
ارے جاں سے بھی جائے تو عیادت چھوڑ کر آجا
جہان بے سکوں کا جو بھی  رہا مدعا رہا اکثر
بلا سے بھاڑ میں جائے  وکالت چھوڑ کر آجا
اگر ہے ذوق پھولوں کا تو جھکنا سیکھ لے ورنہ
اُسی شیشے کی دوکاں میں نذاکت چھوڑ کر آجا

ملک انس اعوان 

www.razaqvance.com